TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

(37) CHAPTER. The emigration to Ethiopia. - مسلمانوں کا حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا بیان - The merits of al-ansar. - Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Chapter 37 of The merits of al-ansar. in Sahih Bukhari. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 37 of 53 · 5 Hadith
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنَا عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ ، أَخْبَرَهُ , أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ , وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ ، قَالَا لَهُ : مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُكَلِّمَ خَالَكَ عُثْمَانَ فِي أَخِيهِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ وَكَانَ أَكْثَرَ النَّاسُ فِيمَا فَعَلَ بِهِ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَانْتَصَبْتُ لِعُثْمَانَ حِينَ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَقُلْتُ : لَهُ إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً وَهِيَ نَصِيحَةٌ ، فَقَالَ : أَيُّهَا الْمَرْءُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ , فَانْصَرَفْتُ فَلَمَّا قَضَيْتُ الصَّلَاةَ جَلَسْتُ إِلَى الْمِسْوَرِ وَإِلَى ابْنِ عَبْدِ يَغُوثَ فَحَدَّثْتُهُمَا بِالَّذِي قُلْتُ لِعُثْمَانَ وَقَالَ لِي , فَقَالَا : قَدْ قَضَيْتَ الَّذِي كَانَ عَلَيْكَ , فَبَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ مَعَهُمَا إِذْ جَاءَنِي رَسُولُ عُثْمَانَ ، فَقَالَا لِي : قَدِ ابْتَلَاكَ اللَّهُ فَانْطَلَقْتُ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : مَا نَصِيحَتُكَ الَّتِي ذَكَرْتَ آنِفًا ، قَالَ : فَتَشَهَّدْتُ ، ثُمَّ قُلْتُ : إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ , وَكُنْتَ مِمَّنْ اسْتَجَابَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَآمَنْتَ بِهِ وَهَاجَرْتَ الْهِجْرَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ , وَصَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتَ هَدْيَهُ , وَقَدْ أَكْثَرَ النَّاسُ فِي شَأْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ فَحَقٌّ عَلَيْكَ أَنْ تُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدَّ ، فَقَالَ لِي : يَا ابْنَ أَخِي أَدْرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قُلْتُ : لَا وَلَكِنْ قَدْ خَلَصَ إِلَيَّ مِنْ عِلْمِهِ مَا خَلَصَ إِلَى الْعَذْرَاءِ فِي سِتْرِهَا ، قَالَ : فَتَشَهَّدَ عُثْمَانُ ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ , وَكُنْتُ مِمَّنْ اسْتَجَابَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَآمَنْتُ بِمَا بُعِثَ بِهِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَهَاجَرْتُ الْهِجْرَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ كَمَا قُلْتَ , وَصَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ وَبَايَعْتُهُ وَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ وَلَا غَشَشْتُهُ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ , ثُمَّ اسْتَخْلَفَ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ فَوَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ وَلَا غَشَشْتُهُ , ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرُ فَوَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ وَلَا غَشَشْتُهُ , ثُمَّ اسْتُخْلِفْتُ , أَفَلَيْسَ لِي عَلَيْكُمْ مِثْلُ الَّذِي كَانَ لَهُمْ عَلَيَّ ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : فَمَا هَذِهِ الْأَحَادِيثُ الَّتِي تَبْلُغُنِي عَنْكُمْ ؟ فَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ شَأْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ , فَسَنَأْخُذُ فِيهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِالْحَقِّ , قَالَ : فَجَلَدَ الْوَلِيدَ أَرْبَعِينَ جَلْدَةً , وَأَمَرَ عَلِيًّا أَنْ يَجْلِدَهُ , وَكَانَ هُوَ يَجْلِدُهُ ، وَقَالَ يُونُسُ , وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ : أَفَلَيْسَ لِي عَلَيْكُمْ مِنَ الْحَقِّ مِثْلُ الَّذِي كَانَ لَهُمْ ؟ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : بَلَاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ مَا ابْتُلِيتُمْ بِهِ مِنْ شِدَّةٍ , وَفِي مَوْضِعٍ الْبَلَاءُ الِابْتِلَاءُ وَالتَّمْحِيصُ مَنْ بَلَوْتُهُ , وَمَحَّصْتُهُ أَيْ : اسْتَخْرَجْتُ مَا عِنْدَهُ يَبْلُو يَخْتَبِرُ مُبْتَلِيكُمْ مُخْتَبِرُكُمْ , وَأَمَّا قَوْلُهُ بَلَاءٌ عَظِيمٌ : النِّعَمُ وَهِيَ مِنْ أَبْلَيْتُهُ وَتِلْكَ مِنَ ابْتَلَيْتُهُ .
