TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اللہ کے نبی لوط علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْ آوِیْ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ}کا بیان - اللہ کے نبی لوط علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْ آوِیْ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ}کا بیان - انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 12 of انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 12 of 30 · 3 Hadith
۔ (۱۰۳۵۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الْکَرِیْمَ بْنَ الْکَرِیْمِ بْنِ الْکَرِیْمِ بْنِ الْکَرِیْمِیُوْسُفُ بْنُ یَعْقُوْبَ بْنِ اِسْحَاقَ بْنِ اِبْرَاھِیْمَ خَلِیْلِ الرَّحْمٰنِ عَزَّوَجَلَّ، وَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : لَوْ لَبِثْتُ فِیْ السِّجْنِ مَالَبِثَ یُوْسُفُ، ثُمَّ جَائَ نِیَ الدَّاعِی لَاَجَبْتُہُ اِذْ جَائَ الرَسُوْلُ فَقَالَ: {ارْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ فَاسْاَلْہُ مَا بَالُ النِّسْوَۃِ اللَّاتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَھُنَّ اِنَّ رَبِّیْ بِکَیْدِھِنَّ عَلِیْمٌ} وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلٰی لُوْطٍ اِنْ کَانَ لَیَاْوِیْ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ، اِذْ قَالَ لِقَوْمِہِ: {لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْ آوِیْ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ} وَ مَابَعَثَ اللّٰہُ مِنْ بَعْدِہِ مِنْ نَبِیٍّ اِلَّا فِیْ ثَرْوَۃٍ مِنْ قَوْمِہِ۔)) (مسند احمد: ۸۳۷۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کریم بن کریم بن کریم بن کریمیوسف بن یعقوب بن اسحاق بن خلیل الرحمن ابراہیمh ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر میں جیل میں اتنا عرصہ ٹھہرتا، جتنا کہ یوسف علیہ السلام ٹھہرے تھے اور پھر میرے پاس بلانے والا آتا تو میں فوراً اس کی بات قبول کرتا، لیکنیوسف علیہ السلام نے کہا: تو لوٹ جا اپنے آقا کی طرف اور اس سے ان عورتوں کے بارے میں پوچھ، جنھوں نے اپنے ہاتھ کاٹے تھے، بیشک میرا ربّ ان کے مکر کو جاننے والا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزید فرمایا: اللہ لوط علیہ السلام پر رحم کرے، انھوں نے اپنی قوم سے کہا: کاش کہ مجھ میں تمہارا مقابلہ کرنے کی قوت ہوتییا میں کسی زبردست کا آسرا پکڑ پاتا۔ (سورۂ ہود: ۸۰) ان کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو نبی بھی بھیجا، اس کو اس کی قوم کے انبوہ کثیر میں بھیجا۔
Takhreej
(۱۰۳۵۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۳۷۵، ومسلم: ص ۱۸۴۰ (انظر: ۸۳۹۲)
Explanation
فوائد:… کریم بن کریم … کا مطلب یہ ہے کہ یہ چاروں ہستیاں معزز و مکرم بزرگ تھیں۔ یوسف کا ذکر کرکے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی عاجزی اور انکساری کا اظہار کرتے ہوئے ان کے صبر اور کشادہ دلی کی تعریف کر رہے ہیں۔ قوت سے مراد اپنے دست و بازو اور اپنے وسائل کی قوت یا اولاد کی قوت مراد ہے اور رکن شدید (مضبوط آسرا) سے مراد خاندان، قبیلہیا اسی قسم کا مضبوط آسرا مراد ہے، یعنی وہ نہایت بے بسی کے عالم میں آرزو کر رہے ہیں کہ کاش! میرے اپنے پاس کوئی قوت ہوتییا کسی خاندان اور قبیلے کی پناہ اور مدد مجھے حاصل ہوتی تو آج مجھے مہمانوں کی وجہ سے یہ ذلت و رسوائی نہ ہوتی، بلکہ میں ان بد قماشوں سے نمٹ لیتا اور مہمانوں کی حفاظت کر لیتا، لوط علیہ السلام کییہ آرزو، اللہ تعالیٰ پر توکل کے منافی نہیں ہے، بلکہ ظاہری اسباب کے مطابق ہے اور توکل علی اللہ کا صحیح مفہوم بھییہی ہے کہ پہلے تمام ظاہری اسباب و سائل بروئے کار لائے جائیں اور پھر اللہ تعالیٰ پر توکل کیا جائے۔ لوط علیہ السلام کی مذکورہ بالا کا سیاق و سباق درج ذیل آیات میں بیان کیا گیا ہے: {وَلَمَّا جَآئَ تْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓئَ بِھِمْ وَضَاقَ بِھِمْ ذَرْعًا وَّقَالَ ھٰذَا یَوْم’‘ عَصِیْب’‘۔ وَجَآئَہٗقَوْمُہٗیُھْرَعُوْنَ اِلَیْہِ وَمِنْ قَبْلُ کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ قَالَ ٰیقَوْمِ ھٰٓؤُلَآئِ بَنَاتِیْ ھُنَّ اَطْھَرُ لَکُمْ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَلَا تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْ اَلَیْسَ مِنْکُمْ رَجُل’‘ رَّشِیْد’‘۔ قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَالَنَا فِیْ بَنٰتِکَ مِنْ حَقٍّ وَ اِنَّکَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ۔ قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْ اٰوِیْٓ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ۔ قَالُوْا ٰیلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّکَ لَنْ یَّصِلُوْٓا اِلَیْکَ فَاَسْرِ بِاَھْلِکَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَلَا یَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اَحَد’‘ اِلَّا امْرَاَتَکَ اِنَّہٗمُصِیْبُھَا مَآ اَصَابَھُمْ اِنَّ مَوْعِدَھُمُ الصُّبْحُ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ۔ فَلَمَّا جَآئَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَھَا سَافِلَھَا وَاَمْطَرْنَا عَلَیْھَا حِجَارَۃً مِّنْ سِجِّیْلٍ مَّنْضُوْدٍ۔ مُّسَوَّمَۃً عِنْدَ رَبِّکَ وَمَا ھِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ۔} … اور جب ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) لوط کے پاس آئے، وہ ان کی وجہ سے مغموم ہوا اور ان سے دل تنگ ہوا اور اس نے کہا یہ بہت سخت دن ہے۔اور اس کی قوم (کے لوگ) اس کی طرف بے اختیار دوڑتے ہوئے اس کے پاس آئے اور وہ پہلے سے برے کام کیا کرتے تھے۔ اس نے کہا اے میری قوم! یہ میری بیٹیاں ہیں،یہ تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں، تو اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں میں مجھے رسوا نہ کرو، کیا تم میں کوئی بھلا آدمی نہیں؟ انھوں نے کہا بلاشبہ یقینا تو جانتا ہے کہ تیری بیٹیوں میں ہمارا کوئی حق نہیں اور بلاشبہ یقینا تو جانتا ہے ہم کیا چاہتے ہیں۔ اس نے کہا کاش! واقعی میرے پاس تمھارے مقابلہ کی کچھ طاقت ہوتی،یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لیتا۔ انھوں نے کہا اے لوط! بے شک ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں،یہ ہرگز تجھ تک نہیں پہنچ پائیں گے، سو اپنے گھر والوں کو رات کے کسی حصے میں لے کر چل نکل اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے مگر تیری بیوی۔ بے شک حقیقتیہ ہے کہ اس پر وہی مصیبت آنے والی ہے جو ان پر آئے گی۔ بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا صبح واقعی قریب نہیں۔ پھر جب ہمارا حکم آیا تو ہم نے اس کے اوپر والے حصے کو اس کا نیچا کر دیا اور ان پر تہ بہ تہ کھنگر کے پتھر برسائے۔ جو تیرے رب کے ہاں سے نشان لگائے ہوئے تھے اور وہ ان ظالموں سے ہرگز کچھ دور نہیں۔ (سورۂ ہود: ۷۷ تا ۸۲)
10351
Sahih
۔ (۱۰۳۵۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَغْفِرُ اللّٰہُ لِلُوْطٍ اِنَّہُ اَوٰی اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ۔)) (مسند احمد: ۸۲۶۲)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام کو بخش دے، بیشک انہوں نے کسی زبردست کا آسرا پکڑنے کی خواہش کرتے تھے۔
Takhreej
(۱۰۳۵۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
10352
Sahih
۔ (۱۰۴۱۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ اِلَّا نَخَسَہُ الشَّیْطَانُ فَیَسْتَھِلُّ صَارِخًا مِنْ نَخْسَۃِ الشَّیْطَانِ اِلَّا ابْنَ مَرْیَمَ وَاُمَّہُ۔)) قَالَ اَبُوْھُرَیْرَۃَ: اِقْرَئُ وْا اِنْ شِئْتُمْ {اِنِّیْ اُعِیْذُھَا بِکَ وَذُرِّیَّتَھَا مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔} (مسند احمد: ۷۱۸۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں ہے کوئی بچہ جو پیدا ہوتا ہے، مگر شیطان اس کو چوکا لگاتا ہے، وہ شیطان کے اس چوکے کی وجہ سے چیختا ہے، ما سوائے ابن مریم اور اس کی ماں کے۔سیدنا ابو ہریرہ علیہ السلام نے کہا: اگر تم چاہتے ہو تو قرآن کا یہ حصہ پڑھ لو: بیشک میں اس کو اور اس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں، شیطان مردود سے۔
