TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

(2) CHAPTER. The Statement of Allah: “And if anyone saved a life...” (V.5:32) - سورۃ المائدہ میں فرمان کہ جس نے مرتے کو بچا لیا اس نے گویا سب لوگوں کی جان بچالی - The book of ad-diyait (blood - money). - Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Chapter 2 of The book of ad-diyait (blood - money). in Sahih Bukhari. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 29 · 9 Hadith
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ ، إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْهَا .
Narrated `Abdullah: The Prophet said, No human being is killed unjustly, but a part of responsibility for the crime is laid on the first son of Adam who invented the tradition of killing (murdering) on the earth. (It is said that he was Qabil).
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے عبداللہ بن مرہ نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو جان ناحق قتل کی جائے اس کے ( گناہ کا ) ایک حصہ آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے ( قابیل پر ) پڑتا ہے۔“
6867
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ وَاقِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي ، عَنْ أَبِيهِ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا ، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ .
Narrated `Abdullah bin `Umar: The Prophet said, After me (i.e. after my death), do not become disbelievers, by striking (cutting) the necks of one another.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہیں واقد بن عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا مجھ کو میرے والد نے اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردن مارنے لگ جاؤ۔“
6868
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ : اسْتَنْصِتِ النَّاسَ ، لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا ، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ، رَوَاهُ أَبُو بَكْرَةَ ، وَابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated Abu Zur'a bin `Amr bin Jarir: The Prophet said during Hajjat-al-Wada`, Let the people be quiet and listen to me. After me, do not become disbelievers, by striking (cutting) the necks of one another.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے علی بن مدرک نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوزرعہ بن عمرو بن جریر سے سنا، ان سے جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے دن فرمایا ”لوگوں کو خاموش کرا دو , ( پھر فرمایا ) تم میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردن مارنے لگے۔“ اس حدیث کی روایت ابوبکر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ہے۔
6869
Sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْكَبَائِرُ : الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ، أَوْ قَالَ : الْيَمِينُ الْغَمُوسُ شَكَّ شُعْبَةُ ، وَقَالَ مُعَاذٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : الْكَبَائِرُ : الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ ، وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ، أَوْ قَالَ : وَقَتْلُ النَّفْسِ .
Narrated `Abdullah bin `Amr: The Prophet said, Al-Ka`ba'ir (the biggest sins) are: To join others (as partners) in worship with Allah, to be undutiful to one's parents, or said, to take a false oath. (The sub-narrator, Shu`ba is not sure) Mu`adh said: Shu`ba said, Al-Ka`ba'ir (the biggest sins) are: (1) Joining others as partners in worship with Allah, (2) to take a false oath (3) and to be undutiful to one's parents, or said, to murder (someone unlawfully).
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا، ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے فراس نے، ان سے شعبی نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کبیرہ گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا یا فرمایا کہ ناحق دوسرے کا مال لینے کے لیے جھوٹی قسم کھانا ہیں۔“ شک شعبہ کو تھا اور معاذ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کبیرہ گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، کسی کا مال ناحق لینے کے لیے جھوٹی قسم کھانا اور والدین کی نافرمانی کرنا یا کہا کہ کسی کی جان لینا۔
6870
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْكَبَائِرُ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَال : أَكْبَرُ الْكَبَائِرِ : الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ ، وَقَتْلُ النَّفْسِ ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ، وَقَوْلُ الزُّورِ أَوْ قَالَ ، وَشَهَادَةُ الزُّورِ .
Narrated Anas bin Malik: The Prophet said, The biggest of Al-Ka`ba'ir (the great sins) are (1) to join others as partners in worship with Allah, (2) to murder a human being, (3) to be undutiful to one's parents (4) and to make a false statement, or said, to give a false witness.
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبیداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”گناہ کبیرہ“ اور ہم سے عمرو نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوبکر نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سب سے بڑے گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، کسی کی ناحق جان لینا، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹ بولنا ہیں یا فرمایا کہ جھوٹی گواہی دینا۔
6871
Sahih
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو ظَبْيَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ ، قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحُرَقَةِ مِنْ جُهَيْنَةَ ، قَالَ : فَصَبَّحْنَا الْقَوْمَ فَهَزَمْنَاهُمْ ، قَالَ : وَلَحِقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ رَجُلًا مِنْهُمْ ، قَالَ : فَلَمَّا غَشِينَاهُ ، قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، قَالَ : فَكَفَّ عَنْهُ الْأَنْصَارِيُّ ، فَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي حَتَّى قَتَلْتُهُ ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمْنَا ، بَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقَالَ لِي : يَا أُسَامَةُ ، أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا كَانَ مُتَعَوِّذًا ، قَالَ : أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ؟ قَالَ : فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا عَلَيَّ ، حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذَلِكَ الْيَوْمِ .
