TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 5460 - (55) CHAPTER. To eat with one's servant. - The book of foods (meals). - Sahih Bukhari in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 1 in this chapter
Whole chapter
Previous Hadith Next Hadith
(55) CHAPTER. To eat with one's servant.
خادم کو بھی ساتھ میں کھانا کھلانا مناسب ہے ۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ هُوَ ابْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا أَتَى أَحَدَكُمْ خَادِمُهُ بِطَعَامِهِ فَإِنْ لَمْ يُجْلِسْهُ مَعَهُ فَلْيُنَاوِلْهُ أُكْلَةً أَوْ أُكْلَتَيْنِ أَوْ لُقْمَةً أَوْ لُقْمَتَيْنِ فَإِنَّهُ وَلِيَ حَرَّهُ وَعِلَاجَهُ .
Narrated .Abu Huraira: The Prophet said, When your servant brings your food to you, if you do not ask him to join you, then at least ask him to take one or two handfuls, for he has suffered from its heat (while cooking it) and has taken pains to cook it nicely.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد نے، وہ زیاد کے صاحبزادے ہیں، کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں کسی شخص کا خادم اس کا کھانا لائے تو اگر وہ اسے اپنے ساتھ نہیں بٹھا سکتا تو کم از کم ایک یا دو لقمہ اس کھانے میں سے اسے کھلا دے ( کیونکہ ) اس نے ( پکاتے وقت ) اس کی گرمی اور تیاری کی مشقت برداشت کی ہے۔
5460
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

178
1
Chapter: What Has Been Related About Treating The Servant Well
باب: خادم اور نوکر کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About Disciplining The Servant
باب: خادم کے ساتھ سلوک کرنے کے آداب کا بیان
Jam e Tirmazi
3
(18) CHAPTER. When your servant brings your meal to you?
جب کسی کا خادم کھانا لے کر آئے
Sahih Bukhari
4
CHAPTER: Regarding a servant eating with his master.
باب: مالک کے ساتھ خادم کے کھانے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
5
Chapter: What Has Been Related About The Oath Along With A Witness
باب: ایک گواہ کے ساتھ مدعی قسم کھانا دعویٰ کو ثابت کرنا ہے
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Slaps His Servant
باب: خادم کو طمانچہ مارنے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About Eating With Slaves (And Dependants)
باب: بال بچوں، خادم اور غلام کے ساتھ کھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About Beating And Abusing The Servant
باب: خادم کو مارنا پیٹنا اور اسے گالی دینا اور برا بھلا کہنا منع ہے
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About Pardoning The Servant
باب: خادم کی غلطی معاف کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
10
ازار سے اوپر والے حصے کو استعمال کرنے ، ایسی خاتون کے ساتھ لیٹ جانے اور اس کے ساتھ کھانا کھانے کا بیان
Musnad Ahmad
11
دائیں ہاتھ سے کھانا اور پینا مستحب اور بائیں ہاتھ کے ساتھ مکروہ ہے
Musnad Ahmad
12
(6) CHAPTER. To feed (others) is a part of Islam.
کھانا کھلانا ( بھوکے ناداروں کو ) بھی اسلام میں داخل ہے
Sahih Bukhari
13
(74) CHAPTER. Servants for the mosque.
مسجد کے لیے خادم مقرر کرنا
Sahih Bukhari
14
(25) CHAPTER. The servant gets a reward for giving charity when ordered by the owner of the property, as long as the servant has no intention of spoiling it (his master's property).
خادم نوکر کا ثواب ‘ جب وہ مالک کے حکم کے مطابق خیرات دے اور کوئی بگاڑ کی نیت نہ ہو
Sahih Bukhari
15
(6) CHAPTER. The saying of Allah: ... Or giving Sadaqa … (V.2:196) Here Sadaqa is in the form of feeding six poor person.
اللہ تعالیٰ کا قول ” یا صدقہ “ ( دیا جائے ) یہ صدقہ چھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے
Sahih Bukhari
16
(12) CHAPTER. The deputyship for managing the Waqf (religious endowment) and the expenses of the trustee. The trustee can provide his friends and can eat from it reasonably (according to his work).
وقف کے مال میں وکالت اور وکیل کاخرچہ اور وکیل کا اپنے دوست کو کھلانا اور خود بھی دستور کے موافق کھانا
Sahih Bukhari
17
(4) CHAPTER. A partner sharing a meal should not eat two dates at a time unless he gets the permission of his partner.
دو دو کھجوریں ملا کر کھانا کسی شریک کو جائز نہیں جب تک دوسرے ساتھ والوں سے اجازت نہ لے
Sahih Bukhari
18
(74) CHAPTER. Whoever sets off for a holy battle accompanied by a boy-servant.
