TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4224 - لوگوں کی عمدہ تعریف و توصیف کا بیان - Zuhd - Sunnan Ibn e Maja in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 4 of 6 in this chapter
لوگوں کی عمدہ تعریف و توصیف کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى،‏‏‏‏ وَزَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ أَبِي ثُبَيْتٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَهْلُ الْجَنَّةِ مَنْ مَلَأَ اللَّهَ أُذُنَيْهِ مِنْ ثَنَاءِ النَّاسِ خَيْرًا،‏‏‏‏ وَهُوَ يَسْمَعُ،‏‏‏‏ وَأَهْلُ النَّارِ مَنْ مَلَأَ أُذُنَيْهِ مِنْ ثَنَاءِ النَّاسِ شَرًّا،‏‏‏‏ وَهُوَ يَسْمَعُ .
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “The people of Paradise are those whose ears Allah fills with the praise of people when they are listening, and the people of Hell- fire are those whom He fills their ears with condemnation when they are listening.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنتی وہ ہے جس کے کان اللہ تعالیٰ لوگوں کی اچھی تعریف سے بھر دے، اور وہ اسے سنتا ہو، اور جہنمی وہ ہے جس کے کان اللہ تعالیٰ لوگوں کی بری تعریف سے بھر دے، اور وہ اسے سنتا ہو ۔
4224
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 5, Book 37, Hadith 4224 Arabic reference : Book 37, Hadith 4364
Conclusion
تخریج
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۵۳۶۸، ومصباح الزجاجة:۱۵۱۱)

Related Chapters

299
1
لوگوں کا میت کی تعریف کرنااوراس کے حق میں گواہی دینا
Musnad Ahmad
2
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے مرض الموت کا اور ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے ان کی تعریف و توصیف کا بیان
Musnad Ahmad
3
باب پنجم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خواب کی تعبیر کا ثابت ہونا، عجمی کا ان پر حملہ کرنا، ان کی کچھ وصیتوں کا بیان، لوگوں کا ان کی تعریف کرنا اور ان کے پاس رونا اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا کسی خلیفہ نامزد نہ کرنا
Musnad Ahmad
4
(85) CHAPTER. The praising of a deceased by the people.
لوگوں کی زبان پر میت کی تعریف ہو تو بہتر ہے
Sahih Bukhari
5
(41) CHAPTER. “Do not take the best from the property of the people of Zakat.”
زکوٰۃ میں لوگوں کے عمدہ اور چھٹے ہوئے مال نہ لیے جائیں گے
Sahih Bukhari
6
Chapter: [What Has Been Related] About It Being Disliked To Step Over (The Necks Of Others) On Friday
باب: جمعہ کے دن (دوران خطبہ) لوگوں کی گردنیں پھاندنے کی کراہت
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About The One Who Prays The Obligatory Prayer, Then Leads The People In Prayer After That
باب: فرض نماز پڑھنے کے بعد لوگوں کی امامت کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Mentioned About Praising Allah And Sending Salat Upon The Prophet Before Supplicating
باب: دعا سے پہلے اللہ کی تعریف کرنے اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) بھیجنے کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Take The Choicest Wealth For Charity
باب: صدقے میں عمدہ مال لینے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: (What Has Been Related About) The Indebted And Others For Whom Charity Is Lawful
باب: قرض داروں اور دیگر لوگوں میں سے کس کس کے لیے زکاۃ حلال ہے؟
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About The Mawaqit For Ihram For Each Region's People
باب: آفاقی لوگوں کے لیے احرام باندھنے کی میقاتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked For The People To Crowd When Stoning The Jimar
باب: جمرات کی رمی کے وقت لوگوں کو دھکیلنے اور ہٹانے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About Praise For The Deceased
باب: میت کی تعریف کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related From The Messenger Of Allah (saws) About Reconciliation
باب: لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ارشادات
Jam e Tirmazi
15
Chapter: About Who Is Given Spoils Of War (Al-Fay')
باب: مال غنیمت کن لوگوں کے درمیان تقسیم ہو گا
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About The People Who Have An Excuse Not To Participate
باب: معذور لوگوں کے لیے جہاد نہ کرنے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About Being Merciful With People
باب: لوگوں پر مہربانی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About Having Amicable Relations With People
باب: حسن معاشرت (یعنی لوگوں کے ساتھ اچھے ڈھنگ سے رہنے) کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About Praising For Good
باب: احسان کے بدلے تعریف کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
20
باب: لوگوں کے دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں
Jam e Tirmazi
21
Chapter: When The Evil Among My Ummah Will Be Set Over The Best Of Them
باب: برے لوگ اچھے لوگوں پر غلبہ پا لیں گے اس زمانے کا بیان
Jam e Tirmazi
22
باب: ان لوگوں کا بیان جن کی گواہی درست نہیں
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About 'The Parable Of Th World Is That Of Four People'
باب: دنیا کی مثال چار قسم کے لوگوں کی مانند ہے
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About Praising Others Is Disliked,And Those Who Praise Others
باب: مداحوں کو ناپسند کرنے اور بے جا تعریف و مدح کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About The State of The Prophet (SAW): I Have Been Ordered To FIght The People Until They Say La Ilaha Illallah And Establish The Salah
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے لوگوں کے خلاف جنگ کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ: لا الہ الا اللہ کہیں، اور نماز قائم کریں“۔
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About The Group That Sits And They Do Not Remember Allah
باب: لوگوں کی مجلس اللہ کے ذکر سے غافل ہو اس کی برائی کا بیان
Jam e Tirmazi
27
بَاب تغير النَّاس
لوگوں میں تغیر و تبدل کا بیان
Mishkat
28
بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى شِرَارِ النَّاس
قیامت بُرے لوگوں پر ہی قائم ہو گی
Mishkat
29
عرب کے ایسے لوگوں کی آمد کا بیان، جن کانام نہیں لیا گیا
Musnad Ahmad
30
آپ کے ارشاد تم پہلے لوگوں کے طریقوں کی پیروی کرو گے کا بیان
Musnad Ahmad
31
ان لوگوں کی دلیل کا بیان جو چمڑے کو رنگنے کے بعد مردار کے بالوں کی طہارت کے قائل ہیں
Musnad Ahmad
32
پانی کی عدم موجودگی میں نفاس اور حیض والی خواتین اور جنابت والے لوگوں پر تیمم کے واجب ہونے کا بیان، اگرچہ ان کو کئی مہینے ٹھہرنا پڑے
Musnad Ahmad
33
ان لوگوں کی دلیل کا بیان کہ جنھوں نے تارکِ نماز کو کافر نہیں قرار دیا اور اس کے لیے وہی امید رکھی جو کبیرہ گناہوں والوں کے لیے رکھی جاتی ہے
Musnad Ahmad
34
بچوں کو نماز کا حکم دینے کا بیان اور ان لوگوں کی تفصیل کہ جن سے قلم اٹھا لیا گیا ہے
Musnad Ahmad
35
ان لوگوں کی دلیل کا بیان جو سننِ رواتب کے فوت جانے کی صورت میں ان کی قضاء نہ دینے کے قائل ہیں
Musnad Ahmad
36
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اور سیّدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کی قراء ت کا نماز میں حجت ہونے کا بیان جن کی قراء ت پر تعریف کی گئی ہے
Musnad Ahmad
37
ان لوگوں کی دلیل کا بیان جو صبح کی نماز میں مصائب کے علاوہ قنوت نہ کرنے کے قائل ہیں
Musnad Ahmad
38
سلام کے بعد امام کا لوگوں کی طرف رخ کرنااور صحابہ کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے برکت حاصل کرنا
Musnad Ahmad
39
رسول اللہaکا باوجود نماز مکمل کرنے کے لوگوں کو ہلکی نماز پڑھانے کا بیان
Musnad Ahmad
40
عقلمند اور سمجھدار لوگوں کا امام کے قریب کھڑے ہونے کی مشروعیت کا بیان
Musnad Ahmad
41
جمعہ کی فرضیت اور اس کو ترک کرنے پر تشدید کا بیان، نیز یہ کن لوگوں پر واجب ہے
Musnad Ahmad
42
عید کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد امام کا لوگوں کے سامنے کھڑا ہونے ان کی طرف دیکھنے اور عید کی مبارک دینے کا بیان
Musnad Ahmad
43
لوگوں سے بارش کے رک جانے کے سبب کا بیان
Musnad Ahmad
44
امام اور لوگوں کا دعا کے دوران اپنی اپنی چادریں تبدیل کرنے اور ان کی کیفیت اور وقت کا بیان
Musnad Ahmad
45
نیک لوگوں اور جن کی برکت کی امید رکھی جاتی ہو، کے واسطے سے بارش طلب کرنا
Musnad Ahmad
46
قریب الموت کو کلمۂ توحید کی نصیحت کرنا، اس کے پاس نیک لوگوں کا حاضر ہونا اور اس کی پیشانی کا پسینہ، ان امور کا بیان
Musnad Ahmad
47
اس امر کا بیان کہ غلو کئے بغیر میت کو عمدہ کفن دیا جائے اور سفید کفن زیادہ پسندیدہ ہے
Musnad Ahmad
48
وقت کے امام کا خیانت کرنے والے اور خودکشی کرنے والے جیسے لوگوںکی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
49
اہلِ میت کے لیے کھانا تیار کرنے اور اس چیز کے مکروہ ہونے کا بیان کہ یہ کھانا اہل میت خود تیار کریں، کیونکہ وہ لوگوں کے اکٹھ کی وجہ سے مصروف ہوں گے
Musnad Ahmad
50
دورِ جاہلیت والے لوگوں کا قبر میں عذاب
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,806
Sahih Muslim
4138
وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، أَخْبَرَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ
This hadith has been narrated on the authority of Abu Salama with another chain of transmitters.
ابان نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں یحییٰ نے حدیث بیان کی کہ انہیں محمد بن ابراہیم نے حدیث بیان کی ، انہیں ابوسلمہ نے حدیث بیان کی کہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ ۔ آگے اسی کے مانند بیان کیا ۔
Jam e Tirmazi
396
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِيَاضٍ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ أَحَدُنَا يُصَلِّي فَلَا يَدْرِي كَيْفَ صَلَّى، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَدْرِ كَيْفَ صَلَّى فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عُثْمَانَ،‏‏‏‏ وَابْنِ مَسْعُودٍ،‏‏‏‏ وَعَائِشَةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي الْوَاحِدَةِ وَالثِّنْتَيْنِ فَلْيَجْعَلْهُمَا وَاحِدَةً وَإِذَا شَكَّ فِي الثِّنْتَيْنِ وَالثَّلَاثِ فَلْيَجْعَلْهُمَا ثِنْتَيْنِ وَيَسْجُدْ فِي ذَلِكَ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَصْحَابِنَا، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ إِذَا شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى فَلْيُعِدْ.
Iyad bin Hilal said: I said to Abu Sa'eed: 'One of us performs Salat and we do not know how (much) we prayed.' So he said: 'Allah's Messenger (S) said: When one of you performs Salat and he does now know how (much) he prayed then let him perform two prostrations while he is sitting.
عیاض یعنی ابن ہلال کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے کہا: ہم میں سے کوئی نماز پڑھتا ہے اور یہ نہیں جانتا کہ اس نے کتنی رکعت پڑھی ہیں ( یا وہ کیا کرے؟ ) تو ابو سعید خدری رضی الله عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے اور یہ نہ جان سکے کہ کتنی پڑھی ہے؟ تو وہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کر لے“۔ ( یقینی بات پر بنا کرنے کے بعد ) امام ترمذی کہتے ہیں: ا- ابوسعید رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عثمان، ابن مسعود، عائشہ، ابوہریرہ وغیرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- یہ حدیث ابوسعید سے دیگر کئی سندوں سے بھی مروی ہے، ۴- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”جب تم سے کسی کو ایک اور دو میں شک ہو جائے تو اسے ایک ہی مانے اور جب دو اور تین میں شک ہو تو اسے دو مانے اور سلام پھیرنے سے پہلے سہو کے دو سجدے کرے“۔ اسی پر ہمارے اصحاب ( محدثین ) کا عمل ہے ۱؎ اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب کسی کو اپنی نماز میں شبہ ہو جائے اور وہ نہ جان سکے کہ اس نے کتنی رکعت پڑھی ہیں؟ تو وہ پھر سے لوٹائے ۲؎۔
Jam e Tirmazi
1465
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ،‏‏‏‏ عَنْ سُفْيَانَ،‏‏‏‏ عَنْ مَنْصُورٍ،‏‏‏‏ عَنْ إِبْرَاهِيمَ،‏‏‏‏ عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ،‏‏‏‏ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ إِنَّا نُرْسِلُ كِلَابًا لَنَا مُعَلَّمَةً،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ كُلْ مَا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ ،‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ وَإِنْ قَتَلْنَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ وَإِنْ قَتَلْنَ،‏‏‏‏ مَا لَمْ يَشْرَكْهَا كَلْبٌ غَيْرُهَا ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ إِنَّا نَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ مَا خَزَقَ فَكُلْ،‏‏‏‏ وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْ ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،‏‏‏‏ عَنْ مَنْصُورٍ،‏‏‏‏ نَحْوَهُ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ وَسُئِلَ عَنِ الْمِعْرَاضِ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated 'Adi bin Hatim: I said: 'O Messenger of Allah! We send our trained dogs to catch game for us.' He said: 'Eat what it catches for you.' I said: 'O Messenger of Allah, and if they kill it?' He said: 'Even if they kill it, as long as they are not accompanied by some other dogs besides them.' He said: I said: 'O Messenger of Allah! We hunt with the Mir'ad.' He said: 'Eat of the game what the Mir'ad pierces, but whatever is struck by its broad side, then do not eat it.'
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ اپنے سدھائے ۱؎ ہوئے کتے ( شکار کے لیے ) روانہ کرتے ہیں ( یہ کیا ہے؟ ) آپ نے فرمایا: ”وہ جو کچھ تمہارے لیے روک رکھیں اسے کھاؤ“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگرچہ وہ شکار کو مار ڈالیں؟ آپ نے فرمایا: ”اگرچہ وہ ( شکار کو ) مار ڈالیں ( پھر بھی حلال ہے ) جب تک ان کے ساتھ دوسرا کتا شریک نہ ہو“، عدی بن حاتم کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ «معراض» ( ہتھیار کی چوڑان ) سے شکار کرتے ہیں، ( اس کا کیا حکم ہے؟ ) آپ نے فرمایا: ”جو ( ہتھیار کی نوک سے ) پھٹ جائے اسے کھاؤ اور جو اس کے عرض ( بغیر دھاردار حصے یعنی چوڑان ) سے مر جائے اسے مت کھاؤ۔ اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث روایت کی گئی ہے، مگر اس میں ہے «وسئل عن المعراض» ”یعنی آپ سے معراض کے بارے میں پوچھا گیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
1733
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ كِسَاءً مُلَبَّدًا وَإِزَارًا غَلِيظًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ قُبِضَ رُوحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَيْنِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Abu Burdah: 'Aishah brought a patched woolen Kisa' (cloak), and a thick Izar, She said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) died in these.' [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from 'Ali and Ibn Mas'ud. The Hadith if 'Aishah is Hasan Sahih Hadith.
ابوبردہ کہتے ہیں کہ عائشہ رضی الله عنہا نے ہمارے سامنے ایک اونی چادر اور موٹا تہ بند نکالا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات انہی دونوں کپڑوں میں ہوئی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی اور ابن مسعود رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Sahih Muslim
563
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، ح وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولَانِ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
It has been transmitted by Abu Huraira and Abu Sa'id al-Khudri (both of them the reputed Companions of the Holy Prophet) that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said like that.
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو ادریس خولانی نے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ اور حضرت ابوسعیدخدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ دونوں سے سنا کہہ رہے تھے : رسول اللہ نے فرمایا...... اسی ( پچھلی حدیث کی ) طرح ۔
Sahih Muslim
606
دَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ ح، وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: قِيلَ لَهُ: قَدْ عَلَّمَكُمْ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى الْخِرَاءَةَ قَالَ: فَقَالَ: أَجَلْ «لَقَدْ نَهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ لِغَائِطٍ، أَوْ بَوْلٍ، أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِالْيَمِينِ، أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِرَجِيعٍ أَوْ بِعَظْمٍ»
Salman reported that it was said to him: Your Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) teaches you about everything, even about excrement. He replied: Yes, he has forbidden us to face the Qibla at the time of excretion or urination, or cleansing with right hand or with less than three pebbles, or with dung or bone.
اعمش کے دوشاگرد وکیع اور ابو معاویہ كی سندوں سے حضرت سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ( اور یہ الفاظ ابو معاویہ کےشاگردیحییٰ بن یحییٰ کے ہیں ) کہ ان ( سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) سے ( طنزاً ) کہا گیا : تمہارے نبی نے تم لوگوں کو ہر چیز کی تعلیم دی ہے یہاں تک کہ قضائے حاجت ( کےطریقے ) کی بھی ۔ کہا : انہوں نے جواب دیا : ہاں ( ہمیں سب کچھ سکھایا ہے ، ) آپ نے ہمیں منع فرمایا ہے ہم پاخانے یا پیشاب کے وقت قبلے کی طرف رخ کریں یا دائیں ہاتھ سے استنجا کریں یا استنجے میں تین پتھروں سے کم استعمال کریں یاہم کوپر یا ہڈی سے استنجا کریں ۔
Sahih Muslim
668
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، أَنَّ رَجُلًا نَزَلَ بِعَائِشَةَ، فَأَصْبَحَ يَغْسِلُ ثَوْبَهُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: «إِنَّمَا كَانَ يُجْزِئُكَ إِنْ رَأَيْتَهُ أَنْ تَغْسِلَ مَكَانَهُ، فَإِنْ لَمْ تَرَ نَضَحْتَ حَوْلَهُ وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَفْرُكُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرْكًا فَيُصَلِّي فِيهِ»
Alqama and Aswad reported: A person stayed in the house of A'isha and in the morning began to wash his garment. A'isha said: In case you saw it (i. e. drop of semen), it would have served the purpose (of purifying the garment) if you had simply washed that spot; and in case you did not see it, it would have been enough to sprinkle water around it, for when I saw that on the garment of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). I simply scraped it off and he offered prayer, while putting that on.
خالد نے ابومعشر سے ، انہوں نے ابراہیم نخعی سے ، انہوں نے علقمہ اور اسود سے روایت کی کہ ایک آدمی حضرت عائشہ ؓ کے پاس ٹھہرا ، صبح کو وہ اپنا کپڑا دھو رہا تھا توعائشہ ؓ نے فرمایا : تیرے لیے کافی تھا کہ اگر تو نے کچھ دیکھا تھا تو اس کی جگہ کو دھودیتا اور اگر تو نے اسے نہیں دیکھا تو اس کے اردگرد ( تک ) پانی چھڑک دیتا ۔ میں نے اپنے آپ کو اس حال میں دیکھا کہ میں اسے ( مادہ منویہ کو ) رسول اللہ ﷺ کےکپڑے سے اچھی طرح کھرچتی تھی ، پھر آپ اس کپڑے میں نماز پڑھتے تھے ۔
Sahih Muslim
941
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ. فَقَالَ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ» قَالَتْ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ لَا يُسْمِعِ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ، فَقَالَ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ» قَالَتْ: فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ قُولِي لَهُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ لَا يُسْمِعِ النَّاسَ، فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ، فَقَالَتْ لَهُ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ» مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، قَالَتْ: فَأَمَرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، قَالَتْ: فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ وَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَقَامَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ، قَالَتْ: فَلَمَّا دَخَلَ الْمَسْجِدَ سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ حِسَّهُ، ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُمْ مَكَانَكَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَلَسَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ: فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ جَالِسًا وَأَبُو بَكْرٍ قَائِمًا يَقْتَدِي أَبُو بَكْرٍ بِصَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقْتَدِي النَّاسُ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ
A'isha reported: When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was confined to bed, Bilal came to him to summon him to prayer. He (the Holy Prophet) said: Ask Abu Bakr to lead the people in prayer. She ('A'isha) reported: I said: Messenger of Allah, Abu! Bakr is a tenderhearted man, go when ]be would stand at your place (he would be so overwhelmed by feelings) that he would not be able to make the people hear anything (his recitation would not be audible to the followers in prayer). You should better order Umar (to lead the prayer). He (the Holy Prophet) said: Ask Abu Bakr to lead people in- prayer. She ('A'isha) said: I asked Hafsa to (convey) my impression to him (the Holy Prophet) that Abu Bakr was a tenderhearted man, so when he would stand at his place, he would not be able to make the people bear anything. He better order Umar. Hafsa conveyed this (message of Hadrat 'A'isha) to him (the Holy Prophet). The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: (You are behaving) as if you are the females who had gathered around Yusuf. Order Abd Bakr to lead the people in prayer. She ('A'isha) reported: So Abu Bakr was ordered to lead the people in prayer. As the prayer began, the Messenger of Allah (may peace he upon him) felt some relief; he got up and moved supported by two persons and his feet dragged on earth (due to excessive weakness). 'A'isha reported: As he (the Holy Prophet) entered the mosque. Abu Bakr perceived his (arrival). He was about to with. draw, but the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) by the gesture (of This hand) told him to keep standing at his place. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came and seated himself on the left side of Abu Bakr. She ('A'isha) reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was leading people in prayer sitting. Abu Bakr was following the prayer of the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) in a standing posture and the people were following the prayer of Abu Bakr.
ابو معاویہ اور وکیع نے اعمش سے ، انہوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے اسود سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کہ جب رسول اللہﷺ کی بیماری شدت اختیار کر گئی تو بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ آپ کو نماز کی اطلاع دینے کے لیے حاضر ہوئے ۔ آپ نے فرمایا : ’’ ابو بکر سے کہو وہ نماز پڑھائیں ۔ ‘ ‘ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! ابو بکر جلد غم زدہ ہو جانے والے انسان ہیں اور وہ جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو ( قراءت بھی ) نہیں سنا سکیں گے ، لہٰذا اگر آپ عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو حکم دے دیں ( تو بہتر بہتر ہو گا ۔ ) آپ ﷺ نے ( پھر ) فرمایا : ’’ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ ‘ ‘ میں نے حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا : نم نبی اکرمﷺ سے کہو کہ ابو بکر جلد غمزدہ ہونے والے انسان ہیں ، جب وہ آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو ( قراءت ) نہ سنا سکیں ، چنانچہ اگر آپ عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو حکم دیں ( تو بہتر ہو گا ۔ ) حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے کہہ دیا تو آپ نے فرمایا : ’’تم یوسف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے ساتھ ( معاملہ کرنے ) والی عورتوں ہی طرح ہو ، ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ ‘ ‘ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : لوگوں نے ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو حکم پہنچا دیا تو انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی ۔ جب ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے نماز شروع کر دی تو رسول اللہﷺ نے طبیعت میں قدرے تخفیف محسوس کی ، آپ اٹھے ، دو آدمی آپ کو سہارا دیے ہوئے تھے اور آپ کے پاؤں زمین پر لکیر کھینچتے جا رہے تھے ۔ وہ فرماتی ہیں : جب آپ مسجد میں داخل ہوئے تو ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے آپ کی آہٹ سن لی ، وہ پیچھے ہٹنے لگے تو رسول اللہﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی جگہ کھڑے رہو ، پھر رسول اللہﷺ آگے بڑے اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی بائیں جانب بیٹھ گئے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ بیٹھ کر لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کھڑے ہو کر ۔ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ رسول اللہﷺ کی نماز کی اقتدا کر رہے تھے اور لوگ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی اقتدا کر رہے تھے ۔
Sahih Muslim
998
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَصَابَتْ بَخُورًا فَلَا تَشْهَدْ مَعَنَا الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ
Abu Huraira said: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Whoever (woman) fumigates herself with perfume should not join us in the 'Isha' prayer.
حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جس عورت کو ( بخور ) خوشبودار دھواں لگ جائے ، وہ ہمارے ساتھ عشاء کی نماز میں حاضر نہ ہو ۔ ‘ ‘