TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3183 - قابو سے باہر ہو جانے والے جانور کو کیسے ذبح کیا جائے؟۔ - Chapters on slaughtering - Sunnan Ibn e Maja in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 2 in this chapter
قابو سے باہر ہو جانے والے جانور کو کیسے ذبح کیا جائے؟۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَنَدَّ بَعِيرٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ لَهَا أَوَابِدَ أَحْسَبُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا .
It was narrated that Rafi’ bin Khadij said: “We were with the Prophet (ﷺ) on a journey, and a camel ran away. A man shot an arrow at it and the Prophet (ﷺ) said: ‘It has the inclination to run away like a wild animal. If this happens to any of you, do likewise.’”
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک اونٹ سرکش ہو گیا، ایک شخص نے اس کو تیر مارا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں کچھ وحشی ہوتے ہیں ، میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنگلی جانوروں کی طرح تو جو ان میں سے تمہارے قابو میں نہ آ سکے، اس کے ساتھ ایسا ہی کرو ۱؎۔
3183
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 4, Book 27, Hadith 3183 Arabic reference : Book 27, Hadith 3304
Conclusion
تخریج
«انظر حدیث رقم:(۳۱۳۷)،(تحفة الأشراف:۳۵۱۶)
Explanation
شرح و تفصیل
یعنی بسم اللہ کہہ کر تیر، برچھی وغیرہ سے مار دو، اگر وہ مر جائے تو حلال ہو گا یہ اضطراری ذبح ہے، اس کا حکم مثل ذبح کے ہے، جب ذبح پر قدرت نہ ہو، اب تیر کے قائم مقام بندوق اور توپ ہے، اگر بندوق بسم اللہ کہہ کر چلائے، اور جانور ذبح کرنے سے پہلے مر جائے تو وہ حلال ہے، یہی قول محققین کا ہے۔

Related Chapters

695
1
جو چیز بھی خون بہا دے،اس کے ذریعے ذبح کرنے کے جواز کا بیان، ما سوائے دانت اور ناخن کے، نیز اس امر کی وضاحت کہ بدک جانے والے اونٹ کے ساتھ کیا کیا جائے گا
Musnad Ahmad
2
(20) CHAPTER. Not to slaughter with a tooth, a bone or a nail.
اس بارے میں کہ جانور کو دانت ، ہڈی اور ناخن سے ذبح نہ کیا جائے ۔
Sahih Bukhari
3
Chapter: What Has Been Related About What Is Done With The Hadi When It Is Afflicted
باب: ہدی کا جانور جب راستے میں مرنے لگے تو کیا کیا جائے؟
Jam e Tirmazi
4
اس چیز کا بیان کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور آزاد کو غلام کے بدلے قتل کیے جانے کا مسئلہ
Musnad Ahmad
5
(4) CHAPTER. If a shepherd or a deputy saw dying sheep or something which is going to be spoiled, he is allowed to slaughter the sheep and save the thing liable to be spoiled.
چرانے والے نے یا کسی وکیل نے کسی بکری کو مرتے ہوئے یا کسی چیز کو خراب ہوتے دیکھ کر ( بکری کو ) ذبح کر دیا یا جس چیز کے خراب ہو جانے کے ڈر تھا اسے ٹھیک کر دیا ، اس بارے میں کیا حکم ہے ؟
Sahih Bukhari
6
(16) CHAPTER. Animals that are sacrificed (slaughtered) on An-Nusub and for the idols.
وہ جانور جن کو تھانوں اور بتوں کے نام پر ذبح کیا گیا ہوان کا کھانا حرام ہے ۔
Sahih Bukhari
7
(13) CHAPTER. To put one's foot on the side of the animal at the time of slaughtering.
ذبح کئے جانے والے جانور کی گردن پر پاؤں رکھنا جائز ہے ۔
Sahih Bukhari
8
Chapter: What should be done with the sacrificial animal if it gets injured on the way?
جب ہدی کے جانور راستے میں تھک جائیں تو ان کے ساتھ کیا کیا جائے ؟
Sahih Muslim
9
CHAPTER: Should The One Who Commits Hadath (Breaks His Wudu’) Ask Permission From The Imam To Leave?
باب: جس کا وضو ٹوٹ جائے وہ امام سے باہر جانے کی اجازت لے ۔
Sunnan Abu Dawood
10
CHAPTER: Regarding The Sacrificial Animal Being Unable To Continue Traveling Before Reaching Makkah.
باب: ہدی کا جانور اپنے مقام ( مکہ ) پر پہنچنے سے پہلے ہلاک ہو جائے تو کیا کیا جائے ؟
Sunnan Abu Dawood
11
CHAPTER: Regarding Slaughtering The Mutaraddiyah.