اگر کسی بچے کو خدمت کے لیے جہاد میں ساتھ لے جائے
Sahih Bukhari
19
(7) CHAPTER. A servant for one's wife.
عورت کے لیے خادم کا ہونا ۔
Sahih Bukhari
20
(39) CHAPTER. The eating of snake cucumber with fresh dates.
تازہ کھجور اور ککڑی ایک ساتھ کھانا ۔
Sahih Bukhari
21
(44) CHAPTER. To eat two dates at a time.
دو کھجور وں کو ایک ساتھ ملا کر کھانا ۔
Sahih Bukhari
22
(20) CHAPTER. The killing of one's own children for the fear that they will share his meals.
اولاد کو اس ڈر سے مار ڈالنا کہ ان کو اپنے ساتھ کھلانا پڑے گا
Sahih Bukhari
23
(26) CHAPTER. The invocation of the Prophet on behalf of his servant that he may have a long life and a big fortune.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خادم ( حضرت انس رضیاللہعنہ ) کے لئے لمبی عمر کی اور مال کی زیادتی کی دعا فرمائی
Sahih Bukhari
24
Chapter: Eating cucumbers with fresh dates
تازہ کھجور کے ساتھ ککڑی کھانا
Sahih Muslim
25
CHAPTER: Regarding What Is Recommended In Armies, Companies, And Expeditions.
باب: چھوٹے بڑے لشکر ، اور ساتھیوں کی کون سی تعداد مستحب و مناسب ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
26
CHAPTER: Regarding The Prohibition Of The Animals Being Confined (To Be Shot At), And, Being Gentle With Animal To Be Slaughtered.
باب: جانوروں کو بغیر کھانا پانی دئیے باندھ رکھنے کی ممانعت اور قربانی کے جانور کے ساتھ نرمی اور شفقت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
27
CHAPTER: Mixing One’s Food With The Food Of An Orphan.
باب: یتیم کا کھانا اپنے کھانے کے ساتھ شریک کرنا کیسا ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
28
کفارہ میں فقراء اور مساکین کو درمیانی درجہ کا کھانا کھلانا چاہئے
Sunnan Ibn e Maja
29
خادم کھانا لے کر آئے تو اس میں سے کچھ اسے بھی دینے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
30
(55)Chapter: What Has Been Related About The Urine Of That Whose Meat Is Eaten
باب: جس جانور کا گوشت کھانا حلال ہو اس کے پیشاب کا حکم
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About How Many Prayers Allah Made Obligatory Upon His Servants
باب: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About 'When Supper Is Present And The Iqamah Is Called For Salat Then Begin With Supper'
باب: شام کا کھانا حاضر ہو اور نماز کھڑی ہو جائے تو پہلے کھانا کھا لو
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About The One Who Ate And Then Went Out To Travel
باب: رمضان میں کھانا کھا کر پھر سفر پر نکلے اس کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About Preparing Food For The Family OF The Deceased
باب: میت کے گھر والوں کے لیے کھانا پکانے کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked to Eat Masburah
باب: بندھا ہوا جانور جسے تیر مار کر ہلاک کیا گیا ہو کا کھانا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Eat From The Sacrificial Meat Beyond Three Days.
باب: تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About: Food For One is Sufficient For Two
باب: ایک آدمی کا کھانا تین آدمی کے لیے کافی ہوتا ہے
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About The Tasmiyah For Eating
باب: کھانا پر ”بسم اللہ“ پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Feeding Others
باب: کھانا کھلانے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About What Suffices A Man From All His Wealth
باب: دنیا میں آدمی کے لیے صرف خادم اور جہاد کے لیے سواری کافی ہے
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What One Says When Eating Food
باب: کھانا کھا کر کیا پڑھے؟
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What One Says After Finishing Food
باب: جب کھانا کھا چکے تو کیا پڑھے؟
Jam e Tirmazi
43
بَابُ مَا يَحِلُّ أَكْلُهُ وَمَا يَحْرُمُ
ان چیزوں کا بیان جن کا کھانا حلال اور جن کا کھانا حرام ہے
Mishkat
44
اس چیز کا بیان کہ مردار کے چمڑوں کو کھانا حرام ہے، اگرچہ ان کو رنگ کر پاک کر لیا جائے
Musnad Ahmad
45
اہلِ میت کے لیے کھانا تیار کرنے اور اس چیز کے مکروہ ہونے کا بیان کہ یہ کھانا اہل میت خود تیار کریں، کیونکہ وہ لوگوں کے اکٹھ کی وجہ سے مصروف ہوں گے
Musnad Ahmad
46
احرام کی حالت میں گرمی وغیرہ سے بچنے کے لئے سایہ کرنے، مرد کا سر کو اور عورت کا چہرہ کو ڈھانپنے اور محرم کا اپنے خادم کو مارنے کا بیان
Musnad Ahmad
47
اس امر کا بیان کہ اگر محرم نہ تو خود شکار کرے اور نہ اس کی خاطر کیا جائے تو اس کے لیے اس کا کھانا جائز ہو گا
Musnad Ahmad
48
جب کھانا پیش کر دیا جائے اور نماز کا وقت ہو تو کھانا پہلے کھانا
Musnad Ahmad
49
کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھنے اور اس کے شروع اور آخر میں دعائیں پڑھنے کا بیان اور اس چیز کی وضاحت کہ قوم کا معزز آدمی کھانا کھانے کا آغاز کرے
Musnad Ahmad
50
کھڑے ہو کر اور ٹیک لگا کرکھانا کھانے کے مکروہ ہونے کا حکم
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

15
Sahih Bukhari
2557
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا أَتَى أَحَدَكُمْ خَادِمُهُ بِطَعَامِهِ ، فَإِنْ لَمْ يُجْلِسْهُ مَعَهُ فَليُنَاوِلْهُ لُقْمَةً أَوْ لُقْمَتَيْنِ أَوْ أُكْلَةً أَوْ أُكْلَتَيْنِ ، فَإِنَّهُ وَلِيَ عِلَاجَهُ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, When your servant brings your meals to you then if he does not let him sit and share the meals, then he should at least give him a mouthful or two mouthfuls of that meal or a meal or two meals, as he has prepared it.
