۔ (۸۴۰۸)۔ عَنْ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدٍ أَ وْ غَیْرِہِ أَ نَّ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ: لَمَّا کُتِبَتِ الْمَصَاحِفُ فَقَدْتُ آیَۃً کُنْتُ أَ سْمَعُہَا مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَوَجَدْتُہَا عِنْدَ خُزَیْمَۃَ الْأَ نْصَارِیِّ {مِنْ الْمُؤْمِنِینَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ} إِلٰی {تَبْدِیلًا} قَالَ: فَکَانَ خُزَیْمَۃُیُدْعَی ذَا الشَّہَادَتَیْنِ أَ جَازَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شَہَادَتَہُ بِشَہَادَۃِ رَجُلَیْنِ، قَالَ الزُّھْرِیُّ: وَقُتِلَ یَوْمَ صِفِّیْنَ مَعَ عَلِیٍّ رضی اللہ عنہ ۔ (مسند احمد: ۲۱۹۹۱)
۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب مصاحف تحریر کیے گئے تو مجھے ایک آیت نہیں مل رہی تھی، جبکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہ سنا کرتا تھا، بالآخر میں نے وہ آیت سیدنا خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس پائی، وہ آیتیہ تھی: {مِنْ الْمُؤْمِنِینَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ … تَبْدِیلًا}۔سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ کو دو شہادتوں والا کہا جاتا تھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی شہادت کو دو آدمیوں کی شہادت کے برابر قرار دیا تھا، امام زہری رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ صفین کی جنگ میں شہید ہو گئے تھے، جبکہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے لڑ رہے تھے۔
Takhreej
(۸۴۰۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۸۰۷، ۴۹۸۶، ۷۴۲۵ (انظر: ۲۱۶۵۲)
Explanation
فوائد:… آیت کو گم پانے کا یہ واقعہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں پیش آیا، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دور میں جو دو آیتیں گم پائی تھیں، وہ سورۂ توبہ کی آخری تھیں۔
8408
Sahih