TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3373 - جس نے دنیا میں شراب پی اسے آخرت میں جنت کی (پاک) شراب نہ ملے گی - Chapters on drinks - Sunnan Ibn e Maja in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 2 in this chapter
جس نے دنیا میں شراب پی اسے آخرت میں جنت کی (پاک) شراب نہ ملے گی
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ،‏‏‏‏ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ عَنْ نَافِعٍ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا،‏‏‏‏ لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا أَنْ يَتُوبَ .
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever drinks wine in this world, he will not drink it in the Hereafter, unless he repents.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دنیا میں شراب پئے گا، وہ آخرت میں نہیں پی سکے گا مگر یہ کہ وہ توبہ کر لے ۔
3373
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 4, Book 30, Hadith 3373 Arabic reference : Book 30, Hadith 3498
Conclusion
تخریج
«صحیح مسلم/الأشربة ۸ (۲۰۰۳)،(تحفة الأشراف:۷۹۵۱)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأشربة ۱ (۵۵۷۵)، سنن الترمذی/الأشربة ۱ (۱۸۶۱)، موطا امام مالک/الأشربة ۴ (۱۱)، مسند احمد (۲/۱۹،۲۲،۲۸،۵/۹۸،۱۰۶،۱۳۳،۱۴۲)، سنن الدارمی/الأشربة ۳ (۲۱۳۵)

Related Chapters

350
1
باب: ریشم پہننے کی سخت ممانعت اور یہ بیان کہ اسے دنیا میں پہننے والا آخرت میں نہیں پہنے گا۔
Sunnan Nisai
2
Chapter: What Has Been Related About: Whoever Drinks Wine Then Lash Him, And Whoever Does It A Fourth Time, Then Kill Him
باب: شرابی کو کوڑے لگانے اور چوتھی بار شراب پینے پر اسے قتل کر دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: The Hadith: The World Is Compared To The Hereafter Is But Like What One Of You Gets When Placing His Water In The Sea
باب: آخرت کے مقابلے میں دنیا سمندر کے ایک قطرے کی مانند ہے
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About 'The World Is A Prison For The Believer And A Paradise For The Disbeliever
باب: دنیا مومن کے لیے قید خانہ (جیل) اور کافر کے لیے جنت (باغ و بہار) ہے
Jam e Tirmazi
5
Chapter: Concerning Pardon And Al-Afiyah
باب: دنیا و آخرت میں عافیت طلبی کا بیان
Jam e Tirmazi
6
شراب کی حرمت، اس کو پینے والے پر لعنت کرنے اور اس کے آخرت میں شراب سے محروم ہو جانے کا بیانا، الا یہ کہ وہ توبہ کر لے
Musnad Ahmad
7
شراب اور اس کے پینے والے پر لعنت اور آخرت کی شراب سے اس کے محروم ہو جانے کا بیان، الا یہ کہ وہ توبہ کر لے
Musnad Ahmad
8
نسب وغیرہ کے معاملے میں آباء پر مفاخرت کرنے سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
9
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا موت کے سکرات سے واسطہ پڑنا، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دنیا اور آخرت میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیئے جانے اور آپ کے رفیق اعلیٰ کو منتخب کرنے کا بیان اور اس بات کا ذکر کہ یہ آخری الفاظ تھے جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زبان مبارک سے ادا ہوئے
Musnad Ahmad
10
جو جنتی جنت میں جس چیز کی خواہش کرے گا، وہ اسے مل جائے گی، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اور جنت میں ہر وہ چیز مہیا ہوگی جسے دل چاہیں گے اور آنکھیں پسند کریں گی۔
Musnad Ahmad
11
(6) CHAPTER. What is said regarding the one who regards an alcoholic drink lawful to drink, and calls it by another name.
اس شخص کی برائی کے بیان میں جو شراب کا نام بدل کر اسے حلال کرے
Sahih Bukhari
12
(2) CHAPTER. The example of this world in contrast with the Hereafter.
آخرت کے سامنے دنیا کی کیا حقیقت ہے
Sahih Bukhari
13
(13) CHAPTER. The rich (who do not spend their wealth on good deeds) are infact the poor (i.e., little rewarded).
جو لوگ دنیا میں زیادہ ( مالدار ) ہیں وہی آخرت میں کم ہوں گے
Sahih Bukhari
14
(19) CHAPTER. Al-Wala is for the manumitter. (Regarding) the inheritance of Al-Laqit (a small child or an insane person, who has nobody to be responsible for him).
