TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 6138 - (85) CHAPTER. To honour one's guest and to serve him with one's own hands. - The book of al-adab (good manners). - Sahih Bukhari in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 4 of 4 in this chapter
(85) CHAPTER. To honour one's guest and to serve him with one's own hands.
مہمان کی عزت اور خود اس کی خدمت کرنا اور اللہ تعالیٰ کے فرمان ” ابراہیم علیہالسلام کے مہمان جن کی عزت کی گئی “ کی تفسیر ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, Whoever believes in Allah and the Last Day, should serve his guest generously; and whoever believes in Allah and the Last Day, should unite the bond of kinship (i.e. keep good relation with his Kith and kin); and whoever believes in Allah and the Last Day, should talk what is good or keep quit.
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے انہیں ابوسلمہ نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کی عزت کرنی چاہیئے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہئے کہ وہ صلہ رحمی کرے، جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیئے کہ اچھی بات زبان سے نکالے ورنہ چپ رہے۔“
6138
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

604
1
(11) CHAPTER. Allah's Statement: “And tell them about the guests (the angels) of Ibrahim (Abraham).” (V.15:51).
اللہ تعالیٰ نے سورۃ الحجر میں فرمایا ‘ اے پیغمبر ! ان لوگوں کو ابراہیم علیہ السلام کے مہمانوں کا قصہ سنائیے ۔
Sahih Bukhari
2
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا غزوۂ بدر کے متعلق اہتمام، اللہ تعالیٰ سے طلبِ نصرت، اور آپ کا بنفس نفیس میدانِ جنگ میں اترنا اور مجاہدین کا آپ کے پیچھے ہو کر زخمی ہونے سے بچنے کی کوشش کرنا اور اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے ذریعے آپ کی نصرت فرمانے کا بیان
Musnad Ahmad
3
(17) CHAPTER. (The Statement of Allah) “But if they repent [by rejecting Shirk (polytheism) and accept Islamic Monotheism] and perform As-Salat (Iqamat-as-Salat) and give Zakat then leave their way free.” (V.9:5)
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں کہ اگر وہ ( کافر ) توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو ( یعنی ان سے جنگ نہ کرو )
Sahih Bukhari
4
(41) CHAPTER. To talk with the family and the guests after the Isha prayer.
اپنی بیوی یا مہمان سے رات کو ( عشاء کے بعد ) گفتگو کرنا
Sahih Bukhari
5
(10) CHAPTER. The statement of Allah: “... nor commit sin nor dispute unjustly during Hajj … (V.2:197)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ بقررہ میں فرمانا کہ حج میں گناہ اور جھگڑا نہ کرنا چاہئے
Sahih Bukhari
6
(9) CHAPTER. The explanation of the Statement of Allah: “… After payment of legacies that they may have bequeathed or debts ... (V.4:12)
اللہ تعالیٰ کے ( سورۃ نساء میں ) یہ فرمانے کی تفسیر کہ حصوں کی تقسیم وصیت اور دین کے بعد ہوگی
Sahih Bukhari
7
(6) CHAPTER. “Whoever is an enemy to Jibril (Gabriel)...” (V.2:97)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد ( ( واتخذ وا من مقامابراہیم مصلی ) ) کی تفسیر
Sahih Bukhari
8
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: “Intoxicants (all kind of alcoholic drinks), gambling, Al-Ansab and Al-Azlam (arrows for seeking luck or decision) are an abomination of Shaitan's (satan) handiwork. So avoid (strickly all) that (abomination) in order that you may be sucessful... (V.5:90)
اور اللہ تعالیٰ کے فرمان ( سورۃ المائدہ ) کی تفسیر
Sahih Bukhari
9
(21) CHAPTER. The younger should serve the older.
بچوں کا بڑوں بوڑھوں کی خدمت کرنا ضروری ہے
Sahih Bukhari
10
(4) CHAPTER. Treatment with honey, And the Statement of Allah: Wherein is healing for men. (V.16:69)
شہد کے ذریعہ علاج کرنا اورفضائل شہد میں اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اس میں ( ہر مرض سے ) لوگوں کے لیے شفاء ہے ۔
Sahih Bukhari
11
(75) CHAPTER. What is allowed to say when one is angry or harsh for Allah's sake.
