TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بَابُ مَا يَحِلُّ أَكْلُهُ وَمَا يَحْرُمُ - ان چیزوں کا بیان جن کا کھانا حلال اور جن کا کھانا حرام ہے - شکار اور حلال جانوروں کا بیان - Mishkat with Urdu and English Translation

Chapter 2 of شکار اور حلال جانوروں کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 3 · 45 Hadith
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ ذِي نَابٍ منَ السِّباعِ فأكلُه حرامٌ» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ درندوں میں سے کچلی والے جانور کھانا حرام ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۵ / ۱۹۳۳) ۔ 4992
4104
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَكُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے درندوں میں سے کچلی والے ہر جانور اور پرندوں میں سے پنجے (سے شکار کرنے) والے ہر پرندے (کے کھانے) سے منع فرمایا ہے ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۶ / ۱۹۳۴) ۔ 4994
4105
Sahih
وَعَن أبي ثَعلبةَ قَالَ: حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُحُومَ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ
ابو ثعلبہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے پالتو گدھوں کا گوشت حرام قرار دیا ہے ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۵۲۷) و مسلم (۲۳ / ۱۹۳۶) ۔ 5007
4106
Sahih
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ وَأَذِنَ فِي لُحُومِ الْخَيْلِ
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے روز پالتو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا اور گھوڑوں کے گوشت کی اجازت فرمائی ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۵۲۴) و مسلم (۳۶ / ۱۹۴۱) ۔ 5022
4107
Sahih
وَعَن أبي قتادةَ أَنَّهُ رَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا فَعَقَرَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ؟» قَالَ: مَعَنَا رِجْلُهُ فَأَخَذَهَا فَأَكَلَهَا
ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک جنگلی گدھا دیکھا اور اسے شکار کر لیا ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تمہارے پاس اس کے گوشت میں سے کچھ باقی ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : ہمارے پاس اس کی ٹانگ ہے ، آپ ﷺ نے اس سے وہ ٹانگ لے کر اسے تناول فرمایا ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۸۲۱) و مسلم (۶۳ / ۱۱۹۶) ۔ 2858
4108
Sahih
وَعَن أنس قَالَ: أَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فَأَخَذْتُهَا فَأَتَيْتُ بهَا أَبَا طلحةَ فذبحها وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بوَرِكِها وفخذْيها فقبِله
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نے مرالظہران کے پاس ایک خرگوش کو دوڑایا ، میں اسے پکڑ کر ابوطلحہ ؓ کے پاس لے آیا ، انہوں نے اسے ذبح کیا اور اس کا کولہا اور اس کی دونوں رانیں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجیں تو آپ نے انہیں قبول فرمایا ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۵۷۲) و مسلم (۵۳ / ۱۹۵۳) ۔ 5048
4109
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الضَّبُّ لَسْتُ آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ»
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ نہ میں گوہ کھاتا ہوں اور نہ اسے حرام قرار دیتا ہوں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۵۳۶) و مسلم (۴۰ / ۱۹۴۳) ۔ 5028
4110
Sahih
وَعَن ابنِ عبَّاسٍ: أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَيْمُونَةَ وَهِيَ خَالَتُهُ وَخَالَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ فَوَجَدَ عِنْدَهَا ضَبًّا مَحْنُوذًا فَقَدَّمَتِ الضَّبَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَنِ الضَّبِّ فَقَالَ خَالِدٌ: أَحْرَامٌ الضَّبُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «لَا وَلَكِنْ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ» قَالَ خَالِدٌ: فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَيّ