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا مجھے محمد بن زیاد نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ جب کسی کا غلام کھانا لائے اور وہ اسے اپنے ساتھ ( کھلانے کے لیے ) نہ بٹھا سکے تو اسے ایک یا دو نوالے ضرور کھلا دے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «لقمة أو لقمتين» کے بدل «أكلة أو أكلتين» فرمایا ( یعنی ایک یا دو لقمے ) کیونکہ اسی نے اس کو تیار کرنے کی تکلیف اٹھائی ہے۔
Silsila Sahih
15
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ إِذَا أَتَى أَحَدَكُمْ خَادِمُهُ بِطَعَامِهِ قَدْ وَلِيَ حَرَّهُ وَمَشَقَّتَهُ وَمُؤُنَتَهُ فَلْيُجْلِسْهُ مَعَهُ فَإِنْ أَبَى فَلْيُنَاوِلْهُ أُكْلَةً فِي يَدِهِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جب تمہارا خادم تمہارے پاس کھانا لائے جس کی گرمی ،مشقت اور تکلیف اس نے برداشت کی ہے ،تو تم اسے اپنے ساتھ بٹھاڈ ، اگر وہ انکار کرے تو اس کے ہاتھ میں ایک لقمہ ہی پکڑا دو۔
Silsila Sahih
19
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعاً: قَالَ إِذَا جَآءَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ بِطَعَامِهِ قَدْ كَفَاهُ حَرَّهُ وَعَمَلَهُ فَإِنْ لَّمْ يُقْعِدْهُ مَعَهُ لِيَأْكُلَ فَلْيُنَاوِلْهُ أُكْلَةً مِنْ طَعَامِهِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا لائے جس کی گرمی اور تکلیف اس نے برداشت کی ہو اگر اسے کھانے کے لئے اپنے پاس نہ بٹھائے تو اسے ایک لقمہ ہی دے دے۔
Silsila Sahih
799
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: إِذَا جَاءَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ بِطَعَامِهِ فَلَيُجْلِسْهُ مَعَهُ فَليُنَاوِلْهُ أُكْلَةً أَوأُكْلَتَيْنِ فَإِنَّهُ وَلِيَ عِلَاجَهُ وَحَرَّهُ.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تماُرا خادم كھانا لائے تواسے اپنے ساتھ بٹا لو، (اگر اپنے ساتھ نہ بٹھاؤ) تواسے ایك یا دولقمے دے دو۔ كیونكہ اس نے گرمی اور پكانے كی مشقت برداشت كی ہے۔
Sunnan Ibn e Maja
3289
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبِي، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمْ خَادِمُهُ بِطَعَامِهِ،‏‏‏‏ فَلْيُجْلِسْهُ فَلْيَأْكُلْ مَعَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ أَبِي فَلْيُنَاوِلْهُ مِنْهُ .