باب: اوپر سے نیچے گر جانے والے جانور کے ذبح کرنے کا طریقہ ۔
Sunnan Abu Dawood
12
سو جانے یا بھولنے کی وجہ سے وتر فوت ہو جائے تو کیا کرے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
13
باب: عمرہ کا تلبیہ پکارنے والی عورت کو حیض آ جائے اور اسے حج کے فوت ہو جانے کا ڈر ہو تو وہ کیا کرے؟
Sunnan Nisai
14
باب: اگر مانوس اور پالتو جانور وحشی ہو جائے تو کیا کرے؟
Sunnan Nisai
15
باب: ذبح کیے جانے والے جانور کو نحر کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
16
Chapter: What Has Been Related That The Injuries Caused By The Animal Are Without Liability And The Khumus Is Due On Rikaz
باب: جانوروں کا زخم رائیگاں ہے یعنی اس میں تاوان نہیں اور مدفون مال میں سے خمس (پانچواں حصہ) نکالا جائے گا​
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About Slaughtering With Al-Marwah (Granite)
باب: پتھر سے ذبح کئے ہوئے جانور کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked to Eat Masburah
باب: بندھا ہوا جانور جسے تیر مار کر ہلاک کیا گیا ہو کا کھانا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
19
غسل خانے سے باہر آ کر پاؤں کو دھونے، تولیہ وغیرہ سے پانی خشک کرنے کے حکم اور نماز کا ارادہ رکھنے والے کا وضو کی بجائے غسل پر اکتفا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
20
امام کا مردوں کے ساتھ تھوڑی دیر تک ٹھہرنا تاکہ عورتیں نکل جائیں اور فرضی اور نفلی نمازوں کے درمیان باہر جانے یا کلام کرنے یا جگہ بدلنے کے ساتھ فاصلہ کرنا
Musnad Ahmad
21
جب مسافر (اپنے علاقے سے) باہر نکل جائے تو کب روزہ چھوڑ سکتا ہے، نیز افطار کو جائز قرار دینے والی مسافت کی مقدار کا بیان
Musnad Ahmad
22
طواف اور استلام کے موقع پر کیا جانے والا ذکر، جاہلیت والے لوگ طواف میںکیا کہتے تھے اور دورانِ طواف کلام نہ کرنے کا مستحب ہونا، ان سب امور کا بیان
Musnad Ahmad
23
ہدی کے معیّن جانور کو تبدیل نہ کرنا، اگر وہ نہ پایا جائے، جبکہ وہ اونٹ ہو تو اس کے متبادل سات بکریاں ہوں گی
Musnad Ahmad
24
اجنبی عورت پر اچانک پڑ جانے والی نگاہ کی معافی کا اور ایسی نگاہ کے بعد نظر جھکا لینے کے ثواب بیان اور آپ a کا فرمان کہ ’’جب کوئی آدمی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اس کو پسند آ جائے تو وہ اپنی بیوی کے پاس پہنچے (اور جماع کرے)
Musnad Ahmad
25
ذبیحہ سے نرمی کرنے، اس کو جلدی جلدی ذبح کر دینے، چھری کو تیز کرنے اور دودھ والے جانور کو چھوڑ دینے کا بیان
Musnad Ahmad
26
باب سوم: مدینہ منورہ کی سکونت، وہاں کے شدائد پر صبر اور شدائد سے گھبرا کر وہاں سے باہر چلے جانے کی کراہت اور اس امر کابیان کہ مدینہ کی سر زمین برے لوگوں کو خود ہی باہر نکال دیتی ہے
Musnad Ahmad
27
(9) CHAPTER. What to say while going to the lavatory (water closet).
بیت الخلاء جانے کے وقت کیا دعا پڑھنی چاہیے ؟
Sahih Bukhari
28
(13) CHAPTER. The going out of women for answering the call of nature.
عورتوں کا قضائے حاجت کے لیے باہر نکلنے کا کیا حکم ہے ؟
Sahih Bukhari
29
(136) CHAPTER. To tie the clothes and wrap them properly [in Salat (prayer)]; and whoever gathered his clothes for fear that his private parts may become exposed.
( نماز میں ) کپڑوں میں گرہ لگانا اور باندھنا کیسا ہے اور جو شخص شرمگاہ کے کھل جانے کے خوف سے کپڑے کو جسم سے لپیٹ لے تو کیا حکم ہے ؟
Sahih Bukhari
30
(39) CHAPTER. Neither an old, nor a defective animal, nor a male-goat may be taken as Zakat except if the Zakat collector wishes (to take it).
زکوٰۃ میں بوڑھا یا عیب دار یا نر جانور نہ لیا جائے گا مگر جب زکوٰۃ وصول کرنے والا مناسب سمجھے تو لے سکتا ہے
Sahih Bukhari
31
(63) CHAPTER. Whoever performed Tawaf of the Kabah on reaching Makkah before going to his house then offered two Raka and then went towards As-Safa.
جو شخص ( حج یا عمرہ کی نیت سے ) مکہ میں آئے تو اپنے گھر لوٹ جانے سے پہلے طواف کرے پھر دوگانہ طواف ادا کرے پھر صفا پہاڑ پر جائے
Sahih Bukhari
32
(104) CHAPTER. Whoever drove the Budn (sacrificial camels or cows) alongwith him.
اس شخص کے بارے میں جو اپنے ساتھ قربانی کا جانور لے جائے
Sahih Bukhari
33
(120) CHAPTER. The butcher should not be given anything of the Hady.