Narrated 'Ubaidullah bin `Adi bin Al-Khiyar: That Al-Miswar bin Makhrama and `Abdur-Rahman bin Al-Aswad bin 'Abu Yaghuth had said to him, What prevents you from speaking to your uncle `Uthman regarding his brother Al-Walid bin `Uqba? The people were speaking against the latter for what he had done. 'Ubaidullah said, So I kept waiting for `Uthman, and when he went out for the prayer, I said to him, 'I have got something to say to you as a piece of advice.' `Uthman said, 'O man! I seek Refuge with Allah from you. So I went away. When I finished my prayer, I sat with Al-Miswar and Ibn 'Abu Yaghutb and talked to both of them of what I had said to `Uthman and what he had said to me. They said, 'You have done your duty.' So while I was sitting with them. `Uthman's Messenger came to me. They said, 'Allah has put you to trial. I set out and when I reached `Uthman, he said, 'What is your advice which you mentioned a while ago?' I recited Tashahhud and added, 'Allah has sent Muhammad and has revealed the Holy Book (i.e. Qur'an) to him. You (O `Uthman!) were amongst those who responded to the call of Allah and His Apostle and had faith in him. And you took part in the first two migrations (to Ethiopia and to Medina), and you enjoyed the company of Allah's Apostle and learned his traditions and advice. Now the people are talking much about Al-Walid bin `Uqba and so it is your duty to impose on him the legal punishment.' `Uthman then said to me, 'O my nephew! Did you ever meet Allah's Apostle ?' I said, 'No, but his knowledge has reached me as it has reached the virgin in her seclusion.' `Uthman then recited Tashahhud and said, 'No doubt, Allah has sent Muhammad with the Truth and has revealed to him His Holy Book (i.e. Qur'an) and I was amongst those who responded to the call of Allah and His Apostle and I had faith in Muhammad's Mission, and I had performed the first two migrations as you have said, and I enjoyed the company of Allah's Apostle and gave the pledge of allegiance to him. By Allah, I never disobeyed him and never cheated him till Allah caused him to die. Then Allah made Abu Bakr Caliph, and by Allah, I was never disobedient to him, nor did I cheat him. Then `Umar became Caliph, and by Allah, I was never disobedient to him, nor did I cheat him. Then I became Caliph. Have I not then the same rights over you as they had over me?' I replied in the affirmative. `Uthman further said, 'The what are these talks which are reaching me from you? As for what you ha mentioned about Al-Walid bin 'Uqb; Allah willing, I shall give him the leg; punishment justly. Then `Uthman ordered that Al-Walid be flogged fort lashes. He ordered `Ali to flog him an he himself flogged him as well.
