TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

(30) CHAPTER. What has been mentioned about the plague. - طاعون کا بیان - The book of medicine. - Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Chapter 29 of The book of medicine. in Sahih Bukhari. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 29 of 55 · 6 Hadith
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، يُحَدِّثُ سَعْدًا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : إِذَا سَمِعْتُمْ بِالطَّاعُونِ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا ، فَقُلْتُ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ يُحَدِّثُ سَعْدًا وَلَا يُنْكِرُهُ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ .
Narrated Saud: The Prophet said, If you hear of an outbreak of plague in a land, do not enter it; but if the plague breaks out in a place while you are in it, do not leave that place.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے کہا کہ مجھے حبیب بن ابی ثابت نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابراہیم بن سعد سے سنا، کہا کہ میں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ سعد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم سن لو کہ کسی جگہ طاعون کی وبا پھیل رہی ہے تو وہاں مت جاؤ لیکن جب کسی جگہ یہ وبا پھوٹ پڑے اور تم وہیں موجود ہو تو اس جگہ سے نکلو بھی مت۔ ( حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا کہ میں نے ابراہیم بن سعد سے ) کہا تم نے خود یہ حدیث اسامہ رضی اللہ عنہ سے سنی ہے کہ انہوں نے سعد رضی اللہ عنہ سے بیان کیا اور انہوں نے اس کا انکار نہیں کیا؟ فرمایا کہ ہاں۔
5728
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجَ إِلَى الشَّامِ حَتَّى إِذَا كَانَ بِسَرْغَ لَقِيَهُ أُمَرَاءُ الْأَجْنَادِ ، أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ، وَأَصْحَابُهُ ، فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِأَرْضِ الشَّأْمِ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَقَالَ عُمَرُ : ادْعُ لِي الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ ، فَدَعَاهُمْ فَاسْتَشَارَهُمْ ، وَأَخْبَرَهُمْ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّأْمِ ، فَاخْتَلَفُوا ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : قَدْ خَرَجْتَ لِأَمْرٍ وَلَا نَرَى أَنْ تَرْجِعَ عَنْهُ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : مَعَكَ بَقِيَّةُ النَّاسِ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا نَرَى أَنْ تُقْدِمَهُمْ عَلَى هَذَا الْوَبَاءِ ، فَقَالَ : ارْتَفِعُوا عَنِّي ، ثُمَّ قَالَ : ادْعُوا لِي الْأَنْصَارَ فَدَعَوْتُهُمْ فَاسْتَشَارَهُمْ ، فَسَلَكُوا سَبِيلَ الْمُهَاجِرِينَ ، وَاخْتَلَفُوا كَاخْتِلَافِهِمْ ، فَقَالَ : ارْتَفِعُوا عَنِّي ، ثُمَّ قَالَ : ادْعُ لِي مَنْ كَانَ هَا هُنَا مِنْ مَشْيَخَةِ قُرَيْشٍ مِنْ مُهَاجِرَةِ الْفَتْحِ ، فَدَعَوْتُهُمْ فَلَمْ يَخْتَلِفْ مِنْهُمْ عَلَيْهِ رَجُلَانِ ، فَقَالُوا : نَرَى أَنْ تَرْجِعَ بِالنَّاسِ وَلَا تُقْدِمَهُمْ عَلَى هَذَا الْوَبَاءِ ، فَنَادَى عُمَرُ فِي النَّاسِ ، إِنِّي مُصَبِّحٌ عَلَى ظَهْرٍ فَأَصْبِحُوا عَلَيْهِ ، قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ : أَفِرَارًا مِنْ قَدَرِ اللَّهِ ! فَقَالَ عُمَرُ : لَوْ غَيْرُكَ قَالَهَا يَا أَبَا عُبَيْدَةَ : نَعَمْ ، نَفِرُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ إِلَى قَدَرِ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ إِبِلٌ هَبَطَتْ وَادِيًا لَهُ عُدْوَتَانِ إِحْدَاهُمَا خَصِبَةٌ وَالْأُخْرَى جَدْبَةٌ ، أَلَيْسَ إِنْ رَعَيْتَ الْخَصْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ وَإِنْ رَعَيْتَ الْجَدْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ ، قَالَ : فَجَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَكَانَ مُتَغَيِّبًا فِي بَعْضِ حَاجَتِهِ ، فَقَالَ : إِنَّ عِنْدِي فِي هَذَا عِلْمًا : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ ، قَالَ : فَحَمِدَ اللَّهَ عُمَرُ ، ثُمَّ انْصَرَفَ .