قصاب کو بطور مزدوری اس قربانی کے جانوروں میں سے کچھ نہ دیا جائے
Sahih Bukhari
34
(124) CHAPTER. What is to be eaten of Budn (by the one who offers them) and what is to be distributed in charity.
قربانی کے جانوروں میں سے کیا کھائیں اور کیا خیرات کریں
Sahih Bukhari
35
(57) CHAPTER. If somebody buys some goods or (an) animal and let it with the seller, or it dies before he takes it into his possession.
اگر کسی شخص نے کچھ اسباب یا ایک جانور خریدا اور اس کو بائع ہی کے پاس رکھوا دیا اور وہ اسباب تلف ہو گیا یا جانور مر گیا اور ابھی مشتری نے اس پر قبضہ نہیں کیا تھا
Sahih Bukhari
36
(8) CHAPTER. If someone deputes a person to give something but does not mention how much to give, it is permissible for the deputy to distribute it amongst the people according to the conventional custom.
ایک شخص نے کسی دوسرے شخص کو کچھ دینے کے لیے وکیل کیا ، لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ کتنا دے ، اور وکیل نے لوگوں کے جانے ہوئے دستور کے مطابق دے دیا
Sahih Bukhari
37
(8) CHAPTER. No animal may be milked without the permission of its owner.
کسی جانور کا دودھ اس کے مالک کی اجازت کے بغیر نہ دوہا جائے
Sahih Bukhari
38
(16) CHAPTER. It is permissible for one to give part of his wealth or some slaves of his slaves or animals in charity or as an endowment.
کسی نے اپنی کوئی چیز یا لونڈی ‘غلام یا جانور صدقہ یا وقف کیا تو جائز ہے
Sahih Bukhari
39
(8) CHAPTER. If the hunter hits a game but does not catch it till two or three days have passed.
جب شکار کیا ہوا جانور شکاری کو دو یا تین دن کے بعد ملے تو دہ کیا کرے ؟
Sahih Bukhari
40
(17) CHAPTER.The saying of Prophet : “So slaughter by mentioning the Name of Allah.”
اس بارے میں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جانور کو اللہ ہی کے نام پر ذبح کرنا چاہیئے ۔
Sahih Bukhari
41
(23) CHAPTER. Any domestic animal that runs away should be treated like a wild animal.
اس بیان میں کہ جو پالتو جانور بدک جائے وہ جنگلی جانور کے حکم میں ہے ۔
Sahih Bukhari
42
(30) CHAPTER. The skin of dead animals.
مردار جانور کی کھال کا کیا حکم ہے ؟
Sahih Bukhari
43
(9) CHAPTER. Whoever slaughtered his sacrifice with his own hands.
اس بارے میں جس نے قربانی کے جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کئے ۔
Sahih Bukhari
44
(11) CHAPTER. To slaughter the sacrifice after the (Eid) Salat (prayer).
قربانی کا جانور نماز عیدالاضحی کے بعد ذبح کرنا چاہیئے ۔
Sahih Bukhari
45
(15) CHAPTER. If someone sends his Hady to be slaughtered then nothing lawful is rendered unlawful for him.
اگر کوئی شخص اپنی قربانی کاجانور حرم میں کسی کے سا تھ ذبح کرنے کے لیے بھیجے تو اس پر کوئی چیز حرام نہیں ہوئی ۔
Sahih Bukhari
46
(1b) CHAPTER. Whoever preferred to be beaten, killed and humiliated rather than to revert to Kufr (i.e., disbelief).
جس نے کفر پر مار کھانے ، قتل کئے جانے اور ذلت کو اختیار کیا
Sahih Bukhari
47
Chapter: The prohibition of making lost property announcements in the masjid, and what should be said by one who hears a person making such an announcement
مسجد میں گم شدہ جانور کا اعلان کرنے کی ممانعت ، ایسا اعلان سننے والا کیا کہے ؟
Sahih Muslim
48
Chapter: Clarifying that it is better to enter Ihram when a person's mount sets off with him, heading towards Makkah, not straight after the two rak'ah
افضل ہے کہ (حج کے لیے جانے والا)احرام اس وقت باندھے جب سواری اسے لے کر کھڑی ہو جائے بیت اللہ کی طرف متوجہ ہو‘نہ کہ دو رکعت ادا کرنے کے فورا بعد
Sahih Muslim
49
Chapter: The prohibition of hunting game for the one who has entered Ihram for Hajj or for Umrah or for both
جس نے حج و عمرے کا الگ الگ یا اکٹھا احرام باندھا ہوا ہو اس کے لیے کسی کھائے جانے والے جانور کا شکار جو خشک زمین پر رہتا ہو یا بنیادی طور پر خشکی سے تعلق رکھتا ہوۃ ‘حرام ہے
Sahih Muslim
50
Chapter: What animals it is recommended for the Muhrim and others to kill inside and outside the Sanctuary
احرام باندھنے والے اور دوسرے لوگوں کےے لیے حرم کی حدود سے باہر اور اندر کن جانوروں کا قتل پسندیدہ ہے
Sahih Muslim
No related chapter matched that.

