۔ (۱۰۳۶۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رضی اللہ عنہ ، قَالَ: اِسْتَبَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ وَ رَجُلٌ مِنَ الْیَھُوْدِ، فَقَالَ الْمُسْلِمُ: وَالَّذِیْ اصْطَفَی مُحَمَّدًا عَلَی الْعَالَمِیْنَ، وَ قَالَ الْیَھُوْدِیُّ: وَ الَّذِی اصْطَفَی مُوْسٰی عَلَی الْعَالَمِیْنَ، فَغَضِبَ الْمُسْلِمُ فَلَطَمَ عَیْنَ الْیَھُوْدِیِّ، فَاَتَی الْیَھُوْدِیُّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَاَخْبَرَ بِذٰلِکَ، فَدَعَاہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَسَاَلَہُ فَاعْتَرَفَ بِذٰلِکَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((لَا تُخَیِّرُوْنِیْ عَلٰی مُوْسٰی فَاِنَّ النَّاسَ یَصْعَقُوْنَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَاَکُوْنُ اَوَّلَ مَنْ یُفِیْقُ فَاَجِدُ مُوْسٰی مُمْسِکًا بِجَانِبِ الْعَرْشِ، فَمَا اَدْرِیْ اَکَانَ فِیْمَنْ صَعِقَ فَاَفَاقَ قَبْلِیْ اَمْ کَانَ مِمَّنِ اسْتَثْنَاہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۷۵۷۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مسلمان اور ایکیہودی نے ایک دوسرے کو برا بھلا کہا، مسلمان نے کہا: اس ذات کی قسم! جس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جہانوں پر منتخب کیا،یہودی نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو جہانوں پرمنتخب کیا،یہ بات سن کر مسلمان کو غصہ آیا اور اس نے یہودی کی آنکھ پر تھپڑ دے مارا، یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس جھگڑے کی تفصیل بتائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مسلمان سے پوچھا، اس نے اعتراف کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے موسی پر ترجیح نہ دو، پس بیشک لوگ قیامت کے دن بیہوش ہوں گے، سب سے پہلے مجھے افاقہ ہو گا، پس میں موسی علیہ السلام کو اس حال میں پاؤں گا کہ وہ عرش کے پہلو کے ساتھ کھڑے ہوں گے، پس میں نہیں جانتا کہ کیا وہ بھی بیہوش ہوئے تھے اور مجھ سے پہلے ان کو افاقہ ہو گیایا اللہ تعالیٰ نے ان کو مستثنی رکھا۔
Takhreej
(۱۰۳۶۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۴۱۱، ۶۵۱۷، ومسلم: ۲۳۷۳(انظر: ۷۵۸۶)
Explanation
فوائد:… صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((فَـلَا اَدْرِیْ اَحُوْسِبَ بِصَعْقَۃِیَوْمِ الطُّوْرِ اَوْ أَفَاقَ قَبْلِیْ))… پس میں یہ نہیں جانتا کہ کیا موسی علیہ السلام کی طور والے دن بیہوشی کو کافی سمجھ لیا گیایا وہ بیہوش تو ہوئے، لیکن ان کو مجھ سے پہلے افاقہ ہو گیا۔
10365
Sahih