TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

زنا کا اقرار کرنے کے بارے میں ابواب - زنا کا اقرار کرنے کے بارے میں ابواب - Book 113 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 113 of Musnad Ahmad, with 13 chapters and 48 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

48 Hadith · 13 Chapters
وضع حمل تک حاملہ عورت سے حد کو مؤخر کر دینے کا بیان
۔ (۶۷۱۹)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ بَکْرَۃَ اَنَّ أَبَا بَکْرَۃَ حَدَّثَہُمْ أَنَّہُ شَہِدَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی بَغْلَتِہِ وَاقِفًا إِذَا جَائُ وْا بِامْرَأَۃٍ حُبْلٰی فَقَالَتْ: إِنَّہَا زَنَتْ أَوْ بَغَتْ فَارْجُمْہَا، فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اسْتَتِرِی بِسِتْرِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) فَرَجَعَتْ ثُمَّ جَائَ تِ الثَّانِیَۃَ وَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی بَغْلَتِہِ فَقَالَتْ: اُرْجُمْہَا یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! فَقَالَ: ((اسْتَتِرِیْ بِسِتْرِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی۔)) فَرَجَعَتْ ثُمَّ جَائَ تِ الثَّالِثَۃَ وَھُوَ وَاقِفٌ حَتّٰی أَخَذَتْ بِلِجَامِ بَغْلَتِہِ فَقَالَتْ: أَنْشُدُکَ اللّٰہَ اِلَّا رَجَمْتَہَا، فَقَالَ: ((اذْھَبِیْ حَتّٰی تَلِدِیْ۔)) فَانْطَلَقَتْ فَوَلَدَتْ غُلَامًا ثُمَّ جَائَ تْ فَکَلَّمَتْ رَسُوَلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، ثُمَّ قَالَ: ((اذْھَبِیْفَتَطَہَّرِیْ مِنَ الدَّمِ۔)) فَانْطَلَقَتْ ثُمَّ أَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: إِنَّہَا قَدْ تَطَہَّرَتْ، فَأَرْسَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نِسْوَۃً، فَأَمَرَ ھُنَّ أَنْ یَسْتَبْرِئْنَ الْمَرْأَۃَ، فَجِئْنَ وَشَہِدْنَ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِطُہْرِھَا فَأَمَرَ لَھَا بِحُفَیْرَۃٍ إِلٰی ثَنْدُوَتِہَا، ثُمَّ جَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالْمُسْلِمُوْنَ فَأَخَذَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَصَاۃً مِثْلَ الْحِمَّصَۃِ فَرَمَاھَا ثُمَّ مَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ لِلْمُسْلِمِیْنَ: ((ارْمُوْھَا وَإِیَّاکُمْ وَوَجْہَہَا۔)) فَلَمَّا طَفِئَتْ أَمَرَ بِاِخْرَاجِہَا فَصَلّٰی عَلَیْہَا، ثُمَّ قَالَ: ((لَوْ قُسِمَ أَجْرُھَا بَیْنَ أَھْلِ الْحِجَازِ وَسِعَہُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۰۷۰۸)
۔ سیدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پا س موجود تھے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے خچر پر سوار تھے، وہ خچر کھڑا تھا، لوگ ایک حاملہ عورت لے کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پاس آئے، اس عورت نے کہا: میں نے زنا کیا ہے، مجھے رجم کیجئے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: اللہ تعالی کی پردہ پوشی کے ساتھ اپنے آپ پر پردہ کر۔ سو وہ واپس چلی گئی، لیکن پھر آ گئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے خچر پر ہی سوار تھے،اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! مجھے رجم کیجئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کی پردہ پوشی کے ساتھ اپنے آپ پر پردہ کر۔ سو وہ لوٹ گئی، لیکن پھر تیسری مرتبہ آ گئی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے تھے،اس بار اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خچر کی لگام تھام لی اور کہنے لگی: میں آپ کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر کہتی ہوں کہ مجھے رجم کیجئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جائو اور بچہ جنم دینے کے بعد آنا۔ پس وہ بچہ جنم کر دوبارہ آئی، اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بات چیت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چلی جا اورخون سے پاک ہو کر آنا۔ پس وہ چلی گئی اور بعد میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: میں پاک ہو چکی ہوں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عورتوں کو اس کی جانب بھیجا کہ وہ اس کے خون کے صاف ہونے کا جائزہ لیں۔ انہوں نے آکر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گواہی دی کہ وہ واقعی پاک ہو چکی ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے سینہ تک گڑھا کھودنے کا حکم دیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور دوسرے مسلمان بھی آ گئے،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چنا کے برابر کنکری لی اور اس عورت کو ماری، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک طرف ہٹ گئے اور مسلمانوں سے کہا: اس پر سنگباری کر دو اور اس کا چہرہ بچاؤ۔ پس جب وہ فوت ہوگئی تو آپ نے اسے گڑھے سے باہر نکالنے کا حکم دیا اور پھر اس کی نماز جنازہ پڑھی اور فرمایا: اگر اس کے اجر کو اہل حجاز پر تقسیم کر دیا جائے تو ان کے لیے بھییہ کافی ہو جائے گا۔
