TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اپنی ذات، اہل بیت اور اپنی امت کے فقراء کی طرف سے قربانیاں - رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اپنی ذات، اہل بیت اور اپنی امت کے فقراء کی طرف سے قربانیاں - ہدی اور قربانی کے جانوروں کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 9 of ہدی اور قربانی کے جانوروں کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 9 of 29 · 10 Hadith
۔ (۴۶۵۲)۔ عَنْ أَبِيْ رَافِعٍ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا ضَحّٰی، اشْتَرٰی کَبْشَیْنِ سَمِینَیْنِ أَقْرَنَیْنِ أَمْلَحَیْنِ (وَفِيْ لَفْظٍ مَوْجِیَّیْنِ خَصِیَّیْنِ)، فَإِذَا صَلّٰی وَ خَطَبَ النَّاسَ أُتِيَ بِأَحَدِھِمَا وَ ھُوَ قَائِمٌ فِيْ مُصَلَاّہُ، فَذَبَحَہُ بِنَفْسِہِ بِالْمُدْیَۃِ، ثُمَّ یَقُوْلُ: ((اَللّٰھُمَّ إِنَّ ھٰذَا عَنْ أُمَّتِيْ جَمِیْعًا، مِمَّنْ شَھِدَ لَکَ بِالتّوْحِیْدِ، وَ شَھِدَ لِيْ بِالْبَلَاغِ۔)) ثُمَّ یُؤْتٰی بِالآخَرِ فَیَذْبَحُہُ بِنَفْسِہِ وَ یَقُوْلُ: ((ھٰذَا عَنْ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ۔)) وَ یُطْعِمُھُمَا جَمِیْعًا الْمَسَاکِیْنَ، وَ یَأْکُلُ ھُوَ وَ أَھْلُہُ مِنْھُمَا، فَمَکَثْنَا سِنِیْنَ لَیْسَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي ھَاشِمٍ یُضَحِّي، قَدْ کَفَاہُ اللّٰہُ الْمُؤْنَۃَ بِرَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ الْغُرْمَ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۳۲)
۔ مولائے رسول سیدنا ابورافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب قربانی کرتے تو دو موٹے تازے، سینگوں والے، چتکبرے اور خصی دنبے خریدتے، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازِ عید ادا کرتے اور لوگوں کو خطبہ دیتے تو ایک دنبے کو لایا جاتے جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ابھی تک عید گاہ میں ہی کھڑے ہوتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود چھری کے ساتھ اس کو ذبح کرتے اور فرماتے: اے اللہ! یہ میری ساری امت کی طرف سے ہے، جنہوں نے تیری لیے توحید کی اور میرے لیے تبلیغ کی شہادت دی ہے۔ پھر دوسرا دنبہ لایا جاتا، اس کو بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود ذبح کرتے اور فرماتے: یہ محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) اور آلِ محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی طرف سے ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دونوں دنبے مسکینوں کو کھلا دیتے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اہل بیت بھی ان سے کھاتے تھے۔ سیدنا ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: پھر ہم نے کئی برسوں تک دیکھا کہ بنو ہاشم کا کوئی بندہ قربانی نہیں کرتا تھا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس عمل کی وجہ سے ان کو قربانی کے بوجھ اور خرچ سے کفایت کر دیا تھا۔
Takhreej
(۴۶۵۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، علی بن الحسین لم یدرک ابا رافع، ولضعف عبد اللہ بن محمد بن عقیل، وقد اضطرب فیہ ایضا، أخرجہ البزار: ۱۲۰۸، والحاکم: ۲/ ۳۹۱ (انظر: ۲۷۱۹۰)
4652
Zaeef
۔ (۴۶۵۳)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَبَحَ یَومَ الْعِیْدِ کَبْشَیْنِ، ثُمَّ قَالَ حِیْنَ وَجَّھَھُمَا: ((إِنِّي وَجَّھْتُ وَجْھِيَ لِلَّذِيْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَ الأَرْضَ حَنِیْفًا مُسْلِمًا وَ مَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ، لا شَرِیْکَ لَہُ وَ بِذٰلِکَ أُمِرْتُ، وَ أَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ، بِسْمِ اللّٰہِ واللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰھُمَّ مِنْکَ وَ لَکَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَ أُمَّتِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۰۸۶)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عید کے دن دو دنبے ذبح کیے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو قبلہ رخ لٹایا تو یہ دعا پڑھی: إِنِّي وَجَّھْتُ وَجْھِيَ لِلَّذِيْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ ……بِسْمِ اللّٰہِ واللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰھُمَّ مِنْکَ وَ لَکَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَ أُمَّتِہِ۔ (بیشک میں نے اپنا چہرہ اس ہستی کی طرف متوجہ کیا ہے، جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اس حال میں کہ میں یک سو اور مسلمان ہوں اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں، اس اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی چیز کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمانوں میں سے پہلا ہوں، اللہ کے نام ساتھ اور اللہ ہی سب سے بڑا ہے، اے اللہ! یہ جانور تیری طرف سے تھا اور تیرے لیے ہے محمد( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) اور ان کی امت کی طرف سے)۔
Takhreej
(۴۶۵۳) اسنادہ محتمل للتحسین، أخرجہ أبوداود: ۲۷۹۵، وابن ماجہ: ۳۱۲۱(انظر: ۱۵۰۲۲)
4653
Sahih
۔ (۴۶۵۴)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُضَحِّي بِکَبْشَیْنِ أَقْرَنَیْنِ أَمْلَحَیْنِ، وَ کَانَ یُسَمِّي وَ یُکَبِّرُ، وَ لَقَدْ رَأَیْتُہُ یَذْبَحُھُمَا بِیَدِہِ، وَاضِعًا عَلٰی صِفَاحِھِمَا قَدَمَہُ۔ (مسند احمد: ۱۱۹۸۲)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سینگوں والے اور چتکبرے دو دنبوں کی قربانی کرتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ کا نام لے کر اور تکبیر کہہ کر ذبح کرتے تھے اور میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا پاؤں ان کے پہلو پر رکھا ہوا ہوتا تھا۔
Takhreej
(۴۶۵۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۵۵۸، ۵۵۶۵، ومسلم: ۱۹۶۶(انظر: ۱۱۹۶۰)
4654
Sahih
۔ (۴۶۵۵)۔ عَنْ أَبِيْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ضَحّٰی بِکَبْشٍ أَقْرَنَ وَ قَالَ: ((ھٰذَا عَنِّيْ وَ عَمَّنْ لَمْ یُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۶۶)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سینگوں والے ایک دنبے کی قربانی کی اور فرمایا: ھَذَا عَنِّيْ وَ عَمَّنْ لَمْ یُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي (یہ میری طرف سے ہے اور میری امت کے ان افراد کی طرف سے ہے، جنھوں نے قربانی نہیں کی)۔
Takhreej
(۴۶۵۵) حدیث صحیح، أخرجہ البزار: ۱۲۰۹، والحاکم: ۴/ ۲۲۸، والدارقطنی: ۴/ ۲۸۴ (انظر: ۱۱۰۵۱)
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا امت کے ان افراد کی طرف سے قربانی کرنا، جو قربانی نہ کر سکے تھے، یہ عمل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خاصہ ہے اور یہ جائزنہیں ہے کہ ایک بکری ایک سے زائد گھرانوں کی طرف سے قربان کی جائے۔
4655
Sahih
۔ (۴۶۵۶)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِیْدَ الأضْحٰی، فَلَمَّا انْصَرَفَ اُتِیَ بِکَبْشٍ فَذَبَحَہُ، فَقَالَ: ((بِسْمِ اللّٰہِ وَ اللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُمَّ إِنَّ ھٰذَا عَنَّي وَ عَمَّنْ لَمْ یُضَحِّ مِنْ أُمَّتِيْ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۹۸)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ عید الاضحی ادا کی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک مینڈھا لایا گیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو ذبح کرنے لگے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بِسْمِ اللّٰہِ وَ اللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُمَّ إِنَّ ھٰذَا عَنَّي وَ عَمَّنْ لَمْ یُضَحِّ مِنْ أُمَّتِيْ (اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ سب سے بڑا ہے، اے اللہ! بیشک یہ میری طرف سے ہے اور میری امت کے ان افراد کی طرف سے، جنھوں نے قربانی نہیں کی)۔
