TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اللہ کے نبی اسماعیل علیہ السلام اور ان کی فضیلت کا بیان - اللہ کے نبی اسماعیل علیہ السلام اور ان کی فضیلت کا بیان - انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 13 of انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 13 of 30 · 5 Hadith
۔ (۱۰۳۵۳)۔ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الْاَکْوَعِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی قَوْمٍ مِنْ اَسْلَمَ وَھُمْ یَتَنَاضَلُوْنَ فِیْ السُّوْقِ، فَقَالَ: ((ارْمُوْا یَا بَنِیْ اِسْمَاعِیْلَ فَاِنَّ اَبَاکُمْ کَانَ رَامِیًا، ارْمُوْا وَ اَنَا مَعَ بَنِیْ فُلَانٍ لِاَحَدِ الْفَرِیْقَیْنِ)) فَاَمْسَکُوْا اَیْدِیَھُمْ، فَقَالَ: ((ارْمُوْا۔)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ نَرْمِیْ وَ اَنْتَ مَعَ بَنِیْ فُلَانٍ؟ قَالَ: ((ارْمُوْا وَ اَنَا مَعَکُمْ کُلِّکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۶۶۴۳)
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بنو اسلم کے کچھ لوگوں کے پاس گئے اور وہ بازار میں تیراندازی کر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اولادِ اسماعیل! تم تیر اندازی کو، کیونکہ تمہارا باپ بھی تیر انداز تھا اور میں بنوفلاں کے ساتھ ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد ایک فریق تھا، یہ سن کر دوسرے فریق نے اپنے ہاتھ روک لیے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: تم تیر اندازی کرو (کیوں رک گئے ہو؟) انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کیسے تیر اندازی کریں، جبکہ آپ بنو فلاں کے ساتھ ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چلو تیر اندازی کرو، میں تم سب کے ساتھ ہوں۔
Takhreej
(۱۰۳۵۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۸۹۹، ۳۵۰۷ (انظر: ۱۶۵۲۸)
Explanation
فوائد:… اسماعیل علیہ السلام ، ابراہیم علیہ السلام کے بڑے بیٹے تھے اور یہی ذبیح تھے، تفصیل کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۸۷۳۴)
10353
Sahih
۔ (۱۰۴۱۱)۔ عَنْ عَلَیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((خَیْرُ نِسَائِھَا بِنْتُ عِمْرَانَ وَخَیْرُ نِسَائِھَا خَدِیْجَۃُ۔)) (مسند احمد: ۶۴۰)
۔ سیدہ مریم بنت عمران علیہا السلام کی فضیلت کا بیان سیدہ مریم بنت عمران ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ اپنے زمانے کی اور سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اپنے عہد کی خواتین میں سب سے بہتر تھیں۔
Takhreej
(۱۰۴۱۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۴۳۲، ومسلم: ۲۴۳۰ (انظر: ۶۴۰)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ نے سیدہ مریم ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ اور سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو ایسی خصوصیات عطا کیں کہ جو دوسری خواتین کا مقدر نہ بن سکیں، سیدہ مریم ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کو طاہر بنایا، مخصوص امور کے لیے ان کا انتخاب کیا، جبریل علیہ السلام نے ان سے کلام کیا، ان کے اندر روح پھونکی، وہ خاوند کے بغیر ایک عظیم پیغمبر کی ماں بن گئیں، ان کے بچے نے بچپنے میں کلام کیا اور اپنی ماں کی پاکدامنی کی شہادت دی، سیدہ مریم نے اپنے ربّ کے کلمات اور کتب کی تصدیق کی اور وہ عبادت گزاروں میں تھی۔ سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، کون ہے سیدہ خدیجہ، جب لوگ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کفر کر رہے تھے، اس وقت سیدہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایمان لائیں، جب تکبر کرنے والے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے رک رہے تھے، تب سیدہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تصدیق کی، جب لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر بخل کر رہے تھے، اس وقت سیدہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سخاوت کی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر اجنبیت طاری تھی، اس وقت سیدہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے انس کیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا جبریل علیہ السلام کی پہلی آمد پر پریشان ہوئے، اس وقت سیدہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خصائل حمیدہ کا ذکر کر کے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تسلی دی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ورقہ بن نوفل کے پا س لے گئیں۔