Takhreej
(۶۷۱۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لابھام الراوی عن عبد الرحمن بن ابی بکرۃ، لکن اصل القصۃ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۴۴۴۴ (انظر: ۲۰۴۳۶)
6719
Zaeef
وضع حمل تک حاملہ عورت سے حد کو مؤخر کر دینے کا بیان
۔ (۶۷۲۰)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ أَمَۃً لَھُمْ زَنَتْ فَحَمَلَتْ فَأَتٰی عَلِیٌّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرَ، فَقَالَ لَہُ: ((دَعْہَا حَتّٰی تَلِدَ وَتَضَعَ ثُمَّ اجْلِدْھَا۔)) (مسند احمد: ۶۷۹)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ان کی ایک لونڈی نے زنا کیا اور اس کی وجہ سے وہ حاملہ ہوگئی، میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کی خبر دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے وضع حمل تک چھوڑ دو، پھر اسے حد لگانا۔
Takhreej
(۶۷۲۰) تخریج: حسن لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۴۴۷۳ (انظر: ۶۷۹)
6720
Sahih
وضع حمل تک حاملہ عورت سے حد کو مؤخر کر دینے کا بیان
۔ (۶۷۲۱)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا اَنَّ خَادِمًا لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَحْدَثَتْ فَأَمَرَنِیْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ أُقِیْمَ عَلَیْہَا الْحَدَّ، فَأَتَیْتُہَا فَوَجَدْتُہَا لَمْ تَجِفَّ مِنْ دَمِہَا، فَأَتَیْتُہُ فَأَخْبَرْتُہُ، فَقَالَ: ((إِذَا جَفَّتْ مِنْ دَمِہَا فَأَقِمْ عَلَیْہَا الْحَدَّ، أَقِیْمُوْا الْحُدُوْدَ عَلٰی مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ۔)) (مسند احمد: ۷۳۶)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس طرح بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک لونڈی نے زنا کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اس پر حد قائم کروں، لیکن جب میں اس کے پاس آیا تو اس کو اس حال میں پایا کہ ابھی اس کا نفاس کا خون خشک نہیں ہوا تھا، میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس واپس آ گیااورآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو صورتحال پر مطلع کیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اس کا خون خشک ہو جائے تو پھر اس کو حد لگانا،اپنے غلاموں پر بھی حدیں قائم کیا کرو۔
Takhreej
(۶۷۲۱) تخریج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… اگر کوڑے لگانے کی سزا ہو تو مریض کے صحت یاب ہونے کا انتظار کیا جائے، ’’البحر‘‘ میں اس بات پر اجماع نقل کیا گیا ہے کہ سخت گرمی، سخت سردی اور کسی متوقع بیماری کی وجہ سے کنوارے زانی مجرم کو مہلت دی جائے گی،یہاں تک کہ موسم کی شدت ختم ہو جائے اور بیماری کا خطرہ ٹل جائے۔ اگر حالات کے لحاظ سے کنوارے زانی کو مہلت دی جاسکتی ہے تو شادی شدہ کے لیے بھی اس مہلت کا جواز ہونا چاہیے۔ فرق کی کوئی شرعی دلیل نہیں۔ (عبداللہ رفیق)
6721
Sahih
مریض پر حد قائم کرنے کا بیان
۔ (۶۷۲۲)۔ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ قَالَ: کَانَ بَیْنَ أَبْیَاتِنَا اِنْسَانٌ مُخْدَجٌ ضَعِیْفٌ لَمْ یُرْعَ أَھْلُ الدَّارِ اِلَّا وَھُوَ عَلٰی أَمَۃٍ مِنْ إِمَائِ الدَّارِ یَخْبُثُ بِہَا، وَکَانَ مُسْلِمًا فَرَفَعَ شَأْنَہُ سَعْدٌ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اضْرِبُوْہُ حَدَّہُ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّہُ أَضْعَفُ مِنْ ذٰلِکَ، إِنْ ضَرَبْنَاہُ مِائَۃً قَتَلْنَاہُ، قَالَ: ((فَخُذُوْا لَہُ عِثْکَالًا فِیْہِ مِائَۃُ شِمْرَاخٍ فَاضْرِبُوْہُ بِہِ ضَرْبَۃً وَاحِدَۃً وَخَلُّوْا سَبِیْلَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۲۸۱)