غلام لونڈی کا ترکہ وہی لے گا جو اسے آزاد کرے اور جو لڑکا راستہ میں پڑا ہوا ملے اس کی وراثت کا بیان
Sahih Bukhari
15
Chapter: The obligation to wash away urine and other impurities if they result in the Masjid, and the ground may be purified with water with no need to scrub it
جب پیشاب یا کوئی اور نجاست مسجد میں لگ گئی ہوتواسے دھونا ضروری ہے اورزمین پانی سے پاک ہو جاتا ہے اس کے کھودنے کی ضرورت نہیں
Sahih Muslim
16
Chapter: Encouragement to give charity before there is no one to accept it
صدقہ کرنے کی ترغیب اس سے پہلے کہ اسے قبول کرنے والا نہ ملے
Sahih Muslim
17
Chapter: If a fasting person is invited to eat and he does not want to break his fast, or someone insults him or argues with him, it is recommended for him to say: I am Fasting , and he should protect his fast from obscene speech, ignorance and the like
جب روزہ دار کو کھانے کی دعوت دی جائے تور وہ (اپنے نفلی روزے کو)افطار نہ کرنا چاہے ‘یا اسے گالی دی جائے اور اس سے جگھڑا کیا جائے تو وہ کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں اور وہ اپنے روزے کو فحش گوئی اور جاہلانہ رویے سے پاک رکھے
Sahih Muslim
18
Chapter: The punishment of one who drinks Khamr if he does not repent from it: he will be denied it in the hereafter
جس نے شراب پی اور اس (کے پینے) سے توبہ نہیں کی اس کی سزا یہ ہو گی کہ آخرت میں وہ اس سے روک دی جا ئے گی۔
Sahih Muslim
19
Chapter: Glad Tidings That Whomever Allah Conceals In This World He Will Conceal Him In The Hereafter
جس کی اللہ تعالیٰ نے دنیا میں پردہ پوشی کی اس کے لیے بشارت ہے کہ وہ آخرت میں بھی اس کی پردہ پوشی فرمائے گا
Sahih Muslim
20
Chapter: The Virtue Of The Supplication: O Allah, Give Us Good In This World And Good In The Hereafter, And Save Us From The Torment Of The Fire
اس دعا کی فضیلت: اے اللہ! ہمیں دنیا میں اچھائی عطا فرما اور آخرت میں بھی اچھائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا
Sahih Muslim
21
Chapter: The Virtue Of Constant Dhikr, Thinking Of The Hereafter, And Remembering That Allah Is Always Watching; Permissibility Of Stopping That Sometimes, And Attending To Worldly Matters
ہمیشہ ذکر، امور آخرت کی فکر اور (اپنے اعمال کی) نگرانی میں لگے رہنا اور بعض اوقات ان کو چھوڑ کر دنیا کے کام کاج کرنے کا جواز
Sahih Muslim
22
Chapter: The Most Affluent Of People In This World Will Be Dipped In The Fire, And The Most Destitute Will Be Dipped In Paradise
دنیاوالوں میں سب سے زیادہ نعمتوں والے کو جہنم میں ایک ڈبکی لگانا اور ان میں سب سے زیادہ تکلیف اٹھانے والے کو جنت(کی نہروں) میں ایک غوطہ لگانا
Sahih Muslim
23
Chapter: The Believer Is Rewarded For His Good Deeds In This World, And In The Hereafter, And The Disbeliever Is Rewarded For His Good Deeds In This World
مومن کو اس کی نیکیوں کا صلہ دینا اور آخرت دونوں میں ملتا ہے اور کافر کو اس کی نیکیوں کا صلہ فوری طور پر دنیا ہی میں مل جاتا ہے
Sahih Muslim
24
Chapter: Rivers Of Paradise In This World
دنیا میں جنت کی(طرف سےآئی ہوئی )جو نہریں ہیں
Sahih Muslim
25
Chapter: The Arrogant Will Enter The Fire, And The Humble Will Enter Paradise
آگ میں سرکش اور جبر کرنے والے لوگ داخل ہوں گے اور جنت میں(اسباب دنیا کے لحاظ سے) کمزور لوگ داخل ہوں گے
Sahih Muslim
26
Chapter: Attributes By Which The People Of Paradise And The People Of The Fire May Be Recognized In This World
وہ صفات جن کے ذریعے سے دنیا میں اہل جنت اور اہل جہنم کی پہچان ہو سکتی ہے
Sahih Muslim
27
دنیا میں مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے
Sahih Muslim
28
CHAPTER: If A Man Used To Do A Righteous Deed Then Is Interrupted By Sickness Or Travel.
