TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بیوی کی لونڈی کو استعمال کر لینے والے شخص کا بیان - بیوی کی لونڈی کو استعمال کر لینے والے شخص کا بیان - زنا کا اقرار کرنے کے بارے میں ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 9 of زنا کا اقرار کرنے کے بارے میں ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 9 of 13 · 5 Hadith
۔ (۶۷۲۶)۔ حَدَّثَنَا بَہْزٌ ثَنَا أَبَانُ بْنُ یَزِیْدَ وَھُوَ الْعَطَّارُ ثَنَا قَتَادَۃُ حَدَّثَنِیْ خَالِدُ بْنُ عُرْفُطَۃَ عَنْ حَبِیْبِ بْنِ سَالِمٍ عَنِ النُّعْمَانِِ بْنِ بَشِیْرٍ: اَنَّ رَجُلًا یُقَالُ لَہُ: عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ حُنَیْنٍ وَکَانَ یُنْبَزُ قُرْقُوْرًا وَقَعَ عَلٰی جَارِیَۃِ امْرَأَتِہِ، قَالَ: فَرُفِعَ إِلَی النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ الْأَنْصَارِیِّ فَقَالَ: لَأَقْضِیَنَّ فِیْکَ بِقَضَائِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، إِنْ کَانَتْ اَحَلَّتْہَا لَکَ جَلَدْتُکَ مِائَۃً، وَإِنْ لَمْ تَکُنْ أَحَلَّتْہَا لَکَ رَجَمْتُکَ بِالْحِجَارَۃِ، قَالَ: وَکَانَتْ قَدْ أَحَلَّتْہَا لَہُ فَجَلَدَہُ مِائَۃً، وَقَالَ: سَمِعْتُ أَبَاناً یَقُوْلُ: وَأَخْبَرَنَا قَتَادَۃُ أَنَّہُ کَتَبَ فِیْہِ إِلٰی حَبِیْبِ بْنِ سَالِمٍ وَ کَتَبَ إِلَیْہِ بِہٰذَا۔ (مسند احمد: ۱۸۶۱۵)
۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ عبد الرحمن بن حنین نامی ایک آدمی تھا، اس کو قرقور کے لقب سے پکارا جاتا تھا، اس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کر لیا، جب اس کا معاملہ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی عدالت میں لایا گیا تو انہوں نے کہا : میں تمہارے درمیان رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم والا فیصلہ کروں گا، اگر تیری بیوی نے تیرے لئے اس لونڈی کو حلال قرار دیا تھا تو پھر میں تجھے سو کوڑے ماروں گا اور اگر اس نے تیرے لئے حلال نہیں کیا تھا تو تجھے پتھروں سے رجم کروں گا۔ جب تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ اس کی بیوی نے اپنی لونڈی کو اس کے لئے حلال قرار دیا تھا، اس لیے انھوں نے اس کو سو کوڑے لگائے۔
Takhreej
(۶۷۲۶) تخریج: اسنادہ ضعیف، خالد بن عرفطۃ مجھول، ثم ان فیہ اضطرابا۔ أخرجہ ابوداود: ۴۴۵۸، والنسائی: ۶/ ۱۲۴، والترمذی: ۱۴۵۱ (انظر: ۱۸۴۲۵)
6726
Zaeef
۔ (۶۷۲۷)۔ حَدَّثَنَا ھُثَیْمٌ عَنْ اَبِیْ بِشْرٍ عَنْ حَبِیْبِ بْنِ سَالِمٍ عَنِ النُّعْمَانِِ بْنِ بَشِیْرٍ قَالَ: أَتَتْہُ امْرَأَۃٌ فَقَالَتْ: اِنَّ زَوْجَہَا وَقَعَ عَلٰی جَارِیَتِہَا، قَالَ: اَمَا إِنَّ عِنْدِیْ فِیْ ذَالِکَ خَبْرًا شَافِیًا أَخَذْتُہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، إن کُنْتِ أَذِنْتِ لَہُ ضَرَبْتُہُ مِائَۃً، وَاِنْ کُنْتِ لَمْ تَأْذَنِی لَہُ رَجَمْتُہُ، قَالَ: فَأَقْبَلَ النَّاسُ عَلَیْہَا فَقَالُوْا: زَوْجُکَ یُرْجَمُ؟ قُوْلِیْ إِنَّکِ قَدْ کُنْتِ أَذِنْتِ لَہُ، فقَالَتْ: قَدْ کُنْتُ أَذِنْتُ لَہُ، فَقَدَّمَہُ فَضَرَبَہُ مِائَۃً۔ (مسند احمد: ۱۸۶۳۷)
۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک عورت آئی اور کہا:میرے خاوند نے میری لونڈی سے زنا کیا ہے، انہوں نے کہا: اس بارے میں میرے پاس تسلی بخش حدیث ہے،میں نے اس کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے حاصل کیا ہے، اگر تو نے اسے اجازت دی تھی تو میں اسے سو کوڑے لگاؤں گا اور اگر تو نے اسے اجازت نہیں دی تھی تو میں اسے رجم کردوں گا، یہ سن کر لوگ اس عورت کی طرف آئے اور کہا: تیرا خاوند رجم کیا جانے لگا ہے،اس لیے تو نے یہ کہہ دینا ہے کہ میں نے اس کو اجازت دی تھی، پس اس نے کہا: میں نے اپنے خاوند کو اجازت دی تھی، پھر انھوںنے اس کو آگے کیا اور سو کوڑے لگائے۔
Takhreej
(۶۷۲۷) تخریج: حدیث ضعیف، ابو بشر لم یسمع من حبیب، انما رواہ عن خالد بن عرفطۃ ، وھو مجھول، ثم ان فی اسناد ھذا الحدیث اضطرابا، وانظر الحدیث السابق (انظر: ۱۸۴۴۶)
6727
Zaeef
۔ (۶۷۲۸)۔ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ حَبِیْبِ بْنِ سَالِمٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ قَالَ: جَائَتِ امْرَأَۃٌ إِلَی النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ فَذَکَرَ نَحْوَہُ،۔ (مسند احمد: ۱۸۵۹۵)
۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت ان کے پاس آئی، … …، پھر اوپر والی حدیث کی طرح روایت ذکر کی۔
Takhreej
(۶۷۲۸) تخریج: انظر الحدیثین السابقین
6728
Zaeef
۔ (۶۷۲۹)۔ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الْمُحَبِّقِ اَنَّ رَجُلًا وَقَعَ عَلٰی جَارِیَۃِ امْرَأَتِہِ (وَفِیْ لَفْظٍ: اَنَّ رَجُلًا خَرَجَ فِیْ غَزَاۃٍ وَمَعَہُ جَارَیَۃٌ لِاِمْرَأَتِہِ فَوَقَعَ بِہَا) فَرُفِعَ ذَاکَ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اِنْ کَانَتْ طَاوَعَتْہُ فَہِیَ لَہُ وَعَلَیْہِ مِثْلُہَا لَھَا، وَاِنْ کَانَ اسْتَکْرَھَہَا فَہِیَ حُرَّۃٌ وَعَلَیْہِ مِثْلُہَا لَھَا۔)) (مسند احمد: ۲۰۳۱۹)
۔ سیدنا سلمہ بن محیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کر لیا، ایک روایت میں ہے: ایک آدمی کسی غزوہ میں گیا، اس کے ساتھ اس کی بیوی کی لونڈی بھی تھی، وہ اس پر واقع ہو گیا، جب اس کا معاملہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عدالت میں لایاگیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر اس لونڈی نے اس آدمی سے موافقت کی ہے تو یہ لونڈی اسی کی ہو جائے گی اور اس کو اسی طرح کی لونڈی اپنی بیوی کو دینا ہو گی، اور اگر اس نے لونڈی کو مجبور کیا ہے تو وہ آزاد ہو جائے گی، لیکن اس کو اسی طرح کی لونڈی اپنی بیوی کو دینا ہو گی۔
Takhreej
(۶۷۲۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، الحسن البصری لم یسمع من سلمۃ بن المحبق، وقد اختلف فی اسناد ھذا الحدیث علی الحسن۔ أخرجہ ابوداود: ۴۴۶۱، والبیھقی: ۸/ ۲۴۰، وعبد الرزاق: ۱۳۴۱۸، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۶۳۳۷ (انظر: ۲۰۰۶۰)