ہم سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ ہم سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن عدی بن خیار نے خبر دی، انہیں مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن اسود بن عبدیغوث ان دونوں نے عبیداللہ بن عدی بن خیار سے کہا کہ تم اپنے ماموں ( امیرالمؤمنین ) عثمان رضی اللہ عنہ سے ان کے بھائی ولید بن عقبہ بن ابی معیط کے باب میں گفتگو کیوں نہیں کرتے ( ہوا یہ تھا کہ لوگوں نے اس پر بہت اعتراض کیا تھا جو عثمان نے ولید کے ساتھ کیا تھا ) ۔ عبیداللہ نے بیان کیا کہ جب عثمان رضی اللہ عنہ نماز پڑھنے نکلے تو میں ان کے راستے میں کھڑا ہو گیا اور میں نے عرض کیا کہ مجھے آپ سے ایک ضرورت ہے، آپ کو ایک خیر خواہانہ مشورہ دینا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ بھلے آدمی! تم سے تو میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ یہ سن کر میں وہاں سے واپس چلا آیا۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد میں مسور بن مخرمہ اور ابن عبدیغوث کی خدمت میں حاضر ہوا اور عثمان رضی اللہ عنہ سے جو کچھ میں نے کہا تھا اور انہوں نے اس کا جواب مجھے جو دیا تھا، سب میں نے بیان کر دیا۔ ان لوگوں نے کہا تم نے اپنا حق ادا کر دیا۔ ابھی میں اس مجلس میں بیٹھا تھا کہ عثمان رضی اللہ عنہ کا آدمی میرے پاس ( بلانے کے لیے ) آیا۔ ان لوگوں نے مجھ سے کہا تمہیں اللہ تعالیٰ نے امتحان میں ڈالا ہے۔ آخر میں وہاں سے چلا اور عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے دریافت کیا تم ابھی جس خیر خواہی کا ذکر کر رہے تھے وہ کیا تھی؟ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں نے کہا اللہ گواہ ہے پھر میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اور ان پر اپنی کتاب نازل فرمائی، آپ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہا تھا۔ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے دو ہجرتیں کیں ( ایک حبشہ کو اور دوسری مدینہ کو ) آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں کو دیکھا ہے۔ بات یہ ہے کہ ولید بن عقبہ کے بارے میں لوگوں میں اب بہت چرچا ہونے لگا ہے۔ اس لیے آپ کے لیے ضروری ہے کہ اس پر ( شراب نوشی کی ) حد قائم کریں۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرے بھتیجے یا میرے بھانجے کیا تم نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی باتیں اس طرح میں نے حاصل کی تھیں جو ایک کنواری لڑکی کو بھی اپنے پردے میں معلوم ہو چکی ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ یہ سن کر پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اللہ کو گواہ کر کے فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اور آپ پر اپنی کتاب نازل کی تھی اور یہ بھی ٹھیک ہے کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی دعوت پر ( ابتداء ہی میں ) لبیک کہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو شریعت لے کر آئے تھے میں اس پر ایمان لایا اور جیسا کہ تم نے کہا میں نے دو ہجرتیں کیں۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت بھی کی۔ اللہ کی قسم! میں نے آپ کی نافرمانی نہیں کی اور نہ کبھی خیانت کی۔ آخر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات دے دی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ منتحب ہوئے۔ اللہ کی قسم! میں نے ان کی بھی کبھی نافرمانی نہیں کی اور نہ ان کے کسی معاملہ میں کوئی خیانت کی۔ ان کے بعد عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے میں نے ان کی بھی کبھی نافرمانی نہیں کی اور نہ کبھی خیانت کی۔ اس کے بعد میں خلیفہ ہوا۔ کیا اب میرا تم لوگوں پر وہی حق نہیں ہے جو ان کا مجھ پر تھا؟ عبیداللہ نے عرض کیا یقیناً آپ کا حق ہے پھر انہوں نے کہا پھر ان باتوں کی کیا حقیقت ہے جو تم لوگوں کی طرف سے پہنچ رہی ہیں؟ جہاں تک تم نے ولید بن عقبہ کے بارے میں ذکر کیا ہے تو ہم ان شاءاللہ اس معاملے میں اس کی گرفت حق کے ساتھ کریں گے۔ راوی نے بیان کیا کہ آخر ( گواہی کے بعد ) ولید بن عقبہ کو چالیس کوڑے لگوائے گئے اور علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ کوڑے لگائیں۔ علی رضی اللہ عنہ ہی نے اس کو کوڑے مارے تھے۔ اس حدیث کو یونس اور زہری کے بھتیجے نے بھی زہری سے روایت کیا اس میں عثمان رضی اللہ عنہ کا قول اس طرح بیان کیا، کیا تم لوگوں پر میرا وہی حق نہیں ہے جو ان لوگوں کا تم پر تھا۔
3872
Sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ , وَأُمَّ سَلَمَةَ ذَكَرَتَا كَنِيسَةً رَأَيْنَهَا بِالْحَبَشَةِ فِيهَا تَصَاوِيرُ فَذَكَرَتَا للنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ أُولَئِكَ إِذَا كَانَ فِيهِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا , وَصَوَّرُوا فِيهِ تِيكَ الصُّوَرَ , أُولَئِكَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .
Narrated `Aisha: Um Habiba and Um Salama mentioned a church they had seen in Ethiopia and in the church there were pictures. When they told the Prophet of this, he said, Those people are such that if a pious man amongst them died, they build a place of worship over his grave and paint these pictures in it. Those people will be Allah's worst creatures on the Day of Resurrection .
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد (عروہ بن زبیر) نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ایک گرجے کا ذکر کیا جسے انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا اس کے اندر تصویریں تھیں۔ انہوں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب ان میں کوئی نیک مرد ہوتا اور اس کی وفات ہو جاتی تو اس کی قبر کو وہ لوگ مسجد بناتے اور پھر اس میں اس کی تصویریں رکھتے۔ یہ لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بدترین مخلوق ہوں گے۔“
3873
Sahih
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ السَّعِيدِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدٍ , قَالَتْ : قَدِمْتُ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ وَأَنَا جُوَيْرِيَةٌ فَكَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمِيصَةً لَهَا أَعْلَامٌ , فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ الْأَعْلَامَ بِيَدِهِ ، وَيَقُولُ : سَنَاهْ سَنَاهْ ، قَالَ الْحُمَيْدِيُّ : يَعْنِي حَسَنٌ حَسَنٌ .
Narrated Um Khalid bint Khalid: When I came from Ethiopia (to Medina), I was a young girl. Allah's Apostle made me wear a sheet having marks on it. Allah's Apostle was rubbing those marks with his hands saying, Sanah! Sanah! (i.e. good, good).
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسحاق بن سعید سعیدی نے بیان کیا۔ ان سے ان کے والد سعید بن عمرو بن سعید بن عاص نے، ان سے ام خالد بنت خالد رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں جب حبشہ سے آئی تو بہت کم عمر تھی۔ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دھاری دار چادر عنایت فرمائی اور پھر آپ نے اس کی دھاریوں پر اپنا ہاتھ پھیر کر فرمایا «سناه،‏‏‏‏‏‏‏‏ سناه‏ ‏‏.‏» ۔ حمیدی نے بیان کیا کہ «سناه،‏‏‏‏‏‏‏‏ سناه‏ ‏‏.‏» حبشی زبان کا لفظ ہے یعنی اچھا اچھا۔
3874
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَيَرُدُّ عَلَيْنَا , فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ سَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَيْكَ فَتَرُدُّ عَلَيْنَا ، قَالَ : إِنَّ فِي الصَّلَاةِ شُغْلًا ، فَقُلْتُ : لِإِبْرَاهِيمَ كَيْفَ تَصْنَعُ أَنْتَ ؟ قَالَ : أَرُدُّ فِي نَفْسِي .
Narrated `Abdullah: We used to greet the Prophet while he used to be in prayers, and he used to reply to our greetings. But when we came back from Najashi (the King of Ethiopia) we greeted him (while he was praying) and he did not reply to us. We said, O Allah's Apostle! We used to greet you in the past and you used to reply to us. He said, Verily The Mind is occupied and busy with more important matter during the prayer. (So one cannot return One's greetings.)
