TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 7272 - (CHAPTER.) - The book of holding fast to the qur’an and the sunna. - Sahih Bukhari in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 5 of 5 in this chapter
(CHAPTER.)
کتاباللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مضبوطی سے تھامے رہنا
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَتَبَ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ يُبَايِعُهُ : وَأُقِرُّ لَكَ بِذَلِكَ بِالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ عَلَى سُنَّةِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ فِيمَا اسْتَطَعْتُ .
Narrated `Abdullah bin Dinar: `Abdullah Bin `Umar wrote to `Abdul Malik bin Marwan, swearing allegiance to him: 'I swear allegiance to you in that I will listen and obey what is in accordance with the Laws of Allah and the Tradition of His Apostle as much as I can.'
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عبدالملک بن مروان کو خط لکھا کہ وہ اس کی بیعت قبول کرتے ہیں اور یہ لکھا کہ میں تیرا حکم سنوں گا اور مانوں گا بشرطیکہ اللہ کی شریعت اور اس کے رسول کی سنت کے موافق ہو جہاں تک مجھ سے ممکن ہو گا۔
7272
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

215
1
Chapter: What Has Been Related From The Messenger of Allah About The Judge
باب: قاضی اور قضاء کے سلسلے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ارشادات
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related From The Messenger Of Allah (saws) About Reconciliation
باب: لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ارشادات
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About What The Messenger Of Allah (saws) Left Behind
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ترکہ کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About The Description Of The Sword Of The Messenger Of Allah (saws)
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی تلوار کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About The Garment The Messenger Of Allah (saws) Like Most To Wear
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پسندیدہ کپڑوں کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About What The Prophet (saws) Ate Upon
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کس چیز پر کھاتے تھے؟
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About Which Meat The Messenger Of Allah (saws) Used To Like Most
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو کون سا گوشت زیادہ پسند تھا
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About Which Drink Was The Most Beloved To The Messenger Of Allah (saws)
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو کون سا مشروب زیادہ پسند تھا
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About The Gravity Of Lying Against The Messenger Of Allah (SAW)
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات کی نسبت کرنا گناہ عظیم ہے
Jam e Tirmazi
10
Chapter: Regarding Refraining From What Was Prohibited By The Messenger of Allah (SAW)
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم جس چیز سے روک دیں اس سے رک جاؤ
Jam e Tirmazi
11
Chapter: “Humiliated is a Man Before Whom I am Mentioned...”
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا فرمان: ”اس شخص کی ناک خاک آلود ہو …“
Jam e Tirmazi
12
Chapter: About The Supplication Of The Prophet, And His Seeking Refuge At The End Of Every Salat
باب: نماز کے اخیر میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی دعاؤں اور معوذات کا بیان
Jam e Tirmazi
13
باب:: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے اور آپ کے ساتھ رہنے والوں کے مناقب و فضائل کا بیان​
Jam e Tirmazi
14
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کی تبلیغ اور اس کو جیسے سنا، ایسے ہی نقل کر دینے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
15
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کو لکھنے سے منع کرنے اور اس کی رخصت دینے کا بیان
Musnad Ahmad
16
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر جھوٹ بولنے کے معاملے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
17
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی وہ حدیث، جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کی کیفیت بیان کی گئی
Musnad Ahmad
18
ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی حدیث جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز بیان کی گئی ہے
Musnad Ahmad
19
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث
Musnad Ahmad
20
مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان ان مقامات اور مساجد کا تذکرہ، جہاں جہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے سفر کے دوران قیام کیا اور نمازیں ادا کیں
Musnad Ahmad
21
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اپنی ذات، اہل بیت اور اپنی امت کے فقراء کی طرف سے قربانیاں
Musnad Ahmad
22
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پسندیدہ مشروب اور برتن کو ڈھانپنے کا بیان
Musnad Ahmad
23
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان بیشک صدمہ کی ابتداء میں صبر ہوتا ہے کا بیان
Musnad Ahmad
24
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھوٹ بولنے سے ترہیب اور اس بارے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
25
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نبوت پر دلالت کرنے والی علامتیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کی بشارت اور تورات میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیان کردہ صفات (محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سابقہ کتب میں)