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ خالد بن ولید ؓ نے انہیں بتایا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی معیت میں میمونہ ؓ کے پاس گئے اور وہ خالد بن ولید کی اور ابن عباس کی خالہ ہیں ، انہوں نے ان کے ہاں بھنا ہوا سانڈا پایا ، میمونہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں وہ پیش کیا تو رسول اللہ ﷺ نے سانڈے سے اپنا ہاتھ پیچھے ہٹا لیا تو خالد ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا سانڈا حرام ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ، لیکن یہ میری قوم کے علاقے میں پایا نہیں جاتا اس لیے میں طبعی طور پر اسے ناپسند کرتا ہوں ۔‘‘ خالد ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے اسے اپنے قریب کر لیا اور کھا لیا جبکہ رسول اللہ ﷺ میری طرف دیکھ رہے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۵۳۷) و مسلم (۴۴ / ۱۹۴۶) ۔ 5035
4111
Sahih
وَعَن أبي مُوسَى قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ لَحْمَ الدَّجَاجِ
ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو مرغ کا گوشت کھاتے ہوئے دیکھا ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۵۱۷) و مسلم (۹ / ۱۶۴۹) ۔ 4265
4112
Sahih
وَعَن ابنِ أبي أوْفى قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ كُنَّا نَأْكُلُ مَعَهُ الجرادَ
ابن ابی اوفی ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ، سات غزوات میں شرکت کی ، ہم آپ کے ساتھ ٹڈیاں کھایا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۴۹۵) و مسلم (۵۲ / ۱۹۵۲) ۔ 5045
4113
Sahih
وَعَن جابرٍ قَالَ: غَزَوْتُ جَيْشَ الْخَبْطِ وَأُمِّرَ عَلَيْنَا أَبُو عُبَيْدَةَ فَجُعْنَا جُوعًا شَدِيدًا فَأَلْقَى الْبَحْرُ حُوتًا مَيِّتًا لَمْ نَرَ مِثْلَهُ يُقَالُ لَهُ: الْعَنْبَرُ فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ عَظْمًا مِنْ عِظَامِهِ فَمَرَّ الرَّاكِبُ تَحْتَهُ فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «كُلُوا رِزْقًا أَخْرَجَهُ اللَّهُ إِلَيْكُمْ وَأَطْعِمُونَا إِنْ كَانَ مَعَكُمْ» قَالَ: فَأَرْسَلْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ فَأَكله
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے غزوۂ جیش الخبط میں شرکت کی ، ابوعبیدہ ؓ ہمارے امیر مقرر کیے گئے ، ہم شدید بھوک کا شکار ہو گئے تو سمندر نے ایک بہت بڑی مردہ مچھلی باہر پھینکی ، ہم نے اس جیسی مچھلی کبھی نہیں دیکھی تھی اور اسے عنبر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ، ہم نے اسے نصف ماہ تک کھایا ۔ ابوعبیدہ ؓ نے اس کی ہڈیوں میں سے ایک ہڈی پکڑی اور اونٹ سوار اس کے نیچے سے گزر گیا ، جب ہم واپس گئے تو ہم نے نبی ﷺ سے ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ نے تمہاری طرف جو رزق نکالا ہے اسے کھاؤ اور اگر تمہارے پاس اس میں سے کچھ ہے تو ہمیں بھی کھلاؤ ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، ہم نے اس میں سے کچھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا تو آپ نے اسے تناول فرمایا ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۴۳۶۲) و مسلم (۱۸ / ۱۹۳۵) ۔ 4998
4114
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِناءِ أحدِكم فَلْيَغْمِسْهُ كُلَّهُ ثُمَّ لِيَطْرَحْهُ فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ شِفَاءً وَفِي الْآخَرِ دَاءً» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گر جائے تو وہ اس کو اچھی طرح پانی میں غوطہ دے کر باہر پھینکے ، کیونکہ اس کے دو میں سے ایک پر میں شفاء جبکہ دوسرے میں بیماری ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۵۷۸۲) ۔
4115
Sahih
وَعَن ميمونةَ أَنَّ فَأْرَةً وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ فَمَاتَتْ فَسُئِلَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فَقَالَ: «ألقوها وَمَا حولهَا وكلوه» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
میمونہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک چوہیا گھی میں گر کر مر گئی ، رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق مسئلہ دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کو اور اس کے آس پاس کے گھی کو پھینک دو اور بقیہ (گھی) کھا لو ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۵۵۳۸) ۔
4116
Sahih
وَعَن ابْن عمر أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يَطْمِسَانِ الْبَصَرَ وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَبَيْنَا أَنَا أُطَارِدُ حَيَّةً أَقْتُلَهَا نَادَانِي أَبُو لُبَابَةَ: لَا تَقْتُلْهَا فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ. فَقَالَ: إِنَّهُ نَهَى بَعْدَ ذَلِكَ عَنْ ذَوَات الْبيُوت وَهن العوامر
