عمر بن خطابؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ، ہر شخص کو وہی کچھ ملے گا جو اس نے نیت کی ، پس جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی خاطر ہوئی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی خاطر ، اور جس کی ہجرت حصول دنیا یا کسی عورت سے شادی کرنے کی خاطر ہوئی تو اس کی ہجرت اس کی خاطر ہے جس کی خاطر اس نے ہجرت کی ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱ ، ۵۴ ، ۲۵۲۹ ، ۳۸۹۸ ، ۵۰۷۰ ، ۶۶۸۹ ، ۶۹۵۳) و مسلم (۴۹۲۷) ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱ ، ۵۴ ، ۲۵۲۹ ، ۳۸۹۸ ، ۵۰۷۰ ، ۶۶۸۹ ، ۶۹۵۳) و مسلم (۱۹۰۷ ، الامارۃ : ۱۵۵) [و النسائی ، الایمان و النذور : النیۃ فی المیمن ح ۳۸۲۵ ، السلفیۃ ۲ / ۱۳۵ ، و اللفظ لہ الا عندہ ’’ لدنیا ‘‘ بدل ’’ الی دنیا ‘‘ وجاء فی بعض نسخ النسائی ’’ الی دنیا ‘‘] 367
عمر بن خطابؓ بیان کرتے ہیں ، ہم ایک روز رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ اس اثنا میں ایک آدمی ہمارے پاس آیا ، جس کے کپڑے بہت ہی سفید اور بال انتہائی سیاہ تھے ، اس پر سفر کے آثار نظر آتے تھے نہ ہم میں سے کوئی اسے جانتا تھا ، حتیٰ کہ وہ دو زانو ہو کر نبیﷺ کے سامنے بیٹھ گیا اور اس نے اپنے دونوں ہاتھ اپنی رانوں پر رکھ لیے ، اور کہا : محمدﷺ! اسلام کے متعلق مجھے بتائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں ، نماز قائم کرو ، زکوۃ ادا کرو ، رمضان کے روزے رکھو اور اگر استطاعت ہو تو بیت اللہ کا حج کرو ۔‘‘ اس نے کہا : آپ نے سچ فرمایا ، ہمیں اس سے تعجب ہوا کہ وہ آپ سے پوچھتا ہے اور آپ کی تصدیق بھی کرتا ہے ، اس نے کہا : ایمان کے بارے میں مجھے بتائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ کہ تم اللہ پر ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں ، اور یوم آخرت پر ایمان لاؤ اور تم تقدیر کے اچھا اور برا ہونے پر ایمان لاؤ ۔‘‘ اس نے کہا : آپ نے سچ فرمایا ، پھر اس نے کہا ، احسان کے بارے میں مجھے بتائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ سکے تو وہ یقیناً تمہیں دیکھ رہا ہے ۔‘‘ اس نے کہا، قیامت کے بارے میں مجھے بتائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مسٔول اس کے متعلق سائل سے زیادہ نہیں جانتا ۔‘‘ اس نے کہا ، اس کی نشانیوں کے بارے میں مجھے بتا دیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ کہ لونڈی اپنی مالکہ کو جنم دے گی اور یہ کہ تم ننگے پاؤں ، ننگے بدن ، تنگ دست بکریوں کے چرواہوں کو بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر اور ان پر فخر کرتے ہوئے دیکھو گے ۔‘‘ عمرؓ نے فرمایا : پھر وہ شخص چلا گیا ، میں کچھ دیر ٹھہرا ۔ پھر آپ ﷺ نے مجھ سے پوچھا :’’ عمر ! کیا تم جانتے ہو سائل کون تھا ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ جبریل ؑ تھے ، وہ تمہیں تمہارا دین سکھانے کے لیے تمہارے پاس تشریف لائے تھے ۔‘‘ رواہ مسلم (۹۳) ۔
Takhreej
: رواہ مسلم (الایمان ج ۱ ص ۲۸ ۔ ۲۹ ح ۸ و اللفظ لہ الا عندہ ’’ بینما ‘‘ بدل ’’ بینا ‘‘ وجاء فی اکمال اکمال 367 المعلم لمحمد بن خلیفۃ الابی ۱ ص ۱۰۲ ’’ بینا ‘‘) ۔
ابوہریرہؓ نے اس حدیث کو کچھ الفاظ کے اختلاف کے ساتھ روایت کیا ہے ، اس حدیث میں ہے :’’ جب تم ننگے پاؤں ، ننگے بدن ، بہرے ، گونگے لوگوں کو ملک کے بادشاہ دیکھو گے ، اور یہ (وقوع قیامت) پانچ چیزوں میں سے ہے جنہیں صرف اللہ ہی جانتا ہے ، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ بے شک قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے اور وہی بارش نازل کرتا ہے ،،،،،،، ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۰ ، ۴۷۷۷) و مسلم
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۰ ، ۴۷۷۷) و مسلم (الایمان : ۹) ۔ 97
ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے ، گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور یہ کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ نماز قائم کرنا ، زکوۃ ادا کرنا ، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۸) و مسلم