۔ سیدنا سعید بن سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہمارے محلے میں ایک ناقص الخلقت انسان رہتا تھا، گھر والوں کو یہ دیکھ کر بڑی حیرانی ہوئی کہ وہ محلہ کی ایک لونڈی کے ساتھ زنا کررہا ہے، جبکہ وہ مسلمان تھا۔ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کا معاملہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے حد لگائو۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ اس قابل نہیں کہ حد برداشت کر سکے، اگر ہم نے اسے سو کوڑے لگائے تو وہ مر جائے گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر ایک ٹہنی لے لو، جس میں سو شاخیں ہوں اور اسے ایک دفعہ مار دو اور پھر اس کو چھوڑ دو۔
Takhreej
(۶۷۲۲) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۵۷۴ (انظر: ۲۱۹۳۵)
Explanation
فوائد:… اس سے ثابت ہوا کہ اگر مریض اصل حد برداشت نہ کر سکے تو اسے اس طرح سزا دے کر فارغ کیا جاسکتا ہے۔ لیکنیہ استثنائی صورت اس سزا کے بارے میں ہے، جو موت سے کم ہو، جیسا کہ کنوارے زانی کو کوڑے مارنا ہے، اگر سزا ہی موت ہو تو پھر مکمل طور پر حدّ لگائی جائے گی۔
6722
Sahih
سنگسار ہونے والے کے لئے گڑھا کھودنے کا بیان
۔ (۶۷۲۳)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: لَمَّا أَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ نَرْجُمَ مَاعِزَ بْنَ مَالِکٍ خَرَجْنَا إِلَی الْبَقِیْعِ فَوَاللّٰہِ! مَا حَفَرْنَا لَہُ وَلَا أَوْ ثَقْنَاہُ وَلٰکِنَّہُ قَامَ لَنَا فَرَمَیْنَاہُ بِالْعِظَامِ وَالْخَزَفِ فَاشْتَکٰی فَخَرَجَ یَشْتَدُّ حَتَی انْتَصَبَ لَنَا فِیْ عُرْضِ الْحَرَّۃِ فَرَمَیْنَاہُ بِجَلَامِیْدِ الْجَنْدَلِ حَتّٰی سَکَتَ۔ (مسند احمد: ۱۱۶۱۰)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ماعز بن مالک کو رجم کریں، پس ہم بقیع کی طرف نکلے، اللہ کی قسم! نہ ہم نے اس کے لئے گڑھا کھودا اور نہ اس کو باندھا، وہ خود کھڑا ہو گیا، ہم نے اس پر ہڈیاں اور سنگریزے پھینکنے شروع کر دئیے، جب اس کو تکلیف پہنچی تو وہ تیزی سے بھاگ نکلا، یہاں تک حرہ کی ایک جانب کھڑا ہوگیا، پھر ہم نے اس کو بڑے بڑے پتھر مارے، یہاں تک کہ وہ فوت ہو گیا۔
Takhreej
(۶۷۲۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۹۴ (انظر: ۱۱۵۸۹)
Explanation
فوائد:… حدیث نمبر (۶۷۰۲) میںیہ بات گزری ہے کہ ماعز بن مالک کے لیے گڑھا کھودا گیا تھا، جبکہ اس حدیث میں نفی کی گئی ہے، جمع تطبیق کی درج ذیل چار صورتیں ہیں: (۱)۔ مثبت کو منفی پر مقدم کیا جائے گا۔ (۲)۔ اس گڑھے کی نفی کی گئی ہے، جس سے نکل کر بھاگ جانا ممکن نہ تھا اور اس گڑھے کو ثابت کیا گیا ہے، جس سے فرار اختیار کر جانا ممکن تھا۔ (۳)۔ شروع میں گڑھا نہیں کھودا تھا، لیکن جب وہ بھاگا تو انھوں نے اس کو پکڑا اور اس کے لیے گڑھا کھودا۔ (۴)۔ شروع میں ہی گڑھا کھودا گیا تھا، لیکن جب اس کو پتھر لگا تو وہ نکل کر بھاگ گیا، پھر صحابہ نے اس کا پیچھا کیا اور اس کو مار دیا۔ امام نووی نے کہا: یہ حدیث علمائے کرام کے ایک اتفاقی مسئلہ کی دلیل ہے کہ رجم کے لیے پتھر، ڈھیلے، ہڈیاں، سنگریزے اور لکڑی وغیرہ استعمال کیے جائیں گے، یعنی جس سے بھی بندے کو قتل کیا جا سکتے، صرف پتھر شرط نہیں ہیں۔
6723
Sahih
سنگسار ہونے والے کے لئے گڑھا کھودنے کا بیان
۔ (۶۷۲۴)۔ عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجَمَ امْرَأَۃً فَحُفِرَلَھَا إِلَی الثَّنْدُوَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۰۶۴۹)
۔ سیدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک عورت کو رجم کیا اور سینہ تک اس کے لئے گڑھا کھودا۔
Takhreej
(۶۷۲۴) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۴۴۴۳ (انظر: ۲۰۳۷۸)
6724
Sahih
سنگسار ہونے والے کے لئے گڑھا کھودنے کا بیان
۔ (۶۷۲۵)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجَمَ امْرَأَۃً، فَأَمَرَنِی أَنْ أَحْفِرَلَھَا فَحَفَرْتُ لَھَا إِلٰی سُرَّتِیْ۔ (مسند احمد: ۲۱۸۷۸)
۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک عورت کو رجم کیا اور مجھے حکم دیا کہ میں اس کے لئے گڑھا کھودوں، پس میں نے اپنی ناف تک گہرا گڑھا کھودا۔
Takhreej
(۶۷۲۵) اسنادہ ضعیف لضعف جابر بن یزید الجعفی، وثابت بن سعد لم نتبینہ (انظر: ۲۱۵۴۵)
Explanation
فوائد:… صحیح مسلم (۱۶۹۵) کی روایت میں ہے کہ آپa نے خاتون کے لیے اس کے سینے تک گڑھا کھدوایا تھا۔ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ رجم کرنے کے لیے گڑھا کھودا جائے گا۔
6725
Zaeef
بیوی کی لونڈی کو استعمال کر لینے والے شخص کا بیان
