۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ماعز بن مالک آیا اور ایک دفعہ زنا کا اعتراف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو واپس لوٹا دیا، وہ پھر آیا اور دوسری مرتبہ زنا کا اعتراف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر اس کو واپس لوٹا دیا، وہ پھر آ گیا اور تیسری بار اعترا ف کیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بار بھی اس کو واپس لوٹا دیا، میں نے ماعز سے کہا: اگر تو نے چوتھی مرتبہ اعتراف کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تجھے رجم کر دیں گے، لیکن اس کے باوجود وہ آیا اور چوتھی دفعہ اعتراف کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے روک لیا اور پھر اس کے بارے میں لوگوں سے دریافت کیا، انہوں نے کہا: ہم تو اس کے بارے میں صرف خیر و بھلائی کا علم رکھتے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو رجم کرنے کا حکم دے دیا۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ماعز بن مالک اسلمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا : اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا، وہ بائیں جانب سے آ گیا او کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے،یہاں تک کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے چار بار اقرار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو لے جائو اور رجم کر دو۔ لوگ اس کو رجم کرنے کے لئے لے گئے۔ جب اس کو پتھر لگا تو وہ پیٹھ پھیر کر تیزی سے بھاگ گیا، اتنے میں سامنے سے ایک آدمی آیا، اس کے ہاتھ میں اونٹ کے جبڑے کی ہڈی تھی، اس نے اس کو یہی مار دی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بتلایا گیا کہ وہ پتھر لگنے سے اس طرح بھاگ گیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم لوگوں نے اس کو چھوڑ کیوں نہیں دیا تھا۔
۔ (دوسری سند) مسلمانوں میں سے ایک آدمی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایاگیا، آپ مسجد میں تشریف فرما تھے، اس نے آواز دی: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعراض کرتے ہوئے اس کے سامنے سے اپنا رخ پھیر لیا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کے سامنے آیا اور پھر کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر اعراض کرتے ہوئے اپنا چہرہ اس کی جانب سے پھیر لیا،یہاں تک کہ اس نے چار مرتبہ تکرار کیا اور اپنے خلاف چار گواہیاں دے دیں، اب کی بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو بلایا اور پوچھا: کیا تو پاگل ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیاتو شادی شدہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو لے جائو اور رجم کر دو۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں بھی اسے رجم کرنے والوں میں شامل تھا، ہم نے اسے عید گاہ میں رجم کیا، جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگ نکلا، لیکن ہم نے اسے حرّہ میں پالیا اور رجم کر دیا۔
۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ماعز بن مالک نامی آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں نے زنا کیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے پاک کردیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: واپس چلا جا۔ وہ دوسرے دن پھر آگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس زنا کا اعتراف کیا،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: واپس چلا جا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں لوگوں سے پوچھا اور فرمایا: تم لوگ ماعز بن مالک اسلمی کے بارے میں کیا جانتے ہو، کیا وہ تمہارے خیال کے مطابق ایسا ویسا ہے، یا تمہیں اس کی عقل پر کوئی اعتراض ہے؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم اس میں کوئی ایسی ویسی چیز محسوس نہیں کرتے اور نہ ہی ہمیں اس کی عقل پر کوئی اعتراض ہے، اُدھر وہ تیسری مرتبہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لوٹ آیا اور زنا کرنے کا اعتراف کیا اور کہا: اے اللہ کے نبی! آپ مجھے پاک کریں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر اس کی قوم کو بلا بھیجا اور اس کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے وہی پہلے والا جواب دیا ہمارے خیال میں کوئی ایسی ویسی بات نہیں ہے اور نہ ہی اس کی عقل میں کوئی خرابی ہے، اُدھر ماعز چوتھی بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لوٹ کر آیا اور زنا کا اعتراف کیا۔ اب کی بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا اور ہم نے اس کے لیے ایک گڑھا کھودا اور اسے سینہ تک اس میں گاڑھ دیا، پھر لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اسے رجم کر دیں۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ہم لوگ آپس میں باتیں کیا کرتے تھے کہ اگر ماعز تین بار زنا کا اعتراف کرنے کے بعد اپنے گھر میں بیٹھ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو طلب نہ کرتے، لیکن جب اس نے چوتھی مرتبہ اعتراف کیا تھا تو آپ نے اسے رجم کر نے کا حکم دے دیا۔
فوائد:… اگرچہ سیدنا بریدہbکے قول کی سند ضعیف ہے، لیکن اگر یہ صحابی چلا جاتا تو آپ a نے اس کا پیچھا کر کے اس سے مزید تحقیق نہیں کرنی تھی، بلکہ پچھلے باب میں ہم یہ وضاحت کر چکے ہیں کہ اگر اعتراف کرنے والا شخص چار دفعہ اعتراف کرنے کے بعد یا سزا کے شروع ہو جانے کے بعد بھی اپنی برائی کا انکار کر دے، یا ایسے انداز میں حقیقت ِ حال بیان کرے کہ جس کے مطابق وہ رجم کی سزا سے بچتا ہو تو اس کو چھوڑ دیا جائے گا۔
۔ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ماعز آیا اور اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چار مرتبہ زنا کا اقرار کیا، تب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو رجم کر نے کا حکم دیا۔
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو اسلم قبیلے کا ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اورزنا کا اعتراف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا، اس نے پھر اعتراف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس سے اعراض کر لیا، اس نے پھر اعتراف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اپنا رخ پھیر لیا،یہاں تک کہ جب اس نے اپنے خلاف چار مرتبہ گواہی دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تجھے جنون کی بیماری تو نہیں ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو شادی شدہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا اور اس کو عید گاہ میں رجم کیا گیا، جب اس کو پتھر لگے تو وہ بھاگا، لیکن پھر اس کو پا لیا گیا اور پتھر مارے گئے، یہاں تک کہ وہ فوت ہو گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے خیر و بھلائی کی باتیں کیں، لیکن اس کی نمازِ جنازہ ادا نہ کی۔
فوائد:… ایسے آدمی کی نمازِ جنازہ پڑھنا درست ہے، آپ a اسی قسم کے بعض افراد کی نمازِ جنازہ ادا کی تھی، اس موقع پر آپa نے لوگوں کو سرزنش کرنے کے لیے خود شرکت نہیں کی۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،ماعز بن مالک کو ملے اور اس سے پوچھا: اے ماعز! جو بات مجھ تک پہنچی ہے، کیا وہ سچ ہے؟ اس نے کہا: کون سی بات آپ کو میرے بارے میں معلوم ہوئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ تو نے فلاں کی لونڈی کے ساتھ زنا کیا ہے۔ اس نے کہا: جی ہاں، ایسے ہوا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو لوٹا دیا،یہاں تک کہ اس نے چار بار گواہی دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا اور اس کو رجم کیا گیا۔
۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا : اس بد نصیب نے زنا کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے رخ موڑ لیا، پھر اس نے دوسری، تیسری، حتیٰ کہ چوتھی مرتبہ اقرار کرلیا، تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری سے نیچے اترے۔ ایک روایت میں ہے: اس آدمی نے ایک مرتبہ اقرار کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ردّ کر دیا،یہاں تک کہ اس نے چار بار اقرار کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیچے اترے اور ہمیں حکم دیا، پس ہم نے اس کے لئے ایک چھوٹا سا گڑھا کھودا، وہ کوئی زیادہ گہرا نہ تھا اور اسے سنگسار کر دیا گیا،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غم و حزن کے عالم میں سفر کو جاری کیا، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مقام پر اترے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ کیفیت چھٹ گئی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابو ذر! کیا تم نے اپنے ساتھ کی طرف نہیں دیکھا، اس کو بخش دیا گیا ہے اور جنت میں داخل کر دیا گیا ہے۔
Takhreej
(۶۷۰۶) تخریج: اسنادہ ضعیف، حجاج بن ارطاۃ مدلس وقد عنعن، وعبد اللہ بن المقدام مجھول۔ أخرجہ الطحاوی فی ’’شرح معانی الآثار‘‘: ۳/ ۱۴۲ (انظر: ۲۱۵۵۴)
Explanation
فوائد:… اس باب کی احادیث میں چار بار زنا کا اعتراف کرنے کا ذکر ہے، لیکنیہ صرف تحقیق و تفتیش کے لیے ہے، جرم کے ثبوت کے لیے شرط نہیں ہے، حدیث نمبر (۶۶۹۲) کی شرح دیکھیں، نبی کریمa نے ایک بار اعتراف کرنے والے کو بھی حدّ لگائی ہے۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ اس تحقیق کی بنیاد متعلقہ شخص کی کیفیت پر ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ماعز بن مالک ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور زنا کا اقرار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شاید تو نے بوسہ لیا ہو یا ویسے ہاتھ لگایا ہو؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تونے دخول کیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا اور اس کو رجم کر دیا گیا۔
۔ (دوسری سند) جب ماعز نے کہا کہ اس نے زنا کیا ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شاید تونے آنکھ سے اشارہ کیا ہو (یا مطلب یہ ہے کہ تونے ہاتھ کے ساتھ چھیر چھار کی ہو) یا بوسہ لیا ہو یا دیکھا ہو؟ راوی کہتا ہے: ایسے لگتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ڈر تھا کہ ممکن ہے کہ یہ شخص زنا کی تعریف سے ناآشنا ہو۔
Takhreej
(۶۷۰۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… راوی نے ان سوالات کی وجہ بیان کر دی ہے، حدیث نمبر (۶۶۵۹) اور اس کے بعد والی احادیث میں زنا کی مختلف قسموں کا ذکر گزر چکا ہے، مثلا آنکھ، ہاتھ، پاؤں اور زبان کا زنا، اس لیے ممکن ہے کہ کوئی آدمی ان کو وہ زنا سمجھ لے، جس کی وجہ سے حدّ لگتی ہے، سو جرم کا اقرار کرنے والے کی کیفیت کو دیکھ کر مختلف انداز میں شک و شبہ کو دور کیا جا سکتا ہے۔
۔ سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: میں اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے ایک حد کو پہنچا ہوں، لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ کی حد کو مجھ پر قائم کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اپنا رخ پھیرلیا، پھر اس نے دوسری بار آ کر اقرار کیا، لیکن اس بار بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا چہرہ پھیر لیا، پھر اس نے تیسری بار آ کر اعتراف کیا، لیکن اس بار بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اپنا رخ موڑ لیا، اتنے میں نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی، جب اس نے نماز ادا کرلی تو وہ چوتھی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا : میں اللہ تعالی کی حدود میں سے ایک حد کو پہنچا ہوں، آپ اللہ کی اس حد کو مجھ پر نافذ کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: کیا تو نے ابھی ابھی اچھی طرح وضو کر کے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی؟ اس نے کہا: جی کیوں نہیں،یہ عمل کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو چلا جا، یہ عمل تیرا کفارہ ہے۔