Related Hadith

228
Jam e Tirmazi
1492
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ،‏‏‏‏ عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ،‏‏‏‏ فَنَدَّ بَعِيرٌ مِنْ إِبِلِ الْقَوْمِ،‏‏‏‏ وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ خَيْلٌ،‏‏‏‏ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ،‏‏‏‏ فَحَبَسَهُ اللَّهُ،‏‏‏‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ،‏‏‏‏ فَمَا فَعَلَ مِنْهَا هَذَا فَافْعَلُوا بِهِ هَكَذَا ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ،‏‏‏‏ عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ،‏‏‏‏ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَبَايَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ وَهَذَا أَصَحُّ،‏‏‏‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ،‏‏‏‏ وَهَكَذَا رَوَاهُ شُعْبَةُ،‏‏‏‏ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ،‏‏‏‏ نَحْوَ رِوَايَةِ سُفْيَانَ.
Narrated Rafi' bin Khadij: We were with the Prophet (ﷺ) on journey when the camel that belonged to some people ran away and they did not have a horse. So a man shot it with an arrow and Allah stopped it. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Of these beasts there are some that are as wild as wild animals. So if one of them does this, then treat it similarly.' Another chain from Rafi' bin Khadij from the Prophet (ﷺ) and it is similar, but (the narrator) did not mention in it Abayah from his father. and this is more correct.
رافع بن خدیج رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک سفر میں تھے، لوگوں کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ بدک کر بھاگ گیا، ان کے پاس گھوڑے بھی نہ تھے، ایک آدمی نے اس کو تیر مارا سو اللہ نے اس کو روک دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان چوپایوں میں جنگلی جانوروں کی طرح بھگوڑے بھی ہوتے ہیں، اس لیے اگر ان میں سے کوئی ایسا کرے ( یعنی بدک جائے ) تو اس کے ساتھ اسی طرح کرو“ ۱؎۔ اس سند سے بھی رافع رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، اس میں یہ نہیں ذکر ہے کہ عبایہ نے اپنے والد سے روایت کی، یہ زیادہ صحیح ہے، ۱- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۲- اسی طرح شعبہ نے اسے سعید بن مسروق سے سفیان کی حدیث کی طرح روایت ہے ۲؎۔
Sunnan Abu Dawood
2821
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى، ‏‏‏‏‏‏أَفَنَذْبَحُ بِالْمَرْوَةِ وَشِقَّةِ الْعَصَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَرِنْ أَوْ أَعْجِلْ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَكُلُوا مَا لَمْ يَكُنْ سِنًّا أَوْ ظُفْرًا، ‏‏‏‏‏‏وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا الظُّفْرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَتَقَدَّمَ بِهِ سَرْعَانٌ مِنَ النَّاسِ فَتَعَجَّلُوا فَأَصَابُوا مِنَ الْغَنَائِمِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ النَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏فَنَصَبُوا قُدُورًا فَمَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقُدُورِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَ بِهَا فَأُكْفِئَتْ وَقَسَمَ بَيْنَهُمْ فَعَدَلَ بَعِيرًا بِعَشْرِ شِيَاهٍ وَنَدَّ بَعِيرٌ مِنْ إِبِلِ الْقَوْمِ وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ خَيْلٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا فَعَلَ مِنْهَا هَذَا فَافْعَلُوا بِهِ مِثْلَ هَذَا .
Narrated Rafi bin Khadij: I came to the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم and said: Messenger of Allah, we shall meet the enemy tomorrow and we have no knives with us. May we kill with a sharp-edged white stone (flint) and with splinter of a staff ? The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: Hasten in slaughtering it. When Allah's name is mentioned you may eat what is killed by anything which causes the blood to flow except tooth and claw. I shall tell you about it. The tooth is a bone, and the claw is the knife of Abyssinians. Some people hastened and went forward, they made haste and got booty, while the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم was in the rear and they setup cooking pots. The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم passed by over the cooking pots. He ordered to turn them over. He then divided (the spoils of war) between them, and gave them a camel for ten goats in equation. One of the camels of the people ran away, and they had no horses with them at that time. A man shot an arrow at it, and Allah prevented it from escaping. The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: Among animals (i. e. camels) there are some which bolt like wild animals ; so when any of them does so, do with it like this.