TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

معراض کے شکار کا بیان - معراض کے شکار کا بیان - شکار اور ذبائح کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of شکار اور ذبائح کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 10 · 3 Hadith
۔
۔ سیدنا عدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا کہ جو شکار تیر کے درمیانی موٹے حصے کے لگنے سے مرے گا، اس کا کیا حکم ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شکار کو تیر کی دھار لگے اور وہ اس میںگھس جائے اس کو کھا لو اور جب تیر کا درمیانی حصہ لگے اور شکار کو قتل کر دے تو وہ لاٹھی سے مارے ہوئے جانور کی مانند ہے، پس اسے نہیں کھانا۔
Takhreej
(۷۵۹۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۴۷۵، ومسلم: ۱۹۲۹(انظر: ۱۹۳۷۱)
Explanation
فوائد:… تیر کا درمیانی حصہ محض ایک لاٹھی کی مانند ہوتا ہے، اس کو معراض کہا گیا ہے، اس کے ذریعے جو شکار مر جائے گا، وہ حرام ہو گا، کیونکہ یہ حصہ تیر دھار کے حکم میں نہیں آتا اور نہ شکار میں پیوست ہوتا ہے۔
7590
Sahih
۔
۔ سیدنا عدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے کتے کو شکار پر چھوڑو اور بسم اللہ بھی کہو ، لیکن اگر یہ کتا دوسرے کتوں کے ساتھ مل جائے تو وہ شکار نہیں کھانا، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ کس کتے نے اس شکار کو مارا ہے (جبکہ تم نے صرف اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی ہے)، اسی طرح جب تم تیر پھینکو اور بسم اللہ کہی ہو اور وہ تیر شکار میں پیوست ہو گیا ہو تو اس کو کھا لو، اگر وہ پیوست نہ ہو اور تیر کے درمیانی موٹے حصے کی ضرب سے مرے ہوئے شکار کو نہ کھاؤ اور بندق کے کیے گئے شکار کو نہ کھاؤ، الا یہ کہ اس کو ذبح کر لو۔
Takhreej
(۷۵۹۱) تخریج: حدیث صحیح دون قولہ: ولا تأکل من البندقۃ الا ما ذکیت وھذا اسناد ضعیف لانقطاعہ ما بین ابراہیم النخعی وعدی بن حاتم، أخرجہ مطولا لکن دون ذکر صید البندقۃ البخاری: ۵۴۷۵، ومسلم: ۱۹۲۹(انظر: ۱۹۳۹۲)
Explanation
فوائد:… بندق سے مراد وہ کنکر ہیں جو مٹی سے بنا کر خشک کر لیے جاتے ہیں اور وہ شکار کو مارے جاتے ہیں، اگر شکار مر جائے تو وہ مردار ہوتا ہے ،کیونکہ وہ لاٹھی سے مارے ہوئے جانور کی طرح ہوتا ہے، جس کو سورۂ مائدہ کی آیت نمبر (۳) میں حرام قرار دیا گیا ہے، ہاں اگر ایسا جانور زندہ مل جائے تو اس کو ذبح کیا جا سکتا ہے۔
7591
Sahih
۔
۔ سیدنا عدی ہی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم لوگ تیر کے درمیانے موٹے حصے سے شکار کرتے ہیں، کیا وہ ہمارے لیے حلال ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو تیر کے درمیانے موٹے حصے سے شکار کرو، اس کو نہ کھاؤ، الا یہ کہ اس کو خود ذبح کر لو۔
Takhreej
(۷۵۹۲) تخریج: صحیح بالطرق، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۵/ ۳۷۵، وعبد الرزاق: ۸۵۳۱(انظر: ۱۸۲۵۸)
7592
Sahih