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، پھر سابقہ حدیث سے ملتی جلتی حدیث بیان کی، البتہ اس میں ہے: کیا اس طرح ہوا کہ تو اپنے گھر سے نکلا، وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا اور ہمارے ساتھ نماز پڑھی؟ اس آدمی نے کہا: جی کیوں نہیں، ایسے ہی کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے تیرا گناہ یا تیری حد کو معاف کر دیا ہے۔
Takhreej
(۶۷۱۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷۶۵ (انظر: ۲۲۱۶۳)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ کا صحیح مسلم میں پورا متن درج ذیل ہے:
سیدنا ابو امامہ b سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بَیْنَمَا رَسُولُ اللّٰہِV فِی الْمَسْجِدِ وَنَحْنُ قُعُودٌ مَعَہُ إِذْ جَاء َ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْہُ عَلَیَّ فَسَکَتَ عَنْہُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَعَادَ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْہُ عَلَیَّ فَسَکَتَ عَنْہُ وَأُقِیمَتِ الصَّلَاۃُ فَلَمَّا انْصَرَفَ نَبِیُّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو أُمَامَۃَ: فَاتَّبَعَ الرَّجُلُ رَسُولَ اللّٰہِV حِینَ انْصَرَفَ وَاتَّبَعْتُ رَسُولَ اللَّہِV أَنْظُرُ مَا یَرُدُّ عَلَی الرَّجُلِ، فَلَحِقَ الرَّجُلُ رَسُولَ اللّٰہِV فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْہُ عَلَیَّ، قَالَ أَبُو أُمَامَۃَ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((أَرَأَیْتَ حِینَ خَرَجْتَ مِنْ بَیْتِکَ أَلَیْسَ قَدْ تَوَضَّأْتَ فَأَحْسَنْتَ الْوُضُوئَ؟)) قَالَ: بَلٰییَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: ((ثُمَّ شَہِدْتَ الصَّلَاۃَ مَعَنَا؟)) فَقَالَ: نَعَمْ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((فَإِنَّ اللّٰہَ قَدْ غَفَرَ لَکَ حَدَّکَ أَوْ قَالَ ذَنْبَکَ۔))… رسول اللہ a مسجد میں تشریف فرما تھے، ہم بھی آپ a کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے حدّ والے جرم کا ارتکاب کیا ہے، لہذا آپ مجھ پر وہ حد قائم کریں، رسول اللہa خاموش رہے، اس نے پھر وہی بات دوہرائی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں حدّ کو پہنچا ہوں، لہذا آپ اس کو مجھ پر قائم کریں، لیکن آپ a پھر خاموش رہے، اتنے میں نماز کھڑی کر دی گئی، جب آپ a نماز سے فارغ ہو کر چلے تو وہ آدمی، آپ a کے پیچھے چل پڑا، میں (ابو امامہ) بھی آپ a کے پیچھے چل دیا، تاکہ دیکھ سکوں کہ آپ a اس کو کیا جواب دیتے ہیں، پس وہ آدمی آپ a کو جا ملا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے حدّ والے گناہ کا ارتکاب کیا ہے، لہذا آپ اس حدّ کو مجھ پر نافذ کریں، رسول اللہ a نے اس سے فرمایا: ’’اس بارے میں بتلا کہ جب تو گھر سے نکلا ہے تو کیا تو نے اچھے انداز میں وضو نہیں کیا تھا؟‘‘ اس نے کہا: جی کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپa نے فرمایا: ’’پھر تو نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی ہے؟‘‘ اس نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپa نے فرمایا: ’’پس بیشک اللہ تعالی نے تیری حدّ یا تیرے گناہ کو معاف کر دیا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم: ۴۹۶۶)
جب کوئی آدمی نبی کریمa کے سامنے اپنے جرم اور گناہ کا اظہار کرتے تو آپa اس سے استفساراً جو سوال کرتے، وہ اس کے ذکر کردہ جرم سے کم گناہ والے امور سے متعلقہ ہوتے، مثلا: پچھلے باب میں مذکورہ احادیث کے مطابق جب آدمی نے آپ a کے سامنے زنا کا اعتراف کیا تو آپa نے اس سے فرمایا: ’’شاید تونے آنکھ سے اشارہ کیا ہو، یا بوسہ لیا ہو، یا دیکھا ہو۔‘‘ غور کریں کہ ایک آدمی اپنے بارے میں زنا کا اقرار کرتا ہے، لیکن آپa اس کو کم گناہ والے امور کی طرف لاتے ہیں۔