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کل دشمنوں سے مقابلہ کرنے والے ہیں، ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں کیا ہم سفید ( دھار دار ) پتھر یا لاٹھی کے پھٹے ہوئے ٹکڑے ( بانس کی کھپچی ) سے ذبح کریں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جلدی کر لو ۱؎ جو چیز کہ خون بہا دے اور اللہ کا نام اس پر لیا جائے تو اسے کھاؤ ہاں وہ دانت اور ناخن سے ذبح نہ ہو، عنقریب میں تم کو اس کی وجہ بتاتا ہوں، دانت سے تو اس لیے نہیں کہ دانت ایک ہڈی ہے، اور ناخن سے اس لیے نہیں کہ وہ جبشیوں کی چھریاں ہیں ، اور کچھ جلد باز لوگ آگے بڑھ گئے، انہوں نے جلدی کی، اور کچھ مال غنیمت حاصل کر لیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پیچھے چل رہے تھے تو ان لوگوں نے دیگیں چڑھا دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دیگوں کے پاس سے گزرے تو آپ نے انہیں پلٹ دینے کا حکم دیا، چنانچہ وہ پلٹ دی گئیں، اور ان کے درمیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مال غنیمت ) تقسیم کیا تو ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر قرار دیا، ایک اونٹ ان اونٹوں میں سے بھاگ نکلا اس وقت لوگوں کے پاس گھوڑے نہ تھے ( کہ گھوڑا دوڑا کر اسے پکڑ لیتے ) چنانچہ ایک شخص نے اسے تیر مارا تو اللہ نے اسے روک دیا ( یعنی وہ چوٹ کھا کر گر گیا اور آگے نہ بڑھ سکا ) اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان چوپایوں میں بھی بدکنے والے جانور ہوتے ہیں جیسے وحشی جانور بدکتے ہیں تو جو کوئی ان جانوروں میں سے ایسا کرے تو تم بھی اس کے ساتھ ایسا ہی کرو ۔
Sunnan Nisai
4302
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَائِدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي الْحُلَيْفَةِ مِنْ تِهَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَصَابُوا إِبِلًا وَغَنَمًا، ‏‏‏‏‏‏وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُخْرَيَاتِ الْقَوْمِ، ‏‏‏‏‏‏فَعَجَّلَ أَوَّلُهُمْ فَذَبَحُوا، ‏‏‏‏‏‏وَنَصَبُوا الْقُدُورَ، ‏‏‏‏‏‏فَدُفِعَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَ بِالْقُدُورِ فَأُكْفِئَتْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَسَّمَ بَيْنَهُمْ فَعَدَلَ عَشْرًا مِنَ الشَّاءِ بِبَعِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ نَدَّ بَعِيرٌ وَلَيْسَ فِي الْقَوْمِ إِلَّا خَيْلٌ يَسِيرَةٌ، ‏‏‏‏‏‏فَطَلَبُوهُ فَأَعْيَاهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا .
It was narrated that Rafi bin Khadij said: While we were with the Messenger of Allah at Dhul-Hulaifah in Tihamanb, they acquired some camels and sheep (as spoils of war). The Messenger of Allah was among the last of the people, and the first of them hastened to slaughter (the animals) and set up pots (For cooking the meat). The Messenger of Allah came and ordered that the pots be came and ordered that the pots be overturned, then he divided it making ten sheep equivalent to one camel. While they were like that, a camel ran away. The people had only a few horses, so they went after fit and it and it got away from them. A man shot an arrow at it and stopped it. The Messenger of Allah said: 'Some of these animals arte untamed like wild animals, so if one of them goes out of your control, do the same.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اسی دوران کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تہامہ کے ذی الحلیفہ میں تھے تو لوگوں کو کچھ اونٹ ملے اور کچھ بکریاں ( بطور مال غنیمت ) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں کے پیچھے تھے، تو آگے کے لوگوں نے جلدی کی اور ( تقسیم غنیمت سے پہلے ) انہیں ذبح کیا اور ہانڈیاں چڑھا دیں، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے، آپ نے حکم دیا تو ہانڈیاں الٹ دی گئیں، پھر آپ نے ان کے درمیان مال غنیمت تقسیم کیا اور دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر قرار دیا، ابھی وہ اسی میں مصروف تھے کہ اچانک ایک اونٹ بھاگ نکلا، لوگوں کے پاس گھوڑے بہت کم تھے، وہ اس کو پکڑنے دوڑے تو اس نے انہیں تھکا دیا، ایک شخص نے ایک تیر پھینکا تو اللہ تعالیٰ نے اسے روک دیا ( تیر لگ جانے سے ) اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان چوپایوں میں بعض وحشی ہو جاتے ہیں جنگلی جانوروں کی طرح، لہٰذا جو تم پر غالب آ جائے ( یعنی تمہارے ہاتھ نہ آئے ) اس کے ساتھ ایسا ہی کرو ۱؎“۔
Sunnan Nisai
4414
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا، ‏‏‏‏‏‏وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، ‏‏‏‏‏‏فَكُلْ مَا خَلَا السِّنَّ، ‏‏‏‏‏‏وَالظُّفُرَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهْبًا فَنَدَّ بَعِيرٌ، ‏‏‏‏‏‏فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ لِهَذِهِ النَّعَمِ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ الْإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا،‏‏‏‏ فَافْعَلُوا بِهِ هَكَذَا .
