It was narrated that Abu Darda’ said:
‘My close friend (ﷺ) advised me: ‘Do not drink wine, for it is the key to all evils.’”
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے خلیل ( جگری دوست ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی: شراب مت پیو، اس لیے کہ یہ تمام برائیوں کی کنجی ہے ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۰۹۸۵، ومصباح الزجاجة:۱۱۶۸)
Explanation
آدمی ہر ایک برائی سے عقل کی وجہ سے بچتا ہے جب عقل ہوتی ہے تو اللہ کا خوف ہوتا ہے، شراب پینے سے عقل ہی میں فتور آ جاتا ہے، پھر خوف کہاں رہا شرابی سے سینکڑوں گناہ سرزد ہوتے ہیں، اس لئے اس کو ام الخبائث کہتے ہیں، یعنی سب برائیوں کی جڑ۔
‘Ubadah bin Samit said:
“I heard Khabbab bin Arat narrating that the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Beware of wine! For its sins overwhelm other sins, just as the grapevine overwhelms other trees.’”
خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شراب سے بچو، اس لیے کہ اس کے گناہ سے دوسرے بہت سے گناہ پھوٹتے ہیں جس طرح ایک درخت ہوتا ہے اور اس سے بہت سی شاخیں پھوٹتی ہیں ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۳۵۱۵، ومصباح الزجاجة:۱۱۶۹)
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Whoever drinks wine in this world, he will not drink it in the Hereafter, unless he repents.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دنیا میں شراب پئے گا، وہ آخرت میں نہیں پی سکے گا مگر یہ کہ وہ توبہ کر لے ۔
Takhreej
«صحیح مسلم/الأشربة ۸ (۲۰۰۳)،(تحفة الأشراف:۷۹۵۱)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأشربة ۱ (۵۵۷۵)، سنن الترمذی/الأشربة ۱ (۱۸۶۱)، موطا امام مالک/الأشربة ۴ (۱۱)، مسند احمد (۲/۱۹،۲۲،۲۸،۵/۹۸،۱۰۶،۱۳۳،۱۴۲)، سنن الدارمی/الأشربة ۳ (۲۱۳۵)
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“The one who is addicted to wine is like one who worships idols.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شراب کا عادی ایسے ہی ہے جیسے بتوں کا پجاری ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۲۷۴۸، ومصباح الزجاجة:۱۱۷۱)
Explanation
حالانکہ بت پوجنا شرک ہے اور شرک گناہوں میں سب سے بڑا ہے، مگر شراب بھی ایسا گناہ ہے کہ ہمیشہ کرنے سے وہ شرک کے مثل ہو جاتا ہے جیسے صغیرہ گناہ ہمیشہ کرنے سے کبیرہ ہو جاتا ہے، اس میں ڈر ہے شرابیوں کے لئے ایسا نہ ہو ان کا خاتمہ برا ہو۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amr that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Whoever drinks wine and gets drunk, his prayer will not be accepted for forty days, and if he dies he will enter Hell, but if he repents, Allah will accept his repentance. If he drinks wine again and gets drunk, his prayer will not be accepted for forty days, and if he dies he will enter Hell, but if he repents, Allah will accept his repentance. If he drinks wine again and gets drunk, his prayer will not be accepted for forty days, and if he dies he will enter Hell, but if he repents Allah will accept his repentance. But if he does it again, then Allah will most certainly make him drink of the mire of the puss or sweat on the Day of Resurrection.” They said: “O Messenger of Allah, what is the mire of the pus or sweat? He said: “The drippings of the people of Hell.”
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شراب پی کر مست ہو جائے ( نشہ ہو جائے ) اس کی نماز چالیس روز تک قبول نہیں ہوتی، اور اگر وہ اس دوران مر جائے تو وہ جہنم میں جائے گا، لیکن اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا، پھر اگر وہ توبہ سے پھر جائے اور شراب پئے، اور اسے نشہ آ جائے تو چالیس روز تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی، اگر وہ اس دوران مر گیا تو جہنم میں جائے گا، لیکن اگر وہ پھر توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا، اگر وہ پھر پی کر بدمست ہو جائے تو پھر اس کی نماز چالیس روز تک قبول نہیں ہو گی، اور وہ اسی حالت میں مر گیا تو جہنم میں جائے گا، اور اگر اس نے پھر توبہ کر لی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لے گا، اب اگر وہ ( اس کے بعد بھی ) پئے تو اللہ تعالیٰ کے لیے حق ہو گا کہ اسے قیامت کے دن «ردغۃ الخبال» پلائے، لوگوں نے سوال کیا: اللہ کے رسول! یہ «ردغۃ الخبال» کیا ہے؟ فرمایا: جہنمیوں کا پیپ ۔
Takhreej
«سنن النسائی/الأشربة ۴۳ (۵۶۶۷)،(تحفة الأشراف:۸۸۴۳)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأشربة ۱ (۱۸۶۲)، مسند احمد (۲/۳۵،۱۷۶،۱۸۹،۱۹۷،۵/۱۷۱،۶/۴۶۰)
Explanation
معاذ اللہ، شراب پینی، اور اتنی کہ آدمی مست ہو جائے، اور ہوش کھو دے،کتنا بڑا سخت گناہ ہے، توراۃ، اور انجیل میں بھی اس کی بہت برائی آئی ہے، اور حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تیسری بار اگر شراب پئے تو توبہ قبول نہ ہو گی، اور ضرور عذاب ہو گا۔
It was narrated from Nu’man bin Bashir that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“From wheat comes wine, from barley comes wine, from raisins comes wine, from dates comes wine and from honey comes wine.”