غصہ سے پرہیز کرنا اللہ تعالیٰ کے فرمان ( سورۃ شوریٰ ) کی وجہ سے
Sahih Bukhari
12
(86) CHAPTER. To prepare the meals and to trouble oneself for the guest.
مہمان کے لئے پرتکلف کھانا تیار کرنا
Sahih Bukhari
13
(87) CHAPTER. What is disliked as regards anger and impatience before a guest.
مہمان کے سامنے غصہ اور رنج کا ظاہر کرنا مکروہ ہے
Sahih Bukhari
14
(17) CHAPTER. The Statement of Allah: “... In order that you [O Musa (Moses)] may be brought up under My Eye.” (V.20:39)
سورۃ طہٰ میں اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ علیہالسلام سے فرمانا کہ
Sahih Bukhari
15
(42) CHAPTER. The Statement of Allah: “... Every day He is (engaged) in some affair (such as giving honour to some, disgrace to some, life to some, death to some, etc.)!” (V.55:29)
سورۃ رحمان میں اللہ تعالیٰ کا فرمان
Sahih Bukhari
16
(55) CHAPTER. The Statement of Allah: “Nay! This is a Glorious Quran (Inscribed), in Al-Lauh Al-Mahfuz (The Preserved Tablet).” (V.85:21,22)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ البروج میں فرمانا بلکہ وہ عظیم قرآن ہے جو لوح محفوظ میں ہے ۔
Sahih Bukhari
17
Chapter: The Saying of Allah Most High: ... And as for those who can fast with difficulty, they have) a choice either to fast or) to feed a Miskin (poor person) (for every day) is Abrogated by His saying: ... So whoever of you sights (the crescent on the first night of) the month (of Ramadan i.e. is present at his home), he must observe Sawm (fasts) that month ...
اللہ تعالیٰ کا فرمان :’’اور ان لوگوں پرجو اس کی طاقت رکھتے ہیں‘فدیہ ‘ایک مسکین کا کھانا ہے ‘‘اس کے فرمان :’’اور تم میں سے جو کوئی اس مہینے کو پالے وہ اس کے روزے رکھے ‘‘کی بنا پر منسوخ ہو گیا
Sahih Muslim
18
Chapter: Ila', Keeping away from one's wives and giving them the choice, And the saying of Allah, The Most High: But if you help one another against him
ایلاء اور عورتوںسے علیحدگی اختیار کرنا اور انھیں اختیار دینا ‘نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان :’’اور اگر تم دونوں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کروگی ‘‘
Sahih Muslim
19
Chapter: It is recommended to take the stones out of dates, and it is recommended for the guest to pray for the host and to ask a righteous guest to supplicate, and he should respond to that request
کھجور کھا تے وقت گٹھلیاں علیحدہ رکھنا مہمان کا کھانا کھلا نے والوں کے لیے دعا کرنا نیک مہمان سے دعا کی درخواست کرنا اور اس (مہمان) کی طرف سے اس درخواست کو قبول کرنا مستحب ہے
Sahih Muslim
20
Chapter: Allah's Saying: Has Not The Time Come For The Hearts Of Those Who Believe To Be Affected By Allah's Reminder
فرمان باری تعالیٰ: کیا ایمان لانے والوں کے لیے ابھی یہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کو یاد کرتے ہوئے گڑگڑائیں کی تفسیر
Sahih Muslim
21
Chapter: Allah's Saying: And Force Not Your Maids To Prostitution
فرمان باری تعالیٰ: اور اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر نہ اکساؤ کی تفسیر
Sahih Muslim
22
Chapter: Allah's Saving: Those Whom They Call Upon Desire Means Of Access To Their Lord (Allah)
اللہ تعالیٰ کے فرمان: وہ لوگ جنھیں یہ(کافر) پکارتے ہیں وہ خود ا پنے رب کی طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں کی تفسیر
Sahih Muslim
23
Chapter: Allah's Saving: Those Whom They Call Upon Desire Means Of Access To Their Lord (Allah)
اللہ تعالیٰ کے فرمان: وہ لوگ جنھیں یہ(کافر) پکارتے ہیں وہ خود ا پنے رب کی طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں کی تفسیر
Sahih Muslim
24
Chapter: Allah's Saying: These Two Opponents Dispute With Each Other About Their Lord
فرمان باری تعالیٰ: یہ دو جھگڑنے والے ہیں جنھوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا کی تفسیر