باب: جب کوئی شخص کوئی نیک عمل ( پابندی سے ) کر رہا ہو پھر کوئی مرض یا سفر اسے مشغول کر دے اور وہ اسے نہ کر سکے تو کیا اسے اس عمل کا ثواب ملے گا ؟
Sunnan Abu Dawood
29
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کہ لوگ شراب کا نام بدل کر اسے پیئیں گے
Sunnan Ibn e Maja
30
(19)Chapter: What Has Been Related That When One Of You Awakens From His Sleep, Then Let Him Not Put His Hand Into Vessel Until He Washes it.
باب: جب آدمی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے جب تک کہ اسے دھو نہ لے
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About Hastening The Salat When The Imam Delays It
باب: جب امام نماز دیر سے پڑھے تو اسے جلد پڑھ لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: , What Has Been Related About One Who Caught A Rak'ah About One Asr Before The Sun Has Set
باب: جسے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت مل جائے اسے عصر مل گئی
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related [About] Whoever Leads People (In Salat) While They Dislike Him
باب: جو کسی قوم کی امامت کرے، اور لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں
Jam e Tirmazi
34
Chapter: When One Sleeps Past The Night Prayer He Prays It During The Daytime
باب: تہجد پڑھے بغیر سو جائے تو اسے دن میں پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: [What Had Been Related] About The Lord Blessed And Exalted Is He, Descending To The Earth's Heaven Every Night
باب: اللہ عزوجل کے ہر رات آسمان دنیا پر اترنے کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About The Rewards For One Whose Child Died Before Him
باب: اس شخص کے ثواب کا بیان جس نے کوئی لڑکا ذخیرہ آخرت کے طور پر پہلے بھیج دیا ہو
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About Looking at The Proposed Woman
باب: جس عورت کو شادی کا پیغام دیا جائے، اسے دیکھ لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About A Person Who Marries A Woman, Then Divorces Her Before Having Intercourse With Her: Can He Marry Her Daughter Or Not?
باب: جو کسی عورت سے شادی کرے پھر دخول سے پہلے ہی اسے طلاق دیدے تو کیا وہ اس عورت کی بیٹی سے شادی کر سکتا ہے؟​
Jam e Tirmazi
39
Chapter: : What Has Been Related About One Who Divorced His Wife Three Times, Then She Married Someone Else, And He Divorced Her Before Having Intercourse With Her
باب: آدمی بیوی کو تین طلاق دیدے پھر اس سے کوئی اور شادی کر کے دخول سے پہلے اسے طلاق دیدے تو اس کے حکم کا بیان​
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What has been related about a man who sees a woman and becomes fascinated with her
باب: آدمی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اسے پسند آ جائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition For The Muslim To Give Wine To The Dhimmi When Bartering With Him
باب: مسلمان ذمی کو شراب بیچنے کے لیے دے یہ منع ہے
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About The Sale Of Wine And The Prohibition Of That
باب: شراب کی بیع اور اس کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: The Prohibition To Use Wine To Make Vinegar
باب: شراب کا سرکہ بنانا منع ہے
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About The Road: When There Is A Disagreement About It, How Should It Be Made?