بالکلیہی معاملہ یہاں ہے کہ اس آدمی نے حدّ کا تو ذکر کیا، لیکن حدّ کے سبب کی تفصیل بیان نہیں کی اور آپa نے اس سبب کے بارے میں دریافت نہ کرنے کو ترجیح دی، تاکہ اس کے جرم پر پردہ پڑا رہے اور اس تاویل کی بھی گنجائش ہے کہ معلوم نہیں اس آدمی نے کون سا گناہ کیا ہے اور کیا اس پر حدّ بھی لگتی ہے یا نہیں، لیکن اگر تفصیل پوچھی جائے تو پردہ پوشی کے منافی ہے، سو خاموشی کو ترجیح دی گئی۔
آج کل مربی ّ لوگوں کا انداز آپ a کے اس انداز سے بالکل مختلف ہے، سب سے بڑی کمییہ ہے کہ ان کا اپنا نیکی و تقوی کا معیار بہت کم ہوتا ہے، ان کا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے ماتحت افراد امورِ خیر کا مجسمہ بن کر نظر آئیں،لیکن اگر وہ خود عمل نہ بھی کریں تو خیر ہے، ایک سرپرست یہ چاہتا تھا کہ اس کے شاگردوں میںیہ جذبہ پیدا ہو جائے کہ وہ اذان کے فوراً بعد نماز کی تیاری میں لگ جائیں اور سنتوں اور نفلوں کا بھی اہتمام کریں اور فجر کی نماز کے لیے جلدی بیدار ہو جائیں، لیکن وہ خود دفتر میں بیٹھا رہتا، جب اقامت ہونے لگتی تو وضو کرنے کے لیے گھر چلا جاتا اور جماعت کی تیسری چوتھی رکعت میں آ کر ملتا، اسی طرح اس کی اپنی فجر کی کئی نمازیں نیند کی نظر ہو جاتیں، لیکن طلبہ کی سستی پر ان پر خوب برستا تھا،پھر جب اِن تربیت کرنے والے افراد کو کسی کے ہلکے سے جرم کا پتہ چلتا ہے تو یہ مجرم کے سامنے بڑے بڑے گناہوں کا ذکر کر کے اس سے کسی بڑے گناہ کا اعتراف کروانے کے چکر میں پڑ جاتے ہیں۔
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ان افراد میں تھا، جنہوں نے ماعز کو سنگسار کیا تھا، جب ہم نے اس کو سنگسار کیا اور اس نے پتھروں کی تکلیف محسوس کی تو کہا: لوگو! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لوٹاؤ، کیونکہ میری قوم نے مجھے قتل کیا ہے، انھوں نے مجھے دھوکہ دیا ہے، لوگوں نے کہا: بیشک اللہ کے رسول تو تجھے قتل کرنے والے نہیں ہیں، پس ہم اس سے باز نہ آئے، یہاں تک کہ اس کو رجم کرنے سے فارغ ہو گئے، پھر جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لوٹے اور اس کی بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوںنہیں دیا تھا اور اسے میرے پاس کیوں نہیں لے آئے تھے؟ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ نصر بن دہراسلمی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہماری قوم کا ایک آدمی ماعز بن خالد بن مالک ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور اپنے نفس پر زنا کا اقرار کیا، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس کو سنگسار کریں، پس ہم اس کو لے کر حرّۂ بنی نیار کی طرف نکلے اور اس کو رجم کیا، جب اس نے پتھروں کی تکلیف پائی تو وہ سخت بے قرار ہوا، پھر جب ہم اس کو سنگسار کر نے سے فارغ ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کی بے قراری کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا تھا؟
۔ نصر بن دہراسلمی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہماری قوم کا ایک آدمی ماعز بن خالد بن مالک ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور اپنے نفس پر زنا کا اقرار کیا، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس کو سنگسار کریں، پس ہم اس کو لے کر حرّۂ بنی نیار کی طرف نکلے اور اس کو رجم کیا، جب اس نے پتھروں کی تکلیف پائی تو وہ سخت بے قرار ہوا، پھر جب ہم اس کو سنگسار کر نے سے فارغ ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کی بے قراری کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا تھا؟
۔ عبدالعزیز بن عبد اللہ قرشی کہتے ہیں: مجھے اس شخص نے بیان کیا،جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے کہ ایک آدمی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنگسار کر نے کا حکم دیا، جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگا، ایک روایت میں ہے: جب اس نے پتھروں کی تکلیف محسوس کی تو نکل پڑا اور بھاگ گیا، جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا تھا؟
