ابونضرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے ابوعبداللہ نامی صحابی بیمار ہو گئے تو ان کے ساتھی ان کی عیادت کے لیے آئے تو وہ رو رہے تھے ، انہوں نے کہا : آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ کیا رسول اللہ ﷺ نے آپ سے یہ نہیں فرمایا اپنی موچھیں کتراؤ ، پھر اس پر قائم رہو حتیٰ کہ تم (حوض کوثر پر) مجھ سے آ ملو ، انہوں نے کہا : کیوں نہیں ۔ ضرور فرمایا تھا ۔ لیکن میں نے رسول اللہ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اللہ عزوجل نے اپنے دائیں ہاتھ سے مٹھی بھری ، اور دوسرے ہاتھ سے دوسری ، اور فرمایا : یہ اس (جنت) کے لیے ہے اور یہ اس (جہنم) کے لیے ہے ، اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ۔‘‘ جبکہ مجھے معلوم نہیں کہ میں ان دو مٹھیوں میں سے کس میں ہوں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد (۵/ ۶۸ ح ۲۰۹۴۴ ، ۴/ ۱۷۶ ح ۱۷۷۳۶) ۔
ابن عباس ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ نے عرفہ کے نزدیک مقام نعمان پر اولاد آدم سے عہد لینے کا ارادہ فرمایا تو ان کی صلب سے (ان کی) تمام اولاد کو ’’جسے پیدا کرنا تھا ‘‘ نکالا تو انہیں ان کے سامنے بکھیر دیا ، جیسے چیونٹیاں ہوں ، پھر ان سے براہ راست خطاب کیا تو فرمایا :’’ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے کہا : کیوں نہیں ۔ ہم اس پر گواہ ہیں (یہ اقرار اس لیے لیا گیا ) کہ کہیں قیامت کے دن تم یہ نہ کہو کہ ہم تو اس حقیقت سے محض بے خبر تھے ، یا یوں کہو کہ شرک تو ہمارے آباء نے کیا تھا ، ہم تو ان کی اولاد ہیں جو ان کے بعد آئے ، کیا تو ہمیں ان غلط کاروں کے کاموں پر ہلاک کر دے گا ۔‘‘ سندہ حسن ، رواہ احمد (۱/ ۲۷۲ ح ۲۴۵۵) و النسائی فی الکبریٰ (۶/ ۳۴۷ ح ۱۱۱۹۱) و الحاکم (۱/ ۲۷ ، ۲/ ۵۴۴) ۔
ابی بن کعب ؓ نے اللہ عزوجل کے فرمان :’’ جب آپ کے رب نے بنی آدم سے ان کی پشت سے ان کی نسل کو نکالا ۔‘‘ کی تفسیر میں فرمایا : اس نے ان کو جمع کیا تو ان کی مختلف اصناف بنا دیں ، پھر ان کی تصویر کشی کی ، انہیں بولنے کو کہا تو انہوں نے کلام کیا ، پھر ان سے عہد و میثاق لیا اور انہیں ان کی جانوں پر گواہ بنایا :’’ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟‘‘ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں ساتوں آسمانوں ، ساتوں زمینوں اور تمہارے باپ آدم ؑ کو تم پر گواہ بناتا ہوں کہ کہیں تم روز قیامت یہ نہ کہو : ہمیں اس کا پتہ نہیں ، جان لو کہ میرے سوا کوئی معبود برحق ہے نہ کوئی رب ، میرے ساتھ کسی کو شریک نہ بنانا ، میں اپنے رسول تمہاری طرف بھیجوں گا وہ میرا عہد و میثاق تمہیں یاد دلاتے رہیں گے ۔ اور میں اپنی کتابیں تم پر نازل فرماؤں گا ، تو انہوں نے کہا : ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو ہمارا رب ہے اور ہمارا معبود ہے ۔ تیرے سوا ہمارا کوئی رب ہے نہ معبود ، انہوں نے اس کا اقرار کر لیا ، اور آدم ؑ کو ان پر ظاہر کیا گیا ، وہ انہیں دیکھنے لگے تو انہوں نے غنی و فقیر اور خوبصورت و بدصورت کو دیکھا تو عرض کیا ، پروردگار ! تو نے اپنے بندوں میں مساوات کیوں نہیں کی ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں پسند کرتا ہوں کہ میرا شکر کیا جائے ، اور انہوں نے انبیا علیہم السلام کو دیکھا ، ان میں چراغوں کی طرح تھے ان پر نور (برس رہا) تھا ، اور ان سے رسالت و نبوت کے بارے میں خصوصی عہد لیا گیا ، اللہ تعالیٰ کے فرمان سے یہی عہد مراد ہے ’’ اور جب ہم نے تمام نبیوں سے ، آپ سے ، نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم علیہم السلام سے عہد لیا تھا ۔‘‘ عیسیٰ علیہ السلام ان ارواح میں تھے تو اللہ نے انہیں مریم علیھاالسلام کی طرف بھیجا ۔ ابی ؓ سے بیان کیا گیا کہ اس (روح) کو مریم علیھاالسلام کے منہ کے ذریعے داخل کیا گیا ۔ سندہ ضعیف رواہ احمد (۵/ ۱۳۵ ح ۲۱۵۵۲) و الفریابی فی کتاب القدر (۵۲) و الحاکم (۲/ ۳۲۳ ح ۳۲۴ ح ۳۲۵۵) ۔
ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کے بارے میں باہم بات چیت کر رہے تھے کہ اچانک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم کسی پہاڑ کے بارے میں سنو کہ وہ اپنی جگہ سے ہٹ گیا ہے تو اس بات کی تصدیق کر دو ۔ اور جب تم کسی آدمی کے بارے میں سنو ، اس نے اپنی عادت بدل لی ہے تو اس کے متعلق بات کی تصدیق نہ کرو ، کیونکہ وہ اپنی جبلت پر کاربند رہے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۶/ ۴۴۳ ح ۲۸۰۴۷) ۔
ام سلمہ ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ ﷺ نے جو زہر آلود بکری کھائی تھی اس کی وجہ سے آپ ہر سال تکلیف محسوس کرتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے اس سے جو بھی تکلیف پہنچی ہے وہ تو میرے متعلق اس وقت لکھ دی گئی تھی جب آدم ؑ ابھی مٹی کی صورت میں تھے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ (۳۵۴۶) ۔