Musnad Ahmad
26
عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ولادت اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیّدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے شادی کا بیان
Musnad Ahmad
27
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بسیسہ نامی شخص کو جاسوس بنا کر بھیجنا تاکہ وہ ابو سفیان کے قافلہ پر نظر رکھے اور بعدازاں قتال کی اجازت کا بیان
Musnad Ahmad
28
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس خواب کا بیان جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غزوۂ احد سے قبل دیکھا تھا۔
Musnad Ahmad
29
اس زہر آلود بکری کا واقعہ جو یہود نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں کھانے کے لیے بھیجی تھی اور اس موقع پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزہ کا ظہور
Musnad Ahmad
30
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی خالہ اُمّ المؤمنین سیّدہ میمونہ بنت حارث سے شادی کا بیان
Musnad Ahmad
31
رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بیت اللہ کے اندر جانے کے لیے چابی بردار عثمان بن طلحہ سے چابیاں طلب کرنے اور بیت اللہ کے اندر موجود بتوں کے ساتھ آپ کا سلوک اور بیت اللہ کو بتوں سے پاک کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
32
فتح مکہ کے بعد مکہ پر چڑھائی کرنے کے حرام ہونے اور اس بارے میں رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خطبہ کا بیان
Musnad Ahmad
33
مکہ مکرمہ کے مردوں اور عورتوں کے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیعت کرنے اور ان کے اپنی اولاد کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لانے کا بیان تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان پر اپنا ہاتھ مبارک پھیر دیں
Musnad Ahmad
34
غزوۂ حنین کے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہ فرمانا کہ جس نے کسی کافر کو قتل کیا، اس سے حاصل ہونے والا مال اسی کو ملے گا ، سیدنا انس بن مالک ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی والدہ سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے جو کچھ کہا اور سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زخمی ہونے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس کے بارے میں اہتمام کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
35
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہرقل کے نام مکتوب اور اس کی طرف سے اس کے جواب کا بیان
Musnad Ahmad
36
رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیماری کے آغاز سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات تک کی تفصیل کے بارے میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی جامع حدیث
Musnad Ahmad
37
رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے گھر کی طرف نقل مکانی تاکہ وہیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تیمار داری کی جائے نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا نماز کے لیے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خلیفہ بنانا
Musnad Ahmad
38
لوگوں سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آخری خطبہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
39
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بعض مخصوص صحابہ کرام کو بلوانے کا بیان تاکہ ان کے لیے کوئی تحریرلکھیں
Musnad Ahmad
40
اس امر کا بیان کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی بات کی وصیت کر گئے تھے یا نہیں اور کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے بعد کسی کے حق میں خلافت کا فیصلہ کیا تھا یا نہیں؟
Musnad Ahmad
41
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بیماری کے دوران پیش آنے والے بعض امور کا بیان
Musnad Ahmad
42
اس امر کا بیان کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے امت کو آخری تاکید نماز کی تھی، نیز صحابہ کرام کا آپ کو آخری بار دیکھنے کا بیان اور اس امر کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موت شہادت کی موت تھی
Musnad Ahmad
43
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا موت کے سکرات سے واسطہ پڑنا، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دنیا اور آخرت میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیئے جانے اور آپ کے رفیق اعلیٰ کو منتخب کرنے کا بیان اور اس بات کا ذکر کہ یہ آخری الفاظ تھے جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زبان مبارک سے ادا ہوئے
Musnad Ahmad
44
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو غسل دینے کا بیان
Musnad Ahmad
45
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز جنازہ کا بیان
Musnad Ahmad
46
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دفن، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قبر اور بعداز وفات حالات کی تبدیلی کا بیان
Musnad Ahmad
47
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے یومِ وفات کی تعیین اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدتِ عمر کا بیان
Musnad Ahmad
48
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ترکہ اور میراث کا بیان
Musnad Ahmad
49
کتاب اللہ اور سنتِ رسول پر عمل کی ترغیب اور تذکرۂ قیامت پر مشتمل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خطبۂ مبارکہ
Musnad Ahmad
50
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بالوں کے سفید ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

920
Sahih Bukhari
7203
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : شَهِدْتُ ابْنَ عُمَرَ حَيْثُ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالَ : كَتَبَ أني أُقِرُّ بِالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ لِعَبْدِ اللَّهِ عَبْدِ الْمَلِكِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ علَى سُنَّةِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ مَا اسْتَطَعْتُ ، وَإِنَّ بَنِيَّ قَدْ أَقَرُّوا بِمِثْلِ ذَلِكَ .
