TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4115 - جس کی لوگ پرواہ نہ کریں اس کا بیان - Zuhd - Sunnan Ibn e Maja in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 5 in this chapter
جس کی لوگ پرواہ نہ کریں اس کا بیان
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ،‏‏‏‏ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ،‏‏‏‏ عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَلَا أُخْبِرُكَ عَنْ مُلُوكِ الْجَنَّةِ؟ ،‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ بَلَى،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ رَجُلٌ ضَعِيفٌ مُسْتَضْعِفٌ ذُو طِمْرَيْنِ،‏‏‏‏ لَا يُؤْبَهُ لَهُ،‏‏‏‏ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ .
It was narrated from Mu’adh bin Jabal that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Shall I not tell you about the kings of Paradise?’ I said: ‘Yes.’ He said: ‘A weak and oppressed man who wears tattered clothes and is not paid any heed. If he swears (an oath) by Allah, Allah fulfills it.’”
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو جنت کے بادشاہوں کے بارے میں نہ بتا دوں ؟ میں نے کہا: جی ہاں، بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کمزور و ناتواں شخص دو پرانے کپڑے پہنے ہو جس کو کوئی اہمیت نہ دی جائے، اگر وہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھا لے تو وہ اس کی قسم ضرور پوری کرے ۔
4115
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 5, Book 37, Hadith 4115 Arabic reference : Book 37, Hadith 4254
(سند میں سوید بن عبد العزیز ضعیف ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی:۱۷۴۱)
Conclusion
تخریج
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۱۳۲۴، ومصباح الزجاجة:۱۴۵۷)

Related Chapters

395
1
Chapter: What Has Been Related About The State of The Prophet (SAW): I Have Been Ordered To FIght The People Until They Say La Ilaha Illallah And Establish The Salah
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے لوگوں کے خلاف جنگ کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ: لا الہ الا اللہ کہیں، اور نماز قائم کریں“۔
Jam e Tirmazi
2
اہلِ میت کے لیے کھانا تیار کرنے اور اس چیز کے مکروہ ہونے کا بیان کہ یہ کھانا اہل میت خود تیار کریں، کیونکہ وہ لوگوں کے اکٹھ کی وجہ سے مصروف ہوں گے
Musnad Ahmad
3
(25) CHAPTER. If the Imam says, “Remain at your places till I return”, then wait for him.
اگر امام مقتدیوں سے کہے کہ تم لوگ اسی حالت میں ٹھہرے رہو تو جب تک وہ لوٹ کر آئے اس کا انتظار کریں ( اور اپنی حالت پر ٹھہرے رہیں )
Sahih Bukhari
4
(51) CHAPTER. The Imam is appointed to be followed.
امام اس لیے مقرر کیا جاتا ہے کہ لوگ اس کی پیروی کریں
Sahih Bukhari
5
(68) CHAPTER. If a person follows the Imam and the others follow that person (then it is all right).
ایک شخص امام کی اقتداء کرے اور لوگ اس کی اقتداء کریں ( تو کیسا ہے ؟ )
Sahih Bukhari
6
(28) CHAPTER. The facing of the Imam towards the people and the facing of the people towards the Imam during the Khutba (religious talk).
امام جب خطبہ دے تو لوگ امام کی طرف رخ کریں
Sahih Bukhari
7
(12) CHAPTER. If the people request the Imam to invoke Allah for rain, the Imam should not refuse the request.
جب لوگ امام سے دعائے استسقاء کی درخواست کریں تو رد نہ کرئے ۔
Sahih Bukhari
8
(9) CHAPTER. The overcrowding of the people when the Imam recites As-Sajda.
امام جب سجدہ کی آیت پڑھے اور لوگ ہجوم کریں تو بہرحال سجدہ کرنا چاہیے
Sahih Bukhari
9
(22) CHAPTER. The Hour will not be established until the living wish to be in the place of the dead (i.e., in the place of the people in graves).
قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ لوگ قبر والوں پر رشک نہ کریں
Sahih Bukhari
10
(23) CHAPTER. Time will change until idols will be worshipped.