Narrated `Abdullah bin `Abbas: `Umar bin Al-Khattab departed for Sham and when he reached Sargh, the commanders of the (Muslim) army, Abu 'Ubaida bin Al-Jarrah and his companions met him and told him that an epidemic had broken out in Sham. `Umar said, Call for me the early emigrants. So `Umar called them, consulted them and informed them that an epidemic had broken out in Sham. Those people differed in their opinions. Some of them said, We have come out for a purpose and we do not think that it is proper to give it up, while others said (to `Umar), You have along with you. other people and the companions of Allah's Apostle so do not advise that we take them to this epidemic. `Umar said to them, Leave me now. Then he said, Call the Ansar for me. I called them and he consulted them and they followed the way of the emigrants and differed as they did. He then said to them, Leave me now, and added, Call for me the old people of Quraish who emigrated in the year of the Conquest of Mecca. I called them and they gave a unanimous opinion saying, We advise that you should return with the people and do not take them to that (place) of epidemic. So `Umar made an announcement, I will ride back to Medina in the morning, so you should do the same. Abu 'Ubaida bin Al-Jarrah said (to `Umar), Are you running away from what Allah had ordained? `Umar said, Would that someone else had said such a thing, O Abu 'Ubaida! Yes, we are running from what Allah had ordained to what Allah has ordained. Don't you agree that if you had camels that went down a valley having two places, one green and the other dry, you would graze them on the green one only if Allah had ordained that, and you would graze them on the dry one only if Allah had ordained that? At that time `Abdur-Rahman bin `Auf, who had been absent because of some job, came and said, I have some knowledge about this. I have heard Allah's Apostle saying, 'If you hear about it (an outbreak of plague) in a land, do not go to it; but if plague breaks out in a country where you are staying, do not run away from it.' `Umar thanked Allah and returned to Medina.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عبدالحمید بن عبدالرحمٰن بن زید بن خطاب نے، انہیں عبداللہ بن عبداللہ بن حارث بن نوفل نے اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شام تشریف لے جا رہے تھے جب آپ مقام سرغ پر پہنچے تو آپ کی ملاقات فوجوں کے امراء ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھیوں سے ہوئی۔ ان لوگوں نے امیرالمؤمنین کو بتایا کہ طاعون کی وبا شام میں پھوٹ پڑی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرے پاس مہاجرین اولین کو بلا لاؤ۔ آپ انہیں بلا لائے تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے مشورہ کیا اور انہیں بتایا کہ شام میں طاعون کی وبا پھوٹ پڑی ہے، مہاجرین اولین کی رائیں مختلف ہو گئیں۔ بعض لوگوں نے کہا کہ صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کی باقی ماندہ جماعت آپ کے ساتھ ہے اور یہ مناسب نہیں ہے کہ آپ انہیں اس وبا میں ڈال دیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اچھا اب آپ لوگ تشریف لے جائیں پھر فرمایا کہ انصار کو بلاؤ۔ میں انصار کو بلا کر لایا آپ نے ان سے بھی مشورہ کیا اور انہوں نے بھی مہاجرین کی طرح اختلاف کیا کوئی کہنے لگا چلو، کوئی کہنے لگا لوٹ جاؤ۔ امیرالمؤمنین نے فرمایا کہ اب آپ لوگ بھی تشریف لے جائیں پھر فرمایا کہ یہاں پر جو قریش کے بڑے بوڑھے ہیں جو فتح مکہ کے وقت اسلام قبول کر کے مدینہ آئے تھے انہیں بلا لاؤ، میں انہیں بلا کر لایا۔ ان لوگوں میں کوئی اختلاف رائے پیدا نہیں ہوا سب نے کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ آپ لوگوں کو ساتھ لے کر واپس لوٹ چلیں اور وبائی ملک میں لوگوں کو نہ لے کر جائیں۔ یہ سنتے ہی عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں اعلان کرا دیا کہ میں صبح کو اونٹ پر سوار ہو کر واپس مدینہ منورہ لوٹ جاؤں گا تم لوگ بھی واپس چلو۔ صبح کو ایسا ہی ہوا ابوعبیدہ ابن جراح رضی اللہ عنہ نے کہا کیا اللہ کی تقدیر سے فرار اختیار کیا جائے گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کاش! یہ بات کسی اور نے کہی ہوتی ہاں ہم اللہ کی تقدیر سے فرار اختیار کر رہے ہیں لیکن اللہ ہی کی تقدیر کی طرف۔ کیا تمہارے پاس اونٹ ہوں اور تم انہیں لے کر کسی ایسی وادی میں جاؤ جس کے دو کنارے ہوں ایک سرسبز شاداب اور دوسرا خشک۔ کیا یہ واقعہ نہیں کہ اگر تم سرسبز کنارے پر چراؤ گے تو وہ بھی اللہ کی تقدیر سے ہو گا۔ اور خشک کنارے پر چراؤ گے تو وہ بھی اللہ کی تقدیر سے ہی ہو گا۔ بیان کیا کہ پھر عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ آ گئے وہ اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے اس وقت موجود نہیں تھے انہوں نے بتایا کہ میرے پاس مسئلہ سے متعلق ایک علم ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم کسی سر زمین میں ( وبا کے متعلق ) سنو تو وہاں نہ جاؤ اور جب ایسی جگہ وبا آ جائے جہاں تم خود موجود ہو تو وہاں سے مت نکلو۔ راوی نے بیان کیا کہ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی حمد کی اور پھر واپس ہو گئے۔
5729
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّ عُمَرَ خَرَجَ إِلَى الشَّأْمِ فَلَمَّا كَانَ بِسَرْغَ بَلَغَهُ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّأْمِ فَأَخْبَرَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ .
Narrated `Abdullah bin 'Amir: `Umar went to Sham and when h ached Sargh, he got the news that an epidemic (of plague) had broken out in Sham. `Abdur-Rahman bin `Auf told him that Allah's Apostle said, If you hear that it (plague) has broken out in a land, do not go to it; but if it breaks out in a land where you are present, do not go out escaping from it.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عبداللہ بن عامر نے کہ عمر رضی اللہ عنہ شام کے لیے روانہ ہوئے جب مقام سرغ میں پہنچے تو آپ کو خبر ملی کہ شام میں طاعون کی وبا پھوٹ پڑی ہے۔ پھر عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم وبا کے متعلق سنو کہ وہ کسی جگہ ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جب کسی ایسی جگہ وبا پھوٹ پڑے جہاں تم موجود ہو تو وہاں سے بھی مت بھاگو ( وبا میں طاعون، ہیضہ وغیرہ سب داخل ہیں ) ۔
5730
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ المَسِيحُ ، وَلَا الطَّاعُونُ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, Neither Messiah (Ad-Dajjal) nor plague will enter Medina.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نعیم مجمر نے اور انہوں نے کہا ہم سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مدینہ منورہ میں دجال داخل نہیں ہو سکے گا اور نہ طاعون آ سکے گا۔“
5731
Sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ بِنْتُ سِيرِينَ ، قَالَتْ ، قَالَ لِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : يَحْيَى بِمَ مَاتَ ، قُلْتُ : مِنَ الطَّاعُونِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ .
Narrated Anas bin Malik: Allah's Apostle said, (Death from) plague is martyrdom for every Muslim.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم نے بیان کیا، کہا مجھ سے حفصہ بنت سیرین نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یحییٰ بن سیرین کا کس بیماری میں انتقال ہوا تھا۔ میں نے کہا کہ طاعون میں، بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ طاعون ہر مسلمان کے لیے شہادت ہے۔
5732
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْمَبْطُونُ شَهِيدٌ وَالْمَطْعُونُ شَهِيدٌ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, He (a Muslim) who dies of an Abdominal disease is a a martyr, and he who dies of plague is a martyr.
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے سمی نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پیٹ کی بیماری میں یعنی ہیضہ سے مرنے والا شہید ہے اور طاعون کی بیماری میں مرنے والا شہید ہے۔
5733
Sahih

Chapters

55
01
(1) CHAPTER. There is no disease that Allah has sent down except that He also has sent down its treatment.
اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری ایسی نہیں اتاری جس کی دوا بھی نازل نہ کی ہو
1 Hadith
02
(2) CHAPTER. May a man treat a woman or a woman treat a man?
کیا مرد کبھی عورت کا یا کبھی عورت مرد کا علاج کر سکتی ہے
1 Hadith
03
(3) CHAPTER. There is cure in three things.
( اللہ نے ) شفاء تین چیزوں میں ( رکھی ) ہے
2 Hadith
04
(4) CHAPTER. Treatment with honey, And the Statement of Allah: Wherein is healing for men. (V.16:69)
شہد کے ذریعہ علاج کرنا اورفضائل شہد میں اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اس میں ( ہر مرض سے ) لوگوں کے لیے شفاء ہے ۔
3 Hadith
05
(5) CHAPTER. To treat with the milk of camels.