ہم سے یحییٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ نے بیان کیا کہ ( ابتداء اسلام میں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہوتے اور ہم آپ کو سلام کرتے تو آپ نماز ہی میں جواب عنایت فرماتے تھے۔ لیکن جب ہم نجاشی کے ملک حبشہ سے واپس ( مدینہ ) آئے اور ہم نے ( نماز پڑھتے میں ) آپ کو سلام کیا تو آپ نے جواب نہیں دیا۔ نماز کے بعد ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم پہلے آپ کو سلام کرتے تھے تو آپ نماز ہی میں جواب عنایت فرمایا کرتے تھے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ ہاں نماز میں آدمی کو دوسرا شغل ہوتا ہے۔ سلیمان اعمش نے بیان کیا کہ میں نے ابراہیم نخعی سے پوچھا ایسے موقعہ پر آپ کیا کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں دل میں جواب دے دیتا ہوں۔
3875
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : بَلَغَنَا مَخْرَجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِالْيَمَنِ فَرَكِبْنَا سَفِينَةً فَأَلْقَتْنَا سَفِينَتُنَا إِلَى النَّجَاشِيِّ بِالْحَبَشَةِ ، فَوَافَقْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَأَقَمْنَا مَعَهُ حَتَّى قَدِمْنَا , فَوَافَقْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَكُمْ أَنْتُمْ يَا أَهْلَ السَّفِينَةِ هِجْرَتَانِ .
Narrated Abu Musa: We received the news of the departure of the Prophet (to Medina) while we were in Yemen. So we went on board a ship but our ship took us away to An-Najashi (the Negus) in Ethiopia. There we met Ja`far bin Abi Talib and stayed with him till we came (to Medina) by the time when the Prophet had conquered Khaibar. The Prophet said, O you people of the ship! You will have (the reward of) two migrations.
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے برید بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت مدینہ کی اطلاع ملی تو ہم یمن میں تھے۔ پھر ہم کشتی پر سوار ہوئے لیکن اتفاق سے ہوا نے ہماری کشتی کا رخ نجاشی کے ملک حبشہ کی طرف کر دیا۔ ہماری ملاقات وہاں جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ہوئی ( جو ہجرت کر کے وہاں موجود تھے ) ہم انہیں کے ساتھ وہاں ٹھہرے رہے، پھر مدینہ کا رخ کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقت ملاقات ہوئی جب آپ خیبر فتح کر چکے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اے کشتی والو! دو ہجرتیں کی ہیں۔
3876
Sahih

Chapters

53
01
(1) CHAPTER. The merits of Al- Ansar.
انصار رضوان اللہ علیہم کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
02
(2) CHAPTER. The Statement of the Prophet : “But for the emigration, I would have been one of the Ansar.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اگر میں نے مکہ سے ہجرت نہ کی ہوتی میں بھی انصار کا ایک آدمی ہوتا
1 Hadith
03
(3) CHAPTER. The Prophet estabilished the bone of brotherhood (fraternity) between the Ansar and the Muhajirun (i.e., emigrants).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انصار اور مہاجرین کے درمیان بھائی چارہ قائم کرنا
3 Hadith
04
(4) CHAPTER. To love the Ansar is a sign of Faith.
انصار سے محبت رکھنے کا بیان
2 Hadith
05
(5) CHAPTER. The statement of the Prophet to the Ansar: “You are from the most beloved people to me.”
انصار سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ تم لوگ مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو
2 Hadith
06
(6) CHAPTER. The followers of the Ansar.
انصار کے تابعدار لوگوں کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
07
(7) CHAPTER. The superiority of the families (houses) of the Ansar.
انصار کے گھرانوں کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
08
(8) CHAPTER. The statement of the prophet to the Ansar: “Be patient till you meet me at Al-Haud [the tank (i.e., Al-Kauthar)]”.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انصار سے یہ فرمانا کہ
3 Hadith
09
(9) CHAPTER. The invocation of the Prophet : “O Allah! Improve and make right the state of the Ansar and the Muhajirun (i.e., the emigrants).”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دعا کرنا کہ ( اے اللہ ! ) انصار اور مہاجرین پر اپنا کرم فرما
3 Hadith
10
(10)CHAPTER. The Statement of Allah: “…And (they) give them (emigrants) preference over themselves, even though they were in need of that...” (V.59:9)
اس آیت کی تفسیر میں ” اور اپنے نفسوں پر وہ دوسروں کو مقدم رکھتے ہیں ، اگرچہ خود وہ فاقہ ہی میں مبتلاہوں “
1 Hadith
11
(11) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Accept the good (deeds) of the good-doers amongst them, and excuse the wrong-doers amongst them.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ” انصار کے نیک لوگوں کی نیکیوں کو قبول کرو اور ان کے غلط کاروں سے درگزر کرو “
3 Hadith
12
(12) CHAPTER. The merits of Sad bin Muadh.