Narrated Usama bin Zaid bin Haritha: Allah's Apostle sent us (to fight) against Al-Huraqa (one of the sub-tribes) of Juhaina. We reached those people in the morning and defeated them. A man from the Ansar and I chased one of their men and when we attacked him, he said, None has the right to be worshipped but Allah. The Ansari refrained from killing him but I stabbed him with my spear till I killed him. When we reached (Medina), this news reached the Prophet. He said to me, O Usama! You killed him after he had said, 'None has the right to be worshipped but Allah? ' I said, O Allah's Apostle! He said so in order to save himself. The Prophet said, You killed him after he had said, 'None has the right to be worshipped but Allah. The Prophet kept on repeating that statement till I wished I had not been a Muslim before that day.
ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا ہم سے حصین نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوظبیان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ جہینہ کی ایک شاخ کی طرف ( مہم پر ) بھیجا۔ بیان کیا کہ پھر ہم نے ان لوگوں کو صبح کے وقت جا لیا اور انہیں شکست دے دی۔ راوی نے بیان کیا کہ میں اور قبیلہ انصار کے ایک صاحب قبیلہ جہینہ کے ایک شخص تک پہنچے اور جب ہم نے اسے گھیر لیا تو اس نے کہا «لا إله إلا الله» انصاری صحابی نے تو ( یہ سنتے ہی ) ہاتھ روک لیا لیکن میں نے اپنے نیزے سے اسے قتل کر دیا۔ راوی نے بیان کیا کہ جب ہم واپس آئے تو اس واقعہ کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ”اسامہ! کیا تم نے کلمہ «لا إله إلا الله» کا اقرار کرنے کے بعد اسے قتل کر ڈالا۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس نے صرف جان بچانے کے لیے اس کا اقرار کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ”تم نے اسے «لا إله إلا الله» کا اقرار کرنے کے بعد قتل کر ڈالا۔“ بیان کیا کہ نبی کریم اس جملہ کو اتنی دفعہ دہراتے رہے کہ میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہو گئی کہ کاش میں اس سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا۔
6872
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ الصُّنَابِحِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنِّي مِنْ النُّقَبَاءِ الَّذِينَ بَايَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَايَعْنَاهُ عَلَى : أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَلَا نَسْرِقَ ، وَلَا نَزْنِيَ ، وَلَا نَقْتُلَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ ، وَلَا نَنْتَهِبَ ، وَلَا نَعْصِيَ بِالْجَنَّةِ ، إِنْ فَعَلْنَا ذَلِكَ ، فَإِنْ غَشِينَا مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ، كَانَ قَضَاءُ ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ .
Narrated 'Ubada bin As-Samat: I was among those Naqibs (selected leaders) who gave the Pledge of allegiance to Allah's Apostle. We gave the oath of allegiance, that we would not join partners in worship besides Allah, would not steal, would not commit illegal sexual intercourse, would not kill a life which Allah has forbidden, would not commit robbery, would not disobey (Allah and His Apostle), and if we fulfilled this pledge we would have Paradise, but if we committed any one of these (sins), then our case will be decided by Allah.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید نے بیان کیا، ان سے ابوالخیر نے، ان سے صنابحی نے اور ان سے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں ان نقیبوں میں سے تھا جنہوں نے ( منیٰ میں لیلۃالعقبہ کے موقع پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔ ہم نے اس کی بیعت ( عہد ) کی تھی کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے، ہم چوری نہیں کریں گے، زنا نہیں کریں گے، کسی کی ناحق جان نہیں لیں گے جو اللہ نے حرام کی ہے، ہم لوٹ مار نہیں کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہیں کریں گے اور یہ کہ اگر ہم نے اس پر عمل کیا تو ہمیں جنت ملے گی اور اگر ہم نے ان میں سے کسی طرح کا گناہ کیا تو اس کا فیصلہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے یہاں ہو گا۔
6873
Sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ ، فَلَيْسَ مِنَّا ، رَوَاهُ أَبُو مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated `Abdullah: The Prophet said, Whoever carries arms against us, is not from us.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی ہے۔
6874
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، وَيُونُسُ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : ذَهَبْتُ لِأَنْصُرَ هَذَا الرَّجُلَ ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرَةَ ، فَقَالَ : أَيْنَ تُرِيدُ ؟ قُلْتُ : أَنْصُرُ هَذَا الرَّجُلَ ، قَالَ : ارْجِعْ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا ، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ ، قَالَ : إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ .
Narrated Al-Ahnaf bin Qais: I went to help that man (i.e., `Ali), and on the way I met Abu Bakra who asked me, Where are you going? I replied, I am going to help that man. He said, Go back, for I heard Allah's Apostle saying, 'If two Muslims meet each other with their swords then (both) the killer and the killed one are in the (Hell) Fire.' I said, 'O Allah's Apostle! It is alright for the killer, but what about the killed one?' He said, 'The killed one was eager to kill his opponent.
ہم سے عبدالرحمٰن بن المبارک نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے، کہا ہم سے ایوب اور یونس نے، ان سے امام حسن بصری نے، ان سے احنف بن قیس نے کہ میں ان صاحب ( علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ) کی جنگ جمل میں مدد کے لیے تیار تھا کہ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی۔ انہوں نے پوچھا، کہاں کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا کہ ان صاحب کی مدد کے لیے جانا چاہتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا کہ واپس چلے جاؤ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جب دو مسلمان تلوار کھینچ کر ایک دوسرے سے بھڑ جائیں تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخ میں جاتے ہیں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک تو قاتل تھا لیکن مقتول کو سزا کیوں ملے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بھی اپنے قاتل کے قتل پر آمادہ تھا۔
6875
Sahih

Chapters

29
01
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: “...And whoever kills a believer intentionally, his recompense is Hell...” (V.4:93)
اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساء میں فرمایا
6 Hadith
02
(2) CHAPTER. The Statement of Allah: “And if anyone saved a life...” (V.5:32)
سورۃ المائدہ میں فرمان کہ جس نے مرتے کو بچا لیا اس نے گویا سب لوگوں کی جان بچالی
9 Hadith
03
(4) CHAPTER. To question the killer till he confesses; and confession is cases where Divinely prescribed punishment are imperative.
حاکم کا قاتل سے پوچھ گچھ کرنا یہاں تک کہ وہ اقرار کر لے اور حدود میں اقرار ( اثباب جرم کیلئے ) کافی ہے ۔
1 Hadith
04
(5) CHAPTER. If someone kills (somebody) with a stone or with a stick.
جب کسی نے پتھر یا ڈنڈے سے کسی کو قتل کیا
1 Hadith
05
(6) CHAPTER. The Statement of Allah: “(And We ordained therein for them:) Life for life, eye for eye, nose for nose, ear for ear, tooth for tooth and wounds equal for equal. But if anyone remits the retaliation by way of charity, it shall be for him an expiation. And whosoever does not judge by that which Allah has revealed, such are Az-Zalimun (polytheists, oppressor and wrongdoers - of a lesser degree).” (V.5:45)
اللہ تعالیٰ نے سورۃ المائدہ میں فرمایا کہ
1 Hadith
06
(7) CHAPTER. Whoever punished ( a killer) with a stone (in retaliation).
پتھروں سے قصاص لینے کا بیان
1 Hadith
07
(8) CHAPTER. The relative of the killed person has the right to choose one of two compensations (i.e., to have the killer killed, or to accept blood-money).
جس کا کوئی قتل کر دیا گیا ہو اسے دو چیزوں میں ایک کا اختیار ہے ۔
2 Hadith
08
(9) CHAPTER. Whoever seeks to shed somebody's blood without any right.
جو کوئی ناحق کسی کا خون کرنے کی فکر میں ہو اس کا گناہ
1 Hadith
09
(10) CHAPTER. Excusing somebody who killed another by mistake.
قتل خطا میں مقتول کی موت کے بعد اس کے وارث کا معاف کرنا
1 Hadith
10
(12) CHAPTER. If a killer confesses once, he should be killed.