۔ (۶۷۲۶)۔ حَدَّثَنَا بَہْزٌ ثَنَا أَبَانُ بْنُ یَزِیْدَ وَھُوَ الْعَطَّارُ ثَنَا قَتَادَۃُ حَدَّثَنِیْ خَالِدُ بْنُ عُرْفُطَۃَ عَنْ حَبِیْبِ بْنِ سَالِمٍ عَنِ النُّعْمَانِِ بْنِ بَشِیْرٍ: اَنَّ رَجُلًا یُقَالُ لَہُ: عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ حُنَیْنٍ وَکَانَ یُنْبَزُ قُرْقُوْرًا وَقَعَ عَلٰی جَارِیَۃِ امْرَأَتِہِ، قَالَ: فَرُفِعَ إِلَی النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ الْأَنْصَارِیِّ فَقَالَ: لَأَقْضِیَنَّ فِیْکَ بِقَضَائِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، إِنْ کَانَتْ اَحَلَّتْہَا لَکَ جَلَدْتُکَ مِائَۃً، وَإِنْ لَمْ تَکُنْ أَحَلَّتْہَا لَکَ رَجَمْتُکَ بِالْحِجَارَۃِ، قَالَ: وَکَانَتْ قَدْ أَحَلَّتْہَا لَہُ فَجَلَدَہُ مِائَۃً، وَقَالَ: سَمِعْتُ أَبَاناً یَقُوْلُ: وَأَخْبَرَنَا قَتَادَۃُ أَنَّہُ کَتَبَ فِیْہِ إِلٰی حَبِیْبِ بْنِ سَالِمٍ وَ کَتَبَ إِلَیْہِ بِہٰذَا۔ (مسند احمد: ۱۸۶۱۵)
۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ عبد الرحمن بن حنین نامی ایک آدمی تھا، اس کو قرقور کے لقب سے پکارا جاتا تھا، اس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کر لیا، جب اس کا معاملہ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی عدالت میں لایا گیا تو انہوں نے کہا : میں تمہارے درمیان رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم والا فیصلہ کروں گا، اگر تیری بیوی نے تیرے لئے اس لونڈی کو حلال قرار دیا تھا تو پھر میں تجھے سو کوڑے ماروں گا اور اگر اس نے تیرے لئے حلال نہیں کیا تھا تو تجھے پتھروں سے رجم کروں گا۔ جب تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ اس کی بیوی نے اپنی لونڈی کو اس کے لئے حلال قرار دیا تھا، اس لیے انھوں نے اس کو سو کوڑے لگائے۔
Takhreej
(۶۷۲۶) تخریج: اسنادہ ضعیف، خالد بن عرفطۃ مجھول، ثم ان فیہ اضطرابا۔ أخرجہ ابوداود: ۴۴۵۸، والنسائی: ۶/ ۱۲۴، والترمذی: ۱۴۵۱ (انظر: ۱۸۴۲۵)
6726
Zaeef
بیوی کی لونڈی کو استعمال کر لینے والے شخص کا بیان
۔ (۶۷۲۷)۔ حَدَّثَنَا ھُثَیْمٌ عَنْ اَبِیْ بِشْرٍ عَنْ حَبِیْبِ بْنِ سَالِمٍ عَنِ النُّعْمَانِِ بْنِ بَشِیْرٍ قَالَ: أَتَتْہُ امْرَأَۃٌ فَقَالَتْ: اِنَّ زَوْجَہَا وَقَعَ عَلٰی جَارِیَتِہَا، قَالَ: اَمَا إِنَّ عِنْدِیْ فِیْ ذَالِکَ خَبْرًا شَافِیًا أَخَذْتُہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، إن کُنْتِ أَذِنْتِ لَہُ ضَرَبْتُہُ مِائَۃً، وَاِنْ کُنْتِ لَمْ تَأْذَنِی لَہُ رَجَمْتُہُ، قَالَ: فَأَقْبَلَ النَّاسُ عَلَیْہَا فَقَالُوْا: زَوْجُکَ یُرْجَمُ؟ قُوْلِیْ إِنَّکِ قَدْ کُنْتِ أَذِنْتِ لَہُ، فقَالَتْ: قَدْ کُنْتُ أَذِنْتُ لَہُ، فَقَدَّمَہُ فَضَرَبَہُ مِائَۃً۔ (مسند احمد: ۱۸۶۳۷)
۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک عورت آئی اور کہا:میرے خاوند نے میری لونڈی سے زنا کیا ہے، انہوں نے کہا: اس بارے میں میرے پاس تسلی بخش حدیث ہے،میں نے اس کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے حاصل کیا ہے، اگر تو نے اسے اجازت دی تھی تو میں اسے سو کوڑے لگاؤں گا اور اگر تو نے اسے اجازت نہیں دی تھی تو میں اسے رجم کردوں گا، یہ سن کر لوگ اس عورت کی طرف آئے اور کہا: تیرا خاوند رجم کیا جانے لگا ہے،اس لیے تو نے یہ کہہ دینا ہے کہ میں نے اس کو اجازت دی تھی، پس اس نے کہا: میں نے اپنے خاوند کو اجازت دی تھی، پھر انھوںنے اس کو آگے کیا اور سو کوڑے لگائے۔
Takhreej
(۶۷۲۷) تخریج: حدیث ضعیف، ابو بشر لم یسمع من حبیب، انما رواہ عن خالد بن عرفطۃ ، وھو مجھول، ثم ان فی اسناد ھذا الحدیث اضطرابا، وانظر الحدیث السابق (انظر: ۱۸۴۴۶)
6727
Zaeef
بیوی کی لونڈی کو استعمال کر لینے والے شخص کا بیان
۔ (۶۷۲۸)۔ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ حَبِیْبِ بْنِ سَالِمٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ قَالَ: جَائَتِ امْرَأَۃٌ إِلَی النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ فَذَکَرَ نَحْوَہُ،۔ (مسند احمد: ۱۸۵۹۵)
۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت ان کے پاس آئی، … …، پھر اوپر والی حدیث کی طرح روایت ذکر کی۔
Takhreej
(۶۷۲۸) تخریج: انظر الحدیثین السابقین
6728
Zaeef
بیوی کی لونڈی کو استعمال کر لینے والے شخص کا بیان
۔ (۶۷۲۹)۔ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الْمُحَبِّقِ اَنَّ رَجُلًا وَقَعَ عَلٰی جَارِیَۃِ امْرَأَتِہِ (وَفِیْ لَفْظٍ: اَنَّ رَجُلًا خَرَجَ فِیْ غَزَاۃٍ وَمَعَہُ جَارَیَۃٌ لِاِمْرَأَتِہِ فَوَقَعَ بِہَا) فَرُفِعَ ذَاکَ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اِنْ کَانَتْ طَاوَعَتْہُ فَہِیَ لَہُ وَعَلَیْہِ مِثْلُہَا لَھَا، وَاِنْ کَانَ اسْتَکْرَھَہَا فَہِیَ حُرَّۃٌ وَعَلَیْہِ مِثْلُہَا لَھَا۔)) (مسند احمد: ۲۰۳۱۹)