It was narrated that Rafi said: I said: 'O Messenger of Allah, we are going to meet the enemy tomorrow, and we do not have any knives.' He said: 'If the blood is shed and the name of Allah is mentioned, then eat, unlike (it is slaughtered) with teeth or nails. Then the Messenger of Allah got some spoils of war and a camel ran away. A man shot and arrow at it and stopped it. He (the Prophet) said; 'Some of these animals - or 'these camels'- 'are untamed like wild animals, so if one of them goes out of your control, do the same. ' (Sahih )
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کل دشمن سے ملیں گے اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، آپ نے فرمایا: ”دانت اور ناخن کے علاوہ جس کسی آلہ سے ( جانور کا ) خون بہہ جائے اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ اونٹ اور غنیمت کا مال ملا، ان میں سے ایک اونٹ بدک کر بھاگ گیا، ایک شخص نے اسے تیر مارا، جس سے وہ رک گیا، آپ نے فرمایا: ”ان جانوروں میں، یا یوں فرمایا: ان اونٹوں میں، جنگل کے وحشی جانوروں کی طرح بعض بدکنے والے ہوتے ہیں تو جو تم کو ان میں سے کوئی ( پکڑنے میں ) تھکا دے، تو اس کے ساتھ اسی طرح کرو“۔
Jam e Tirmazi
1491
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ،‏‏‏‏ عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ،‏‏‏‏ قَال:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ إِنَّا نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا،‏‏‏‏ وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى،‏‏‏‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلُوهُ،‏‏‏‏ مَا لَمْ يَكُنْ سِنًّا،‏‏‏‏ أَوْ ظُفُرًا،‏‏‏‏ وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ:‏‏‏‏ أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ،‏‏‏‏ وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ،‏‏‏‏ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبِي،‏‏‏‏ عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ،‏‏‏‏ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ،‏‏‏‏ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَبَايَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ وَهَذَا أَصَحُّ،‏‏‏‏ وَعَبَايَةُ،‏‏‏‏ قَدْ سَمِعَ مِنْ رَافِعٍ،‏‏‏‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ،‏‏‏‏ لَا يَرَوْنَ أَنْ يُذَكَّى بِسِنٍّ،‏‏‏‏ وَلَا بِعَظْمٍ.
Narrated Rafi' bin Khadij: I said: 'O Messenger of Allah! We expect to meet the enemy tomorrow and we have no knives.' So the Prophet (ﷺ) said: 'As long as it causes blood to flow, and Allah's Name has been mentioned over it, then eat it, provided that it was not done with a tooth or nail. And I will tell you why: As for the tooth it is a bone, and as for the nail it is the knife of the Ethiopians.' Another chain from Rafi' bin Khadij (may Allah be pleased with him) from the Prophet (ﷺ) and it is similar, but the narrator did not mention in it: Abayah, from his father and this is more correct. 'Abayah heard from Rafi'.
رافع بن خدیج رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! کل ہم دشمن سے ملیں گے اور ہمارے پاس ( جانور ذبح کرنے کے لیے ) چھری نہیں ہے ( تو کیا حکم ہے؟ ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو خون بہا دے ۱؎ اور اس پر اللہ کا نام یعنی بسم اللہ پڑھا گیا ہو تو اسے کھاؤ، بجز دانت اور ناخن سے ذبح کیے گئے جانور کے، اور میں تم سے دانت اور ناخن کی ۲؎ تفسیر بیان کرتا ہوں: دانت، ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے ۳؎۔ محمد بن بشار کی سند سے یہ بیان کیا، سفیان ثوری کہتے ہیں عبایہ بن رفاعہ سے، اور عبایہ نے رافع بن خدیج سے اور رافع نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی، اس میں «عباية عن أبيه» کا ذکر نہیں ہے اور یہی بات زیادہ صحیح ہے، عبایہ نے رافع سے سنا ہے، اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ دانت اور ہڈی سے ذبح کرنا درست نہیں سمجھتے ہیں۔
Jam e Tirmazi
1600
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَتَقَدَّمَ سَرْعَانُ النَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏فَتَعَجَّلُوا مِنَ الْغَنَائِمِ، ‏‏‏‏‏‏فَاطَّبَخُوا، ‏‏‏‏‏‏وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُخْرَى النَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏فَمَرَّ بِالْقُدُورِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَ بِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَأُكْفِئَتْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَسَمَ بَيْنَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَعَدَلَ بَعِيرًا بِعَشْرِ شِيَاهٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ وَهَذَا أَصَحُّ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبَايَةُ بْنُ رِفَاعَةَ سَمِعَ مِنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ.
Narrated 'Abayah bin Rifa'ah: From his father, from his grandfather Rafi' bin Khadij, who said: We were with the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey, when the hasty people went rushing ahead to the sheep to cook them, while the Messenger of Allah (ﷺ) was in the rear of the people. Then he passed the kettled and ordered that they be weighed, then he distributed it between them and equated a camel to ten sheep. [Abu 'Eisa said:] Sufyan Ath-Thawri reported it from his father, from 'Abayah, from his grandfather Rafi' bin Khadij, and he did not mention from his father in it. This was narrated to us by Mahmud bin Ghailan (who said:) Waki' narrated it to us from Sufyan. And this is more correct. 'Abayah bin Rifa'ah heard from his grandfather Rafi' bin Khadij. He said: There are narrations on this topic from Tha'labah bin Al-Hakam, Anas, Abu Rihanah, Abu Ad-Darda, 'Abdur-Rahman bin Samurah, Zaid bin Khalid, Jabir, Abu Hurairah, and Abu Ayyub.