Takhreej
(۴۶۵۶) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ أبوداود: ۲۸۱۰، والترمذی: ۱۵۲۱(انظر: ۱۴۸۳۷)
4656
Sahih
۔ (۴۶۵۷)۔ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّنِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ بِکَبْشٍ أَقْرَنَ یَطَأُ فِيْ سَوَادٍ، وَ یَنْظُرُ فِيْ سَوَادٍ، وَ یَبْرُکُ فِيْ سَوَادٍ، فَأُتِيَ بِہِ لِیُضَحِّيَ بِہِ ثُمَّ قَالَ: ((یَا عَائِشَۃُ ھَلُمُّي الْمُدْیَۃَ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((اِسْتَحِدِّیْھَا بِحَجَرٍ۔)) فَفَعَلَتْ، ثُمَّ أَخَذَھَا وَ أَخَذَ الْکَبْشَ، فَأَضْجَعَہُ، ثُمَّ ذَبَحَہُ، وَقَالَ: ((بِسْمِ اللّٰہ، اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ، وَ مِنْ أُمَّۃِ مُحَمَّدٍ۔)) ثُمَّ ضَحّٰی بِہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۴۹۹۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسے دنبے کا حکم دیا جو سینگوں والا ہو، اس کے پاؤں کالے ہوں، آنکھوں کے ارد گرد والی جگہ بھی کالی ہو اور پیٹ بھی کالا ہو، پس اس کو لایا گیا، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی قربانی کریں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ! چھری لاؤ۔ پھر فرمایا: اس کو پتھر کے ساتھ تیز کرو۔ پس سیدہ نے ایسے ہی کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چھری لی اور دنبے کو پکڑا، اس کو ذبح کرنے کے لیے لٹایا اور فرمایا: (اللہ کے نام کے ساتھ، اے اللہ! تو محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم )، آلِ محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) اور امت ِ محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی طرف سے قبول فرما)۔
Takhreej
(۴۶۵۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۹۶۷(انظر: ۲۴۴۹۱)
4657
Sahih
۔ (۴۶۵۸)۔ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کَانَ یَذْبَحُ أُضْحِیَتَہُ بِالْمُصَلّٰی یَوْمَ النَّحْرِ، وَ ذَکَرَ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَفْعَلُہُ۔ (مسند احمد: ۵۸۷۶)7
۔ امام نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قربانی والے دن عیدگاہ میں اپنی قربانی کو ذبح کرتے تھے اور بتلاتے تھے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایسے ہی کرتے تھے۔
Takhreej
(۴۶۵۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۹۸۲، ۵۵۵۲ (انظر: ۵۸۷۶)
Explanation
فوائد:… امام کا عیدگاہ کے میدان میں قربانی کرنا مستحب ہے۔
4658
Sahih
۔ (۴۶۵۹)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَنْحَرُ یَوْمَ الَأَضْحٰی بِالْمَدِیْنَۃِ، قَالَ: وَکَانَ إِذَا لَمْ یَنْحَرْ ذَبَحَ۔ (مسند احمد: ۶۴۰۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ میں عید الاضحی والے دن نحر کرتے تھے، اگر نحر نہ کرتے تو ذبح کرتے تھے۔
Takhreej
(۴۶۵۹) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ النسائی: ۷/ ۲۱۳، وأخرج البخاری: ۵۵۵۲ عن نافع عن ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اخبرہ ، قال: کان رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یذبح وینحر بالمصلی (انظر: ۶۴۰۱)
Explanation
فوائد:… صحیح بخاری کی روایت کا ترجمہ یہ ہے: سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عید گاہ میں ذبح اور نحر کرتے تھے۔
4659
Sahih
۔ (۴۶۶۰)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: أَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْمَدِیْنَۃِ عَشْرَ سِنِیْنَ یُضَحِّي۔ (مسند احمد: ۴۹۵۵)
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ میں دس سال قیام کیا اور اس عرصے میں ہر سال قربانی کی۔
Takhreej
(۴۶۶۰) اسنادہ ضعیف، فیہ حجاج بن ارطاۃ مدلس وقد عنعن، أخرجہ الترمذی: ۱۵۰۷ (انظر: ۴۹۵۵)
4660
Zaeef