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ سانپوں کو قتل کرو اور خاص کر دو لکیروں والے اور دم کٹے سانپ کو قتل کرو ، کیونکہ وہ دونوں بینائی ختم کر دیتے ہیں ، اور حمل گرا دیتے ہیں ۔‘‘ عبداللہ ؓ نے فرمایا : اس اثنا میں کہ میں ایک سانپ کو مارنے کے لیے اس کے پیچھے دوڑا تو ابولبانہ ؓ نے مجھے آواز دی : اسے مت مارو میں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے سانپوں کو مارنے کا حکم فرمایا ہے ، انہوں نے کہا : آپ ﷺ نے اس کے بعد گھروں میں رہنے والوں کو مارنے سے منع فرما دیا تھا ۔ کیونکہ وہ ان (گھروں) کو آباد رکھنے والے ہیں ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۲۹۷) و مسلم (۱۲۸ / ۲۲۳۳) ۔ 5825
4117
Sahih
وَعَن أبي السَّائِب قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَبَيْنَمَا نحنُ جلوسٌ إِذ سمعنَا تَحت سَرِيره فَنَظَرْنَا فَإِذَا فِيهِ حَيَّةٌ فَوَثَبْتُ لِأَقْتُلَهَا وَأَبُو سَعِيدٍ يُصَلِّي فَأَشَارَ إِلَيَّ أَنِ اجْلِسْ فَجَلَسْتُ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَشَارَ إِلَى بَيْتٍ فِي الدَّارِ فَقَالَ: أَتَرَى هَذَا البيتَ؟ فَقلت: نعم فَقَالَ: كَانَ فِيهِ فَتًى مِنَّا حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ قَالَ: فَخَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْخَنْدَقِ فَكَانَ ذَلِكَ الْفَتَى يَسْتَأْذِنُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْصَافِ النَّهَارِ فَيَرْجِعُ إِلَى أَهْلِهِ فَاسْتَأْذَنَهُ يَوْمًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذْ عَلَيْكَ سِلَاحَكَ فَإِنِّي أَخْشَى عَلَيْكَ قُرَيْظَةَ» . فَأَخَذَ الرَّجُلُ سِلَاحَهُ ثُمَّ رَجَعَ فَإِذَا امْرَأَتُهُ بَيْنَ الْبَابَيْنِ قَائِمَةٌ فَأَهْوَى إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ لِيَطْعَنَهَا بِهِ وَأَصَابَتْهُ غَيْرَةٌ فَقَالَتْ لَهُ: اكْفُفْ عَلَيْكَ رُمْحَكَ وَادْخُلِ الْبَيْتَ حَتَّى تَنْظُرَ مَا الَّذِي أَخْرَجَنِي فَدَخَلَ فَإِذَا بِحَيَّةٍ عَظِيمَةٍ مُنْطَوِيَةٍ عَلَى الْفِرَاشِ فَأَهْوَى إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ فَانْتَظَمَهَا بِهِ ثُمَّ خَرَجَ فَرَكَزَهُ فِي الدَّارِ فَاضْطَرَبَتْ عَلَيْهِ فَمَا يُدْرَى أَيُّهُمَا كَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا: الْحَيَّةُ أَمِ الْفَتَى؟ قَالَ: فَجِئْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ وَقُلْنَا: ادْعُ اللَّهَ يُحْيِيهِ لَنَا فَقَالَ: «اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ» ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ لِهَذِهِ الْبُيُوتِ عَوَامِرَ فَإِذَا رأيتُم مِنْهَا شَيْئا فحرِّجوا عَلَيْهَا ثَلَاثًا فإنْ ذَهَبَ وَإِلَّا فَاقْتُلُوهُ فَإِنَّهُ كَافِرٌ» . وَقَالَ لَهُمْ: «اذْهَبُوا فَادْفِنُوا صَاحِبَكُمْ» وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: «إِنَّ بالمدينةِ جِنَّاً قد أَسْلمُوا فَإِذا رأيتُم مِنْهُم شَيْئًا فَآذِنُوهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ فَاقْتُلُوهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ» . رَوَاهُ مُسلم
ابوسائب ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم ابوسعید خدری ؓ کے پاس گئے ، ہم ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اس اثنا میں ہم نے ان کی چارپائی کے نیچے کوئی آہٹ سنی ، ہم نے دیکھا کہ وہ سانپ تھا ، میں اسے قتل کرنے کے لیے جلدی سے اٹھا جبکہ ابوسعید ؓ نماز پڑھ رہے تھے ، انہوں نے مجھے اشارہ کیا کہ میں بیٹھ جاؤں ، میں بیٹھ گیا ، جب وہ فارغ ہوئے تو انہوں نے گھر میں ایک کمرے کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : یہ کمرہ دیکھ رہے ہو ؟ میں نے کہا : جی ہاں ، انہوں نے فرمایا : اس کمرے میں ہمارا ایک نوبیاہتا نوجوان تھا ، انہوں نے فرمایا ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خندق کی طرف نکلے ، وہ نوجوان نصف النہار کے وقت رسول اللہ ﷺ سے اجازت حاصل کر کے اپنی اہلیہ کے پاس آ جایا کرتا تھا ، چنانچہ ایک روز اس نے آپ ﷺ سے اجازت طلب کی تو رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا :’’ اپنا اسلحہ ساتھ لے جاؤ کیونکہ مجھے تمہارے متعلق بنو قریظہ کا خطرہ ہے ۔