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۸) و مسلم (۱۶ / ۲۱) ۔ 113
ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ایمان کی ستر سے کچھ زائد شاخیں ہیں ان میں سے سب سے افضل یہ کہنا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔ اور سب سے ادنی ٰ یہ ہے کہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۹) و مسلم
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۹) و مسلم (۳۵ / ۵۸ و اللفظ لہ) ۔ 153
عبداللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں ، اور مہاجر وہ ہے جو اللہ کی منع کردہ چیزوں کو ترک کر دے ۔‘‘ یہ صحیح بخاری کی روایت کے الفاظ ہیں ، جبکہ صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ ہیں : فرمایا کہ کسی آدمی نے نبیﷺ سے دریافت کیا ، کون سا مسلمان بہتر ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ ہوں ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۰) و مسلم
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۰) و مسلم (۴۰ / ۶۴) ۔ 161
انسؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا حتیٰ کہ میں اسے اس کے والد ، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۵) و مسلم
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۵) و مسلم (۴۴ / ۷۰) ۔ 169
انسؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص میں تین خصلتیں ہوں اس نے ان کے ذریعے ایمان کی لذت و حلاوت کو پا لیا ، جس کو اللہ اور اس کے رسول سب سے زیادہ محبوب ہوں ، جو شخص کسی سے محض اللہ کی رضا کی خاطر محبت کرتا ہو ، اور جو شخص دوبارہ کافر بننا ، اس کے بعد کہ اللہ نے اسے اس سے بچا لیا ، ایسے ناپسند کرتا ہو جیسے وہ آگ میں ڈالا جانا ناپسند کرتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۱) و مسلم
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۱) و مسلم (۴۳ / ۶۷) ۔ 165
عباس بن عبدالمطلبؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ کے رب ہونے ، اسلام کے دین ہونے اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر راضی ہو گیا اس نے ایمان کی لذت کو پا لیا ۔‘‘ رواہ مسلم
ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے ، اس امت کے جس یہودی اور عیسائی نے میرے متعلق سن لیا اور پھر وہ مجھ پر اتارے گئے دین و شریعت پر ایمان لائے بغیر فوت ہو جائے تو وہ جہنمی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم
ابوموسیٰ اشعریؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تین قسم کے لوگوں کے لیے دو اجر ہیں ، اہل کتاب میں سے وہ شخص جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور پھر محمد ﷺ پر ایمان لایا ، مملوک غلام جب وہ اللہ کا حق ادا کرے اور اپنے مالکوں کا بھی حق ادا کرے ، اور ایک وہ شخص جس کے پاس کوئی لونڈی ہو ، وہ اس سے ہم بستری کرتا ہو ، پس وہ اسے آداب سکھائے اور اچھی طرح سے مؤدب بنائے ، اس کو بہترین زیور تعلیم سے آراستہ کرے ۔ پھر اس کو آزاد کر دے اور اس کے بعد اس سے شادی کر لے تو اس کے لئے دو اجر ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۹۷ والادب المفرد : ۲۰۳) و مسلم
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۹۷ و الادب المفرد : ۲۰۳) و مسلم (۱۵۴ / ۲۴۱) ۔ 387
ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے لوگوں سے قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ حتیٰ کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، اور وہ نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں ، جب ان کا یہ طرز عمل ہو گا تو انہوں نے حدودِ اسلام کے علاوہ اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو مجھ سے بچا لیا ، اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ البتہ امام مسلم نے ’’حدود اسلام ‘‘ کا ذکر نہیں کیا ۔ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۵) و مسلم
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۵ و اللفظ لہ) و مسلم (۲۲ / ۳۶) ۔ 129