۔ سیدنا سلمہ بن محیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کر لیا، ایک روایت میں ہے: ایک آدمی کسی غزوہ میں گیا، اس کے ساتھ اس کی بیوی کی لونڈی بھی تھی، وہ اس پر واقع ہو گیا، جب اس کا معاملہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عدالت میں لایاگیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر اس لونڈی نے اس آدمی سے موافقت کی ہے تو یہ لونڈی اسی کی ہو جائے گی اور اس کو اسی طرح کی لونڈی اپنی بیوی کو دینا ہو گی، اور اگر اس نے لونڈی کو مجبور کیا ہے تو وہ آزاد ہو جائے گی، لیکن اس کو اسی طرح کی لونڈی اپنی بیوی کو دینا ہو گی۔
Takhreej
(۶۷۲۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، الحسن البصری لم یسمع من سلمۃ بن المحبق، وقد اختلف فی اسناد ھذا الحدیث علی الحسن۔ أخرجہ ابوداود: ۴۴۶۱، والبیھقی: ۸/ ۲۴۰، وعبد الرزاق: ۱۳۴۱۸، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۶۳۳۷ (انظر: ۲۰۰۶۰)
6729
Zaeef
بیوی کی لونڈی کو استعمال کر لینے والے شخص کا بیان
۔ (۶۷۳۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی رَجُلٍ وَطِیَ جَارِیَۃَ امْرَأَتِہِ إِنْ کَانَ اسْتَکْرَھَہَا فَہِیَ حُرَّۃٌ وَعَلَیْہِ لِسَیِّدَتِہَا مِثْلُہَا۔ (مسند احمد: ۲۰۳۲۸)
۔ (دوسری سند) جس آدمی نے اپنی بیوی کی لونڈی سے برائی کر لی تھی، اس کے بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ اگر اس نے اس لونڈی کو مجبور کیا تھا تو وہ آزاد ہو جائے گی، لیکن اس کے ذمہ ہے اس کی آقا کو اسی طرح کی لونڈی دے۔
Takhreej
(۶۷۳۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… اس باب کی تمام روایات ضعیف ہیں۔ تفہیم مسئلہ کی غرض سے حدیث کی کچھ ضروری توضیح پیش نظر ہے: ناجائز چیز کسی کے حلال کرنے سے جائز نہیں بن جاتی، بیوی اپنی لونڈی کو خاوند کے لیے حلال قرار دے تو وہ لونڈی خاوند کے لیے حلال نہیں ہو گی، کیونکہ وہ اس کی لونڈی نہیں، بیوی کی لونڈی ہے، اور جماع اپنی لونڈی سے جائز ہے، لیکن چونکہ اس میں شبہ ہے کہ بیوی کی لونڈی خاوند کی بھی لونڈی ہے، تو جب بیوی نے اپنی مملوکہ چیز خاوند کے لیے جائز قرار دے دی تو شاید وہ اس کے لیے حلال ہو، اس لیے سزا میں تخفیف ہے کہ بجائے رجم کے کوڑے مارنے کا ذکر فرمایا، مگر یاد رہے کہ اس شبہ کی بنا پر اس مرد کو باکل معاف نہیں کیا جا سکتا، سزا ہلکی ہو سکتی ہے، ہاں اگر بیوی اپنی لونڈی خاوند کو ہبہ کر دے اور وہ اس کی لونڈی بن جائے یا اپنی لونڈی کا نکاح خاوند سے کرادے تو جائز ہے۔
6730
Zaeef
اس شخص کا بیان جو مَحرم عورت سے منہ کالا کرے یا کسی چوپائے سے برائی کرے یا قومِ لوط والا عمل کر بیٹھے
۔ (۶۷۳۱)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اُقْتُلُوْا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُوْلَ بِہِ فِیْ عَمَلِ قَوْمِ لُوْطٍ وَالْبَہِیْمَۃَ وَالْوَاقِعَ عَلَی الْبَہِیْمَۃِ، وَمَنْ وَقَعَ عَلٰی ذَاتِ مَحْرَمٍ فَاقْتُلُوْہْ۔)) (مسند احمد: ۲۷۲۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قوم لوط کے عمل میں ملوث فاعل اور مفعول دونوں کوقتل کر دو اور جانور کو بھی قتل کر دو اور جو جانور پر واقع ہو ا ہے، اس کو بھی قتل کر دو اور جو ذی محرم سے زنا کرے، اسے بھی قتل کر دو۔
Takhreej
(۶۷۳۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابن ابی حبیبۃ۔ أخرجہ دون ذکر حد اللواط ابن ماجہ: ۴۵۶۴، وأخرجہ الترمذی بحکم من وقع علی ذات محرم فقط: ۱۴۶۲(انظر: ۲۷۲۷)
Explanation
فوائد:… سیدنا عبد اللہ بن عباس d سے مروی ہے کہ رسول اللہ a نے فرمایا: ((مَنْ وَجَدْتُّمُوْہٗیَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوْطٍ فَاقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُوْلَ بِہٖ۔))…’’جسشخصکوتماسحالمیں پاؤ کہ وہ قوم لوط والی بد فعلی کر رہا ہو تو فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دو۔‘‘ (ابو داود: ۴۴۶۲، ابن ماجہ: ۲۵۶۱، ترمذی: ۱۴۵۶، قال الالبانی: صحیح)
6731
Zaeef
اس شخص کا بیان جو مَحرم عورت سے منہ کالا کرے یا کسی چوپائے سے برائی کرے یا قومِ لوط والا عمل کر بیٹھے
۔ (۶۷۳۲)۔ وَعَنْہُ اَیُضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ وَقَع عَلٰی بَہِیْمَۃٍ فَاقْتُلُوْہُ وَاقْتُلُوْا الْبَہِیْمَۃَ۔))۔ (مسند احمد: ۲۴۲۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو جانور پر واقع ہو، اسے بھی قتل کر دو اور جانور کو بھی۔
Takhreej
(۶۷۳۲) تخریج: اسنادہ جیّد۔ أخرجہ ابوداود: ۴۴۶۴، والترمذی: ۱۴۵۵ (انظر: ۲۴۲۰)
Explanation