قیامت کے قریب زمانہ کا بدلنا یہاں تک کہ وہ لوگ بتوں کی عبادت کریں گے ۔
Sahih Bukhari
11
(27) CHAPTER. Something forbidden, by the Prophet (p.b.u.h.) is legally prohibited unless there is a proof that (later on) it was (made) legal. Similarly, his orders render things obigatory, as he said (to his Companions) when they finished their Ihram, Sleep with your wives.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز سے لوگوں کو منع کریں تو وہ حرام ہو گا مگر یہ کہ اس کی اباحت دلائل سے معلوم ہو جائے ۔
Sahih Bukhari
12
Chapter: The One Who Is Riding Should Greet The One Who Is Walking, And The Smaller Group Should Greet The Larger Group
سوار پیدل کو اور کم لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں
Sahih Muslim
13
Chapter: The Emergence Of Ad-Dajjal And His Stay On Earth, And The Descent Of 'Eisa Who Will Kill Him. The Death Of The People Of Goodness And Faith, And The Survival Of The Worst Of People, And Their Idol-Worship. The Trumpet Blast, And The Resurrection Of Those Who Are In Their Graves
دجال نکل کر زمین میں رہے گا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتر کر اسے قتل کریں گے بھلائی اور ایمان والے لوگ رخصت ہو جا ئیں گے۔بدترین لوگ اور شیطان کی پوجا کرنے والے باقی رہ جائیں گے۔ اور صورپھونکا جائے گا اور جوقبروں میں ہیں انھیں اٹھا دیا جائے گا
Sahih Muslim
14
CHAPTER: People Sitting After The Iqamah While Waiting For The Imam If He Has Not Come.
باب: اقامت کے بعد امام مسجد نہ پہنچے تو لوگ بیٹھ کر امام کا انتظار کریں ۔
Sunnan Abu Dawood
15
CHAPTER: Whoever Said That The Imam Should Lead Every Group In One Rak’ah, Then Say The Taslim And Every Group Should Stand Up And Pray One Rak’ah By Themselves.
باب: ان لوگوں کی دلیل جو کہتے ہیں کہ امام ہر ٹکڑی کو ایک رکعت پڑھائے پھر وہ سلام پھیر دے اس کے بعد ہر صف کے لوگ کھڑے ہوں اور خود سے اپنی اپنی ایک رکعت ادا کریں ۔
Sunnan Abu Dawood
16
CHAPTER: Whoever Said That The Imam Should Lead Each Of The Two Groups In One Rak’ah Then Say The Taslim, Then Those That Are Behing Him Should Stand Up And Complete Another Rak’ah, Then The Other Group Should Take This Groups Place And Pray One Rak’ah.
باب: ان لوگوں کی دلیل جو کہتے ہیں کہ امام ہر جماعت کو ایک ایک رکعت پڑھائے پھر سلام پھیر دے ، پھر جو لوگ امام کے پیچھے ہیں وہ کھڑے ہوں اور دوسری رکعت ادا کریں پھر دوسرے گروہ کے لوگ پہلے کی جگہ آ کر دوسری رکعت ادا کریں ۔
Sunnan Abu Dawood
17
CHAPTER: Those Who Said That The Imam Should Lead Each Group For One Rak’ah And Then They Should Not Complete (The Second Rak’ah).
باب: ان لوگوں کی دلیل جو کہتے ہیں کہ امام ہر جماعت کو ایک رکعت پڑھائے گا اور لوگ دوسری رکعت پوری نہیں کریں گے ۔
Sunnan Abu Dawood
18
Chapter: : What Has Been Related About Let Those Among You With Understanding And Reason Be Close To Me.
