TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2817 - (جنگ میں) بڑے اور چھوٹے جھنڈوں کے استعمال کا بیان - The chapters on jihad - Sunnan Ibn e Maja in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 3 in this chapter
(جنگ میں) بڑے اور چھوٹے جھنڈوں کے استعمال کا بیان
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، ‏‏‏‏‏‏ وَعَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ، ‏‏‏‏‏‏وَلِوَاؤُهُ أَبْيَضُ .
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that the Prophet (ﷺ) entered Makkah on the Day of the Conquest, and his standard was white.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کا جھنڈا سفید تھا۔
2817
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 4, Book 24, Hadith 2817 Arabic reference : Book 24, Hadith 2924
Conclusion
تخریج
«سنن ابی داود/الجہاد ۷۶ (۲۵۹۲)، سنن الترمذی/الجہاد ۹ (۱۶۷۹)، سنن النسائی/الحج ۱۰۶ (۲۸۶۹)،(تحفة الأشراف:۲۸۸۹)

Related Chapters

196
1
Chapter: What Has Been Related About Code Words
باب: شعار (یعنی جنگ میں کوڈ لفظ کے استعمال) کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: Clarifying that it does not matter whether the crescent is large or small, for Allah, the Most High, causes it to appear for long enough that people can see it, and if it is cloudy then thirty days should be completed
چاند کے چھوٹے اور بڑے ہونے کا اعتبار نہیں ‘اللہ تعالیٰ نے رؤیت کے لیے اسے بڑا کر دیا اگر اس کو چھپادیا جائے تو تیس (دن )مکمل کیے جائیں
Sahih Muslim
3
CHAPTER: Regarding What Is Recommended In Armies, Companies, And Expeditions.
باب: چھوٹے بڑے لشکر ، اور ساتھیوں کی کون سی تعداد مستحب و مناسب ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
4
(43)Chapter: [What Has Been Related] About It Being Disliked To Be Wasteful With Water During Wudu
باب: وضو میں پانی کے بے جا استعمال کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About The Hands No Being Cut In Battles
باب: دوران جنگ چور کے ہاتھ نہ کاٹے جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About Calling (To Islam) Before Fighting
باب: جنگ سے پہلے اسلام کی دعوت دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: Regarding Burning And Destroying
باب: دوران جنگ کفار و مشرکین کے گھر جلانے اور ویران کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About Ahl Adh-Dhimmah Fighting With The Muslims, Are They To Recieve A Share Of The Spoils Of War ?
باب: مال غنیمت میں مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں شریک ذمیوں کے حصہ کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About Using The Containers Of The Idolaters
باب: کفار و مشرکین کے برتن استعمال کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About Women Going Out For War
باب: جنگ میں عورتوں کے جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About The Prostration Of Gratitude (Sajdah Ash-Shukr)
باب: جنگ میں فتح کی خبر سن کر سجدہ شکر کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About A Lone Man Being Sent (As A Commander) Over A Military Expedition
باب: سریہ (جنگی ٹولی) میں کسی کو تنہا روانہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About Standards
باب: جنگ میں پرچم لہرانے کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About Standing Firm During The Time Of Fighting
باب: جنگ میں دشمن کے مقابلے میں ڈٹ جانے اور ثابت قدم رہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About Who Is Placed In Charge During War
باب: جنگ کے لیے امیر مقرر کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About Consultation
باب: جنگ میں مشورہ کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About Fleeing From An Advancing Army
باب: میدان جنگ سے فرار ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About Permitting The Wearing Of Silk During War
باب: دوران جنگ ریشم پہننے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About The Skins Of Dead Animals When They Are Tanned
باب: دباغت کے بعد مردار جانوروں کی کھال کے استعمال کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Predator Skins
باب: درندے کی کھال استعمال کرنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About The Iron Ring
باب: لوہے کی انگوٹھی کے استعمال کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About The State of The Prophet (SAW): I Have Been Ordered To FIght The People Until They Say La Ilaha Illallah And Establish The Salah
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے لوگوں کے خلاف جنگ کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ: لا الہ الا اللہ کہیں، اور نماز قائم کریں“۔
Jam e Tirmazi
23
باب: غالیچہ (چھوٹے قالین) رکھنے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