6729
Zaeef
۔ (۶۷۳۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی رَجُلٍ وَطِیَ جَارِیَۃَ امْرَأَتِہِ إِنْ کَانَ اسْتَکْرَھَہَا فَہِیَ حُرَّۃٌ وَعَلَیْہِ لِسَیِّدَتِہَا مِثْلُہَا۔ (مسند احمد: ۲۰۳۲۸)
۔ (دوسری سند) جس آدمی نے اپنی بیوی کی لونڈی سے برائی کر لی تھی، اس کے بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ اگر اس نے اس لونڈی کو مجبور کیا تھا تو وہ آزاد ہو جائے گی، لیکن اس کے ذمہ ہے اس کی آقا کو اسی طرح کی لونڈی دے۔
Takhreej
(۶۷۳۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… اس باب کی تمام روایات ضعیف ہیں۔ تفہیم مسئلہ کی غرض سے حدیث کی کچھ ضروری توضیح پیش نظر ہے: ناجائز چیز کسی کے حلال کرنے سے جائز نہیں بن جاتی، بیوی اپنی لونڈی کو خاوند کے لیے حلال قرار دے تو وہ لونڈی خاوند کے لیے حلال نہیں ہو گی، کیونکہ وہ اس کی لونڈی نہیں، بیوی کی لونڈی ہے، اور جماع اپنی لونڈی سے جائز ہے، لیکن چونکہ اس میں شبہ ہے کہ بیوی کی لونڈی خاوند کی بھی لونڈی ہے، تو جب بیوی نے اپنی مملوکہ چیز خاوند کے لیے جائز قرار دے دی تو شاید وہ اس کے لیے حلال ہو، اس لیے سزا میں تخفیف ہے کہ بجائے رجم کے کوڑے مارنے کا ذکر فرمایا، مگر یاد رہے کہ اس شبہ کی بنا پر اس مرد کو باکل معاف نہیں کیا جا سکتا، سزا ہلکی ہو سکتی ہے، ہاں اگر بیوی اپنی لونڈی خاوند کو ہبہ کر دے اور وہ اس کی لونڈی بن جائے یا اپنی لونڈی کا نکاح خاوند سے کرادے تو جائز ہے۔
6730
Zaeef

Chapters

13
01
چار مرتبہ زنا کا اقرار تکرار کرانے کا اعتبار
8 Hadith
02
زنا کا اقرار کرنے والے سے مزید استفسار کرنا اور ایسی وضاحت طلب کرنا کہ جس میں کوئی تردد نہ ہو
2 Hadith
03
اس چیز کا بیان کہ اس شخص کو حد نہیں لگائی جائے گی، جو کسی حد کا اقرار تو کرے اور اس کا نام نہ لے
2 Hadith
04
زنا کا اقرار کر لینے کے بعد دوبارہ اس کا انکاری ہو جانے کا بیان، اسی طرح اس شخص کا بیان کہ وہ تو ایک عورت سے زنا کرنے کا اقرار کرے، لیکن وہ عورت انکار کر دے
4 Hadith
05
اس چیز کے سنت ہونے کا بیان کہ گواہ خود سنگسار کرنے کی ابتداء کرے اور زانی کے اقرار کرنے کی صورت میں حکمران ابتداء کرے، نیز اس چیز کا بیان کہ شادی شدہ زانی کو کوڑے لگا کر رجم کیا جائے
2 Hadith
06
وضع حمل تک حاملہ عورت سے حد کو مؤخر کر دینے کا بیان
5 Hadith
07
مریض پر حد قائم کرنے کا بیان
1 Hadith
08
سنگسار ہونے والے کے لئے گڑھا کھودنے کا بیان
3 Hadith
09
بیوی کی لونڈی کو استعمال کر لینے والے شخص کا بیان
5 Hadith
10
اس شخص کا بیان جو مَحرم عورت سے منہ کالا کرے یا کسی چوپائے سے برائی کرے یا قومِ لوط والا عمل کر بیٹھے
4 Hadith
11
اہل کتاب کے شادی شدہ زانی کو رجم کرنے اور اس معاملے میں اسلام کے شرط نہ ہونے کا بیان
5 Hadith
12
زانی غلام کی پچاس کوڑے حد ہونے کا بیان
2 Hadith
13
آقا کا اپنے غلام پر حد نافذ کرنے کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.