Isma’il bin Abu Khalid narrated from his father: “I heard Abu Hurairah say: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) said: “When the servant of anyone of you brings him his food, let him make him sit by his side and eat with him, and if he refuses then let him give him some.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے پاس اس کا خادم کھانا لے کر آئے تو اسے چاہیئے کہ وہ خادم کو اپنے ساتھ بیٹھائے اور اس کے ساتھ کھائے، اور اگر اپنے ساتھ کھلانا پسند نہ کرے تو اسے چاہیئے کہ وہ کھانے میں سے اسے بھی دے ۱؎۔
Sahih Muslim
4271
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَعْتَمَ رَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ فَوَجَدَ الصِّبْيَةَ قَدْ نَامُوا، فَأَتَاهُ أَهْلُهُ بِطَعَامِهِ، فَحَلَفَ لَا يَأْكُلُ مِنْ أَجْلِ صِبْيَتِهِ، ثُمَّ بَدَا لَهُ فَأَكَلَ، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَلْيَأْتِهَا، وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ
Abu Huraira reported: A person sat late in the night with Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), and then came to his family and found that his children had gone to sleep. His wife brought food for him. but he took an oath that he would not eat because of his children (having gone to sleep without food) He then gave precedence (of breaking the vow and then expiating it) and ate the food He then came to Allah s Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and made mention of that to him, whereupon Allah's Messenger (may peace he upon him) said: He who took an oath and (later on) found something better than that should do that, and expiate for (breaking) his vow.
ابو حازم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک آدمی رات کی تاریکی گہری ہونے تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہا ، پھر اپنے گھر لوٹا تو اس نے بچوں کو سویا ہوا پایا ، اس کی بیوی اس کے پاس کھانا لائی تو اس نے قسم کھائی کہ وہ بچوں ( کے سو جانے ) کی وجہ سے کھانا نہیں کھائے گا ، پھر اسے ( دوسرا ) خیال آیا تو اس نے کھانا کھا لیا ، اس کے بعد وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس بات کا تذکرہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے کوئی قسم کھائی ، پھر اس نے کسی دوسرے کام کو اس سے بہتر سمجھا تو وہ وہی کام کر لے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دے
Silsila Sahih
238
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: إِذَا صَنَعَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ طَعَامًا فَوَلِيَ حَرَّهُ وَمَشَقَّتَهُ فَلْيَدْعُهُ فَلْيَأْكُلْ مَعَهُ فَإِنْ لَمْ يَدْعُهُ فَلْيُنَاوِلْهُ مِنْهُ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا بنائے جس کی گرمی اور مشقت اس نے برداشت کی ہے تو وہ اسے بلائے اور اپنے ساتھ کھانا کھلائے اور اگر نہ بلائے تو اسے اس کھانے میں سے کچھ نہ کچھ دے دے۔
Silsila Sahih
796
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعاً: إِذَا أَصْلَحَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ لَهُ طَعَامَهُ فَكَفَاهُ حَرَّهُ وَبَرْدَهُ فَلْيُجْلِسْهُ مَعَهُ فَإِنْ أَبَى فَلْيُنَاوِلْهُ أُكْلَةً فِي يَدِهِ.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: جب تم میں سے كسی شخص كا خادم اس كے لئے كھانا تیار كر ے، جس كی گرمی سردی اس نے برداشت كی ہوتووہ اسے اپنے ساتھ بٹھائے،اگر وہ انكار كرے تواس كے ہاتھ میں ایك لقمہ ہی دے دے۔
Mishkat
3371
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَ قَوْلُهُ تَعَالَى (وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أحسن) وَقَوْلُهُ تَعَالَى: (إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا) الْآيَةَ انْطَلَقَ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ يَتِيمٌ فَعَزَلَ طَعَامه من طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ مِنْ شَرَابِهِ فَإِذَا فَضَلَ مِنْ طَعَامِ الْيَتِيمِ وَشَرَابِهِ شَيْءٌ حُبِسَ لَهُ حَتَّى يَأْكُلَهُ أَوْ يَفْسُدَ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: (وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى قُلْ: إصْلَاح لَهُم خير وَإِن تخالطوهم فإخوانكم) فَخَلَطُوا طَعَامَهُمْ بِطَعَامِهِمْ وَشَرَابَهُمْ بِشَرَابِهِمْ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب اللہ تعالیٰ کا فرمان :’’ تم یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر اسی کے ساتھ کہ وہ احسن ہو ۔‘‘ اس کا فرمان :’’ بے شک جو لوگ یتیموں کا مال از راہِ ظلم کھاتے ہیں ۔‘‘ نازل ہوا تو پھر جس شخص کے پاس یتیم تھا اس نے اس کا کھانا اپنے کھانے سے ، اس کا پینا اپنے پینے سے الگ کر دیا ، اور جب یتیم کے کھانے پینے سے کچھ بچ جاتا تو وہ اسی کے لیے رکھ دیتے حتی کہ وہ اسے کھا لیتا یا وہ خراب ہو جاتا ، یہ چیز ان پر بہت دشوار گزری تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :’’ وہ آپ سے یتیموں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں ، فرما دیجئے ان کے لیے اصلاح کرنا بہتر ہے ، اور اگر تم ان کو اپنے ساتھ ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں ۔‘‘ انہوں نے ان کا کھانا اپنے کھانے کے ساتھ اور پینا اپنے پینے کے ساتھ ملا لیا ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