Sahih Muslim
25
اللہ تعالیٰ کے فرمان «ويسألونك عن المحيض» کی تفسیر۔
Sunnan Nisai
26
باب: اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”اور کھجوروں اور انگوروں کے کچھ پھلوں سے تم نشہ آور مشروب اور اچھا (حلال و عمدہ) رزق تیار کرتے ہو“ کی تفسیر۔
Sunnan Nisai
27
باب: سورۃ ابراہیم سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
28
Chapter: About The Supplication Of The Guest
باب: مہمان میزبان کے لیے کیا دعا کرے اس کا بیان
Jam e Tirmazi
29
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے فرمان اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ کا بیان
Musnad Ahmad
30
جماع کے وقت اللہ تعالی کا نام لینے اور پردہ کرنا اور دوبارہ جماع کرنے کے لیے وضو کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
31
قراء ت سے پہلے تعوذ پڑھنے اور اللہ تعالی کے اس فرمان {فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ}کا بیان
Musnad Ahmad
32
سورۂ آل عمران کی تفسیر اور اللہ تعالی کے اسم اعظم کا بیان
Musnad Ahmad
33
سورۂ ابراہیم {وَیُسْقٰی مِنْ مَائٍ صَدِیْدٍ…}کی تفسیر
Musnad Ahmad
34
جب مہمان زیادہ ہو جائیں تو ضیافت کرنے کے لیے مسلمانوں کاایک دوسرے کے ساتھ مل جانا اور باہمی تعاون کرنا
Musnad Ahmad
35
مطلق طور پر نافرمانیوں سے ڈرانے اور ان کا ارتکاب کرنے والے پر اللہ تعالیٰ کی غیرت کا بیان
Musnad Ahmad
36
اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْ آدَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ}کابیان
Musnad Ahmad
37
اللہ کے نبی ادریس علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا} کا بیان
Musnad Ahmad
38
اللہ کے نبی نوح علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {وَکَذٰلِکَ جَعَلْـنَا کُمْ اُمَّـۃً وَسَطًا}کا بیان
Musnad Ahmad
39
ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی ماں سیدہ ہاجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کے ساتھ مکہ مکرمہ کے علاقے کے فاران کے پہاڑوں کی طرف ہجرت کرنا اور اس کے سبب سے زمزم کا وجود میں آنا اور بیت ِ عتیق کا تعمیر ہونا
Musnad Ahmad
40
اللہ کے نبی لوط علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْ آوِیْ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ}کا بیان
Musnad Ahmad
41
نبی کریم کا بچپنے میںبکریاں چرانا، اللہ تعالیٰ کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حفاظت کرنا اور آپ کو جاہلیت کی گندگیوں سے بچانا
Musnad Ahmad
42
قریشیوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو قتل کرنے کا مشورہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کا آپ کو ہجرت کا حکم دے دینا
Musnad Ahmad
43
غزوۂ احد میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے کے دانتوں کی شہادت، چہرہ انور کا زخمی ہونا، اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے ذریعے آپ کی حفاظت کرنا اور آپ کے ساتھ بد سلوکی کرنے والوں پر اللہ کی شدید ناراضی کا بیان
Musnad Ahmad
44
فصل دوم: سیدنا عثمان کا اللہ تعالیٰ کی کتاب کا مطیع ہونا، ان کا لوگوں کے سامنے عذر خواہی کرنااور لوگوں کے سامنے اس کی وضاحت کرنا اور ان کے مناقب
Musnad Ahmad
45
بعض صحابہ کا نبی کر یم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اپنے حق میں شفاعت کی درخواست کرنااور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہر اس شخص کے حق میں سفارش کرنا، جس کو اس حال میں موت آئی ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو
Musnad Ahmad
46
اہل ایمان کا جنت میں اپنے ربّ کا دیدار کرنا اور یہ سب سے بڑی نعمت ہو گی، جو اللہ تعالیٰ ان کو عطا کرے گا، اللہ ہمیں اس سے محروم نہ رکھے (آمین)نیز اس باب میں موقف سے موت کے ذبح ہونے تک کے ابواب کی تلخیص بھی ہے
Musnad Ahmad
47
(13) CHAPTER. If Allah wants to do good to a person, He makes him comprehend (the religion). [The understanding of the Quran and As-Sunna (legal ways) of the Prophet (Muhammad )].