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شراب کئی چیزوں سے بنائی جاتی ہے، گیہوں سے، جو سے، منقیٰ سے، کھجور سے اور شہد سے ۔
Takhreej
«سنن ابی داود/الأشربة ۴ (۳۶۷۶،۳۶۷۷)، سنن الترمذی/الأشربة ۸ (۱۸۷۲،۱۸۷۳)،(تحفة الأشراف:۱۱۶۲۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۲۶۷،۲۷۳)
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Wine is cursed from ten angles: The wine itself, the one who squeezes (the grapes etc), the one for whom it is squeezed, the one who sells it, the one who buys it, the one who carries it, the one to whom it is carried, the one who consumes its price, the one who drinks it and the one who pours it.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شراب دس طرح سے ملعون ہے، یہ لعنت خود اس پر ہے، اس کے نچوڑنے والے پر، نچڑوانے والے پر، اس کے بیچنے والے پر، اس کے خریدنے والے پر، اس کو اٹھا کر لے جانے والے پر، اس شخص پر جس کے پاس اٹھا کر لے جائی جائے، اس کی قیمت کھانے والے پر، اس کے پینے والے پر اور اس کے پلانے والے پر ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۷۲۹۶، ومصباح الزجاجة:۱۱۷۳)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأشربة ۲ (۳۶۷۴)، مسند احمد (۲/۲۵،۷۱)، دون قولہ: '' أکل ثمنہا''
Anas said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) cursed ten with regard to wine: The one who squeezes (the grapes etc.), the one who asks for it to be squeezed, the one for whom it is squeezed, the one who carries it, the one to whom it is carried, the one who sells it, the one for whom it is brought, the one who pours it, the one for whom it is poured, until he counted ten like this.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس قسم کے لوگوں پر شراب کی وجہ سے لعنت فرمائی: اس کے نچوڑنے والے پر، نچڑوانے والے پر، اور اس پر جس کے لیے نچوڑی جائے، اسے لے جانے والے پر، اس شخص پر جس کے لیے لے جائی جائے، بیچنے والے پر، اس پر جس کو بیچی جائے، پلانے والے پر اور اس پر جس کو پلائی جائے ، یہاں تک کہ دسوں کو آپ نے گن کر اس طرح بتایا
Takhreej
«سنن الترمذی/البیوع ۵۹ (۱۲۹۵)،(تحفة الأشراف:۹۰۰)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۳۱۶،۲/۹۷)
It was narrated that ‘Aishah said:
“When the Verses at the end of Surat Al-Baqarah concerning usury were revealed, the Messenger of Allah(ﷺ) went out and forbade dealing in wine.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب سود کے سلسلے میں سورۃ البقرہ کی آخری آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، اور شراب کی تجارت کو حرام قرار دے دیا۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:
Umar heard that Samurah had sold some wine, and he said: “May Allah ruin Samurah! Does he not know that the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘May Allah curse the Jews, for animal fat was forbidden to them, so they melted it down and sold it.’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ سمرہ رضی اللہ عنہ نے شراب بیچی ہے تو کہا: اللہ تعالیٰ سمرہ کو تباہ کرے، کیا اسے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ یہود پر اللہ کی لعنت ہو، اس لیے کہ ان پر چربی حرام کی گئی تھی، تو انہوں نے اسے پگھلایا اور بیچ دیا ۱؎۔
اور بیچ کر اس کی قیمت کھا لی، معلوم ہوا کہ جیسے شراب حرام ہے، ویسے ہی اس کی قیمت لینا اور تجارت کرنا بھی حرام ہے، افسوس ہے کہ ہمارے زمانے میں بعض مسلمان تاجر اپنی دوکانوں میں شراب بھی رکھتے ہیں، اور خیال رکھتے ہیں کہ شراب کے بیچنے میں اتنا گناہ نہیں ہے جتنا اس کے پینے میں، حالانکہ حدیث کی روسے یہ سب برابر ہیں اور سب پر لعنت آتی ہے، اور شراب کا پیشہ حرام ہے، اس کا پینا اور پیلانا دونوں جائز نہیں، اسی طرح سود کا پیشہ اور جو تاجر شراب اور سود کی تجارت کرتا ہو اس کی دعوت میں جاتا تقوی اور دین داری کے خلاف ہے۔
It was narrated from Abu Umamah Al-Bahili that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Night and day will not cease until a group among my nation drinks wine, calling it by some other name.”
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات اور دن یعنی زمانہ ختم نہیں ہو گا یہاں تک کہ میری امت کی ایک جماعت اس میں شراب پئے گی، وہ شراب کا نام بدل دے گی ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۴۸۵۸، ومصباح الزجاجة:۱۱۷۴)
Explanation
جیسے کوئی شربت «مفرح» کہے گا کوئی عرق النشاط کوئی شراب الصالحین نام بدلنے سے کیا ہوتا ہے، جو چیز حرام ہے، وہ ہر طرح حرام ہے۔
It was narrated from ‘Ubadah bin Samit that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“People among my nation will drink wine, under some other name that they will give it.”
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے بعض لوگ شراب کا دوسرا نام رکھ کر پئیں گے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۵۰۷۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۳۱۸)