باب: ارشاد نبوی ”مجھ سے قریب وہ لوگ رہیں جو صاحب فہم و ذکا اور سمجھدار ہوں“ کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related [About] Whoever Leads People (In Salat) While They Dislike Him
باب: جو کسی قوم کی امامت کرے، اور لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں
Jam e Tirmazi
20
Chapter: [What Has Been Related] About It Being Disliked To Step Over (The Necks Of Others) On Friday
باب: جمعہ کے دن (دوران خطبہ) لوگوں کی گردنیں پھاندنے کی کراہت
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About The One Who Did Not Prostrate For It
باب: جو لوگ سورۃ النجم میں سجدے کے قائل نہیں
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About The One Who Prays The Obligatory Prayer, Then Leads The People In Prayer After That
باب: فرض نماز پڑھنے کے بعد لوگوں کی امامت کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: (What Has Been Related About) The Indebted And Others For Whom Charity Is Lawful
باب: قرض داروں اور دیگر لوگوں میں سے کس کس کے لیے زکاۃ حلال ہے؟
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About The Mawaqit For Ihram For Each Region's People
باب: آفاقی لوگوں کے لیے احرام باندھنے کی میقاتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked For The People To Crowd When Stoning The Jimar
باب: جمرات کی رمی کے وقت لوگوں کو دھکیلنے اور ہٹانے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About Who The Martyrs Are
باب: شہید کون لوگ ہیں؟
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related From The Messenger Of Allah (saws) About Reconciliation
باب: لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ارشادات
Jam e Tirmazi
28
Chapter: About Who Is Given Spoils Of War (Al-Fay')
باب: مال غنیمت کن لوگوں کے درمیان تقسیم ہو گا
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About Who Is The Best Of People
باب: کون لوگ سب سے اچھے اور بہتر ہیں؟
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About The People Who Have An Excuse Not To Participate
باب: معذور لوگوں کے لیے جہاد نہ کرنے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About Being Merciful With People
باب: لوگوں پر مہربانی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About Having Amicable Relations With People
باب: حسن معاشرت (یعنی لوگوں کے ساتھ اچھے ڈھنگ سے رہنے) کا بیان
Jam e Tirmazi
33
باب: دو مذہب کے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے
Jam e Tirmazi
34
باب: لوگوں کے دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں
Jam e Tirmazi
35
Chapter: When The Evil Among My Ummah Will Be Set Over The Best Of Them
باب: برے لوگ اچھے لوگوں پر غلبہ پا لیں گے اس زمانے کا بیان
Jam e Tirmazi
36
باب: ان لوگوں کا بیان جن کی گواہی درست نہیں
Jam e Tirmazi
37
Chapter: Health And Free Time Are Two Favors Squandered By Many Of The People
باب: تندرستی اور فرصت کی نعمتوں میں اکثر لوگ اپنا نقصان کرتے ہیں
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About 'The Parable Of Th World Is That Of Four People'
باب: دنیا کی مثال چار قسم کے لوگوں کی مانند ہے
Jam e Tirmazi
39
باب: ستر ہزار مسلمان بلا حساب کتاب اور مزید لوگ شفاعت سے داخل جنت ہوں گے
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About I Have Been Ordered To Fight The People Until They Say: La Ilaha Illallah
باب: جب تک لوگ لا إلہ الا اللہ کہنے نہ لگ جائیں اس وقت تک مجھے ان سے جہاد کرتے رہنے کا حکم دیا گیا ہے
Jam e Tirmazi
41
باب: عورتیں مرد سے پردہ کریں اس کا بیان
Jam e Tirmazi
42
باب: تین آدمی ہوں تو ایک کو چھوڑ کر دو کانا پھوسی کریں یہ درست نہیں ہے
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About The Group That Sits And They Do Not Remember Allah
باب: لوگوں کی مجلس اللہ کے ذکر سے غافل ہو اس کی برائی کا بیان
Jam e Tirmazi
44
بَاب تغير النَّاس
لوگوں میں تغیر و تبدل کا بیان
Mishkat
45
بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى شِرَارِ النَّاس
قیامت بُرے لوگوں پر ہی قائم ہو گی
Mishkat
46
عرب کے ایسے لوگوں کی آمد کا بیان، جن کانام نہیں لیا گیا
Musnad Ahmad
47
آپ کے ارشاد تم پہلے لوگوں کے طریقوں کی پیروی کرو گے کا بیان
Musnad Ahmad
48
ان لوگوں کی دلیل کا بیان جو چمڑے کو رنگنے کے بعد مردار کے بالوں کی طہارت کے قائل ہیں
Musnad Ahmad
49
ان لوگون کا بیان جو یہ کہتے ہیں کہ جنابت والا قرآن مجید کی تلاوت نہ کرے
Musnad Ahmad
50
ان لوگون کی دلیل کا بیان جو یہ کہتے ہیں کہ اگر مستحاضہ طاقت رکھتی ہو تو وہ ہر نماز کے لیے علیحدہ غسل کرے یا ایک غسل میں دو نمازیں جمع کر لے