رافع بن خدیج رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، جلد باز لوگ آگے بڑھے اور غنیمت سے ( کھانے پکانے کی چیزیں ) جلدی لیا اور ( تقسیم سے پہلے اسے ) پکانے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پیچھے آنے والے لوگوں کے ساتھ تھے، آپ ہانڈیوں کے قریب سے گزرے تو آپ نے حکم دیا اور وہ الٹ دی گئیں، پھر آپ نے ان کے درمیان مال غنیمت تقسیم کیا، آپ نے ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر قرار دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سفیان ثوری نے یہ حدیث بطریق: «عن أبيه سعيد، عن عباية، عن جده رافع بن خديج» روایت کی ہے، اس سند میں عبایہ نے اپنے باپ کے واسطے کا نہیں ذکر کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم سے اس حدیث کو محمود بن غیلان نے بیان کیا وہ کہتے ہیں: ہم سے وکیع نے بیان کیا، اور وکیع سفیان سے روایت کرتے ہیں۔ یہ روایت زیادہ صحیح ہے، عبایہ بن رفاعہ کا سماع ان کے دادا رافع بن خدیج سے ثابت ہے، ۲- اس باب میں ثعلبہ بن حکم، انس، ابوریحانہ، ابوالدرداء، عبدالرحمٰن بن سمرہ، زید بن خالد، جابر، ابوہریرہ اور ابوایوب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
2073
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ الْحُمَّى فَوْرٌ مِنَ النَّارِ فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَامْرَأَةِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ.
Rafi' bin Khadij narrated that the Prophet (S.A.W) said: Fever is from the agitation of the Fire, so cool it with water.
رافع بن خدیج رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار جہنم کی گرمی سے ہوتا ہے، لہٰذا اسے پانی سے ٹھنڈا کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں اسماء بنت ابوبکر، ابن عمر، زبیر کی بیوی، ام المؤمنین عائشہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ( عائشہ رضی الله عنہا کی روایت آگے آ رہی ہے ) ۔
Sahih Bukhari
2488
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ، فَأَصَابَ النَّاسَ جُوعٌ ، فَأَصَابُوا إِبِلًا وَغَنَمًا ، قَالَ : وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُخْرَيَاتِ الْقَوْمِ ، فَعَجِلُوا ، وَذَبَحُوا ، وَنَصَبُوا الْقُدُورَ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقُدُورِ فَأُكْفِئَتْ ، ثُمَّ قَسَمَ فَعَدَلَ عَشَرَةً مِنَ الْغَنَمِ بِبَعِيرٍ ، فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ ، فَطَلَبُوهُ فَأَعْيَاهُمْ ، وَكَانَ فِي الْقَوْمِ خَيْلٌ يَسِيرَةٌ ، فَأَهْوَى رَجُلٌ مِنْهُمْ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ اللَّهُ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ ، فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا . فَقَالَ جَدِّي : إِنَّا نَرْجُو أَوْ نَخَافُ الْعَدُوَّ غَدًا ، وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى ، أَفَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ ؟ قَالَ : مَا أَنْهَرَ الدَّمَ ، وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلُوهُ ، لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ ، أَمَّا السِّنُّ : فَعَظْمٌ ، وَأَمَّا الظُّفُرُ : فَمُدَى الْحَبَشَةِ .
Narrated 'Abaya bin Rafa'a bin Raft' bin Khadij: My grandfather said, We were in the company of the Prophet at Dhul-Hulaifa. The people felt hungry and captured some camels and sheep (as booty). The Prophet was behind the people. They hurried and slaughtered the animals and put their meat in pots and started cooking it. (When the Prophet came) he ordered the pots to be upset and then he distributed the animals (of the booty), regarding ten sheep as equal to one camel. One of the camels fled and the people ran after it till they were exhausted. At that time there were few horses. A man threw an arrow at the camel, and Allah stopped the camel with it. The Prophet said, Some of these animals are like wild animals, so if you lose control over one of these animals, treat it in this way (i.e. shoot it with an arrow). Before distributing them among the soldiers my grandfather said, We may meet the enemies in the future and have no knives; can we slaughter the animals with reeds? The Prophet said, Use whatever causes blood to flow, and eat the animals if the name of Allah has been mentioned on slaughtering them. Do not slaughter with teeth or fingernails and I will tell you why: It is because teeth are bones (i.e. cannot cut properly) and fingernails are the tools used by the Ethiopians (whom we should not imitate for they are infidels).