اس بارے میں کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ عنایت فرما دیتا ہے
Sahih Bukhari
48
(47) CHAPTER. The Statement of Allah: “And of knowledge you (mankind) have been given only a little.” (V. 17:85)
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تشریح میں کہ تمہیں تھوڑا علم دیا گیا ہے
Sahih Bukhari
49
(27) CHAPTER. Washing both feet, and it is not sufficient to pass wet hands over the feet.
دونوں پاؤں دھونا چاہیے اور قدموں پر مسح نہ کرنا چاہیے ۔
Sahih Bukhari
50
(38) CHAPTER. To pass wet hands over the whole head during ablution.
اس بارے میں کہ پورے سر کا مسح کرنا ضروری ہے
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

2,187
Jam e Tirmazi
2500
حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وفي الباب عن عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ الْكَعْبِيِّ الْخُزَاعِيِّ وَاسْمُهُ:‏‏‏‏ خُوَيْلِدُ بْنُ عَمْرٍو.
Abu Hurairah narrated that the Prophet(s.a.w) said: Whoever believes in Allah and the Last Day, then let him honor his guest. And whoever believes in Allah and the Last Day, then let him say what is good or remain silent.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ اپنے مہمان کی عزت کرے، اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ بھلی بات کہے یا خاموش رہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Sahih Bukhari
6136
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, Whoever believes in Allah and the Last Day, should not hurt his neighbor and whoever believes in Allah and the Last Day, should serve his guest generously and whoever believes in Allah and the Last Day, should talk what is good or keep quiet.
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن مہندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابوحصین نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اس پر لازم ہے کہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے، جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اس پر لازم ہے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اس پر لازم ہے کہ بھلی بات کہے ورنہ چپ رہے۔“
Sunnan Abu Dawood
5154
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلَانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، ‏‏‏‏‏‏فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، ‏‏‏‏‏‏فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ .
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم as saying: He who believes in Allah and in the last day should honour his guest; he who believes in Allah and in the last day should not harm his neighbor; he who believes in Allah and in the last day should speak good or keep silence.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ اور یوم آخرت ( قیامت ) پر ایمان رکھتا ہو تو اسے چاہیئے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔ اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے، اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ اچھی بات کہے یا چپ رہے ۔
Jam e Tirmazi
1169
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، ‏‏‏‏‏‏أَنْ تُسَافِرَ سَفَرًا يَكُونُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَصَاعِدًا إِلَّا وَمَعَهَا أَبُوهَا، ‏‏‏‏‏‏أَوْ أَخُوهَا، ‏‏‏‏‏‏أَوْ زَوْجُهَا، ‏‏‏‏‏‏أَوِ ابْنُهَا، ‏‏‏‏‏‏أَوْ ذُو مَحْرَمٍ مِنْهَا . وَفِي الْبَاب:‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرُوِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ لَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏يَكْرَهُونَ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تُسَافِرَ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْمَرْأَةِ، ‏‏‏‏‏‏إِذَا كَانَتْ مُوسِرَةً، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَكُنْ لَهَا مَحْرَمٌ هَلْ تَحُجُّ ؟، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا يَجِبُ عَلَيْهَا الْحَجُّ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّ الْمَحْرَمَ مِنَ السَّبِيلِ لِقَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ:‏‏‏‏ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلا سورة آل عمران آية 97، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ إِذَا لَمْ يَكُنْ لَهَا مَحْرَمٌ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا تَسْتَطِيعُ إِلَيْهِ سَبِيلًا، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَهْلِ الْكُوفَةِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ إِذَا كَانَ الطَّرِيقُ آمِنًا فَإِنَّهَا تَخْرُجُ مَعَ النَّاسِ فِي الْحَجِّ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ.