حضرت سعدبنمعاذ رضیاللہعنہ کے فضائل کابیان
3 Hadith
13
(13) CHAPTER. The merits of Usaid bin Hudair and Abbad bin Bishr.
اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہماکی فضیلت کا بیان
1 Hadith
14
(14) CHAPTER. The virtues of Muadh bin Jabal.
معاذبنجبل رضیاللہعنہ کے فضائل کا بیان
1 Hadith
15
(15) CHAPTER. The virtues of Sad bin Ubada.
حضرت سعدبنعبادہ رضیاللہعنہ کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
16
(16) CHAPTER. The virtues or Ubayy bin Kab.
ابی بن کعب رضیاللہعنہ کے فضائل کا بیان
2 Hadith
17
(17) CHAPTER. The virtues of Zaid bin Thabit.
حضرت زیدبنثابت رضیاللہعنہ کے فضائل کا بیان
1 Hadith
18
(18) CHAPTER. The virtues of Abu Talha.
حضرت ابوطلحہ رضیاللہعنہ کے فضائل کا بیان
1 Hadith
19
(19) CHAPTER. The virtues Abdullah bin Salam.
حضرت عبداللہبنسلام رضیاللہعنہ کے فضائل کا بیان
3 Hadith
20
(20) CHAPTER. The marriage of the Prophet with Khadija ا and her superiority.
حضرت خدیجہ رضیاللہعنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی اور ان کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
21
(21) CHAPTER. The narration about Jarir bin Abdullah Al-Bajali.
جریر بنعبداللہ بجلی رضیاللہعنہ کا بیان
2 Hadith
22
(22) CHAPTER. The narration about Hudhaifa bin Al-Yaman Al-Absy.
حذیفہبنیمان عبسی کا بیان
1 Hadith
23
(23)CHAPTER. The narration about Hind bint Utba bin Rabia.
ہند بنت عتبہ ربیعہ رضیاللہعنہا کا بیان
1 Hadith
24
(24) CHAPTER. Narration about Zaid bin Amr bin Nufail.
حضرت زید بنعمرو بن نفیل کابیان
3 Hadith
25
(25) CHAPTER. The building of the Kabah.
قریش نے جو کعبہ کی مرمت کی تھی اس کا بیان
2 Hadith
26
(26) CHAPTER. The days of Pre-Islamic Period of Ignorance.
جاہلیت کے زمانے کا بیان
14 Hadith
27
(27) CHAPTER. AI-Qasama in the Pre-Islamic Period of Ignorance.
زمانہ جاہلیت کی قسامت کا بیان
6 Hadith
28
(28) CHAPTER. The advent of the Prophet , (as Messenger of Allah).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا بیان
1 Hadith
29
(29) CHAPTER. (The troubles which) the Mushrikun of Makkah caused the Prophet and his Companions to suffer.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہکرام رضیاللہعنہم نے مکہ میں مشرکین کے ہاتھوں جن مشکلات کا سامناکیا ان کا بیان
5 Hadith
30
(30) CHAPTER. The conversion of Abu Bakr As-Siddiq to Islam.
حضرت ابوبکر صدیق رضیاللہعنہ کے اسلام قبول کرنے کابیان
1 Hadith
31
(31) CHAPTER. The conversion of Sad to Islam.
حضرت سعدبنابیوقاص رضیاللہعنہ کے اسلام قبول کرنے کا بیان
1 Hadith
32
(32) CHAPTER. Narrations about jinns.