جب قاتل ایک مرتبہ قتل کا اقرار کر لے تو اسے قتل کر دیا جائے گا
1 Hadith
11
(13) CHAPTER. Killing a man for having killed a woman.
عورت کے بدلہ میں مرد کا قتل کرنا جو عورت کا قاتل ہو
1 Hadith
12
(14) CHAPTER. Al-Qisas (Law of Equality in punishment) in cases of injury among men and women.
مردوں اور عورتوں کے درمیان زخموں میں بھی قصاص لیا جائے گا
1 Hadith
13
(15) CHAPTER. Whoever took his right or retaliation from somebody without submitting the case to the ruler.
جس نے اپنا حق یا قصاص سلطان کی اجازت کے بغیر لے لیا
2 Hadith
14
(15) CHAPTER. Whoever took his right or retaliation from somebody without submitting the case to the ruler.
جب کوئی ہجوم میں مر جائے یا مارا جائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
2 Hadith
15
(17) CHAPTER. If someone kills himself by mistake then there is no Diya (blood-money) for him.
اگر کسی نے غلطی سے اپنے آپ ہی کو مارڈالا تو اس کی کوئی دیت نہیں ہے
1 Hadith
16
(18) CHAPTER. If somebody bites a man and has his one tooth broken.
جب کسی نے کسی کو دانت سے کاٹا اور کاٹنے والے کا دانت ٹوٹ گیا تو اس کی کوئی دیت نہیں ہے
3 Hadith
17
(20) CHAPTER. The Diya for (cutting) fingers.
دانت کے بدلے دانت
1 Hadith
18
(21) CHAPTER. If a group of people killed or injured one man, will all of them have to give Diya or be punished with the law of Al-Qisas (equality in punishment)?
اگر کئی آدمی ایک شخص کو قتل کر دیں تو کیا قصاص میں سب کو قتل کیا جائے گا یا قصاص لیا جائے گا ؟
2 Hadith
19
(22) CHAPTER. Al-Qasama [the oath taken by fifty people (of the dfendant) regarding a murder case when no evidence is avaliable].
قسامت کا بیان
2 Hadith
20
(23) CHAPTER. If somebody peeps into the house of some people whereupon they poked his eye; he has no right to claim blood-money.
جس نے کسی کے گھر میں جھانکا اور انہوں نے جھانکنے والے کی آنکھ پھوڑدی تو اس پر دیت واجب نہیں ہوگی
3 Hadith
21
(24) CHAPTER. Al-Aqila (the relatives from the father's side) who pay the Diya (blood money).
عاقلہ کا بیان
1 Hadith
22
(25) CHAPTER. The foetus (that is inside the uterus) of a (pregnant) woman.
عورت کے پیٹ کا بچہ جو ابھی پیدا نہ ہوا ہو
1 Hadith
23
(25) CHAPTER. The foetus (that is inside the uterus) of a (pregnant) woman.
پیٹ کے بچے کا بیان اور اگر کوئی عورت خون کرے تو اس کی دیت ددھیال والوں پر ہو گی نہ کہ اس کی اولاد پر
6 Hadith
24
(27) CHAPTER. Whoever sought the help of a slave or a boy.
جس نے کسی غلام یا بچہ کو کام کیلئے عاریتاً مانگ لیا
1 Hadith
25
(28) CHAPTER. No Diya (blood money) is to be paid in cases of mines and wells.
کان میں دب کر اور کنویں میں گر کر مرنے والے کی دیت نہیں ہے
1 Hadith
26
(29) CHAPTER. Ther is no Diya (blood money) for the one killed by an animal unaccompained by somebody to contol it.
چوپایوں کے نقصان کرنے کا کچھ تاوان نہیں
1 Hadith
27
(30) CHAPTER. The sin of a person who killed an innocent Dhimi (a non-Muslim living in a Muslim state and enjoying the protection of Muslims).
جو بےگناہ ذمی کافر کو مار ڈالے اس کے گناہ کا بیان
1 Hadith
28
(31) CHAPTER. A Muslim should not be killed for killing a Kafir (disbeliever).
مسلمان کو ( ذمی ) کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا
1 Hadith
29
(32) CHAPTER. If a Muslim, being furious, slaps a Jew, (no compensation is required).
جب مسلمان غصہ میں یہودی کو تھپڑ مار ڈالے
2 Hadith
No chapter matched that.