TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ذبیحہ سے نرمی کرنے، اس کو جلدی جلدی ذبح کر دینے، چھری کو تیز کرنے اور دودھ والے جانور کو چھوڑ دینے کا بیان - ذبیحہ سے نرمی کرنے، اس کو جلدی جلدی ذبح کر دینے، چھری کو تیز کرنے اور دودھ والے جانور کو چھوڑ دینے کا بیان - شکار اور ذبائح کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 7 of شکار اور ذبائح کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 7 of 10 · 5 Hadith
۔
۔ سیدنا شداد بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: دو چیزیں میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یاد کی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے ہر چیز پر احسان کرنا فرض قرار دیا ہے، پس جب تم کسی کو ضرورت کے تحت قتل کرو تو اچھے انداز میں قتل کرو اور جب تم ذبح کرو تو ذبح کا اچھا انداز اختیار کرو، اپنی چھری تیز رکھو اور اپنے ذبح کئے جانے والے جانور کو آرام پہنچائو۔
Takhreej
(۷۶۰۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۹۵۵(انظر: ۱۷۱۱۶)
7602
Sahih
۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چھری تیز کرنے کا اور اس کو جانورں سے اوجھل رکھنے کا حکم دیا اور یہ بھی فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی جانور ذبح کرے تو جلدی جلدی ذبح کر دے۔
Takhreej
(۷۶۰۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابن لھیعۃ، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۱۷۲(انظر: ۵۸۶۴)
Explanation
فوائد:… جلدی ذبح کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس انداز میں ذبح نہ کیا جائے کہ جانور کو خواہ مخواہ کی تکلیف ہوتی رہے، مثلا جانور کو دیر تک لٹائے رکھنا، گلہ کاٹنے کے لیے چھری بہت آہستہ چلانا، ذبح کے ماہرین اس مسئلہ کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
7603
Zaeef
۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے چڑیا کو بغیر حق کے ذبح کیا اس سے روز قیامت اللہ تعالیٰ پوچھیں گے۔ کسی نے پوچھا: اس کا حق کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے ذبح کیا جائے اور اس کی گردن اس طرح نہ پکڑی جائے کہ وہ مکمل کٹ جائے۔
Takhreej
(۷۶۰۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ صھیب الحذاء (انظر: ۶۸۶۱)
Explanation
فوائد:… یہ روایت تو ضعیف ہے، بہرحال اگر ذبح کے دوران مکمل گردن کٹ بھی جائے تو اس سے جانور کی حلت متاثر نہیں ہوتی اور اس پر کراہت یا حرمت کا حکم نہیں لگایا جا سکتا۔
7604
Zaeef
۔
۔ سیدنا قرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں بکری ذبح کرتاہوں اور مجھے اس پر ترس آتا ہے کہ میں اسے ذبح کر رہا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو بکری پر رحم کرتا ہے تو اللہ تجھ پر رحم کرے گا۔
Takhreej
(۷۶۰۵) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الحاکم: ۴/ ۲۳۱، والبزار: ۱۲۲۱، والطبرانی فی الکبیر : ۱۹/ ۴۵ (انظر: ۱۵۵۹۲)
7605
Sahih
۔
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے، میں نے ایک بکری ذبح کرنے کا ارادہ کیا، تو اس نے آواز نکالی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی آواز سن لی اور فرمایا: اے جابر! دودھ اور نسل والی بکری ذبح نہ کرنا۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! یہ بکری چھوٹی ہے، میں نے اسے کچی اورترکھجوریں چارہ ڈال کر موٹا تازہ کیا ہے۔
Takhreej
(۷۶۰۶) تخریج: اسنادہ ضعیف، عمر بن سلمۃ وابوہ مجھولان (انظر: ۱۵۲۶۶)
Explanation
فوائد:… تمام احادیث اپنے مفہوم میںواضح ہیں، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جانور کے لیے مشکل ترین مرحلہ ذبح کا ہوتا ہے، لیکن حتی الوسع ایسا طریقہ اختیار کیا جائے کہ اس کو کم سے کم تکلیف ہو۔
7606
Zaeef