باب: راستے کے سلسلہ میں جب اختلاف ہو تو اسے کتنا چھوڑا جائے؟
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About Legal Punishment For The Drunkard
باب: شرابی کی حد کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About One Who Shoots Some Game, Then He Finds It Dead In The Water
باب: شکاری شکار پر تیر چلائے پھر اسے پانی میں مردہ پائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
47
Chapter: Whoever Vows To Obey Allah, Then He Should Obey Him
باب: جو شخص اللہ کی اطاعت کی نذر مانے تو اسے اللہ کی اطاعت کرنی چاہئے
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About One Who Fights For Show And For Worldly Matters
باب: ریا و نمود اور دنیا طلبی کے لیے جہاد کرنے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About Drinking Khamr
باب: شرابی کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About Grains (And Berries) From Which Khamr Is Derived
باب: ان غلوں اور پھلوں کا بیان جن سے شراب بنائی جاتی ہے
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

128
Jam e Tirmazi
1425
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا،‏‏‏‏ نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الْآخِرَةِ،‏‏‏‏ وَمَنْ سَتَرَ عَلَى مُسْلِمٍ،‏‏‏‏ سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ،‏‏‏‏ وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب،‏‏‏‏ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ،‏‏‏‏ وَابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ،‏‏‏‏ عَنْ الْأَعْمَشِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي صَالِحٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ رِوَايَةِ أَبِي عَوَانَةَ،‏‏‏‏ وَرَوَى أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ،‏‏‏‏ عَنْ الْأَعْمَشِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حُدِّثْتُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ،‏‏‏‏ وَكَأَنَّ هَذَا أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ عُبَيْدُ بْنُ أَسْبَاطَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبِي،‏‏‏‏ عَنْ الْأَعْمَشِ،‏‏‏‏ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever relieves a Muslim of a burden from the burdens of the world, Allah will relieve him of a burden from the burdens of the Hereafter. And whoever covers (the faults of) a Muslim, Allah will cover (his faults) for him in the world and the Hereafter. And Allah is engaged in helping the worshipper as long as the worshipper is engaged in helping his brother.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مومن سے دنیا کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کی اللہ اس کے آخرت کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کرے گا، اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی تو اللہ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا، اللہ بندے کی مدد میں لگا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث کو اسی طرح کئی لوگوں نے بطریق: «الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم»،‏‏‏‏ اور اسباط بن محمد نے اعمش سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ابوصالح کے واسطہ سے بیان کیا گیا ہے، انہوں نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے، ۳- ہم سے اسے عبید بن اسباط بن محمد نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے اعمش کے واسطہ سے یہ حدیث بیان کی، ۴- اس باب میں عقبہ بن عامر اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Sunnan Ibn e Maja
225
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا، ‏‏‏‏‏‏نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا، ‏‏‏‏‏‏سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلَّا حَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَنَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ .
It was narrated that Abu Hurairah said: The Messenger of Allah said: 'Whoever relieves a Muslim of some worldly distress, Allah will relieve him of some of the distress of the Day of Resurrection, and whoever conceals (the faults of) a Muslim, Allah will conceal him (his faults) in this world and the Day of Resurrection. And whoever relives the burden from a destitute person, Allah will relieve him in this world and the next. Allah will help His slave so long as His slave helps his brother. Whoever follows a path in pursuit of knowledge, Allah will make easy fro him a path to paradise. No people gather in one of the houses of Allah, reciting the Book of Allah and teaching it to one another, but the angels will surround them, tranquility will descend upon them, mercy will envelop them and Allah will mention them to those who are with Him. And whoever is hindered because of his bad deeds, his lineage will be of no avail to him.'
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کسی مسلمان کی دنیاوی پریشانیوں میں سے کسی پریشانی کو دور کر دیا، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی پریشانیوں میں سے بعض پریشانیاں دور فرما دے گا، اور جس شخص نے کسی مسلمان کے عیب کو چھپایا اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کے عیب کو چھپائے گا، اور جس شخص نے کسی تنگ دست پر آسانی کی، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس پر آسانی کرے گا، اور اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے، اور جو شخص علم دین حاصل کرنے کے لیے کوئی راستہ چلے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے راستہ کو آسان کر دیتا ہے، اور جب بھی اللہ تعالیٰ کے کسی گھر میں کچھ لوگ اکٹھا ہو کر قرآن کریم پڑھتے ہیں یا ایک دوسرے کو پڑھاتے ہیں، تو فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں، اور ان پر سکینت نازل ہوتی ہے، انہیں رحمت ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کا ذکر اپنے مقرب فرشتوں میں کرتا ہے، اور جس کے عمل نے اسے پیچھے کر دیا، تو آخرت میں اس کا نسب اسے آگے نہیں کر سکتا ۔
Sunnan Ibn e Maja
257
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏ وَالْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُعَاوِيَةَ النَّصْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْنَهْشَلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الضَّحَّاكِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَوْ أَنَّ أَهْلَ الْعِلْمِ صَانُوا الْعِلْمَ وَوَضَعُوهُ عِنْدَ أَهْلِهِ لَسَادُوا بِهِ أَهْلَ زَمَانِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنَّهُمْ بَذَلُوهُ لِأَهْلِ الدُّنْيَا لِيَنَالُوا بِهِ مِنْ دُنْيَاهُمْ فَهَانُوا عَلَيْهِمْ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ مَنْ جَعَلَ الْهُمُومَ هَمًّا وَاحِدًا هَمَّ آخِرَتِهِ كَفَاهُ اللَّهُ هَمَّ دُنْيَاهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ تَشَعَّبَتْ بِهِ الْهُمُومُ فِي أَحْوَالِ الدُّنْيَا، ‏‏‏‏‏‏لَمْ يُبَالِ اللَّهُ فِي أَيِّ أَوْدِيَتِهَا هَلَكَ .