اونٹ کے دودھ سے علاج کرنے کا بیان
1 Hadith
06
(6) CHAPTER. To treat with the urine of camels.
اونٹ کے پیشاب سے علاج جائز ہے
1 Hadith
07
(7) CHAPTER. (To treat with ) black cumin (Nigella seeds).
کلونجی کا بیان
2 Hadith
08
(8) CHAPTER. At-Talbina (a kind of porridge prepared from milk, honey and white flour, etc.) for the patient.
مریض کے لیے حریرہ پکانا
2 Hadith
09
(9) CHAPTER. Saut
ناک میں دوا ڈالنا درست ہے
1 Hadith
10
(10) CHAPTER. To sniff the Indian and sea Qust (kind of incense).
قسطہندی اور قسط بحری یعنی کوٹ جو سمندر سے نکلتا ہے اس کا نام لینا
2 Hadith
11
(11) CHAPTER. What time one should be cupped.
کس وقت پچھنا لگوایا جائے ، حضرت ابوموسیٰ رضیاللہعنہ نے رات کے وقت پچھنا لگوایا تھا
1 Hadith
12
(12) CHAPTER. To be cupped while on a journey or while in a state of Ihram.
سفر میں پچھنا لگوانا اور حالت احرام میں بھی ، اسے ابنبحینہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے
1 Hadith
13
(13) CHAPTER. To be cupped (as a treatment) for a disease.
بیماری کی وجہ سے پچھنا لگوانا جا ئز ہے
1 Hadith
14
(13) CHAPTER. To be cupped (as a treatment) for a disease.
سر میں پچھنا لگوانا درست ہے
3 Hadith
15
(15) CHAPTER. To perform the operation of cupping to treating unilateral or bilateral headache.
آدھے سر کے درد یاپورے سر کے درد میں پچھنا لگواناجائز ہے
3 Hadith
16
(16) CHAPTER. To get one's head shaved because of some ailment.
( محرم کا ) تکلیف کی وجہ سے سر منڈانا ( مثلاً پچھنا لگوانے میں بالوں سے تکلیف ہو )
1 Hadith
17
(17) CHAPTER. Whatever gets himself branded (cauterized) or branded (cauterized) someone else, and the superiority of one who does not get branded (cauterized).
داغ لگوانا یا لگانا اور جو شخص داغ نہ لگوائے اس کی فضیلت کابیان
2 Hadith
18
(18) CHAPTER. To treat opthalmia (inflammation or soreness of the eyes) with antimony or kohl.
اثمد اور سرمہ لگانا جب آنکھیں دکھتی ہوں اس باب میں امعطیہ رضیاللہعنہا سے ایک حدیث بھی مروی ہے
1 Hadith
19
(19) CHAPTER. Leprosy.
جذام کا بیان
1 Hadith
20
(20) CHAPTER. Al-Mann heals eye diseases.
من ( کھنبی ) آنکھ کے لیے شفاء ہے
1 Hadith
21
(21) CHAPTER. Al-Ladud (the medicine which is poured or inserted into one side of a patient's mouth)
مریض کے حلق میں دوا ڈالنا
6 Hadith
22
(23) CHAPTER. Al-Udhra (throat or tonsil diseases).
عذرہ یعنی حلق کے کوا کے گر جانے کاعلاج جسے عربی میں سقوط اللھاۃ کہتے ہیں ۔
1 Hadith
23
(24) CHAPTER. The treatment for a person suffering from diarrhea.
پیٹ کے عارضہ میں کیا دوا دی جائے ؟
1 Hadith
24
(25) CHAPTER. There is no Safar (i.e., it is not a contagious disease). Safar is a disease that afflicts the abdomen.
صفرصرف پیٹ کی ایک بیماری ہے ۔
1 Hadith
25
(26) CHAPTER. Pleurisy.
ذات الجنب ( نمونیہ ) کا بیان
4 Hadith
26
(27) CHAPTER. To burn a mat made of palm-tree leaves (and put its ashes into a wound) to stop bleeding.
زخموں کا خون روکنے کے لیے بو ریا جلا کر زخم پر لگانا
1 Hadith
27
(28) CHAPTER. Fever is from the heat of Hell.
بخار دوزخ کی بھاپ سے ہے
4 Hadith
28
(29) CHAPTER. Whoever went out of a land because of its climate and water did not suit him.
جہاں کی آب و ہوا ناموافق ہو وہاں سے نکل کر دوسرے مقام پر جانا درست ہے
1 Hadith
29
(30) CHAPTER. What has been mentioned about the plague.