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

201
Sunnan Abu Dawood
1642
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَبِيعَةَ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي الْحَبِيبُ الْأَمِينُ أَمَّا هُوَ إِلَيَّ فَحَبِيبٌ وَأَمَّا هُوَ عِنْدِي فَأَمِينٌ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَةً أَوْ ثَمَانِيَةً أَوْ تِسْعَةً، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ وَكُنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِبَيْعَةٍ، ‏‏‏‏‏‏قُلْنَا:‏‏‏‏ قَدْ بَايَعْنَاكَ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى قَالَهَا ثَلَاثًا فَبَسَطْنَا أَيْدِيَنَا فَبَايَعْنَاهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ قَائِلٌ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّا قَدْ بَايَعْنَاكَ، ‏‏‏‏‏‏فَعَلَامَ نُبَايِعُكَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَتُصَلُّوا الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ وَتَسْمَعُوا وَتُطِيعُوا، ‏‏‏‏‏‏وَأَسَرَّ كَلِمَةً خَفِيَّةً، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَلَا تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَلَقَدْ كَانَ بَعْضُ أُولَئِكَ النَّفَرِ يَسْقُطُ سَوْطُهُ فَمَا يَسْأَلُ أَحَدًا أَنْ يُنَاوِلَهُ إِيَّاهُ . قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ حَدِيثُ هِشَامٍ لَمْ يَرْوِهِ إِلَّا سَعِيدٌ.
Awf bin Malik said: We were with Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم, seven or eight or nine. He said: Do you take the oath of allegiance to the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم, and we shortly took the oath of allegiance. We said: we have already taken the oath of allegiance to you. He repeated the same words three times. We then stretched our hands and took the oath of allegiance to him. A man (or us) said: We took the oath of allegiance to you; now on what should we take the oath of allegiance, Messenger of Allah ? He replied: That you should worship Allah, do not associate anything with Him, offer five times prayer, listen and obey. He uttered a word quietly: And do not beg from the people. When the whip fell on the ground, none of that group asked anyone to pick up the whip for him. Abu Dawud said: The version of Hisham was not narrated by anyone except Saeed.
ابومسلم خولانی کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے پیارے اور امانت دار دوست عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہم سات، آٹھ یا نو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، آپ نے فرمایا: کیا تم لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت نہیں کرو گے؟ ، جب کہ ہم ابھی بیعت کر چکے تھے، ہم نے کہا: ہم تو آپ سے بیعت کر چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی جملہ تین بار دہرایا چنانچہ ہم نے اپنے ہاتھ بڑھا دئیے اور آپ سے بیعت کی، ایک شخص بولا: اللہ کے رسول! ہم ابھی بیعت کر چکے ہیں؟ اب کس بات کی آپ سے بیعت کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بات کی کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرو گے، پانچوں نمازیں پڑھو گے اور ( حکم ) سنو گے اور اطاعت کرو گے ، ایک بات آپ نے آہستہ سے فرمائی، فرمایا: لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرو گے ، چنانچہ ان لوگوں میں سے بعض کا حال یہ تھا کہ اگر ان کا کوڑا زمین پر گر جاتا تو وہ کسی سے اتنا بھی سوال نہ کرتے کہ وہ انہیں ان کا کوڑا اٹھا کر دیدے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہشام کی حدیث سعید کے علاوہ کسی اور نے بیان نہیں کی۔
Jam e Tirmazi
1051
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَأَبُو عَمَّارٍ، قَالَا:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، عن أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَيْسَ فِيهِ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا الصَّحِيحُ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ قَالَ مُحَمَّدٌ:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ ابْنِ الْمُبَارَكِ خَطَأٌ، ‏‏‏‏‏‏أَخْطَأَ فِيهِ ابْنُ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَزَادَ فِيهِ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا هُوَ بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ وَاثِلَةَ، ‏‏‏‏‏‏هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَيْسَ فِيهِ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، ‏‏‏‏‏‏وَبُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَدْ سَمِعَ مِنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ.