24
باب: زعفران اور خلوق کا استعمال مردوں کے لیے مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
25
بَابُ بُلُوغِ الصَّغِيرِ وَحَضَانَتِهِ فِي الصِّغَرِ
چھوٹے لڑکے کی عمر بلوغت اور کم سنی میں اس کی تربیت کا بیان
Mishkat
26
بَاب الْمَلَاحِم
جنگوں کا بیان
Mishkat
27
کافروں کے برتنوں کو پاک کرنے اور ان کو دھو لینے کے بعد استعمال کرنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
28
ازار سے اوپر والے حصے کو استعمال کرنے ، ایسی خاتون کے ساتھ لیٹ جانے اور اس کے ساتھ کھانا کھانے کا بیان
Musnad Ahmad
29
چھوٹے اور قبل از وقت پیدا ہونے والے نامکمل بچے کی نماز جنازہ پڑھنے اور نہ پڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
30
سرایا اور جیوش کو ترتیب دینے اور جھنڈوں اور ان کے رنگوں کا اہتمام کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
31
جنگ میں فخر کرنے کے مستحب ہونے اور دشمنوں سے مقابلہ کرنے کی تمنا کرنے اور لشکر کی اکثریت سے دھوکہ کھانے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
32
جس جس عامل نے میدان جنگ میں اپنی طاقت کے بقدر کام کیا،ان میں برابری کے ساتھ مالِ غنیمت تقسیم کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
33
بیوی کی لونڈی کو استعمال کر لینے والے شخص کا بیان
Musnad Ahmad
34
بیوی کو پیچھے سے استعمال کرنے کی ممانعت اور تجبیب کے جواز کا بیانیعنی پچھلی سمت سے عورت کی قبل میں جماع کرنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
35
گھوڑے اورجنگلی گدھے کی حلت کا بیان
Musnad Ahmad
36
مرد کو عصفر بوٹی سے رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے ممانعت اور سرخ رنگ کے استعمال کا بیان
Musnad Ahmad
37
سرخ رنگ کے استعمال کا بیان
Musnad Ahmad
38
سونے، چاندی اور ریشم اور ان کے استعمال کی جائز اور ناجائز صورتوں کا بیان ممنوعہ امور سے متعلقہ جامع احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
39
مردوں کے لیے ضرورت کے وقت سونا اور ریشم استعمال کرنے کی رخصت کے ابواب ناک کٹ جانے والے آدمی کا سونے کا ناک بنوا لینے کا بیان
Musnad Ahmad
40
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے غزوات کی تعداد اور جنگ وقتال کے بعض آداب کا بیان
Musnad Ahmad
41
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا غزوۂ بدر کے متعلق اہتمام، اللہ تعالیٰ سے طلبِ نصرت، اور آپ کا بنفس نفیس میدانِ جنگ میں اترنا اور مجاہدین کا آپ کے پیچھے ہو کر زخمی ہونے سے بچنے کی کوشش کرنا اور اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے ذریعے آپ کی نصرت فرمانے کا بیان
Musnad Ahmad
42
غزوۂ احد میں مقامِ جنگ، صفوں کی تنظیم وترتیب، قائدین کا تقرر، امام کی اطاعت کے وجوب اور اس کے امر کی مخالفت کی مذمت کا بیان
Musnad Ahmad
43
جنگ، اس کے مقاتلین اور شہداء احد سے متعلقہ مختلف امور کابیان
Musnad Ahmad
44
فصل دوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بصرہ میں تشریف آوری اور لوگوں کو جنگ جمل کے لیے بلانا
Musnad Ahmad
45
باب پنجم: جنگ صفین اور سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شجاعت کا بیان اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کے بارے میں فرمانا کہ ایک باغی گروہ عمار کو قتل کرے گا
Musnad Ahmad
46
قیامت کے قائم ہونے سے قبل خون ریزیوں اور گھمسان کی جنگوں کا بیان
Musnad Ahmad
47
(17) CHAPTER. (The Statement of Allah) “But if they repent [by rejecting Shirk (polytheism) and accept Islamic Monotheism] and perform As-Salat (Iqamat-as-Salat) and give Zakat then leave their way free.” (V.9:5)
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں کہ اگر وہ ( کافر ) توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو ( یعنی ان سے جنگ نہ کرو )
Sahih Bukhari
48
(4) CHAPTER. Concerning variety of words used by the narrators conveying different significations regarding the concept of narrating and which has importance for the Hadith scholars only.
محدث کا لفظ حدثنا واخبرنا وانبانا استعمال کرنا صحیح ہے
Sahih Bukhari
49
(33) CHAPTER. What is said regarding the water with which human hair has been washed.
جس پانی سے آدمی کے بال دھوئے جائیں اس پانی کا استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
Sahih Bukhari
50
(40) CHAPTER. The using of the remaining water after ablution.
لوگوں کے وضو کا بچا ہوا پانی استعمال کرنا
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

92
Jam e Tirmazi
1607
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَا:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ لَأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا أَتْرُكُ فِيهَا إِلَّا مُسْلِمًا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Jabir bin ‘Abdullah : Umar bin Al-Khattab informed me that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'I will expel the Jews and the Christians from the Arabian Peninsula, and I will not leave anyone in it except a Muslim. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih.
عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”میں جزیرہ عرب سے یہود و نصاریٰ کو ضرور نکالوں گا اور اس میں صرف مسلمان کو باقی رکھوں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
2943
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ أَخْبَرَاهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُمَا سَمِعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ:‏‏‏‏ مَرَرْتُ بِهِشَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ وَهُوَ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَمَعْتُ قِرَاءَتَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا هُوَ يَقْرَأُ عَلَى حُرُوفٍ كَثِيرَةٍ، ‏‏‏‏‏‏لَمْ يُقْرِئْنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكِدْتُ أُسَاوِرُهُ فِي الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَنَظَرْتُ حَتَّى سَلَّمَ فَلَمَّا سَلَّمَ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ مَنْ أَقْرَأَكَ هَذِهِ السُّورَةَ الَّتِي سَمِعْتُكَ تَقْرَؤُهَا ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ كَذَبْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُوَ أَقْرَأَنِي هَذِهِ السُّورَةَ الَّتِي تَقْرَؤُهَا، ‏‏‏‏‏‏فَانْطَلَقْتُ أَقُودُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى حُرُوفٍ لَمْ تُقْرِئْنِيهَا وَأَنْتَ أَقْرَأْتَنِي سُورَةَ الْفُرْقَانِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَرْسِلْهُ يَا عُمَرُ، ‏‏‏‏‏‏اقْرَأْ يَا هِشَامُ ، ‏‏‏‏‏‏فَقَرَأَ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ هَكَذَا أُنْزِلَتْ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ اقْرَأْ يَا عُمَرُ ، ‏‏‏‏‏‏فَقَرَأْتُ بِالْقِرَاءَةِ الَّتِي أَقْرَأَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ هَكَذَا أُنْزِلَتْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ.
Narrated 'Umar bin Al-Khattab: I passed by Hisham bin Hakim bin Hizam while he was reciting Surat Al-Furqan during the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ). I listened to his recitation and noticed that he recited it in several different ways, which the Messenger of Allah (ﷺ) had not taught me. I was about to jump over him during his Salat, but waited until he said the Salam. When he had said the Salam, I strangled him with his upper-garment and said: 'Who taught you this Surah which I heard you reciting?' He said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) taught it to me.' I said to him: 'You lie! By Allah! The Messenger of Allah (ﷺ) taught me this Surah which you were reciting.' I dragged him to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: 'O Messenger of Allah! I heard this one reciting Surat Al-Furqan in a manner different from how you taught me, and you taught me Surat Al-Furqan.' The Prophet (ﷺ) said: 'Release him O 'Umar! Recite O Hisham.' So he recited it for him as I had heard him reciting. Then the Prophet (ﷺ) said to me: 'This is how it was revealed.' Then the Prophet (ﷺ) said to me, 'Recite O 'Umar.' So I recited the recitation which the Prophet (ﷺ) taught me. The Prophet (ﷺ) said: 'This is how it was revealed.' Then the Prophet (ﷺ) said 'Indeed this Qur'an was revealed in seven modes, so recite of it what is easier for you.'
مسور بن مخرمہ رضی الله عنہ اور عبدالرحمٰن بن عبدالقاری سے روایت ہے کہ ان دونوں نے عمر بن خطاب رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے: میں ہشام بن حکیم بن حزام کے پاس سے گزرا، وہ سورۃ الفرقان پڑھ رہے تھے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ تھے، میں نے ان کی قرأت سنی، وہ ایسے حرفوں پر پڑھ رہے تھے، جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پڑھایا ہی نہ تھا۔ قریب تھا کہ میں ان پر حملہ کر دیتا مگر میں نے انہیں ( نماز پڑھ لینے تک کی ) مہلت دی۔ جونہی انہوں نے سلام پھیرا میں نے ان کو انہیں کی چادر ان کے گلے میں ڈال کر گھسیٹا، میں نے ان سے پوچھا: یہ سورۃ جسے میں نے تمہیں ابھی پڑھتے ہوئے سنا ہے، تمہیں کس نے پڑھائی ہے؟ کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی ہے۔ میں نے کہا: تم غلط کہتے ہو، قسم اللہ کی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی مجھے یہ سورۃ پڑھائی جو تم پڑھ رہے تھے ۱؎، میں انہیں کھینچتا ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے انہیں سورۃ الفرقان ایسے حرفوں ( طریقوں ) پر پڑھتے ہوئے سنا ہے جن پر آپ نے مجھے پڑھنا نہیں سکھایا ہے جب کہ آپ ہی نے مجھے سورۃ الفرقان پڑھایا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمر! انہیں چھوڑ دو، ہشام! تم پڑھو“۔ تو انہوں نے وہی قرأت کی جو میں نے ان سے سنی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، ایسی ہی نازل ہوئی ہے“۔ پھر مجھ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمر! تم پڑھو“، تو میں نے اسی طرح پڑھا جس طرح آپ نے مجھے پڑھایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اسی طرح نازل کی گئی ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ قرآن سات حرفوں پر اتارا گیا ہے ۲؎، تو جو قرأت تمہیں آسان لگے اسی قرأت پر تم قرآن پڑھو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- مالک بن انس نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی ہے، لیکن انہوں نے اپنی روایت میں مسور بن مخرمہ کا ذکر نہیں کیا۔
Sunnan Ibn e Maja
3255
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَهْرَمَانُ آلِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَدِّهِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ طَعَامَ الْوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ طَعَامَ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الثَّلَاثَةَ وَالْأَرْبَعَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ طَعَامَ الْأَرْبَعَةِ يَكْفِي الْخَمْسَةَ وَالسِّتَّةَ .