10411
Sahih
۔ (۱۰۴۱۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: خَطَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ الْاَرْضِ اَرْبَعَۃَ خُطُوْطٍ، قَالَ: ((تَدْرُوْنَ مَا ھٰذِہِ؟)) فَقَالُوْا: اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ اَعْلَمُ، فَقَالَ: رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَفْضَلُ نِسَائِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ خَدِیْجَۃُ بِنْتُ خُوَیْلِدٍ، وَ فَاطِمَۃُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ آسِیَۃُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ اِمْرَاَۃُ فِرْعَوْنَ وَ مَرْیَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُنَّ۔)) (مسند احمد: ۲۶۶۸)
۔ عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زمین پر چار خطوط کھینچے، پھر پوچھا: کیا تم ان لکیروں کے بارے میں جانتے ہو؟ انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت والی خواتین میں سب سے افضل یہ چار ہیں: خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم )، فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم اورمریم بنت عمران۔
Takhreej
(۱۰۴۱۲) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الطیالسی: ۲۷۱۰، والطبرانی: ۲۱۶۸ (انظر: ۲۶۶۸)
Explanation
فوائد:… موسی علیہ السلام کا فرعون کے محل میں دفاع کرنے والی سیدہ آسیہ علیہا السلام ہی تھیں، اس خاتون کی عظمت کو سلام، جس نے فرعون کے گھر میں رہ کر اپنے آپ کو جنت کا مستحق ثابت کر لیا، مندرجہ ذیل روایت پر غور کریں: سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اِنَّ فِرْعَوْنَ اَوْتَدَ لِاِمْرَاَتِہِ اَرْبَعَۃَ اَوْتَادٍ فِيْ یَدَیْھَا وَرِجْلَیْھَا، فَکَانُوْا اِذَا تَفَرَّقُوْا عَنْھَا ظَلَّلَتْھَا الْمَلَائِکَۃُ، فَقَالَتْ: {رَبِّ ابْنِ لِيْ عِنْدَکَ بَیْتًا فِيْ الْجَنَّۃِ وَنَجِّنِيْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِہِ وَنَجِّنِيْ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ}، فَکَشَفَ لَھَا عَنْ بَیْتِھَا فِيْ الْجَنَّۃِ۔ … فرعون نے اپنی بیوی کے دو ہاتھوں اور دو پاؤں میں چار میخیں گاڑ دیں۔ جب وہ (فرعونی) اس سے جدا ہوتے تھے تو فرشتے اس پر سایہ کر لیتے تھے، اس بیوی نے کہا: اے میرے ربّ! اپنے ہاں میرے لیے جنت میں گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے اور مجھے ظالم لوگوں سے بھی چھٹکارا نصیب فرما۔ سو اللہ تعالیٰ نے جنت میں اس کے گھر سے پردہ ہٹا کر (اسے اس کا گھر دکھا دیا)۔ (مسندابو یعلی:۴/۱۵۲۱ـ ۱۵۲۲، صحیحہ: ۲۵۰۸) اللہ کے بندوں پر آزمائشیں ضرور آتی ہیں، لیکن ان آزمائشوں پر صبر کرنے کی وجہ سے انہیںجو رحمتِ الٰہی نصیب ہوتی ہے، وہ ان مصائب سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہے۔ سیدہ خدیجہ اور سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے فضائل و مناقب معروف ہیں اور سیدہ مریم علیہا السلام کا ذکر پیچھے ہو چکا ہے۔
10412
Sahih
۔ (۱۰۴۱۳)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((حَسْبُکَ مِنْ نِسَائِ الْعَالَمِیْنَ اِبْنَۃُ عِمْرَانُ وَخَدِیْجَۃُ بِنْتُ خُوَیْلِدٍ وَ فَاطِمَۃُ اِبْنَۃُ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ آسِیَۃُ اِمْرَاَۃُ فِرْعَوْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۱۸)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہانوں کی عورتوں میں یہ خواتین تجھے کافی ہیں: مریم بنت ِ عمران، خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) اور فرعون کی بیوی آسیہ۔
Takhreej
(۱۰۴۱۳) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین أخرجہ الترمذی: ۳۸۷۸ (انظر: ۱۲۳۹۱)
10413
Sahih
