حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ أَبُوهُ فِي حِجْر أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ، قَالَ لِي أَبُو سَعِيدٍ: إِذَا كُنْتَ فِي الْبَوَادِي فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالْأَذَانِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا يَسْمَعُهُ جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا شَجَرٌ وَلَا حَجَرٌ إِلَّا شَهِدَ لَهُ .
It was narrated from 'Abdullah bin 'Abdur-Rahman bin Abu Sa'sa'ah that:
His father who was under the care of Abu Sa'eed said: Abu Sa'eed said to me: 'If you are in the desert, raise your voice when you say the Adhan, for I heard the Messenger of Allah say: 'No jinn, human, tree or rock will hear it, but it will bear witness for you.'
عبدالرحمٰن بن ابوصعصعہ (جو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے زیر پرورش تھے) کہتے ہیں کہ مجھ سے ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: جب تم صحراء میں ہو تو اذان میں اپنی آواز بلند کرو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اذان کو جنات، انسان، درخت اور پتھر جو بھی سنیں گے وہ قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دیں گے ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۴۱۰۵، ومصباح الزجاجة: 268)، وأخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ۵ (۶۰۸)، بدء الخلق ۱۲ (۳۲۹۶)، التوحید ۵۲ (۷۵۴۸)، سنن النسائی/الأذان ۱۴ (۶۴۵)، موطا امام مالک/الصلاة ۱ (۵)، مسند احمد (۳/۳۵، ۴۳)
Explanation
تو جتنی دور آواز پہنچے گی گواہ زیادہ ہوں گے، اور صحراء و بیابان کی قید اس لئے ہے کہ آبادی میں گواہوں کی کمی نہیں ہوتی، آدمی ہی بہت ہوتے ہیں اس لئے زیادہ آواز بلند کرنے کی ضرورت نہیں، اگرچہ آواز بلند کرنا مستحب ہے
723
Sahih