۔ (۴۶۶۱)۔ عَنْ أَبِي الْخَیْرِ أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ حَدَّثَہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : أَنَّہُ أَضْجَعَ أُضْحِیَتَہُ لِیَذْبَحَھَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِلرَجُلٍ: ((أَعِنِّي عَلٰی ضَحِیَّتِي۔)) فَأَعَانَہُ۔ (مسند احمد: ۲۳۵۵۵)
۔ ابو الخیر کہتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی قربانی کو ذبح کرنے کے لیے لٹانا چاہا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: اس قربانی کے معاملے میںذرا میری مدد کرنا۔ پس اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدد کی۔
Takhreej
(۴۶۶۱) تخریج: اسنادہ صحیح(انظر: ۲۳۱۶۸)
Explanation
فوائد:… اس باب میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنی ذات، اپنے اہل و عیال اور اپنی امت کی طرف سے قربانی کا ذکر ہے، نیز قربانی کرتے وقت کی دعاؤں کا بیان ہے۔
4661
Sahih

Chapters

29
01
قربانی کے اونٹوں کو اشعار کرنا اور ہدی کے تمام جانوروں کو قلادے ڈالنا
4 Hadith
02
ہدی بھیجنے والے پر وہ چیزیں حرام نہیںہوں گی ، جو حاجی پر حرام ہوتی ہیں
6 Hadith
03
مذکورہ بالا مسئلے کے متعارض روایات
1 Hadith
04
ہدی کے معیّن جانور کو تبدیل نہ کرنا، اگر وہ نہ پایا جائے، جبکہ وہ اونٹ ہو تو اس کے متبادل سات بکریاں ہوں گی
2 Hadith
05
ہدی میں اشتراک اور ہدی میں اونٹ اور گائے کا سات سات افراد سے کفایت کرنا
11 Hadith
06
ہدی والے اونٹ پر سوار ہونے کا بیان
5 Hadith
07
ہدی کا اپنے محل تک پہنچنے سے پہلے تھک جانا
16 Hadith
08
قربانی، اس پر ابھارنااور اس کی فضیلت اور حکم
4 Hadith
09
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اپنی ذات، اہل بیت اور اپنی امت کے فقراء کی طرف سے قربانیاں
10 Hadith
10
ان امور کا بیان کہ قربانی کا ارادہ رکھنے والے ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں جن سے اجتناب کرے گا، نیز اس چیز کا بیان جو فقیر کے لیے قربانی کے قائم مقام ہوتی ہے
4 Hadith
11
جانور کی اس عمر کا بیان جو قربانی میں کفایت کرتی ہے
8 Hadith
12
ان جانوروں کا بیان کہ عیب کی وجہ سے جن کی قربانی نہیں کی جا سکتی اور جن کی قربانی مکروہ ہے اور جن کی مستحبّ ہے
7 Hadith
13
خصی جانور کی قربانی کرنا
3 Hadith
14
اونٹ کا دس افراد کو، گائے کا سات افراد کو اور ایک بکری کا ایک گھر والوں کو بطورِ قربانی کفایت کرنا
5 Hadith
15
ذبح کے وقت کا بیان
10 Hadith
16
تین دنوں سے زیادہ قربانیوں کا گوشت کھانے سے ممانعت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
3 Hadith
17
تین ایام سے زائد تک قربانی کا گوشت کھانے کی ممانعت کے منسوخ ہو جانے کا بیان
13 Hadith
18
میت کی وصیت کی بناء پر اس کی طرف سے قربانی کرنا اور قربانی کا گوشت اچکنے کی اجازت دینے والوں کا اور اچک لینے کی ممانعت کا بیان
3 Hadith
19
عقیقہ، فرع اور عتیرہ کی حقیقت کا بیان
3 Hadith
20
فرع اور عتیرہ کے حکم اور ان سے نہی کا بیان
7 Hadith
21
بچے اور بچی کی طرف سے عقیقہ کرنے کا حکم
6 Hadith
22
عقیقہ کا وقت، بچے کا نام رکھنا، اس کو سر مونڈنا اور اس کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی کا صدقہ کرنا
5 Hadith
23
ولادت کے بعد بچے کے دونوں کانوں میں اذان دینا اور پھر اس کے بعد گڑتی دینا
4 Hadith
24
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے نزدیک سب سے محبوب نام
5 Hadith
25
حسین نام رکھنے کی رغبت دلانا اور بعض فرشتوں کے ناموں کا بیان
2 Hadith
26
محمد نام رکھنا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نام اور کنیت کو جمع کرنے کی ممانعت کا بیان
10 Hadith
27
وہ افراد جن کے نام نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکھے اور وہ افراد کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی مصلحت کی وجہ سے جن کے نام تبدیل کیے
11 Hadith
28
لقب اور ان افراد کا بیان جن کی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کنیتیں رکھیں
6 Hadith
29
حرام اور مکروہ نام
5 Hadith
No chapter matched that.