فوائد:… یہ حدیث بیان کرنے کے بعد عکرمہ نے کہا: قُلْتُ لَہُ: مَا شَأْنُ الْبَہِیمَۃِ؟ قَالَ: مَا أُرَاہُ قَالَ ذَلِکَ إِلَّا أَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یُؤْکَلَ لَحْمُہَا وَقَدْ عُمِلَ بِہَا ذَلِکَ الْعَمَلُ۔… ’’میں نے سیدنا ابن عباس b سے کہا: جانور کو قتل کرنے کی کیا وجہ ہے؟انھوں نے کہا: میرا خیال تو یہی ہے کہ آپ a نے ناپسند کیا کہ اس کا گوشت کھایا جائے، جبکہ اس کے ساتھ یہ گندا کام کیا گیا ہے۔ (ابوداود: ۴۴۶۴، ترمذی: ۱۴۵۵) اس حدیث کے برعکس سیدنا عبد اللہ بن عباسdکا اپنا قول یہ ہے: لیس علی الذییأتی البھیمۃ حدّ۔ … جو آدمی جانورسے یہ برا کام کرتا ہے، اس پر کوئی حد نہیں ہے۔ (ابو داود: ۴۴۶۵، ترمذی: ۱۴۵۵) عمرو بن ابی عمرو راوی اس حدیث کو مرفوعا بیان کرتا ہے اور عاصم بن بہدلہ سیدنا ابن عباس b پر موقوفاً بیان کرتاہے، امام ترمذی نے موقوف روایت کے حق میں کہا: وہذا أصح من الحدیث الأول والعمل علی ہذا عند أہل العلم وہو قول أحمد وإسحق۔ … یہ حدیث پہلییعنی مرفوع حدیث سے زیادہ صحیح ہے، اور اہل علم کے ہاں اسی پر عمل ہے اور امام احمد اور امام اسحاق کا بھییہی قول ہے۔ اما م ابو داود نے کہا: حدیثُ عاصم یضعِّف حدیثَ عمرو بن ابی عمرو۔ … عاصم کی موقوف حدیث، عمرو بن ابو عمرو کی حدیث کو ضعیف کر رہی ہے۔ شیخ البانی کہتے ہیں: لیکن امام بیہقی نے موقوف کو ترجیح دینے والی اس رائے کا بہت عمدہ تعاقب کیا، انھوں نے کہا: کئی سندوں سے عکرمہ سے یہ حدیث ہمیں بیان کی گئی ہے، میرا خیال ہے کہ عمرو بن ابی عمرو حفظ و ضبط میں عاصم بن بہدلہ سے کم تو نہیں ہے، جبکہ ایک جماعت نے عمرو بن ابی عمرو کی متابعت بھی کر رکھی ہے اور اکثر ائمہ کے نزدیک عکرمہ ثقات و اثبات راویوں میں سے ہے۔ میں (البانی) کہتا ہوں: تحقیقیہی ہے کہ عمرو بن ابو عمرو، عاصم بن بھدلہ سے کم مرتبہ نہیں ہے، بلکہ ممکن ہے کہ وہ حدیث کے معاملے میں اس سے اچھا روای ہو، ان دونوں راویوں کے ترجمہ سے اس حقیقت کااندازہ ہو گا۔ حافظ ابن حجر نے ’’تقریب‘‘ میں عمرو کے بارے میں ’’ثقۃ ربما وھم‘‘ کہا اور عاصم کے بارے میں ’’صدوق لہ اوھام‘‘ کہا۔ امام ذہبی نے عاصم کے بارے میں کہا: صدوق یھم، امام بخاری اور امام مسلم نے اس سے مقروناً روایت لی ہے۔ اور عمرو کے بارے میں کہا: یہ ’’صدوق‘‘ ہے، اس کی روایت صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے اصول میں موجود ہے۔ پس واضح ہوا کہ عمرو راوی، عاصم سے قوی ہے اور تعارض کے وقت اسی عمرو کی حدیث راجح ہو گی۔ اس پر مستزاد یہ کہ عمرو کی حدیث مرفوع ہے اور عاصم کی موقوف اور روایت کو رائے پر ترجیح دیتے وقت اہل الحدیث کے قواعدکے مطابق یہ بات درست نہیںہے کہ موقوف روایت کی وجہ سے مرفوع کو ضعیف قرار دیا جائے، احناف کے بر خلاف۔ پھر امام بیہقی نے جن متابعات کی طرف اشارہ کیا ہے، ان سے عمرو کی حدیث کو قوت ملتی ہے، مجھے ان میں سے دو متابعات ملی ہیں: (اول)… داود بن حصین عن عکرمۃ بہ، امام ابن ماجہ، امام دارقطنی، امام بیہقی اور امام احمد نے اس سند کے ساتھ اس حدیث کو بیان کیا ہے، اس سند میں ابراہیم اشہلی بھی ضعیف ہے اور ابن حصین، عکرمہ سے روایت لینے میں ضعیف ہے۔ (دوم)… عباد بن منصور عن عکرمۃ بہ، امام حاکم، امام بیہقی اور امام ابن عساکر نے اس کو روایت کیا ہے۔اس میں عباد بن منصور صدوق ہے، وہ تدلیس بھی کرتا تھا اور اس کو آخر میں اختلاط بھی ہو گیا تھا۔ پھر عمرو بن ابی عمرو کی حدیث کا ایک مرفوع شاہد بھی ہے، جو سیدنا ابوہریرہb سے مروی ہے، امام ابو یعلی نے اپنی مسند میں اس کو بیان کیا، اس کے راوی ثقہ اور معروف ہیں، ما سوائے عبد الغفار بن عبد اللہ کے، جبکہ ابن ابی حاتم نے اس کا ذکر کر کے اس پر کوئی جرح اور تعدیل نقل نہیں، ظن غالب یہی ہے کہ امام ابن حبان نے اس کو ’’الثقات‘‘ میں ذکر کیا ہے۔حافظ ہیثمی نے ’’مجمع الزوائد‘‘ میں اس حدیث کو ابو یعلی کی طرف منسوب کرنے کے بعد کہا: اس میںمحمد بن عمرو ہے، اس کی حدیث حسن ہے اور باقی راوی ثقہ ہیں، البتہ حافظ ابن حجر نے ’’تلخیص الحبیر‘‘ میں کہا: ابو یعلی نے کہا: ہمیںیہ بات پہنچی ہے کہ عبد الغفار نے اس سے رجوع کر لیا تھا، اور ابن عدی نے کہا کہ لوگوں نے اس کو تلقین کی تھی۔ (ملاحظہ ہو: ارواء الغلیل: ۸/ ۱۷) اس بحث سے یہ ثابت ہوا کہ اس باب کی حدیث نمبر (۶۷۳۲) صحیح ہے کہ نبی کریمa نے فرمایا کہ: ’’جو جانور پر واقع ہو، اسے بھی قتل کر دو اور جانور کو بھی۔‘‘
6732
Sahih
اس شخص کا بیان جو مَحرم عورت سے منہ کالا کرے یا کسی چوپائے سے برائی کرے یا قومِ لوط والا عمل کر بیٹھے