‘‘ اس نے اپنا اسلحہ لیا اور اپنے گھر کی طرف چل دیا (جب وہ گھر کے قریب پہنچا تو) اس نے دیکھا کہ اس کی اہلیہ دروازے پر ہے ، اس نے غیرت میں آ کر اس کی طرف نیزہ بڑھایا تاکہ وہ اسے مارے ، اس نے اسے کہا اپنا نیزہ روکیں اور کمرے میں جا کر دیکھیں کہ وہ کون سی چیز ہے جس نے مجھے باہر نکلنے پر مجبور کیا ہے ، وہ داخل ہوا تو اس نے ایک بہت بڑے اژدھے کو کنڈل مارے زمین پر دیکھا تو اس نے نیزہ اس میں گھونپ دیا ، پھر وہ باہر آ گیا اور اسے گھر میں گاڑ دیا سانپ اس (نیزے) پر تڑپنے لگا ، معلوم نہیں ہو سکا کہ ان دونوں میں سے پہلے کون مرا ، سانپ یا وہ نوجوان ؟ راوی بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا اور ہم نے عرض کیا ، اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ اسے ہمارے لیے زندہ فرما دے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنے ساتھی کے لیے مغفرت طلب کرو ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ ان گھروں کے کچھ مکین ہیں ، جب تم اس طرح کی کوئی چیز دیکھو تو اسے تین بار گھر سے نکلنے پر مجبور کرو اگر وہ چلا جائے (تو ٹھیک) ورنہ اسے مار دو ، کیونکہ وہ کافر ہے ۔‘‘ اور آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مدینہ میں جِن ہیں ، جو اسلام قبول کر چکے ہیں ، جب تم ان میں سے کوئی چیز دیکھو تو اسے تین روز خبردار کرو ، پھر اگر اس کے بعد بھی ظاہر ہو تو اسے قتل کر دو ، کیونکہ وہ تو شیطان ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۴۰ / ۲۲۳۶) ۔ 5839-5840
4118
Sahih
وَعَن أم شريك: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَقَالَ: «كَانَ يَنْفُخُ عَلَى إِبْرَاهِيم»
ام شریک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے گرگٹ مارنے کا حکم فرمایا ، اور فرمایا :’’ وہ ابراہیم ؑ کے لیے جلائی گئی آگ بھڑکانے کے لیے پھونکیں مارتا تھا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۳۵۹) و مسلم (۱۴۲ / ۲۲۳۷) ۔ 5842
4119
Sahih
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَسَمَّاهُ فُوَيْسِقًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے گرگٹ کو مارنے کا حکم فرمایا اور اس کا نام فویسق رکھا ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۴۴ / ۲۲۳۸) ۔ 5844
4120
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَتَلَ وَزَغًا فِي أولَّ ضَرْبَة كتبت لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ وَفِي الثَّانِيَةِ دُونَ ذَلِكَ وَفِي الثَّالِثَة دون ذَلِك» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے پہلی ضرب میں گرگٹ مار دیا تو اس کے لیے سو نیکی لکھ دی جاتی ہے ، اور دوسری چوٹ میں مارنے والے کے لیے اس سے کم اور تیسری میں اس سے کم (نیکی لکھی جاتی ہے) ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۴۷ / ۲۲۴۰) ۔ 5847
4121
Sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَرَصَتْ نَمْلَةٌ نَبِيًّا من الأنبياءِ فأمرَ بقربةِ النَّمْلِ فَأُحْرِقَتْ فَأَوْحَى اللَّهُ تَعَالَى إِلَيْهِ: أَنْ قَرَصَتْكَ نَمْلَةٌ أَحْرَقْتَ أُمَّةً مِنَ الْأُمَمِ تُسَبِّحُ؟
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ چیونٹی نے کسی نبی ؑ کو کاٹ لیا تو انہوں نے چیونٹیوں کے مسکن کو جلا دینے کا حکم فرمایا تو اسے جلا دیا گیا ، اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف وحی فرمائی کہ آپ کو ایک چیونٹی نے کاٹا تھا اور آپ نے ایک ایسی جماعت کو جلا دیا جو تسبیح کرتی تھی ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۰۱۹) و مسلم (۱۴۸ / ۲۲۴۱) ۔ 5849
4122
Sahih
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا وَقَعَتِ الْفَأْرَةُ فِي السَّمْنِ فَإِنْ كَانَ جَامِدًا فَأَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا وَإِنْ كَانَ مَائِعًا فَلَا تَقْرَبُوهُ» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب چوہیا گھی میں گر جائے ، اگر وہ جامد ہو تو اس (چوہیا) کو اور اس کے آس پاس والے گھی کو نکال کر پھینک دو ، اور اگر وہ گھی مائع حالت میں ہو تو پھر اس کے قریب نہ جاؤ ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۲ / ۲۳۲ ۔ ۲۳۳ ح ۷۱۷۷) * الزھری مدلس و عنعن ، و معمر : خالفہ الثقات فیہ و الحدیث ضعفہ البخاری و الترمذی وغیرھما ۔
4123
Zaeef