It was narrated that 'Abdullah bin Mas'ud said: If the people of knowledge had taken care of it and presented it only to those who cared for it, they would have become the leaders of their age by virtue of that. But they squandered it on the people of wealth and status in this world in order to gain some worldly benefit, so the people of wealth and status began to look down on them. I heard your Prophet say: 'Whoever focuses all his concerns on one issue, the concerns of the Hereafter, Allah will suffice him and spare him the worries of this world. But whoever wanders off in concern over different worldly issues, Allah will not care in which of these valleys he is destroyed.' (Da'if) Another chain with similar wording.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا اگر اہل علم علم کی حفاظت کرتے، اور اس کو اس کے اہل ہی کے پاس رکھتے تو وہ اپنے زمانہ والوں کے سردار ہوتے، لیکن ان لوگوں نے دنیا طلبی کے لیے اہل دنیا پر علم کو نچھاور کیا، تو ان کی نگاہوں میں ذلیل ہو گئے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے اپنی تمام تر سوچوں کو ایک سوچ یعنی آخرت کی سوچ بنا لیا، تو اللہ تعالیٰ اس کے دنیاوی غموں کے لیے کافی ہو گا، اور جس کی تمام تر سوچیں دنیاوی احوال میں پریشان رہیں، تو اللہ تعالیٰ کو کچھ پرواہ نہیں کہ وہ کس وادی میں ہلاک ہو جائے ۱؎۔
Sunnan Ibn e Maja
3881
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ،‏‏‏‏ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ،‏‏‏‏ عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النُّجُودِ،‏‏‏‏ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي ظَبْيَةَ،‏‏‏‏ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا مِنْ عَبْدٍ بَاتَ عَلَى طُهُورٍ،‏‏‏‏ ثُمَّ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ،‏‏‏‏ فَسَأَلَ اللَّهَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا،‏‏‏‏ أَوْ مِنْ أَمْرِ الْآخِرَةِ،‏‏‏‏ إِلَّا أَعْطَاهُ .
It was narrated from Mu’adh bin Jabal that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “There is no person who goes to bed in a state of purity, then wakes up at night, and asks Allah for something in this world or the Hereafter, but it will be given to him.”
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی بندہ رات کو باوضو سوئے، اور پھر رات میں اٹھ کر اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت کی کسی چیز کا سوال کرے تو اللہ تعالیٰ اسے دیتا ہے ۔
Sunnan Ibn e Maja
4106
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ،‏‏‏‏ وَالْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ،‏‏‏‏ عَنْ مُعَاوِيَةَ النَّصْرِيِّ،‏‏‏‏ عَنْنَهْشَلٍ،‏‏‏‏ عَنْ الضَّحَّاكِ،‏‏‏‏ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ مَنْ جَعَلَ الْهُمُومَ هَمًّا وَاحِدًا هَمَّ الْمَعَادِ،‏‏‏‏ كَفَاهُ اللَّهُ هَمَّ دُنْيَاهُ،‏‏‏‏ وَمَنْ تَشَعَّبَتْ بِهِ الْهُمُومُ فِي أَحْوَالِ الدُّنْيَا،‏‏‏‏ لَمْ يُبَالِ اللَّهُ فِي أَيِّ أَوْدِيَتِهِ هَلَكَ .
‘Abdullah said: “I heard your Prophet (ﷺ) say: ‘Whoever focuses all his concerns on one thing, the Hereafter, Allah will relieve him of worldly concerns, but whoever has disparate concerns scattered among a number of worldly issues, Allah will not care in which of its valleys he died.’”