۔ (۶۷۳۳)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: مَرَّ بِیْ عَمِّی الْحَارِثُ بْنُ عَمْرٍو وَمَعَہُ لِوَائٌ قَدْ عَقَدَہُ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ لَہُ: أَیْ عَمِّ! اَیْنَ بَعَثَکَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: بَعَثَنِی إِلٰی رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃ اَبِیْہِ فَأَمَرَنِی أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَہُ۔ (مسند احمد: ۱۸۷۸۰)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے چچا سیدنا حارث بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میرے پاس سے گزرے اور ان کے پاس ایک جھنڈا تھا، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں باندھ کر دیا تھا، میں نے ان سے کہا: اے چچا! نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تم کو کہاں بھیجا ہے ؟ انھوں نے کہا : آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ایک ایسے آدمی کی طرف بھیجا کہ جس نے اپنے باپ کی بیوی کے ساتھ نکاح کرلیا ہے، آپ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔
Takhreej
(۶۷۳۳) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۶۰۷، والترمذی: ۱۳۶۲، والنسائی: ۶/ ۱۰۹ (انظر: ۱۸۵۵۷، ۱۸۵۷۹)
Explanation
فوائد:… ارشادِ باری تعالی ہے: {وَلَا تَنْکِحُوْا مَانَکَحَ آٰبَائُکُمْ مِنَ النِّسَائِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ}… ’’اور اس خاتون سے نکاح نہ کرو، جس سے تمہارے باپوں نے نکاح کیا ہو۔‘‘ (سورۂ نسائ:۲۲) سوتیلی ماں سے صرف نکاح کرنے کییہ سزا ہے، خواہ اس نے جماع کیا ہو یا نہ کیا ہو۔
6733
Sahih
اس شخص کا بیان جو مَحرم عورت سے منہ کالا کرے یا کسی چوپائے سے برائی کرے یا قومِ لوط والا عمل کر بیٹھے
۔ (۶۷۳۴)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلٰی أُمَّتِیْ عَمَلُ قَوْمِ لُوْطٍ۔)) (مسند احمد: ۱۵۱۵۹)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ جس چیز کا ڈر ہے، وہ قوم لوط کا فعل ہے۔
Takhreej
(۶۷۳۴) تخریج: اسنادہ ضعیف، القاسم بن عبد الواحد و عبد اللہ بن محمد بن عقیلیقبل حدیثھما عند المتابعۃ، وقد تفردا بھذا الحدیث۔ أخرجہ الترمذی: ۱۴۵۷، وابن ماجہ: ۲۵۶۳(انظر: ۱۵۰۹۳)
Explanation
فوائد:… ان احادیث میں قوم لوط والی بد فعلی کرنے والے، جانور سے برائی کرنے والے اور محرم خواتین سے نکاح کرنے والے کی سزاؤںکا بیان ہے۔
6734
Zaeef
اہل کتاب کے شادی شدہ زانی کو رجم کرنے اور اس معاملے میں اسلام کے شرط نہ ہونے کا بیان
۔ (۶۷۳۵)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ الْیَہُوْدَ أَتَوُا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِرَجُلٍ وَامْرَأَۃٍ مِنْہُمْ قَدْ زَنَیَا، فَقَالَ: ((مَا تَجِدُوْنَ فِی کِتَابِکُمْ؟)) فَقَالُوْا: نُسَخِّمُ وُجُوْھَہُمَا وَیُخْزَیَانِ، قَالَ: ((کَذَبْتُمْ إِنَّ فِیْہَا الرَّجْمَ، فَأْتُوْا بِالتَّوْرَاۃِ فَاتْلُوْھَا إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ۔)) فَجَائُ وْا بِالتَّوْرَاۃِ وَجَائُ وْا بِقَارِیئٍ لَھُمْ أَعْوَرَ، یُقَالُ لَہُ: ابْنُ صُوْرِیَا، فَقَرَأَ حَتّٰی إِذَا انْتَہٰی إِلٰی مَوْضِعٍ مِنْہَا وَضَعَ یَدَہُ، عَلَیْہِ، فَقِیْلَ لَہُ: ارْفَعْ یَدَکَ، فَرَفَعَ یَدَہُ فَاِذَا ھِیَ تَلُوْحُ، فَقَالَ أَوْ قَالُوْا: یَا مُحَمَّدُ! إِنَّ فِیْہَا الرَّجْمَ وَلٰکِنَّا کُنَّا نَتَکَاتَمُہُ بَیْنَنَا، فَأَمَرَ بِہِمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرُجِمَا، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَیْتُہُیَجَانِیئُ عَلَیْہَایَقِیْہَا الْحِجَارَۃَ بِنَفْسِہِ۔ (مسند احمد: ۴۴۹۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ یہودی لوگ ایک مرد اور ایک عورت کو لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، انہوں نے زنا کیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنی کتاب میں اس کے متعلق کیا حکم پاتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم ان کا منہ کالا کرتے ہیں اور انہیں رسوا کرتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم جھوٹ بول رہے ہو، اس میں رجم کرنے کی بات ہے، لائو تورات اور اس کو پڑھو، اگر تم سچے ہو تو۔ پس وہ تورات اور ایک پڑھنے والے کو لے آئے،پڑھنے والا کانا تھا اور اس کو ابن صوریا کہتے تھے، اس نے تورات پڑھی اوررجم کے ذکر تک پڑھتا گیا، جب وہ اس مقام تک پہنچا تو اس آیت پر اپنا ہاتھ رکھ لیا، اس سے کہا گیااپنا ہاتھ اٹھا، جب اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا تو رجم سے متعلقہ آیت چمک رہی تھی، پھر انہوں نے اعتراف کرتے ہوئے کہا : اے محمد ! اس میں رجم کی سزا موجود ہے، لیکن ہم اس کو آپس میں چھپائے ہوئے تھا، پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان دونوں کو رجم کر نے کا حکم دیا،پس ان دونوں کو رجم کر دیا گیا، ابن عمر کہتے ہیں: میں نے اس یہودی کو دیکھا کہ وہ اس عورت پرجھک رہا تھا اور اپنے وجود کے ذریعے اس عورت کو پتھروں سے بچارہا تھا۔
