TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اس شخص کا بیان جو مَحرم عورت سے منہ کالا کرے یا کسی چوپائے سے برائی کرے یا قومِ لوط والا عمل کر بیٹھے - اس شخص کا بیان جو مَحرم عورت سے منہ کالا کرے یا کسی چوپائے سے برائی کرے یا قومِ لوط والا عمل کر بیٹھے - زنا کا اقرار کرنے کے بارے میں ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 10 of زنا کا اقرار کرنے کے بارے میں ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 10 of 13 · 4 Hadith
۔ (۶۷۳۱)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اُقْتُلُوْا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُوْلَ بِہِ فِیْ عَمَلِ قَوْمِ لُوْطٍ وَالْبَہِیْمَۃَ وَالْوَاقِعَ عَلَی الْبَہِیْمَۃِ، وَمَنْ وَقَعَ عَلٰی ذَاتِ مَحْرَمٍ فَاقْتُلُوْہْ۔)) (مسند احمد: ۲۷۲۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قوم لوط کے عمل میں ملوث فاعل اور مفعول دونوں کوقتل کر دو اور جانور کو بھی قتل کر دو اور جو جانور پر واقع ہو ا ہے، اس کو بھی قتل کر دو اور جو ذی محرم سے زنا کرے، اسے بھی قتل کر دو۔
Takhreej
(۶۷۳۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابن ابی حبیبۃ۔ أخرجہ دون ذکر حد اللواط ابن ماجہ: ۴۵۶۴، وأخرجہ الترمذی بحکم من وقع علی ذات محرم فقط: ۱۴۶۲(انظر: ۲۷۲۷)
Explanation
فوائد:… سیدنا عبد اللہ بن عباس d سے مروی ہے کہ رسول اللہ a نے فرمایا: ((مَنْ وَجَدْتُّمُوْہٗیَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوْطٍ فَاقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُوْلَ بِہٖ۔))…’’جسشخصکوتماسحالمیں پاؤ کہ وہ قوم لوط والی بد فعلی کر رہا ہو تو فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دو۔‘‘ (ابو داود: ۴۴۶۲، ابن ماجہ: ۲۵۶۱، ترمذی: ۱۴۵۶، قال الالبانی: صحیح)
6731
Zaeef
۔ (۶۷۳۲)۔ وَعَنْہُ اَیُضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ وَقَع عَلٰی بَہِیْمَۃٍ فَاقْتُلُوْہُ وَاقْتُلُوْا الْبَہِیْمَۃَ۔))۔ (مسند احمد: ۲۴۲۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو جانور پر واقع ہو، اسے بھی قتل کر دو اور جانور کو بھی۔
Takhreej
(۶۷۳۲) تخریج: اسنادہ جیّد۔ أخرجہ ابوداود: ۴۴۶۴، والترمذی: ۱۴۵۵ (انظر: ۲۴۲۰)
Explanation
فوائد:… یہ حدیث بیان کرنے کے بعد عکرمہ نے کہا: قُلْتُ لَہُ: مَا شَأْنُ الْبَہِیمَۃِ؟ قَالَ: مَا أُرَاہُ قَالَ ذَلِکَ إِلَّا أَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یُؤْکَلَ لَحْمُہَا وَقَدْ عُمِلَ بِہَا ذَلِکَ الْعَمَلُ۔… ’’میں نے سیدنا ابن عباس b سے کہا: جانور کو قتل کرنے کی کیا وجہ ہے؟انھوں نے کہا: میرا خیال تو یہی ہے کہ آپ a نے ناپسند کیا کہ اس کا گوشت کھایا جائے، جبکہ اس کے ساتھ یہ گندا کام کیا گیا ہے۔ (ابوداود: ۴۴۶۴، ترمذی: ۱۴۵۵) اس حدیث کے برعکس سیدنا عبد اللہ بن عباسdکا اپنا قول یہ ہے: لیس علی الذییأتی البھیمۃ حدّ۔ … جو آدمی جانورسے یہ برا کام کرتا ہے، اس پر کوئی حد نہیں ہے۔ (ابو داود: ۴۴۶۵، ترمذی: ۱۴۵۵) عمرو بن ابی عمرو راوی اس حدیث کو مرفوعا بیان کرتا ہے اور عاصم بن بہدلہ سیدنا ابن عباس b پر موقوفاً بیان کرتاہے، امام ترمذی نے موقوف روایت کے حق میں کہا: وہذا أصح من الحدیث الأول والعمل علی ہذا عند أہل العلم وہو قول أحمد وإسحق۔ … یہ حدیث پہلییعنی مرفوع حدیث سے زیادہ صحیح ہے، اور اہل علم کے ہاں اسی پر عمل ہے اور امام احمد اور امام اسحاق کا بھییہی قول ہے۔ اما م ابو داود نے کہا: حدیثُ عاصم یضعِّف حدیثَ عمرو بن ابی عمرو۔ … عاصم کی موقوف حدیث، عمرو بن ابو عمرو کی حدیث کو ضعیف کر رہی ہے۔ شیخ البانی کہتے ہیں: لیکن امام بیہقی نے موقوف کو ترجیح دینے والی اس رائے کا بہت عمدہ تعاقب کیا، انھوں نے کہا: کئی سندوں سے عکرمہ سے یہ حدیث ہمیں بیان کی گئی ہے، میرا خیال ہے کہ عمرو بن ابی عمرو حفظ و ضبط میں عاصم بن بہدلہ سے کم تو نہیں ہے، جبکہ ایک جماعت نے عمرو بن ابی عمرو کی متابعت بھی کر رکھی ہے اور اکثر ائمہ کے نزدیک عکرمہ ثقات و اثبات راویوں میں سے ہے۔ میں (البانی) کہتا ہوں: تحقیقیہی ہے کہ عمرو بن ابو عمرو، عاصم بن بھدلہ سے کم مرتبہ نہیں ہے، بلکہ ممکن ہے کہ وہ حدیث کے معاملے میں اس سے اچھا روای ہو، ان دونوں راویوں کے ترجمہ سے اس حقیقت کااندازہ ہو گا۔ حافظ ابن حجر نے ’’تقریب‘‘ میں عمرو کے بارے میں ’’ثقۃ ربما وھم‘‘ کہا اور عاصم کے بارے میں ’’صدوق لہ اوھام‘‘ کہا۔ امام ذہبی نے عاصم کے بارے میں کہا: صدوق یھم، امام بخاری اور امام مسلم نے اس سے مقروناً روایت لی ہے۔ اور عمرو کے بارے میں کہا: یہ ’’صدوق‘‘ ہے، اس کی روایت صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے اصول میں موجود ہے۔ پس واضح ہوا کہ عمرو راوی، عاصم سے قوی ہے اور تعارض کے وقت اسی عمرو کی حدیث راجح ہو گی۔ اس پر مستزاد یہ کہ عمرو کی حدیث مرفوع ہے اور عاصم کی موقوف اور روایت کو رائے پر ترجیح دیتے وقت اہل الحدیث کے قواعدکے مطابق یہ بات درست نہیںہے کہ موقوف روایت کی وجہ سے مرفوع کو ضعیف قرار دیا جائے، احناف کے بر خلاف۔ پھر امام بیہقی نے جن متابعات کی طرف اشارہ کیا ہے، ان سے عمرو کی حدیث کو قوت ملتی ہے، مجھے ان میں سے دو متابعات ملی ہیں: (اول)… داود بن حصین عن عکرمۃ بہ، امام ابن ماجہ، امام دارقطنی، امام بیہقی اور امام احمد نے اس سند کے ساتھ اس حدیث کو بیان کیا ہے، اس سند میں ابراہیم اشہلی بھی ضعیف ہے اور ابن حصین، عکرمہ سے روایت لینے میں ضعیف ہے۔ (دوم)… عباد بن منصور عن عکرمۃ بہ، امام حاکم، امام بیہقی اور امام ابن عساکر نے اس کو روایت کیا ہے۔اس میں عباد بن منصور صدوق ہے، وہ تدلیس بھی کرتا تھا اور اس کو آخر میں اختلاط بھی ہو گیا تھا۔ پھر عمرو بن ابی عمرو کی حدیث کا ایک مرفوع شاہد بھی ہے، جو سیدنا ابوہریرہb سے مروی ہے، امام ابو یعلی نے اپنی مسند میں اس کو بیان کیا، اس کے راوی ثقہ اور معروف ہیں، ما سوائے عبد الغفار بن عبد اللہ کے، جبکہ ابن ابی حاتم نے اس کا ذکر کر کے اس پر کوئی جرح اور تعدیل نقل نہیں، ظن غالب یہی ہے کہ امام ابن حبان نے اس کو ’’الثقات‘‘ میں ذکر کیا ہے۔حافظ ہیثمی نے ’’مجمع الزوائد‘‘ میں اس حدیث کو ابو یعلی کی طرف منسوب کرنے کے بعد کہا: اس میںمحمد بن عمرو ہے، اس کی حدیث حسن ہے اور باقی راوی ثقہ ہیں، البتہ حافظ ابن حجر نے ’’تلخیص الحبیر‘‘ میں کہا: ابو یعلی نے کہا: ہمیںیہ بات پہنچی ہے کہ عبد الغفار نے اس سے رجوع کر لیا تھا، اور ابن عدی نے کہا کہ لوگوں نے اس کو تلقین کی تھی۔ (ملاحظہ ہو: ارواء الغلیل: ۸/ ۱۷) اس بحث سے یہ ثابت ہوا کہ اس باب کی حدیث نمبر (۶۷۳۲) صحیح ہے کہ نبی کریمa نے فرمایا کہ: ’’جو جانور پر واقع ہو، اسے بھی قتل کر دو اور جانور کو بھی۔‘‘
6732
Sahih