طاعون کا بیان
6 Hadith
30
(31) CHAPTER. The reward of a person who suffers from plague (or lives in a plague-striken land) and remains patient.
جو شخص طاعون میں صبر کر کے وہیں رہے گو اس کو طاعون نہ ہو ، اس کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
31
(32) CHAPTER. Ar-Ruqa with the Quran and the Muawwidhat (the last two Surah of Quran).
قرآنمجید اورمعوذات پڑھ کر مریض پر دم کرنا
1 Hadith
32
(33) CHAPTER. To do Ruqya by reciting Surat Al-Fatiha (the Opening of Book).
سورۃ الفاتحہ سے دم کرنا
1 Hadith
33
(34) CHAPTER. The conditions required for doing a Ruqya with Surat Al-Fatiha.
سورۃ الفاتحہ سے دم جھاڑ کرنے میں ( بکریاں لینے کی ) شرط لگانا
1 Hadith
34
(35) CHAPTER. Ruqya for an evil eye.
نظربد لگ جانے کی صورت میں دم کرنا
2 Hadith
35
(36) CHAPTER. The effect of an evil eye is a fact.
نظربد کا لگناحق ہے
1 Hadith
36
(37) CHAPTER. To treat a snakebite or a scorpion sting with a Ruqya.
سانپ اور بچھو کے کاٹے پر دم کرنا جائز ہے
1 Hadith
37
(38) CHAPTER. The Ruqya of the Prophet (i.e., what he used to recite while doing a Ruqya).
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ( بیماری سے شفاء کے لیے ) دم
8 Hadith
38
(40) CHAPTER. The passing of the right hand of the one who is treating on the place of ailment.
بیمار پر دم کرتے وقت درد کی جگہ پر داہنا ہاتھ پھیرنا
1 Hadith
39
(41) CHAPTER. A woman may treat a man with a Ruqya.
عورت مرد پر دم کر سکتی ہے
1 Hadith
40
(42) CHAPTER. Whoever does not treat or get treated with a Ruqya.
دم جھاڑ نہ کرانے کی فضیلت
1 Hadith
41
(43) CHAPTER. At-Tiyara (drawing an evil omen from birds, etc.)
بدشگونی لینے کا بیان
2 Hadith
42
(44) CHAPTER. Al-Fal (good omen).
نیکفال لینا کچھ برا نہیں ہے
2 Hadith
43
(45) CHAPTER. No Hama.
الو کو منحوس سمجھنا لغو ہے
1 Hadith
44
(46) CHAPTER. (What is said about) Foretellers.
کہا نت کا بیان
5 Hadith
45
(47) CHAPTER. Magic.
جادو کا بیان
1 Hadith
46
(48) CHAPTER. Shirk (i.e., joining others in worship with Allah) and witchcraft are from the Mubiqat (great destructive sins).
شرک اورجادو ان گناہوں میں سے ہیں جو آدمی کو تباہ کر دیتے ہیں
1 Hadith
47
(49) CHAPTER. Should a bewitched person be treated?
جادو کے بیان میں
2 Hadith
48
(51) CHAPTER. Some eloquent speech is as effective as magic.
اس بیان میں کہ بعض تقریریں بھی جادو بھری ہوتی ہیں
1 Hadith
49
(52) CHAPTER. The use of Ajwa dates as medicine for magic.
عجوہ کھجور جادو کیلئے دوا ہے
2 Hadith
50
(53) CHAPTER. No Hama.
الو کا منحوس ہونا محض غلط ہے
2 Hadith
51
(54) CHAPTER. No Adwa (no contagious disease is conveyed without Allah's Permission).
امراض میں چھوت لگنے کی کوئی حقیقت نہیں ہے
5 Hadith
52
(55) CHAPTER. What has been said regarding the poison given to the Prophet .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیئے جانے سے متعلق بیان
1 Hadith
53
(56) CHAPTER. The taking of poison and treating with it,or with what may be dangerous, or with an impure or polluted thing (medicine, etc.).
زہر پینا یا زہریلی اور خوفناک دوا یا ناپاک دوا کا استعمال کرنا
2 Hadith
54
(57) CHAPTER. The milk of she-asses.
گدھی کا دودھ پینا کیسا ہے ؟
2 Hadith
55
(58) CHAPTER. If a housefly falls in a utensil.
جب مکھی برتن میں پڑ جائے ( جس میں کھانا یا پانی ہو )
1 Hadith
No chapter matched that.