اسود بن یزید کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے تمہارے محترم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے اپنے سارے غموں کو آخرت کا غم بنا لیا تو اللہ تعالیٰ اس کی دنیا کے غم کے لیے کافی ہے، اور جو دنیاوی معاملات کے غموں اور پریشانیوں میں الجھا رہا، تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی پروا نہیں کہ وہ کس وادی میں ہلاک ہوا ۔
Jam e Tirmazi
662
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ الصَّدَقَةَ وَيَأْخُذُهَا بِيَمِينِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَيُرَبِّيهَا لِأَحَدِكُمْ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ مُهْرَهُ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى إِنَّ اللُّقْمَةَ لَتَصِيرُ مِثْلَ أُحُدٍ . وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ سورة التوبة آية 104، ‏‏‏‏‏‏وَيَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ سورة التوبة آية 104، ‏‏‏‏‏‏و يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ سورة البقرة آية 276. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ قَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ:‏‏‏‏ وَمَا يُشْبِهُ هَذَا مِنَ الرِّوَايَاتِ مِنَ الصِّفَاتِ، ‏‏‏‏‏‏وَنُزُولِ الرَّبِّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ قَدْ تَثْبُتُ الرِّوَايَاتُ فِي هَذَا وَيُؤْمَنُ بِهَا وَلَا يُتَوَهَّمُ وَلَا يُقَالُ كَيْفَ. هَكَذَا رُوِيَ عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُمْ قَالُوا فِي هَذِهِ الْأَحَادِيثِ:‏‏‏‏ أَمِرُّوهَا بِلَا كَيْفٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا قَوْلُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا الْجَهْمِيَّةُ فَأَنْكَرَتْ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالُوا:‏‏‏‏ هَذَا تَشْبِيهٌ وَقَدْ ذَكَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كِتَابهِ الْيَدَ وَالسَّمْعَ وَالْبَصَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَتَأَوَّلَتْ الْجَهْمِيَّةُ هَذِهِ الْآيَاتِ فَفَسَّرُوهَا عَلَى غَيْرِ مَا فَسَّرَ أَهْلُ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالُوا:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَخْلُقْ آدَمَ بِيَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالُوا:‏‏‏‏ إِنَّ مَعْنَى الْيَدِ هَاهُنَا الْقُوَّةُ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا يَكُونُ التَّشْبِيهُ إِذَا قَالَ:‏‏‏‏ يَدٌ كَيَدٍ أَوْ مِثْلُ يَدٍ أَوْ سَمْعٌ كَسَمْعٍ أَوْ مِثْلُ سَمْعٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا قَالَ:‏‏‏‏ سَمْعٌ كَسَمْعٍ أَوْ مِثْلُ سَمْعٍ فَهَذَا التَّشْبِيهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا إِذَا قَالَ:‏‏‏‏ كَمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى:‏‏‏‏ يَدٌ وَسَمْعٌ وَبَصَرٌ وَلَا يَقُولُ كَيْفَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَقُولُ مِثْلُ سَمْعٍ وَلَا كَسَمْعٍ، ‏‏‏‏‏‏فَهَذَا لَا يَكُونُ تَشْبِيهًا، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ كَمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى فِي كِتَابهِ:‏‏‏‏ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ سورة الشورى آية 11.
Abu Hurairah narrated that : the Messenger of Allah said: Indeed Allah accepts charity, and He accepts it with His Right (Hand) to nurture it for one of you, just like one of you would nuture his foal, until the bite (of food) becomes as large as Uhud. The Book of Allah, the Mighty and Sublime testifies to that: 'He accepts repentance from His worshipers, and accepts charity.'And: 'Allah will destroy Riba and give increase for charity.' (Abu Eisa) said: This Hadith is (Hasan) Sahih.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ صدقہ قبول کرتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لیتا ہے اور اسے پالتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے کے بچھڑے کو پالتا ہے یہاں تک کہ لقمہ احد پہاڑ کے مثل ہو جاتا ہے۔ اس کی تصدیق اللہ کی کتاب ( قرآن ) سے ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «ألم يعلموا أن الله هو يقبل التوبة عن عباده ويأخذ الصدقات» ”کیا انہیں نہیں معلوم کہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور صدقات لیتا ہے“ اور «‏ ( يمحق الله الربا ويربي الصدقات‏» ”اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- نیز عائشہ رضی الله عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے، ۳- اہل علم میں سے بہت سے لوگوں نے اس حدیث کے بارے میں اور اس جیسی صفات کی دوسری روایات کے بارے میں اور باری تعالیٰ کے ہر رات آسمان دنیا پر اترنے کے بارے میں کہا ہے کہ ”اس سلسلے کی روایات ثابت ہیں، ان پر ایمان لایا جائے، ان میں کسی قسم کا وہم نہ کیا جائے گا، اور نہ اس کی کیفیت پوچھی جائے۔ اور اسی طرح مالک، سفیان بن عیینہ اور عبداللہ بن مبارک سے مروی ہے، ان لوگوں نے ان احادیث کے بارے میں کہا ہے کہ ان حدیثوں کو بلاکیفیت جاری کرو ۱؎ اسی طرح کا قول اہل سنت و الجماعت کے اہل علم کا ہے، البتہ جہمیہ نے ان روایات کا انکار کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ ان سے تشبیہ لازم آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کے کئی مقامات پر ”ہاتھ، کان، آنکھ“ کا ذکر کیا ہے۔ جہمیہ نے ان آیات کی تاویل کی ہے اور ان کی ایسی تشریح کی ہے جو اہل علم کی تفسیر کے خلاف ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے آدم کو اپنے ہاتھ سے پیدا نہیں کیا، دراصل ہاتھ کے معنی یہاں قوت کے ہیں۔ اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں: تشبیہ تو تب ہو گی جب کوئی کہے: «يد كيد أو مثل يد» یا «سمع كسمع أو مثل سمع» ”یعنی اللہ کا ہاتھ ہمارے ہاتھ کی طرح ہے، یا ہمارے ہاتھ کے مانند ہے، اس کا کان ہمارے کان کی طرح ہے یا ہمارے کان کے مانند ہے“ تو یہ تشیبہ ہوئی۔ ( نہ کہ صرف یہ کہنا کہ اللہ کا ہاتھ ہے، اس سے تشبیہ لازم نہیں آتی ) اور جب کوئی کہے جیسے اللہ نے کہا ہے کہ اس کے ہاتھ کان اور آنکھ ہے اور یہ نہ کہے کہ وہ کیسے ہیں اور نہ یہ کہے کہ فلاں کے کان کی مانند یا فلاں کے کان کی طرح ہے تو یہ تشبیہ نہیں ہوئی، یہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا: «ليس كمثله شيئ وهو السميع البصير» ”اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے اور وہ سمیع ہے بصیر ہے“۔
Jam e Tirmazi
2458
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ إِسْحَاق، عَنِ الصَّبَّاحِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ اسْتَحْيُوا مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ قَالَ:‏‏‏‏ قُلْنَا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ إِنَّا لَنَسْتَحْيِي وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَيْسَ ذَاكَ وَلَكِنَّ الِاسْتِحْيَاءَ مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ أَنْ تَحْفَظَ الرَّأْسَ وَمَا وَعَى، ‏‏‏‏‏‏وَتَحْفَظَ الْبَطْنَ وَمَا حَوَى، ‏‏‏‏‏‏وَتَتَذَكَّرَ الْمَوْتَ وَالْبِلَى، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ تَرَكَ زِينَةَ الدُّنْيَا، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدِ اسْتَحْيَا مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَبَانَ بْنِ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الصَّبَّاحِ بْنِ مُحَمَّدٍ.
Abdullah bin Mas'ud narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: Have Haya' for Allah as is His due. [He said:] We said: O Prophet of Allah! We have Haya', and all praise is due to Allah. He said: Not that, but having the Haya' for Allah which He is due is to protect the head and what it contains and to protect the insides and what it includes, and to remember death and the trial, and whoever intends the Hereafter, he leaves the adornments of the world. So whoever does that, then he has indeed fulfilled Haya', meaning the Haya' which Allah is due.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سے شرم و حیاء کرو جیسا کہ اس سے شرم و حیاء کرنے کا حق ہے“ ۱؎، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اللہ سے شرم و حیاء کرتے ہیں اور اس پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”حیاء کا یہ حق نہیں جو تم نے سمجھا ہے، اللہ سے شرم و حیاء کرنے کا جو حق ہے وہ یہ ہے کہ تم اپنے سر اور اس کے ساتھ جتنی چیزیں ہیں ان سب کی حفاظت کرو ۲؎، اور اپنے پیٹ اور اس کے اندر جو چیزیں ہیں ان کی حفاظت کرو ۳؎، اور موت اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے کو یاد کیا کرو، اور جسے آخرت کی چاہت ہو وہ دنیا کی زیب و زینت کو ترک کر دے پس جس نے یہ سب پورا کیا تو حقیقت میں اسی نے اللہ تعالیٰ سے حیاء کی جیسا کہ اس سے حیاء کرنے کا حق ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے۔ ۲- اس حدیث کو اس سند سے ہم صرف ابان بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں، اور انہوں نے صباح بن محمد سے روایت کی ہے۔
Jam e Tirmazi
2626
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ وَاسْمُهُ:‏‏‏‏ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ الْكُوفِيُّ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ أَصَابَ حَدًّا فَعُجِّلَ عُقُوبَتَهُ فِي الدُّنْيَا فَاللَّهُ أَعْدَلُ مِنْ أَنْ يُثَنِّيَ عَلَى عَبْدِهِ الْعُقُوبَةَ فِي الْآخِرَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ أَصَابَ حَدًّا فَسَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَفَا عَنْهُ فَاللَّهُ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يَعُودَ فِي شَيْءٍ قَدْ عَفَا عَنْهُ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا قَوْلُ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا نَعْلَمُ أَحَدًا كَفَّرَ أَحَدًا بِالزِّنَا أَوِ السَّرِقَةِ وَشُرْبِ الْخَمْرِ.
Narrated Ali bin Abu Talib: that the Prophet (ﷺ) said: Whoever is penalized (for a crime) then his punishment has been hastened for him in the world, for Allah is more just than to double the punishment upon His slave in the Hereafter. And whoever does a punishable act and then Allah covers it for him and forgives him, then Allah is more kind than to recount something which He has already forgiven.
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی جرم کیا اور اسے اس کے جرم کی سزا دنیا میں مل گئی تو اللہ اس سے کہیں زیادہ انصاف پسند ہے کہ وہ اپنے بندے کو آخرت میں دوبارہ سزا دے اور جس نے کوئی گناہ کیا اور اللہ نے اس کی پردہ پوشی کر دی اور اس سے درگزر کر دیا تو اللہ کا کرم اس سے کہیں بڑھ کر ہے کہ وہ بندے سے اس بات پر دوبارہ مواخذہ کرے جسے وہ پہلے معاف کر چکا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- یہی اہل علم کا قول ہے۔ ہم کسی شخص کو نہیں جانتے جس نے زنا کر بیٹھنے، چوری کر ڈالنے اور شراب پی لینے والے کو کافر گردانا ہو۔
Jam e Tirmazi
2945
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ نَفَّسَ عَنْ أَخِيهِ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا قَعَدَ قَوْمٌ فِي مَسْجِدٍ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ:‏‏‏‏ حُدِّثْتُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ بَعْضَ هَذَا الْحَدِيثِ.
Narrated Abu Hurairah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever alleviates a burden among the burdens of the world for his brother, Allah alleviates a burden among the burdens of the Day of Judgement for him. And whoever covers (the faults) of a Muslim, Allah covers him in the world and in the Hereafter. And whoever makes things easy for one in dire straits, Allah makes things easy for him in the world and the Hereafter. Allah is helping as long as the (His) Slave is helping his brother. And whoever takes a path to gain knowledge, Allah makes a path to Paradise easy for him. And no people sit in a Masjid reciting Allah's Book, studying it among themselves, except that tranquility descends upon them and they are enveloped in the mercy, and surrounded by the angels. And whoever is slow in his deeds, his lineage shall not speed him up.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے بھائی کی کوئی دنیاوی مصیبت دور کی تو اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کے دن کوئی نہ کوئی مصیبت دور فرمائے گا۔ اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی۔ تو اللہ اس کی دنیا و آخرت میں پردہ پوشی کرے گا، اور جس نے کسی تنگ دست کے ساتھ آسانی کی، تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کے لیے آسانی پیدا فرمائے گا۔ اللہ اپنے بندے کی مدد میں ہوتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے، اور جو ایسی راہ چلتا ہے جس میں اسے علم کی تلاش ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ ہموار کر دیتا ہے اور جب قوم ( لوگ ) مسجد میں بیٹھ کر کلام اللہ ( قرآن ) کی تلاوت کرتے ہیں اور اسے پڑھتے پڑھاتے ( سمجھتے سمجھاتے ) ہیں تو ان پر سکینت نازل ہوتی ہے، انہیں رحمت الٰہی ڈھانپ لیتی ہے۔ ملائکہ انہیں اپنے گھیرے میں لیے رہتے ہیں، جس کے عمل نے اسے پیچھے کر دیا تو آخرت میں اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکتا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ایسے ہی کئی رواۃ نے اسی حدیث کی طرح اعمش سے اعمش نے ابوصالح کے واسطہ سے، اور ابوصالح نے ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ۲- اسباط بن محمد نے بھی اعمش سے روایت کی ہے، ( اس روایت میں ہے کہ ) اعمش کہتے ہیں: مجھ سے بیان کیا گیا ہے ۲؎ ابوصالح کے واسطہ سے اور ابوصالح نے ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں پھر اس حدیث کا بعض حصہ ذکر کیا۔