جنوں کا بیان
2 Hadith
33
(33) CHAPTER. The conversion of Abu Dhar Al-Ghifari to Islam.
حضرت ابوذر رضیاللہعنہ کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ ۔
2 Hadith
34
(35) CHAPTER. The conversion of Umar bin Al-Khattab to Islam.
سعید بنزید بنعمرو بن نفیل رضیاللہعنہ کا اسلام قبول کرنا
3 Hadith
35
(35) CHAPTER. The conversion of Umar bin Al-Khattab to Islam.
حضرت عمر بنخطاب رضیاللہعنہ کے اسلام لانے کا واقعہ
2 Hadith
36
(36) CHAPTER. The splitting of the moon (into two pieces).
چاند کے پھٹ جانے کابیان
4 Hadith
37
(37) CHAPTER. The emigration to Ethiopia.
مسلمانوں کا حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا بیان
5 Hadith
38
(38) CHAPTER. The death of An-Najashi (the Negus).
نجاشی ( حبشہ کے بادشاہ ) کی وفات کا بیان
5 Hadith
39
(39) CHAPTER. The oath taken by the Mushrikun against the Prophet .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مشرکین کا عہد و پیمان کرنا
1 Hadith
40
(40) CHAPTER. The story of Abu Talib.
ابوطالب کا واقعہ
3 Hadith
41
(41) CHAPTER. The narration about Al-Isra (Journey by Night).
بیتالمقدس تک جانے کا قصہ
1 Hadith
42
(42) CHAPTER. Al-Mi'raj (i.e., Ascension of the Prophet to the heavens with his body and soul).
معراج کابیان
2 Hadith
43
(43) CHAPTER. The deputation of the Ansar to the Prophet at Makkah, and the Al-'Aqaba Pledge.
مکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انصار کے وفود کا آنا اور بیعت عقبہ کا بیان
5 Hadith
44
(44) CHAPTER. The marriage of the Prophet with Aishah, and Aishah,s arrival at Al-Madina, and the Prophet,s consummation of that marriage.
حضرت عائشہ رضیاللہعنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح کرنا اور آپ کامدینہ میں تشریف لانا اور حضرت عائشہ رضیاللہعنہا کی رخصتی کا بیان
3 Hadith
45
(45) CHAPTER. The emigration of the Prophet and hiscompanions to Al-Madina.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا
27 Hadith
46
(46) CHAPTER. The arrival of the Prophet and his companions at Al-Madina.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہکرام کا مدینہ میں آنا
9 Hadith
47
(47) CHAPTER. The stay of the emigrants in Makkah after performing all the ceremonies of Hajj.
حج کی ادائیگی کے بعد مہاجر کا مکہ میں قیام کرنا کیسا ہے
1 Hadith
48
(48) CHAPTER. At-Tarikh (Date-definition of time). When did the Muslim calendar start?.
اسلامی تاریخ کب سے شروع ہوئی ؟
2 Hadith
49
(49) CHAPTER. The statement of the Prophet : “O Allah! Complete the emigration of my Companions,” and his lamentation for those (emigrants) who died in Makkah.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کہ اے اللہ ! میرے اصحاب کی ہجرت قائم رکھ اور جومہاجر مکہ میں انتقال کر گئے ان کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اظہار رنج و غم
1 Hadith
50
(50) CHAPTER. How the Prophet established the bond of brotherhood between his Companions.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کے درمیان کس طرح بھائی چارہ قائم کرایا تھا
1 Hadith
51
(51) CHAPTER
۔ ۔ ۔
3 Hadith
52
(52) CHAPTER. The coming of the Jews to the Prophet on his arrival at Al-Madina.
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ کے پاس یہودیوں کے آنے کا بیان
5 Hadith
53
(53) CHAPTER. The conversion of Salman Al-Farisi to Islam.
حضرت سلمان فارسی رضیاللہعنہ کے ایمان لانے کا واقعہ
3 Hadith
No chapter matched that.