Takhreej
(۱۰۴۱۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۴۳۱، ومسلم: ۲۳۶۶ (انظر: ۷۱۸۲)
Explanation
فوائد:… حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں مزید تفصیل اگلے ابواب میں آ رہی ہے۔
10410
Sahih

Chapters

30
01
انبیاء و رسل کی تعداد اور ان سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان (انبیائے کرام کے انساب کا بیان)
6 Hadith
02
اللہ کے نبی ادریس علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا} کا بیان
2 Hadith
03
اللہ کے نبی نوح علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {وَکَذٰلِکَ جَعَلْـنَا کُمْ اُمَّـۃً وَسَطًا}کا بیان
6 Hadith
04
نوح علیہ السلام کی اولاد اور وفات کے وقت ان کی اپنی اولاد کو کی گئی وصیت کا بیان
3 Hadith
05
ہود علیہ السلام کا بیان
3 Hadith
06
اللہ کے نبی صالح علیہ السلام کا ذکر
6 Hadith
07
غزوۂ تبوک والے سال نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حجر وادی سے گزرنا، جس کا تعلق ثمود کی زمین سے ہے
4 Hadith
08
ابراہیم خلیل علیہ السلام اور ان کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
09
ابراہیم علیہ السلام کا شام کے شہروں کی طرف ہجرت کرنے، راستے میں مصر کے شہروں میں داخل ہونے اور سیدہ سارہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کا مصر کے بادشاہ کے ساتھ قصے کا بیان
2 Hadith
10
ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی ماں سیدہ ہاجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کے ساتھ مکہ مکرمہ کے علاقے کے فاران کے پہاڑوں کی طرف ہجرت کرنا اور اس کے سبب سے زمزم کا وجود میں آنا اور بیت ِ عتیق کا تعمیر ہونا
8 Hadith
11
ابراہیم علیہ السلام کا حلیہ مبارک، اسحاق کی پیدائش، سیدہ سارہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کی اور پھر ابراہیم علیہ السلام کی وفات کا بیان
3 Hadith
12
اللہ کے نبی لوط علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْ آوِیْ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ}کا بیان
3 Hadith
13
اللہ کے نبی اسماعیل علیہ السلام اور ان کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
14
اللہ کے نبی اسحاق علیہ السلام اور پھر یعقوب علیہ السلام کے ذکر کا بیان
4 Hadith
15
یوسف علیہ السلام کا ذکر
6 Hadith
16
اللہ کے نبی ایوب علیہ السلام کا ذکر
2 Hadith
17
اللہ کے نبییونس علیہ السلام کا ذکر
4 Hadith
18
مچھلی والے یعنییونس علیہ السلام کی دعا اور ان کے حج کا ذکر
2 Hadith
19
اللہ کے نبی موسی علیہ السلام کی فضیلت اور بیچ میں ہمارے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
20
اللہ کے نبی موسی علیہ السلام کی تخلیقی صفات اور ان کے حج اور روزے کا بیان
4 Hadith
21
موسی علیہ السلام کا پتھر کے ساتھ واقعہ
3 Hadith
22
فرعون اور اس کے لشکروں کی ہلاکت اور جبریل علیہ السلام کا اس کے منہ میں مٹی ٹھونسنے کا بیان
2 Hadith
23
موسی علیہ السلام کا بنی اسرئیل کے ساتھ قصہ جب انھوں نے کہا: اے موسی ہمارا بھی ایک معبود بنا دے، جیسے ان کے معبود ہیں
1 Hadith
24
کلیم اللہ علیہ السلام کی عدم موجودگی میں بنی اسرائیل کا بچھڑے کی عبادت شروع کر دینا اور اس چیز کو دیکھ کر موسی علیہ السلام کا تورات کی تختیوں کو پھینک دینا اور ان کا ٹوٹ جانا
1 Hadith
25
بنو اسرائیل کی بزدلی اور جبارقوم کے ساتھ لڑنے سے ان کے خوف کا بیان
1 Hadith
26
موسی علیہ السلام کا خضر علیہ السلام کے ساتھ واقعہ
2 Hadith
27
قارون کا دھنسنا اور موسی علیہ السلام کا اس کے ساتھ قصہ
2 Hadith
28
قارون، فرعون اور ہامان کی مذمت کا بیان
1 Hadith
29
موسی علیہ السلام کا ملک الموت کے ساتھ قصہ، نیز ان کی وفات اور قبر کا بیان
3 Hadith
30
یوشع بن نون علیہ السلام کی نبوت اور موسی علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کا بنی اسرائیل کی ذمہ داریاں ادا کرنے اور ان کے معجزے کا بیان
4 Hadith
No chapter matched that.