It was narrated from ‘Umar bin Khattab that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “The food of one is sufficient for two, and the food of two is sufficient for three or four, and the food of four is sufficient for five or six.’”
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کا کھانا دو کے لیے کافی ہوتا ہے، دو کا کھانا تین اور چار کے لیے کافی ہوتا ہے، اور چار کا کھانا پانچ اور چھ کے لیے کافی ہوتا ہے ۔
Sunnan Ibn e Maja
3287
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَهْرَمَانُ آلِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبِي، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ كُلُوا جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ الْبَرَكَةَ مَعَ الْجَمَاعَةِ .
Salim bin ‘Abdullah bin ‘Umar said: “I heard my father say: ‘I heard ‘Umar bin Khattab say: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Eat together and do not eat separately, for the blessing is in being together.’”
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سب مل کر کھانا کھاؤ، اور الگ الگ ہو کر مت کھاؤ، اس لیے کہ برکت سب کے ساتھ مل کر کھانے میں ہے ۔
Sunnan Nisai
2869
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،‏‏‏‏ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ وَلِوَاؤُهُ أَبْيَضُ .
It was narrated from Jabir that: the Prophet enter Makkah and his standard was white.
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ( یعنی فتح مکہ کے دن ) سفید جھنڈا لیے ہوئے داخل ہوئے۔
Jam e Tirmazi
328
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بِمَعْنَاهُ، ‏‏‏‏‏‏هَكَذَا قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ:‏‏‏‏ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ
(Another chain with a similar narration) from Abu Hurairah : [from the Prophet]. And this is more correct than the Hadith of Yazid bin Zurai. (no. 327)
اس سند سے بھی ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کے ساتھ مروی ہے جیسے ابوسلمہ کی حدیث ہے جسے انہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے۔ اسی طرح کہا ہے عبدالرزاق نے وہ روایت کرتے ہیں کہ سعید بن المسیب سے اور سعید بن مسیب نے بواسطہ ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے اور یہ یزید بن زریع کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ۱؎۔
Jam e Tirmazi
433
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:‏‏‏‏ حَفِظْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ رَكَعَاتٍ كَانَ يُصَلِّيهَا بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَحَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الْفَجْرِ رَكْعَتَيْنِ. هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Ibn Umar narrated: I memorized ten Rak'ah from Allah's Messenger (S) which he would pray in a night and a day: Two Rak'ah before Az-Zuhr, two after it; two Rak'ah after Al-Maghrib and two Rak'ah after the latter Isha. He said: And Hafsah narrated to me that he (S) would pray two Rak'ah before Al-Fajr.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دس رکعتیں یاد ہیں جنہیں آپ رات اور دن میں پڑھا کرتے تھے: دو رکعتیں ظہر سے پہلے ۱؎، دو اس کے بعد، دو رکعتیں مغرب کے بعد، اور دو رکعتیں عشاء کے بعد، اور مجھ سے حفصہ رضی الله عنہا نے بیان کیا ہے کہ آپ فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
468
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَوْتِرُوا قَبْلَ أَنْ تُصْبِحُوا .
Abu Sa'eed Al-Khudri narrated that : Allah's Messenger said: Perform Witr before the morning comes upon you.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبح ہونے سے پہلے وتر پڑھ لیا کرو“۔
Jam e Tirmazi
518
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا تُقَامُ الصَّلَاةُ يُكَلِّمُهُ الرَّجُلُ يَقُومُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا يَزَالُ يُكَلِّمُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَقَدْ رَأَيْتُ بَعْضَنَا يَنْعَسُ مِنْ طُولِ قِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Anas narrated: I saw the Prophet, after the Iqamah was called for Salat, talking to a man who was standing between him and the Qiblah, he did not stop talking, and I saw some of them getting sleepy from his lengthy standing the Prophet.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نماز کھڑی ہو جانے کے بعد میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ سے ایک آدمی باتیں کر رہا ہے، اور آپ اس کے اور قبلے کے درمیان کھڑے ہیں، آپ برابر اس سے گفتگو کرتے رہے، میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طول قیام کی وجہ سے بعض لوگ اونگھ رہے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