۔ (۱۰۴۱۴)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْحَسَنُ وَ الْحُسَیْنُ سَیِّدَا شَبَابِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ وَ فَاطِمَۃُ سَیِّدَۃُ نِسَائِھِمْ اِلَّا مَا کَانَ لِمَرْیَمَ بِنْتِ عِمْرَانَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۶۴۱)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حسن و حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما جنتی نوجوانوں کے سردار اور فاطمہ جنتی خواتین کی سردار ہوں گی، ما سوائے مریم بنت عمران کے۔
Takhreej
(۱۰۴۱۴) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، أخرجہ ابویعلی: ۱۱۶۹، والنسائی فی الکبری : ۸۵۱۴ (انظر: ۱۱۶۱۸)
10414
Sahih

Chapters

30
01
انبیاء و رسل کی تعداد اور ان سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان (انبیائے کرام کے انساب کا بیان)
6 Hadith
02
اللہ کے نبی ادریس علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا} کا بیان
2 Hadith
03
اللہ کے نبی نوح علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {وَکَذٰلِکَ جَعَلْـنَا کُمْ اُمَّـۃً وَسَطًا}کا بیان
6 Hadith
04
نوح علیہ السلام کی اولاد اور وفات کے وقت ان کی اپنی اولاد کو کی گئی وصیت کا بیان
3 Hadith
05
ہود علیہ السلام کا بیان
3 Hadith
06
اللہ کے نبی صالح علیہ السلام کا ذکر
6 Hadith
07
غزوۂ تبوک والے سال نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حجر وادی سے گزرنا، جس کا تعلق ثمود کی زمین سے ہے
4 Hadith
08
ابراہیم خلیل علیہ السلام اور ان کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
09
ابراہیم علیہ السلام کا شام کے شہروں کی طرف ہجرت کرنے، راستے میں مصر کے شہروں میں داخل ہونے اور سیدہ سارہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کا مصر کے بادشاہ کے ساتھ قصے کا بیان
2 Hadith
10
ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی ماں سیدہ ہاجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کے ساتھ مکہ مکرمہ کے علاقے کے فاران کے پہاڑوں کی طرف ہجرت کرنا اور اس کے سبب سے زمزم کا وجود میں آنا اور بیت ِ عتیق کا تعمیر ہونا
8 Hadith
11
ابراہیم علیہ السلام کا حلیہ مبارک، اسحاق کی پیدائش، سیدہ سارہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کی اور پھر ابراہیم علیہ السلام کی وفات کا بیان
3 Hadith
12
اللہ کے نبی لوط علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْ آوِیْ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ}کا بیان
3 Hadith
13
اللہ کے نبی اسماعیل علیہ السلام اور ان کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
14
اللہ کے نبی اسحاق علیہ السلام اور پھر یعقوب علیہ السلام کے ذکر کا بیان
4 Hadith
15
یوسف علیہ السلام کا ذکر
6 Hadith
16
اللہ کے نبی ایوب علیہ السلام کا ذکر
2 Hadith
17
اللہ کے نبییونس علیہ السلام کا ذکر
4 Hadith
18
مچھلی والے یعنییونس علیہ السلام کی دعا اور ان کے حج کا ذکر
2 Hadith
19
اللہ کے نبی موسی علیہ السلام کی فضیلت اور بیچ میں ہمارے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
20
اللہ کے نبی موسی علیہ السلام کی تخلیقی صفات اور ان کے حج اور روزے کا بیان
4 Hadith
21
موسی علیہ السلام کا پتھر کے ساتھ واقعہ
3 Hadith
22
فرعون اور اس کے لشکروں کی ہلاکت اور جبریل علیہ السلام کا اس کے منہ میں مٹی ٹھونسنے کا بیان
2 Hadith
23
موسی علیہ السلام کا بنی اسرئیل کے ساتھ قصہ جب انھوں نے کہا: اے موسی ہمارا بھی ایک معبود بنا دے، جیسے ان کے معبود ہیں
1 Hadith
24
کلیم اللہ علیہ السلام کی عدم موجودگی میں بنی اسرائیل کا بچھڑے کی عبادت شروع کر دینا اور اس چیز کو دیکھ کر موسی علیہ السلام کا تورات کی تختیوں کو پھینک دینا اور ان کا ٹوٹ جانا
1 Hadith
25
بنو اسرائیل کی بزدلی اور جبارقوم کے ساتھ لڑنے سے ان کے خوف کا بیان
1 Hadith
26
موسی علیہ السلام کا خضر علیہ السلام کے ساتھ واقعہ
2 Hadith
27
قارون کا دھنسنا اور موسی علیہ السلام کا اس کے ساتھ قصہ
2 Hadith
28
قارون، فرعون اور ہامان کی مذمت کا بیان
1 Hadith
29
موسی علیہ السلام کا ملک الموت کے ساتھ قصہ، نیز ان کی وفات اور قبر کا بیان
3 Hadith
30
یوشع بن نون علیہ السلام کی نبوت اور موسی علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کا بنی اسرائیل کی ذمہ داریاں ادا کرنے اور ان کے معجزے کا بیان
4 Hadith
No chapter matched that.