Narrated `Abdullah bin Dinar: I witnessed Ibn `Umar when the people gathered around `Abdul Malik. Ibn `Umar wrote: I gave the Pledge of allegiance that I will listen to and obey Allah's Slave, `Abdul Malik, Chief of the believers according to Allah's Laws and the Traditions of His Apostle as much as I can; and my sons too, give the same pledge.'
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا کہا کہ میں اس وقت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا جب سب لوگ عبدالملک بن مروان سے بیعت کے لیے جمع ہو گئے۔ بیان کیا کہ انہوں نے عبدالملک کو لکھا کہ ”میں سننے اور اطاعت کرنے کا اقرار کرتا ہوں عبداللہ عبدالملک امیرالمؤمنین کے لیے اللہ کے دین اور اس کے رسول کی سنت کے مطابق جتنی بھی مجھ میں قوت ہو گی اور یہ کہ میرے لڑکے بھی اس کا اقرار کرتے ہیں۔“
Sahih Bukhari
7205
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : لَمَّا بَايَعَ النَّاسُ عَبْدَ الْمَلِكِ ، كَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ عَبْدِ الْمَلِكِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنِّي أُقِرُّ بِالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ لِعَبْدِ اللَّهِ عَبْدِ الْمَلِكِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى سُنَّةِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ فِيمَا اسْتَطَعْتُ ، وَإِنَّ بَنِيَّ قَدْ أَقَرُّوا بِذَلِكَ .
Narrated `Abdullah bin Dinar: When the people took the oath of allegiance to `Abdul Malik, `Abdullah bin `Umar wrote to him: To Allah's Slave, `Abdul Malik, Chief of the believers, I give the Pledge of allegiance that I will listen to and obey Allah's Slave, `Abdul Malik, Chief of the believers, according to Allah's Laws and the Traditions of His Apostle in whatever is within my ability; and my sons too, give the same pledge.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا کہا کہ جب لوگوں نے عبدالملک کی بیعت کی تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے لکھا ”اللہ کے بندے عبدالملک امیرالمؤمنین کے نام، میں اقرار کرتا ہوں سننے اور اطاعت کرنے کی۔ اللہ کے بندے عبدالملک امیرالمؤمنین کے لیے اللہ کے دین اور اس کے رسول کی سنت کے مطابق، جتنی مجھ میں طاقت ہو گی اور میرے بیٹوں نے بھی اس کا اقرار کیا۔“
Jam e Tirmazi
1593
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا نُبَايِعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ لَنَا:‏‏‏‏ فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ كِلَاهُمَا.
Narrated Ibn 'Umar: We used to pledge to the Messenger of Allah (ﷺ) to hear and obey. So he would say to us: As much as you are able. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمع و طاعت ( یعنی آپ کے حکم سننے اور آپ کی اطاعت کرنے ) پر بیعت کرتے تھے، پھر آپ ہم سے فرماتے: ”جتنا تم سے ہو سکے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- حدیث جابر اور حدیث سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہما دونوں حدیثوں کا معنی صحیح ہے، ( ان میں تعارض نہیں ہے ) بعض صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے موت پر بیعت کی تھی، ان لوگوں نے کہا تھا: ہم آپ کے سامنے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ قتل کر دیئے جائیں، اور دوسرے لوگوں نے آپ سے بیعت کرتے ہوئے کہا تھا: ہم نہیں بھاگیں گے۔
Sahih Bukhari
7202
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : كُنَّا إِذَا بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ ، يَقُولُ لَنَا : فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ .
Narrated `Abdullah bin `Umar: Whenever we gave the Pledge of allegiance to Allah's Apostle for to listen to and obey, he used to say to us, for as much as you can.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن دینار نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے اور اطاعت کرنے کی بیعت کرتے تو آپ ہم سے فرماتے کہ جتنی تمہیں طاقت ہو۔
Sahih Muslim
4836
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَيُّوبَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: كُنَّا نُبَايِعُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، يَقُولُ لَنَا: «فِيمَا اسْتَطَعْتَ»
It has been narrated on the authority of Abdullah b. 'Umar who said: We used to take oath to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) that we would listen to and obey his orders. He would tell us (to say in the oath): As far as it lies in my power.
عبداللہ بن دینار نے بتایا کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : ہم سننے اور اطاعت کرنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرتے تھے اور آپ ہم سے فرماتے تھے : " ( کہو : ) جس کی مجھے استطاعت ہو گی ۔ "
Sunnan Nisai
4192
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ. ح وأَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا نُبَايِعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَقُولُ:‏‏‏‏ فِيمَا اسْتَطَعْتَ . وَقَالَ عَلِيٌّ:‏‏‏‏ فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ .
It was narrated that Ibn 'Umar said: We used to pledge to the Messenger of Allah to hear and obey, the he said: 'In as much as you can. '
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمع و طاعت ( سننے اور حکم بجا لانے ) پر بیعت کرتے تھے، پھر آپ فرماتے تھے: ”جتنی تمہاری طاقت ہے“ ۱؎۔
Sunnan Nisai
4193
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا حِينَ نُبَايِعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ،‏‏‏‏ يَقُولُ لَنَا:‏‏‏‏ فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ .
Ibn 'Umar said: When we gave our pledge to the Messenger of Allah to hear and obey, he would say to us: 'In as much as you can .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جس وقت ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمع و طاعت ( سننے اور حکم بجا لانے ) پر بیعت کرتے تھے تو آپ ہم سے فرماتے تھے: ”جتنی تمہاری طاقت ہے“۔
Mishkat
3667
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنَّا إِذَا بَايَعْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ يَقُولُ لَنَا: «فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ»
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب ہم سمع و اطاعت میں رسول اللہ ﷺ کی بیعت کرتے تو آپ ﷺ ہمیں فرماتے :’’ اس (معاملے) میں جس کی تم استطاعت رکھو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Sahih Bukhari
61
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ ، فَحَدِّثُونِي مَا هِيَ ؟ فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : وَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ ، ثُمَّ قَالُوا : حَدِّثْنَا مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : هِيَ النَّخْلَةُ .
Narrated Ibn `Umar: Allah's Apostle said, Amongst the trees, there is a tree, the leaves of which do not fall and is like a Muslim. Tell me the name of that tree. Everybody started thinking about the trees of the desert areas. And I thought of the date-palm tree but felt shy to answer the others then asked, What is that tree, O Allah's Apostle ? He replied, It is the date-palm tree.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن دینار سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا درختوں میں ایک درخت ایسا ہے کہ اس کے پتے نہیں جھڑتے اور مسلمان کی مثال اسی درخت کی سی ہے۔ بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟ یہ سن کر لوگوں کا خیال جنگل کے درختوں کی طرف دوڑا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا میرے دل میں آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔ مگر میں اپنی ( کم سنی کی ) شرم سے نہ بولا۔ آخر صحابہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے پوچھا کہ وہ کون سا درخت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ کھجور کا درخت ہے۔