۔ (۶۷۳۳)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: مَرَّ بِیْ عَمِّی الْحَارِثُ بْنُ عَمْرٍو وَمَعَہُ لِوَائٌ قَدْ عَقَدَہُ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ لَہُ: أَیْ عَمِّ! اَیْنَ بَعَثَکَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: بَعَثَنِی إِلٰی رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃ اَبِیْہِ فَأَمَرَنِی أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَہُ۔ (مسند احمد: ۱۸۷۸۰)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے چچا سیدنا حارث بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میرے پاس سے گزرے اور ان کے پاس ایک جھنڈا تھا، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں باندھ کر دیا تھا، میں نے ان سے کہا: اے چچا! نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تم کو کہاں بھیجا ہے ؟ انھوں نے کہا : آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ایک ایسے آدمی کی طرف بھیجا کہ جس نے اپنے باپ کی بیوی کے ساتھ نکاح کرلیا ہے، آپ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔
Takhreej
(۶۷۳۳) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۶۰۷، والترمذی: ۱۳۶۲، والنسائی: ۶/ ۱۰۹ (انظر: ۱۸۵۵۷، ۱۸۵۷۹)
Explanation
فوائد:… ارشادِ باری تعالی ہے: {وَلَا تَنْکِحُوْا مَانَکَحَ آٰبَائُکُمْ مِنَ النِّسَائِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ}… ’’اور اس خاتون سے نکاح نہ کرو، جس سے تمہارے باپوں نے نکاح کیا ہو۔‘‘ (سورۂ نسائ:۲۲) سوتیلی ماں سے صرف نکاح کرنے کییہ سزا ہے، خواہ اس نے جماع کیا ہو یا نہ کیا ہو۔
6733
Sahih
۔ (۶۷۳۴)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلٰی أُمَّتِیْ عَمَلُ قَوْمِ لُوْطٍ۔)) (مسند احمد: ۱۵۱۵۹)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ جس چیز کا ڈر ہے، وہ قوم لوط کا فعل ہے۔
Takhreej
(۶۷۳۴) تخریج: اسنادہ ضعیف، القاسم بن عبد الواحد و عبد اللہ بن محمد بن عقیلیقبل حدیثھما عند المتابعۃ، وقد تفردا بھذا الحدیث۔ أخرجہ الترمذی: ۱۴۵۷، وابن ماجہ: ۲۵۶۳(انظر: ۱۵۰۹۳)
Explanation
فوائد:… ان احادیث میں قوم لوط والی بد فعلی کرنے والے، جانور سے برائی کرنے والے اور محرم خواتین سے نکاح کرنے والے کی سزاؤںکا بیان ہے۔
6734
Zaeef

Chapters

13
01
چار مرتبہ زنا کا اقرار تکرار کرانے کا اعتبار
8 Hadith
02
زنا کا اقرار کرنے والے سے مزید استفسار کرنا اور ایسی وضاحت طلب کرنا کہ جس میں کوئی تردد نہ ہو
2 Hadith
03
اس چیز کا بیان کہ اس شخص کو حد نہیں لگائی جائے گی، جو کسی حد کا اقرار تو کرے اور اس کا نام نہ لے
2 Hadith
04
زنا کا اقرار کر لینے کے بعد دوبارہ اس کا انکاری ہو جانے کا بیان، اسی طرح اس شخص کا بیان کہ وہ تو ایک عورت سے زنا کرنے کا اقرار کرے، لیکن وہ عورت انکار کر دے
4 Hadith
05
اس چیز کے سنت ہونے کا بیان کہ گواہ خود سنگسار کرنے کی ابتداء کرے اور زانی کے اقرار کرنے کی صورت میں حکمران ابتداء کرے، نیز اس چیز کا بیان کہ شادی شدہ زانی کو کوڑے لگا کر رجم کیا جائے
2 Hadith
06
وضع حمل تک حاملہ عورت سے حد کو مؤخر کر دینے کا بیان
5 Hadith
07
مریض پر حد قائم کرنے کا بیان
1 Hadith
08
سنگسار ہونے والے کے لئے گڑھا کھودنے کا بیان
3 Hadith
09
بیوی کی لونڈی کو استعمال کر لینے والے شخص کا بیان
5 Hadith
10
اس شخص کا بیان جو مَحرم عورت سے منہ کالا کرے یا کسی چوپائے سے برائی کرے یا قومِ لوط والا عمل کر بیٹھے
4 Hadith
11
اہل کتاب کے شادی شدہ زانی کو رجم کرنے اور اس معاملے میں اسلام کے شرط نہ ہونے کا بیان
5 Hadith
12
زانی غلام کی پچاس کوڑے حد ہونے کا بیان
2 Hadith
13
آقا کا اپنے غلام پر حد نافذ کرنے کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.