Takhreej
(۶۷۳۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۵۴۳، ومسلم: ۱۶۹۹(انظر: ۴۴۹۸)
6735
Sahih
اہل کتاب کے شادی شدہ زانی کو رجم کرنے اور اس معاملے میں اسلام کے شرط نہ ہونے کا بیان
۔ (۶۷۳۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِرَجْمِ الْیَہُوْدِیِّ وَالْیَہُوْدِیَّۃِ عِنْدَ بَابِ مَسْجِدٍ، فَلَمَّا وَجَدَ الْیَہُوْدِیُّ مَسَّ الْحِجَارَۃِ قَامَ عَلٰی صَاحِبَتِہِ فَحَنَا عَلَیْہَایَقِیْہَا مَسَّ الْحِجَارَۃِ حَتّٰیقُتِلَا جَمِیْعًا، فکَانَ مِمَّا صَنَعَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لِرَسُوْلِہِ فِیْ تَحْقِیْقِ الزِّنَا مِنْہُمَا۔ (مسند احمد: ۲۳۶۸)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایکیہودی مرد اور ایکیہودی عورت کو اپنی مسجد کے دروازے کے نزدیک رجم کرنے کا حکم دیا، جب یہودی کو پتھر لگنے کی تکلیف ہوئی تو وہ کھڑا ہو کر اپنی سہیلی پر جھک گیا، تاکہ اس کو پتھروں کی تکلیف سے بچائے،یہاں تک کہ ان دونوںکوقتل کر دیا گیا، اللہ تعالی نے اپنے رسول کے لیے جو کچھ کیا، وہ ان دونوں سے زنا کو ثابت کرنے کے لیے تھا۔
Takhreej
(۶۷۳۶) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ۔ أخرجہ الطبرانی: ۱۰۸۲۰ (انظر: ۲۳۶۸)
6736
Sahih
اہل کتاب کے شادی شدہ زانی کو رجم کرنے اور اس معاملے میں اسلام کے شرط نہ ہونے کا بیان
۔ (۶۷۳۷)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجَمَ یَہُوْدِیًّا وَقَالَ: ((اَللّٰھُمَّ إِنِّی أُشْہِدُکَ أَنِّی اَوَّلُ مَنْ أَحْیَا سُنَّۃً قَدْ أَمَاتُوْھَا۔)) (مسند احمد: ۱۸۸۶۶)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایکیہودی کو رجم کیا اور پھر فرمایا: اے اللہ! میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ میں وہ پہلا شخص ہوں، جس نے اس سنت کو زندہ کیا، جسے ان لوگوں نے مٹا دیا تھا۔
Takhreej
(۶۷۳۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۷۰۰(انظر: ۱۸۶۶۳)
6737
Sahih
اہل کتاب کے شادی شدہ زانی کو رجم کرنے اور اس معاملے میں اسلام کے شرط نہ ہونے کا بیان
۔ (۶۷۳۸)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ اَبِیْ شَیْبَۃَ ثَنَا شَرِیْکُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ (عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ) وَابْنِ اَبِی لَیْلٰی عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمْرَ قَالَا:رَجَمَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَہُوْدِیًّا وَیَہُوْدِیَّۃً۔ (مسند احمد: ۲۱۲۲۱)
۔ سیدنا جابر بن سمرہ اور سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہودی مرد اور یہودی عورت کو رجم کیا۔
Takhreej
(۶۷۳۸) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۵۵۷، والترمذی: ۱۴۳۷ (انظر: ۲۰۹۱۴)
6738
Sahih

Chapters

13
01
چار مرتبہ زنا کا اقرار تکرار کرانے کا اعتبار
8 Hadith
02
زنا کا اقرار کرنے والے سے مزید استفسار کرنا اور ایسی وضاحت طلب کرنا کہ جس میں کوئی تردد نہ ہو
2 Hadith
03
اس چیز کا بیان کہ اس شخص کو حد نہیں لگائی جائے گی، جو کسی حد کا اقرار تو کرے اور اس کا نام نہ لے
2 Hadith
04
زنا کا اقرار کر لینے کے بعد دوبارہ اس کا انکاری ہو جانے کا بیان، اسی طرح اس شخص کا بیان کہ وہ تو ایک عورت سے زنا کرنے کا اقرار کرے، لیکن وہ عورت انکار کر دے
4 Hadith
05
اس چیز کے سنت ہونے کا بیان کہ گواہ خود سنگسار کرنے کی ابتداء کرے اور زانی کے اقرار کرنے کی صورت میں حکمران ابتداء کرے، نیز اس چیز کا بیان کہ شادی شدہ زانی کو کوڑے لگا کر رجم کیا جائے
2 Hadith
06
وضع حمل تک حاملہ عورت سے حد کو مؤخر کر دینے کا بیان
5 Hadith
07
مریض پر حد قائم کرنے کا بیان
1 Hadith
08
سنگسار ہونے والے کے لئے گڑھا کھودنے کا بیان
3 Hadith
09
بیوی کی لونڈی کو استعمال کر لینے والے شخص کا بیان
5 Hadith
10
اس شخص کا بیان جو مَحرم عورت سے منہ کالا کرے یا کسی چوپائے سے برائی کرے یا قومِ لوط والا عمل کر بیٹھے
4 Hadith
11
اہل کتاب کے شادی شدہ زانی کو رجم کرنے اور اس معاملے میں اسلام کے شرط نہ ہونے کا بیان
5 Hadith
12
زانی غلام کی پچاس کوڑے حد ہونے کا بیان
2 Hadith
13
آقا کا اپنے غلام پر حد نافذ کرنے کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.