Abu Sa’eed Al-Khudri narrated that The Messenger of Allah said: “It is not lawful for a woman who believers in Allah and the Last Day to travel on a trip that is three days or more, unless she is accompanied by her father, her brother, her husband, her son, or someone who is a Mahram to her.”
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو، حلال نہیں کہ وہ تین دن ۱؎ یا اس سے زائد کا سفر کرے اور اس کے ساتھ اس کا باپ یا اس کا بھائی یا اس کا شوہر یا اس کا بیٹا یا اس کا کوئی محرم نہ ہو“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، ابن عباس اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”عورت ایک دن اور ایک رات کی مسافت کا سفر کسی محرم کے بغیر نہ کرے۔ اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ عورت کے لیے درست نہیں سمجھتے کہ محرم کے بغیر سفر کرے۔ اہل علم کا اس عورت کے بارے میں اختلاف ہے کہ جو حج کی استطاعت رکھتی ہو لیکن اس کا کوئی محرم نہ ہو تو وہ حج کرے یا نہیں؟ بعض اہل علم کہتے ہیں: اس پر حج نہیں ہے، اس لیے کہ محرم بھی اللہ تعالیٰ کے ارشاد «من استطاع إليه سبيلا» میں استطاعت سبیل میں داخل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب اس کا کوئی محرم نہ ہو تو وہ استطاعت سبیل نہیں رکھتی۔ یہ سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا قول ہے۔ اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب راستہ مامون ہو، تو وہ لوگوں کے ساتھ حج میں جا سکتی ہے۔ یہی مالک اور شافعی کا بھی قول ہے۔
Jam e Tirmazi
1406
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ،‏‏‏‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ،‏‏‏‏ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَسْفِكَنَّ فِيهَا دَمًا،‏‏‏‏ وَلَا يَعْضِدَنَّ فِيهَا شَجَرًا،‏‏‏‏ فَإِنْ تَرَخَّصَ مُتَرَخِّصٌ ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ أُحِلَّتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ اللَّهَ أَحَلَّهَا لِي،‏‏‏‏ وَلَمْ يُحِلَّهَا لِلنَّاسِ،‏‏‏‏ وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ،‏‏‏‏ ثُمَّ هِيَ حَرَامٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ،‏‏‏‏ ثُمَّ إِنَّكُمْ مَعْشَرَ خُزَاعَةَ قَتَلْتُمْ هَذَا الرَّجُلَ مِنْ هُذَيْلٍ،‏‏‏‏ وَإِنِّي عَاقِلُهُ،‏‏‏‏ فَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ بَعْدَ الْيَوْمِ فَأَهْلُهُ بَيْنَ خِيرَتَيْنِ:‏‏‏‏ إِمَّا أَنْ يَقْتُلُوا،‏‏‏‏ أَوْ يَأْخُذُوا الْعَقْلَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ،‏‏‏‏ وَرَوَاهُ شَيْبَانُ أَيْضًا،‏‏‏‏ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ مِثْلَ هَذَا،‏‏‏‏ وَرُوِي عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ،‏‏‏‏ فَلَهُ أَنْ يَقْتُلَ،‏‏‏‏ أَوْ يَعْفُوَ،‏‏‏‏ أَوْ يَأْخُذَ الدِّيَةَ . وَذَهَبَ إِلَى هَذَا بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ،‏‏‏‏ وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ أَحْمَدَ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق.