(Another chain) from Abu Marthad Al-Ghanawi : from the Prophet, similar (to no. 1050), but it does not contain From Abu Idris and this is what is correct.
اس طریق سے بھی ابومرشد غنوی رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔ البتہ اس سند میں ابوادریس کا واسطہ نہیں ہے اور یہی صحیح ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ ابن مبارک کی روایت غلط ہے، اس میں ابن مبارک سے غلطی ہوئی ہے انہوں نے اس میں ابوادریس خولانی کا واسطہ بڑھا دیا ہے، صحیح یہ ہے کہ بسر بن عبداللہ نے بغیر واسطے کے براہ راست واثلہ سے روایت کی ہے، اسی طرح کئی اور لوگوں نے عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر سے روایت کی ہے اور اس میں ابوادریس کے واسطے کا ذکر نہیں ہے۔ اور بسر بن عبداللہ نے واثلہ بن اسقع سے سنا ہے۔
Sunnan Abu Dawood
2918
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد وَهُوَ ابْنُ حَمْزَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَوْهَبٍ، ‏‏‏‏‏‏يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ هِشَامٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ يَزِيدُ: إِنَّ تَمِيمًا قَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا السُّنَّةُ فِي الرَّجُلِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيِ الرَّجُلِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهِ .
Narrated Tamim ad-Dari: Tamim asked: Messenger of Allah), what is the sunnah about a man who accepts Islam by advice and persuasion of a Muslim? He replied: He is the nearest to him in life and in death.
تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص کے بارے میں شرع کا کیا حکم ہے جو کسی مسلمان شخص کے ہاتھ پر ایمان لایا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص دوسروں کی بہ نسبت اس کی موت و حیات کے زیادہ قریب ہے ( اگر اس کا کوئی اور وارث نہ ہو تو وہی وارث ہو گا ) ۔
Sunnan Ibn e Maja
1120
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عِنَبَةَ الْخَوْلَانِيِّ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْجُمُعَةِ:‏‏‏‏ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ .
It was narrated from Abu ‘Inabah Al-Khawlani that the Prophet (ﷺ) used to recite “Glorify the Name of your Lord the Most High” and “Has there come to you the narration of the overwhelming (i.e., the Day of Resurrection)? [Al-A’la (87) and Al-Ghashiyah (88)] on Friday.
ابوعنبہ خولانی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز جمعہ میں: «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے ۱؎۔
Sunnan Ibn e Maja
2867
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ التَّنُوخِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي الْحَبِيبُ الْأَمِينُ أَمَّا هُوَ إِلَيَّ فَحَبِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا هُوَ عِنْدِي فَأَمِينٌعَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَةً أَوْ ثَمَانِيَةً أَوْ تِسْعَةً، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ؟ ، ‏‏‏‏‏‏فَبَسَطْنَا أَيْدِيَنَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ قَائِلٌ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّا قَدْ بَايَعْنَاكَ، ‏‏‏‏‏‏فَعَلَامَ نُبَايِعُكَ؟، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏وَتُقِيمُوا الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، ‏‏‏‏‏‏وَتَسْمَعُوا وَتُطِيعُوا وَأَسَرَّ كَلِمَةً خُفْيَةً، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَلَقَدْ رَأَيْتُ بَعْضَ أُولَئِكَ النَّفَرِ يَسْقُطُ سَوْطُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا يَسْأَلُ أَحَدًا يُنَاوِلُهُ إِيَّاهُ.
‘Awf bin Malik Al-Ashja’i said: “We were with the Prophet (ﷺ) – seven or eight or nine of us – and he said: ‘Will you not give pledge to the Messenger of Allah?’ So we stretched forth our hands and someone said: ‘O Messenger of Allah, we have already given you our pledge. On what basis shall we give this pledge?’ He said: ‘(On the basis that) you will worship Allah and not associate anything with Him, you will establish the five daily prayers, you will listen and obey’ – then he spoke some words under his breath – ‘and you will not ask the people for anything.’ He said: ‘I saw some of that group. If he dropped his whip he would not ask anyone to pick it up for him.’”
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہم سات یا آٹھ یا نو آدمی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ اللہ کے رسول سے بیعت نہیں کرو گے ؟ ہم نے بیعت کے لیے اپنے ہاتھ پھیلا دئیے ( بیعت کرنے کے بعد ) ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! ہم آپ سے بیعت تو کر چکے لیکن یہ کس بات پر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بات پر کہ اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، پانچ وقت کی نماز کا اہتمام کرو، حکم سنو اور مانو ، پھر ایک بات چپکے سے فرمائی: لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرو ، راوی کا بیان ہے کہ ( اس بات کا ان لوگوں پر اتنا اثر ہوا کہ ) میں نے ان میں سے بعض کو دیکھا کہ اس کا کوڑا بھی گر جاتا تو کسی سے یہ نہ کہتا کہ کوڑا اٹھا کر مجھے دو ۱؎۔
Sunnan Ibn e Maja
4100
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ الْقُرَشِيُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَيْسَ الزَّهَادَةُ فِي الدُّنْيَا بِتَحْرِيمِ الْحَلَالِ،‏‏‏‏ وَلَا فِي إِضَاعَةِ الْمَالِ،‏‏‏‏ وَلَكِنْ الزَّهَادَةُ فِي الدُّنْيَا أَنْ لَا تَكُونَ بِمَا فِي يَدَيْكَ أَوْثَقَ مِنْكَ بِمَا فِي يَدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ وَأَنْ تَكُونَ فِي ثَوَابِ الْمُصِيبَةِ إِذَا أُصِبْتَ بِهَا،‏‏‏‏ أَرْغَبَ مِنْكَ فِيهَا لَوْ أَنَّهَا أُبْقِيَتْ لَكَ ،‏‏‏‏ قَال هِشَامٌ:‏‏‏‏ كَانَ أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ،‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ مِثْلُ هَذَا الْحَدِيثِ فِي الْأَحَادِيثِ كَمِثْلِ الْإِبْرِيزِ فِي الذَّهَبِ.
It was narrated from Abu Dharr Al-Ghifari that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Indifference towards this world does not mean forbidding what is permitted, or squandering wealth, rather indifference towards this world means not thinking that what you have in your hand is more reliable than what is in Allah’s Hand, and it means feeling that the reward for a calamity that befalls you is greater than that which the calamity makes you miss out on.’”
ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا میں زہد آدمی کے حلال کو حرام کر لینے، اور مال کو ضائع کرنے میں نہیں ہے، بلکہ دنیا میں زہد ( دنیا سے بے رغبتی ) یہ ہے کہ جو مال تمہارے ہاتھ میں ہے، اس پر تم کو اس مال سے زیادہ بھروسہ نہ ہو جو اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور دنیا میں جو مصیبت تم پر آئے تو تم اس پر خوش ہو بہ نسبت اس کے کہ مصیبت نہ آئے، اور آخرت کے لیے اٹھا رکھی جائے ۔ ہشام کہتے ہیں: کہ ابوادریس خولانی کہتے تھے کہ حدیثوں میں یہ حدیث ایسی ہے جیسے سونے میں کندن۔
Sunnan Nisai
461
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي الْحَبِيبُ الْأَمِينُ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَرَدَّدَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَدَّمْنَا أَيْدِيَنَا فَبَايَعْنَاهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْنَا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَدْ بَايَعْنَاكَ، ‏‏‏‏‏‏فَعَلَامَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ عَلَى أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَسَرَّ كَلِمَةً خَفِيَّةً أَنْ لَا تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا .
Awf bin Malik Al-Ashja'i said: We were with the Messenger of Allah (ﷺ) and he said: 'Will you not pledge to the Messenger of Allah (ﷺ)?' And he repeated it three times. So we stretched forth our hands to give our pledge. We said: 'O Messenger of Allah, we are willing to give you our pledge, but on what?' He said: 'That you will worship Allah and not associate anything with him, and (offer) the five daily prayers.' And he said, very quietly: 'And you will not ask the people for anything.'
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  کیا تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت نہیں کرو گے؟  آپ نے اس بات کو تین مرتبہ دہرایا، تو ہم سب نے اپنا ہاتھ بڑھایا، اور آپ سے بیعت کی، پھر ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ سے بیعت تو کر لی، لیکن یہ بیعت کس چیز پر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  یہ بیعت اس بات پر ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرو گے، پانچوں نمازیں ادا کرو گے ، اور آپ نے ایک اور بات آہستہ سے کہی کہ  لوگوں سے کچھ مانگو گے نہیں ۔
Sunnan Nisai
694
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَنَى بَيْتَ الْمَقْدِسِ سَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خِلَالًا ثَلَاثَةً:‏‏‏‏ سَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حُكْمًا يُصَادِفُ حُكْمَهُ فَأُوتِيَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَسَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ فَأُوتِيَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَسَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حِينَ فَرَغَ مِنْ بِنَاءِ الْمَسْجِدِ أَنْ لَا يَأْتِيَهُ أَحَدٌ لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ فِيهِ أَنْ يُخْرِجَهُ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ .
It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr that the Messenger of Allah (ﷺ) said: When Sulaiman bin Dawud finished building Bait Al-Maqdis, he asked Allah for three things: Judgement that was in harmony with His judgement, and he was given that. And he asked Allah for a dominion that no one after him would have, and he was given that. And when he finished building the Masjid he asked Allah, the Mighty and Sublime, that no one should come to it, intending only to pray there, but he would emerge free of sin as the day his mother bore him.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  سلیمان بن داود علیہما السلام نے جب بیت المقدس کی تعمیر فرمائی تو اللہ تعالیٰ سے تین چیزیں مانگیں، اللہ عزوجل سے مانگا کہ وہ لوگوں کے مقدمات کے ایسے فیصلے کریں جو اس کے فیصلے کے موافق ہوں، تو انہیں یہ چیز دے دی گئی، نیز انہوں نے اللہ تعالیٰ سے ایسی سلطنت مانگی جو ان کے بعد کسی کو نہ ملی ہو، تو انہیں یہ بھی دے دی گئی، اور جس وقت وہ مسجد کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ جو کوئی اس مسجد میں صرف نماز کے لیے آئے تو اسے اس کے گناہوں سے ایسا پاک کر دے جیسے کہ وہ اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا ۔
Jam e Tirmazi
55
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ الثَّعْلَبِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، وَأَبيِ عُثْمَانَ،‏‏‏‏ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ، ‏‏‏‏‏‏فُتِحَتْ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ،‏‏‏‏ وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عُمَرَ قَدْ خُولِفَ زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَرَوَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ وَغَيْرُهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَرَوَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَبِيعَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا فِي إِسْنَادِهِ اضْطِرَابٌ يَصِحُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فِي هَذَا الْبَابِ كَبِيرُ شَيْءٍ. قَالَ مُحَمَّدٌ:‏‏‏‏ وَأَبُو إِدْرِيسَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ شَيْئًا.
Umar bin Al-Khattab narrated that : Allah's Messenger said: 'Whoever performs Wudu, making Wudu well, then says: (Ashhadu an la ilaha illallah, wahdahu la sharika lahu, wa ashhadu anna Muhammadan-abduhu wa rasuluhu, Allahummajalni minat tawwabin, waj'alni minal mutatahhirin) 'I testify that none has the right to be worshipped but Allah Alone, there are no partners for Him. And I testify that Muhammad is His servant and Messenger. O Allah! Make me among the repentant, and make me among those who purify themselves.' Then eight gates of Paradise are opened for him, that may enter by whichever of them wishes.
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو وضو کرے اور اچھی طرح کرے پھر یوں کہے: «أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله اللهم اجعلني من التوابين واجعلني من المتطهرين» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، اے اللہ! مجھے توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں میں سے بنا دے“ تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے وہ جس سے بھی چاہے جنت میں داخل ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں انس اور عقبہ بن عامر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- امام ترمذی نے عمر رضی الله عنہ کی حدیث کے طرق ۱؎ ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اس حدیث کی سند میں اضطراب ہے، ۳- اس باب میں زیادہ تر چیزیں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے صحیح ثابت نہیں ہیں ۲؎۔