Takhreej
(۶۷۱۳) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، غیر ان قولہ: ’’بین مکۃ والمدینۃ‘‘ فیہ نظر، وھذا اسنادہ ضعیف لجھالۃ حال عبد العزیز بن عبد اللہ (انظر: ۱۶۵۸۵)
Explanation
فوائد:… جو آدمی از خود اعتراف کرے، اس کو انکار کرنے کا حق حاصل ہے، حدیث نمبر (۶۶۹۲، ۶۷۰۲) کی شرح میں اس مسئلہ کی وضاحت ہو چکی ہے۔
۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو اسلم قبیلہ کا ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور یہ اقرار کیا کہ اس نے ایک عورت کے ساتھ زنا کیا ہے، اس نے اس عورت کا نام بھی لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کو بلا بھیجا اور اس سے اس برائی کے بارے میں پوچھا، اس نے انکار کر دیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کو حدّ لگائی اور اس خاتون کو چھوڑ دیا۔
فوائد:… زنا کے معترف کو ہر صورت میں حد لگائی جائے گی،لیکن وہ جس پر الزام لگا رہا ہو گا،ا گر اس کی طرف سے نہ اعتراف ہو، نہ اس پر چار گواہ ہوں اور نہ حمل کی علامت ہو تو اس کو سزا نہیں دی جائے گی۔
۔ عامر شعبی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: شراحہ کا خاوند اس کے پاس سے غائب تھا اور وہ شام میں تھا، لیکن شراحہ حاملہ ہوگئی، اس کا سرپرست اسے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا اور کہا: اس نے زنا کیا ہے اور اس نے خود بھی اعتراف کر لیا، پس سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جمعرات کے دن اس کو سو کوڑے لگائے اور جمعہ کے دن اس کو رجم کیا ، اس کے لئے ناف تک گڑھا کھودا، میں بھی وہاں موجود تھا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: بیشک رجم سنت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو نافذ کیا، اگر اس عورت پر کوئی گواہی دیتا تو وہی پہلا پتھر پھینکتا، پہلے گواہی دیتا، ساتھ ہی گواہی کے بعد پتھر مارتا۔ لیکن اس عورت نے اقرار کیا ہے، اس لیے میں پہلا ہوں جو اسے پتھر مارتا ہوں، پھر اس پر پتھر پھینکا ، بعد ازاں لوگوں نے پتھر مارے، عامر کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں ان میں سے ہوں، جنہوں نے اسے قتل کیا تھا۔
۔ شعبی سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: شراحہ ہمدانیہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہا: میں نے زنا کیا ہے، انھوں نے کہا: شاید تیری غیرت پیدا ہو گئی ہو، یا خواب دیکھا ہو، یا تجھے مجبور کیا گیا ہو، ایک روایت میں ہے: شاید تیرا خاوند تیرے پاس آیا ہو، لیکن اس نے ہر سوال کے جواب میںکہا: نہیں، نہیں، پس سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے جمعرات کو کوڑے لگائے اور جمعہ کے دن رجم کیا اور کہا: میں کتاب اللہ کی روشنی میں اس کو کوڑے لگائے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی روشنی میں رجم کیا ہے۔
Takhreej
(۶۷۱۶) تخریج: حدیث صحیح، وانظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… حدیث نمبر (۶۶۸۷، ۶۶۸۸) کی شرح میں وضاحت ہو چکی ہے کہ شادی شدہ زانی کو دو سزائیں دی جائیں گی، پہلے سو کوڑے لگائے جائیں گے اور پھر اس کو رجم کر دیا جائے گا۔
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہواتھا ،غامد قبیلہ کی ایک عورت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے اور میں چاہتی ہوں کہ آپ مجھے پاک کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: واپس لوٹ جا۔ وہ اگلے دن پھر آ گئی اور آپ کے پاس زنا کا اعتراف کیا کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے اور میں چاہتی ہوں کہ آپ مجھے پاک کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو واپس چلی جا۔ اگلے دن وہ پھر آ گئی اور آپ کے پاس زنا کا اعتراف کیا اور کہا: اے اللہ کے نبی! آپ مجھے پاک کریں، شاید آپ مجھے واپس لوٹانا چاہتے ہیں جس طرح آپ نے ماعز بن مالک کو واپس لوٹایا تھا، اللہ کی قسم! میں زنا کی وجہ سے حاملہ بھی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو واپس چلی جا، یہاں تک کہ بچے کو جنم دے۔ پس جب اس نے بچہ جنم دیا تو بچہ اٹھائے ہوئے آئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے نبی!میں نے بچہ جنم دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو واپس چلیجا، اسے دودھ پلا، یہاں تک کہ تو اس کا دودھ چھڑا دے۔ جب اس نے دودھ چھڑالیا تو بچہ کو اٹھا کر لائی، جبکہ اس کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا اور کہنے لگی: اے اللہ کے نبی! میں نے اس کا دودھ چھڑا دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچے کے متعلق حکم دیا کہ اسے ایک مسلمان آدمی کے سپرد کیا گیا اور اس عورت کے متعلق حکم دیا کہ اس کے لئے ایک گڑھا کھودا جائے اور سینے تک اس میں گاڑدی جائے، پھر لوگوں کو حکم دیا کہ اس کو سنگسار کر دو، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ایک پتھر لے کر آئے اور اس کے سر پرمارا، جب اس سے ان کے رخسار پر خون کے چھینٹے پڑے تو انہوں نے اسے برا بھلا کہا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ وہ برا بھلا کہہ رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خالد! باز آ جاؤ، اسے گالی نہ دو، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس نے ایسی توبہ کی ہے اگر ٹیکس لینے والا بھی ایسی توبہ کرے تو اسے بھی بخش دیا جائے گا۔ پھر آپ نے اس کے متعلق حکم دیا پھر ا سپر نماز جنازہ پڑھی پھر اسے دفن کر دیا گیا۔
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حہینہ قبیلہ کی ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس زنا کا اعتراف کیا اور اس نے کہا: میں حاملہ ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سرپرست کو بلایا اورفرمایا: اس سے حسن سلوک کرنا اور جب یہ بچہ جنم دے تو مجھے بتانا۔ اس نے ایسا ہی کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کے بارے میں حکم دیا، پس اس پر اس کے کپڑے کس دیئے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے رجم کر نے کا حکم دیا اور اس کو رجم کر دیا گیا، پھر آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول!اسے آپ نے رجم کیا ہے اور پھر اب اس کی نمازِ جنازہ بھی پڑھ رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اہل مدینہ کے ستر آدمیوں کے درمیان اس کو تقسیم کیا جائے تو یہ ان کو بھی بخشوا دے گی، بھلا کیا تم نے اس سے بھی کوئی چیز افضل پائی ہے کہ اس عورت نے اللہ تعالیٰ کے لئے اپنی جان قربان کر دی ہے۔
Takhreej
(۶۷۱۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۹۶(انظر: ۱۹۸۶۱)
Explanation
فوائد:… اگر ان دو احادیث کو ایک عورت کے بارے میں سمجھا جائے تو پھر یہ مسئلہ سمجھنا آسان ہے کہ عورت کو بچے کو دودھ پلانے کا موقع دیا جائے گا اور اگر یہ دو الگ الگ واقعات ہیں تو پہلی حدیث کی روشنی میں دوسری حدیث کی تاویل کریں گے، یعنی اس میں دودھ پلانے کا ذکر نہیں ہے، لیکن آپ a نے اس خاتون کو بھییہ موقع دیا ہو گا، تاکہ کسی کے جرم کی وجہ سے بچے کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہ ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ دوسری حدیث کے مطابق خاتون کو بچے کی ولادت کے بعد اس لیے فوراً رجم کر دیا گیا ہو کہ اس کو دودھ پلانے والی کوئیاور خاتون موجود ہے۔
مؤخر الذکر تاویل کی دلیلیہ ہے کہ اس باب کی پہلی حدیث کے ایک طریق کے الفاظ یہ ہیں: آپ a نے فرمایا: ((اِذَنْ لَا نَرْجُمُھَا وَنَدَعُ وَلَدَھَا صَغِیْرَ السِّنِّ لَیْسَ لَہٗمَنْیُّرْضِعُہُ۔))… ’’تو پھر ہم ابھی اس کو رجم نہیں کریں گے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ ہم بچے کو کم عمری میں اس طرح چھوڑ دیں کہ اس کو دودھ پلانے والا ہی کوئی نہ ہو۔‘‘ (صحیح مسلم: ۱۶۹۵)