ہم سے علی بن حکم انصاری نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسروق نے، ان سے عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ان کے دادا (رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام ذوالحلیفہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ لوگوں کو بھوک لگی۔ ادھر ( غنیمت میں ) اونٹ اور بکریاں ملی تھیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لشکر کے پیچھے کے لوگوں میں تھے۔ لوگوں نے جلدی کی اور ( تقسیم سے پہلے ہی ) ذبح کر کے ہانڈیاں چڑھا دیں۔ لیکن بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور وہ ہانڈیاں اوندھا دی گئیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تقسیم کیا اور دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر رکھا۔ ایک اونٹ اس میں سے بھاگ گیا تو لوگ اسے پکڑنے کی کوشش کرنے لگے۔ لیکن اس نے سب کو تھکا دیا۔ قوم کے پاس گھوڑے کم تھے۔ ایک صحابی تیر لے کر اونٹ کی طرف جھپٹے۔ اللہ نے اس کو ٹھہرا دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان جانوروں میں بھی جنگلی جانوروں کی طرح سرکشی ہوتی ہے۔ اس لیے ان جانوروں میں سے بھی اگر کوئی تمہیں عاجز کر دے تو اس کے ساتھ تم ایسا ہی معاملہ کیا کرو۔ پھر میرے دادا نے عرض کیا کہ کل دشمن کے حملہ کا خوف ہے، ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں ( تلواروں سے ذبح کریں تو ان کے خراب ہونے کا ڈر ہے جب کہ جنگ سامنے ہے ) کیا ہم بانس کے کھپچی سے ذبح کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جو چیز بھی خون بہا دے اور ذبیحہ پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو، تو اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ سوائے دانت اور ناخن کے۔ اس کی وجہ میں تمہیں بتاتا ہوں۔ دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔
Sahih Bukhari
2507
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ مِنْ تِهَامَةَ ، فَأَصَبْنَا غَنَمًا وَإِبِلًا ، فَعَجِلَ الْقَوْمُ ، فَأَغْلَوْا بِهَا الْقُدُورَ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهَا فَأُكْفِئَتْ ، ثُمَّ عَدَلَ عَشْرًا مِنَ الْغَنَمِ بِجَزُورٍ ، ثُمَّ إِنَّ بَعِيرًا نَدَّ وَلَيْسَ فِي الْقَوْمِ إِلَّا خَيْلٌ يَسِيرَةٌ ، فَرَمَاهُ رَجُلٌ فَحَبَسَهُ بِسَهْمٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ ، فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا ، قَالَ : قَالَ جَدِّي : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا نَرْجُو أَوْ نَخَافُ أَنْ نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى ، فَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ ؟ فَقَالَ : اعْجَلْ أَوْ أَرْنِي مَا أَنْهَرَ الدَّمَ ، وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، فَكُلُوا لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ ، أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ ، وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ .
Narrated Abaya bin Rifaa: My grandfather, Rafi` bin Khadij said, We were in the valley of Dhul-Hulaifa of Tuhama in the company of the Prophet and had some camels and sheep (of the booty). The people hurried (in slaughtering the animals) and put their meat in the pots and started cooking. Allah's Apostle came and ordered them to upset the pots, and distributed the booty considering one camel as equal to ten sheep. One of the camels fled and the people had only a few horses, so they got worried. (The camel was chased and) a man slopped the camel by throwing an arrow at it. Allah's Apostle said, 'Some of these animals are untamed like wild animals, so if anyone of them went out of your control, then you should treat it as you have done now.' My grandfather said, O Allah's Apostle! We fear that we may meet our enemy tomorrow and we have no knives, could we slaughter the animals with reeds? The Prophet said, Yes, or you can use what would make blood flow (slaughter) and you can eat what is slaughtered and the Name of Allah is mentioned at the time of slaughtering. But don't use teeth or fingernails (in slaughtering). I will tell you why, as for teeth, they are bones, and fingernails are used by Ethiopians for slaughtering. (See Hadith 668)
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو وکیع نے خبر دی، انہیں سفیان ثوری نے، انہیں ان کے والد سعید بن مسروق نے، انہیں عبایہ بن رفاعہ نے اور ان سے ان کے دادا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تہامہ کے مقام ذوالحلیفہ میں تھے ( غنیمت میں ) ہمیں بکریاں اور اونٹ ملے تھے۔ بعض لوگوں نے جلدی کی اور ( جانور ذبح کر کے ) گوشت کو ہانڈیوں میں چڑھا دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے گوشت کی ہانڈیوں کو الٹ دیا گیا۔ پھر ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقسیم میں ) دس بکریوں کا ایک اونٹ کے برابر حصہ رکھا۔ ایک اونٹ بھاگ کھڑا ہوا۔ قوم کے پاس گھوڑوں کی کمی تھی۔ ایک شخص نے اونٹ کو تیر مار کر روک لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان جانوروں میں بھی جنگی جانوروں کی طرح وحشت ہوتی ہے۔ اس لیے جب تک ان کو نہ پکڑ سکو تو تم ان کے ساتھ ہی ایسا سلوک کیا کرو۔ عبایہ نے بیان کیا کہ میرے دادا نے عرض کیا، یا رسول اللہ! ہمیں امید ہے یا خطرہ ہے کہ کہیں کل دشمن سے مڈبھیڑ نہ ہو جائے اور چھری ہمارے ساتھ نہیں ہے۔ کیا دھار دار لکڑی سے ہم ذبح کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، لیکن ذبح کرنے میں جلدی کرو۔ جو چیز خون بہا دے ( اسی سے کاٹ ڈالو ) اگر اس پر اللہ کا نام لیا جائے تو اس کو کھاؤ اور ناخن اور دانت سے ذبح نہ کرو۔ اس کی وجہ میں بتلاتا ہوں دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھریاں ہیں۔