Narrated Abu Shuraih Al-Ka'bi: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Indeed Allah made Makkah sacred, it was not made sacred by the people. Whoever believes in Allah, and the Last Day, then let them not shed blood in it, nor cut down any of its trees. If one tries to make an excuse by saying: 'It was made lawful for the Messenger of Allah (ﷺ)' then indeed Allah made it lawful for me but He did not make it lawful for the people, and it was only made lawful for me for an hour of a day. Then it is returned to being sacred until the Day of Judgement. Then, to you people of Khuza'ah who killed this man from Hudhail: I am his 'Aqil, so whomever (one of his relatives) is killed after today, then his people have two options; either they have him killed, or they take the blood-money from him.'
ابوشریح کعبی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مکہ کو اللہ نے حرمت والا ( محترم ) بنایا ہے، لوگوں نے اسے نہیں بنایا، پس جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اس میں خونریزی نہ کرے، نہ اس کا درخت کاٹے، ( اب ) اگر کوئی ( خونریزی کے لیے ) اس دلیل سے رخصت نکالے کہ مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال کیا گیا تھا ( تو اس کا یہ استدلال باطل ہے ) اس لیے کہ اللہ نے اسے میرے لیے حلال کیا تھا لوگوں کے لیے نہیں، اور میرے لیے بھی دن کے ایک خاص وقت میں حلال کیا گیا تھا، پھر وہ تاقیامت حرام ہے؟ اے خزاعہ والو! تم نے ہذیل کے اس آدمی کو قتل کیا ہے، میں اس کی دیت ادا کرنے والا ہوں، ( سن لو ) آج کے بعد جس کا بھی کوئی آدمی مارا جائے گا تو مقتول کے ورثاء کو دو چیزوں میں سے کسی ایک کا اختیار ہو گا: یا تو وہ ( اس کے بدلے ) اسے قتل کر دیں، یا اس سے دیت لے لیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث بھی حسن صحیح ہے، ۲- اسے شیبان نے بھی یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی کے مثل روایت کیا ہے، ۳- اور یہ ( حدیث بنام ابوشریح کعبی کی جگہ بنام ) ابوشریح خزاعی بھی روایت کی گئی ہے۔ ( اور یہ دونوں ایک ہی ہیں ) اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، آپ نے فرمایا: ”جس کا کوئی آدمی مارا جائے تو اسے اختیار ہے یا تو وہ اس کے بدلے اسے قتل کر دے، یا معاف کر دے، یا دیت وصول کرے“، ۴- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔
Mishkat
4243
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ» . وَفِي رِوَايَةٍ: بَدَلَ «الْجَارِ» وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَصِلْ رحِمَه
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت کرے ۔ جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ خیر و بھلائی کی بات کرے ورنہ خاموش رہے ایک دوسری روایت میں : پڑوسی کے بجائے یہ الفاظ ہیں :’’ جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ صلہ رحمی کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Sahih Bukhari
5185
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِي جَارَهُ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, Whoever believes in Allah and the Last Day should not hurt (trouble) his neighbor. And I advise you to take care of the women, for they are created from a rib and the most crooked portion of the rib is its upper part; if you try to straighten it, it will break, and if you leave it, it will remain crooked, so I urge you to take care of the women.
ہم سے اسحٰق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے حسین جعفی نے بیان کیا، ان سے زائدہ نے، ان سے میسرہ نے ان سے ابوالحازم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور میں تمہیں۔ ( بقیہ اگلی حدیث دیکھیں ) ۔
Sahih Bukhari
6018
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, Anybody who believes in Allah and the Last Day should not harm his neighbor, and anybody who believes in Allah and the Last Day should entertain his guest generously and anybody who believes in Allah and the Last Day should talk what is good or keep quiet. (i.e. abstain from all kinds of evil and dirty talk).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوالاحوص نے بیان، ان سے ابوحصین نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت کرے اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھی بات زبان سے نکالے ورنہ خاموش رہے۔“
Sahih Bukhari
6475
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, Whoever believes in Allah and the Last Day should talk what is good or keep quiet, and whoever believes in Allah and the Last Day should not hurt (or insult) his neighbor; and whoever believes in Allah and the Last Day, should entertain his guest generously.
مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابرہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔“