TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

پانی کی عدم موجودگی میں نفاس اور حیض والی خواتین اور جنابت والے لوگوں پر تیمم کے واجب ہونے کا بیان، اگرچہ ان کو کئی مہینے ٹھہرنا پڑے - پانی کی عدم موجودگی میں نفاس اور حیض والی خواتین اور جنابت والے لوگوں پر تیمم کے واجب ہونے کا بیان، اگرچہ ان کو کئی مہینے ٹھہرنا پڑے - تیمم کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of تیمم کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 6 · 3 Hadith
۔ (۹۹۴)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: جَائَ أَعْرَابِیٌّ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ أَکُوْنُ فِی الرَّمْلِ أَرْبَعَۃَ أَشْہْرٍ أَوْ خَمْسَۃَ أَشْہُرٍ فَیَکُوْنُ فِیْنَا النُّفَسَائُ وَالْحَائِضُ وَالْجُنُبُ فَمَا تَرٰی؟ قَالَ: ((عَلَیْکَ بِالتُّرَابِ۔)) (مسند أحمد: ۷۷۳۳)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک بدّو ، نبیِ کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں چار پانچ پانچ مہینوں تک صحراء میں ہوتا ہوں اور ہم میں نفاس اور حیض والی خواتین اور جنابت والے لوگ بھی ہوتے ہیں، اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو مٹی کو لازم پکڑ۔
Takhreej
(۹۹۴) تخریج: حدیث حسن۔ أخرجہ ابویعلی: ۵۸۷۰، والبیھقی: ۱/ ۲۱۷، وأخرج بنحوہ الطبرانی فی الاوسط : ۲۰۳۲ (انظر: ۷۷۴۷)
994
Sahih
۔ (۹۹۵)۔ عَنْ نَاجِیَۃَ الْعَنَزِیِّ قَالَ: تَدَارَاَ عَمَّارُ (بْنُ یَاسِرٍ) وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍؓ فِی التَّیَمُّمِ، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: لَوْ مَکَثْتُ شَہْرًا لَا أَجِدُ فِیْہِ الْمَائَ لَمَا صَلَّیْتُ، فَقَالَ لَہُ عَمَّارٌ: أَمَا تَذْکُرُ اِذْ کُنْتُ أَنَا وَأَنْتَ فِی الْاِبِلِ فَأَجْنَبْتُ فَتَمَعَّکْتُ تَمَعُّکَ الدَّابَّۃِ، فَلَمَّا رَجَعْتُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرْتُہُ بِالَّذِیْ صَنَعْتُ فَقَالَ: ((اِنَّمَا کَانَ یَکْفِیْکَ التَّیَمُّمُ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۵۰۵)
ناجیہ عنزی کہتے ہیں: تیمم کے سلسلے میں سیدنا عمار بن یاسر ؓاور سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓکا ایک دوسرے سے اختلاف ہو گیا، سیدنا عبد اللہ نے کہا: اگر مجھے ایک ماہ تک ٹھہرنا پڑے اور پانی نہ ملے تومیں تو نماز نہیں پڑھوں گا۔ سیدنا عمارؓ نے ان سے کہا: کیا تم کو یاد ہے کہ جب میں اور تم اونٹوں میں تھے اور مجھے جنابت لاحق ہو گئی تھی، جس کی وجہ سے میں چوپائے کی طرح مٹی میں لیٹا تھا، پھر جب میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف لوٹا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اپنے کیے کی خبر دی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: صرف تجھے تیمم کافی تھا۔
Takhreej
(۹۹۵) اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، ناجیۃ العنزی لم یسمع من عمار۔ أخرجہ النسائی: ۱/۱۶۶ (انظر: ۱۸۳۱۵)
995
Zaeef
۔ (۹۹۶)۔عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍؓ قَالَ: أَجْنَبَ رَجُلَانِ فَتَیَمَّمَ أَحَدُہُمَا فَصَلّٰی وَلَمْ یُصَلِّ الْأَخَرُ، فَأَتَیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمْ یَعِبْ عَلَیْہِمَا۔ (مسند أحمد: ۱۹۰۳۸)
سیدنا طارق بن شہابؓ کہتے ہیں: دو آدمیوں کو جنابت لاحق ہو گئی، ان میں سے ایک نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی اور دوسرے نے نماز نہ پڑھی، پس جب وہ دونوں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کسی پر عیب نہیں لگایا۔
Takhreej
(۹۹۶) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ النسائی: ۱/ ۱۷۲ (انظر: ۱۸۸۳۲)
996
Sahih