انسؓ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص ہماری نماز کی طرح نماز پڑھے ، ہمارے قبلہ کی طرف رخ کرے اور ہمارا ذبیحہ کھائے تو وہ ایسا مسلمان ہے جسے اللہ اور اس کے رسول کی امان حاصل ہے ، سو تم اللہ کی امان اور ذمہ کو نہ توڑو ۔‘‘ رواہ البخاری (۳۹۱) ۔
ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں ، ایک دیہاتی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا ، مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جس کے کرنے سے میں جنت میں داخل ہو جاؤں ۔ آپ نے فرمایا :’’ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کرو ، فرض نماز قائم کرو ۔ فرض زکوۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو ۔‘‘ اس نے کہا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کروں گا ، جب وہ چلا گیا تو نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کو پسند ہو کہ وہ جنتی شخص کو دیکھے تو وہ اسے دیکھ لے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۳۹۷) و مسلم
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۳۹۷) و مسلم (۱۴ / ۱۵) 107۔
سفیان بن عبداللہ ثقفی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! مجھے اسلام کے متعلق کوئی ایسی بات بتائیں کہ میں اس کے متعلق آپ کے بعد کسی سے نہ پوچھوں ، اور ایک روایت میں ہے ۔ آپ کے سوا کسی سے نہ پوچھوں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کہو میں اللہ پر ایمان لایا ۔ پھر ثابت قدم ہو جاؤ ۔‘‘ رواہ مسلم
طلحہ بن عبیداللہؓ بیان کرتے ہیں اہل نجد سے پریشان حال بکھرے بالوں والا ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، ہم اس کی آواز کی گنگناہٹ سن رہے تھے لیکن ہم اس کی بات نہیں سمجھ رہے تھے حتیٰ کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے قریب ہوا ، اور وہ اسلام کے متعلق پوچھنے لگا ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دن اور رات میں پانچ نمازیں ۔‘‘ اس نے عرض کیا ، کیا ان کے علاوہ بھی کوئی چیز مجھ پر فرض ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ، مگر یہ کہ تم نفل پڑھو ۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔’’ اور ماہ رمضان کے روزے ۔‘‘ اس نے پوچھا : کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی چیز لازم ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ، الا یہ کہ تم نفلی روزہ رکھو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے اسے زکوۃ کے متعلق بتایا تو اس نے کہا : کیا اس کے علاوہ مجھ پر کوئی چیز فرض ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ، الا یہ کہ تم نفلی صدقہ کرو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : وہ آدمی یہ کہتے ہوئے واپس چلا گیا : اللہ کی قسم ! میں اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہیں کروں گا ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔’’ اگر اس نے سچ کہا ہے تو وہ کامیاب ہو گیا ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۴۶) و مسلم
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۴۶) و مسلم (۱۱ / ۸) ۔ 106
ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں ، کہ جب عبدالقیس کا وفد نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔’’ یہ کون لوگ ہیں یا کون سا وفد ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : ہم ربیعہ قبیلہ کے لوگ ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ قوم یا وفد ! خوش آمدید ، تم کشادہ جگہ آئے اور تم رسوا ہوئے نہ نادم ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ہم صرف حرمت والے مہینوں میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو سکتے ہیں ، ہمارے اور آپ کے مابین مضر کے کفار کا یہ قبیلہ آباد ہے ، آپ کسی فیصلہ کن امر کے متعلق حکم فرما دیں تاکہ ہم اپنے پچھلے ساتھیوں کو اس کے متعلق بتائیں اور ہم سب اس کی وجہ سے جنت میں داخل ہو جائیں ۔ اور انہوں نے آپ سے مشروبات کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے چار چیزوں کے متعلق انہیں حکم فرمایا اور چار چیزوں سے انہیں منع فرمایا ، آپ نے ایک اللہ پر ایمان لانے کے متعلق انہیں حکم دیا :’’ فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو کہ ایک اللہ پر ایمان لانے سے کیا مراد ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ۔ نماز قائم کرنا ۔ زکوۃ ادا کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا ، اور یہ کہ تم مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ادا کرو ۔‘‘ اور آپ نے انہیں چار چیزوں سے منع فرمایا ، آپ نے بڑے مٹکوں ، کدو سے بنے ہوئے پیالوں ، لکڑی سے تراشے ہوئے لگن اور تارکول سے رنگے ہوئے روغنی برتنوں سے منع فرمایا ، اور فرمایا :’’ انہیں یاد رکھو اور اپنے پچھلے ساتھیوں کو ان کے متعلق بتا دو ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ حدیث کے الفاظ بخاری کے ہیں ۔ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۳) و مسلم
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۳) و مسلم (۱۷ / ۲۴) ۔ 116
عبادہ بن صامتؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے جبکہ آپ کے صحابہ کرام کی ایک جماعت آپ کے اردگرد تھی ۔ فرمایا :’’ تم اس بات پر میری بیعت کرو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناؤ گے ، تم چوری کرو گے نہ زنا کرو گے ، تم اپنی اولاد کو قتل کرو گے نہ اپنی طرف سے کسی پر بہتان لگاؤ گے اور نہ ہی معروف میں نافرمانی کرو گے ، پس تم میں سے جو شخص (یہ عہد) وفا کرے گا تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے ، اور جس نے ان میں سے کسی چیز کا ارتکاب کیا اور اسے دنیا میں اس کی سزا مل گئی تو اس کے لیے کفارہ ہے ۔ اور جس نے ان میں سے کسی چیز کا ارتکاب کیا پھر اللہ نے اس کی پردہ پوشی فرمائی تو اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے ۔ اگر وہ چاہے تو اس سے درگزر فرمائے اور اگر چاہے تو اسے سزا دے ۔‘‘ پس ہم نے اس پر آپ کی بیعت کر لی ۔ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۸) و مسلم
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۸) و مسلم (۱۷۰۹ / ۴۱) ۔ 4461
ابوسعید خدریؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ عیدالاضحی یا عیدالفطر کے موقع پر عید گاہ کی طرف تشریف لائے تو آپ خواتین کے پاس سے گزرے تو فرمایا :’’ خواتین کی جماعت ! صدقہ کرو ، کیونکہ میں نے جہنم میں تمہاری اکثریت دیکھی ہے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کس وجہ سے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تم لعن طعن زیادہ کرتی ہو اور خاوند کی ناشکری کرتی ہو ، میں نے تم سے زیادہ کسی کو دین اور عقل میں نقص رکھنے کے باوجود پختہ رائے مرد کی عقل کو لے جانے والا نہیں پایا ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمارے دین اور ہماری عقل کا کیا نقصان ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا عورت کی گواہی ، مرد کی گواہی سے نصف نہیں ؟‘‘ انہوں نے کہا : جی ہاں ، کیوں نہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ اس کی عقل کا نقص ہے ۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا جب اسے حیض آتا ہے تو اس وقت وہ نماز اور روزہ ترک نہیں کرتی ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : کیوں نہیں ، ایسے ہی ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ اس کے دین کے نقص میں سے ہے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۰۴) و مسلم
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۰۴) و مسلم (۱۳۲ / ۸۰) ۔ 241
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ كَذبَنِي ابْن آدم وَلم يكن لَهُ ذَلِك وَشَتَمَنِي وَلم يكن لَهُ ذَلِك أما تَكْذِيبه إيَّايَ أَن يَقُول إِنِّي لن أُعِيدهُ كَمَا بَدأته وَأما شَتمه إيَّايَ أَن يَقُول اتخذ الله ولدا وَأَنا الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُولَدْ وَلَمْ يكن لي كُفؤًا أحد (لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفؤًا أحد)
كُفؤًا وكفيئا وكفاء وَاحِد
ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ابن آدم نے میری تکذیب کی حالانکہ یہ اس کے لیے مناسب نہیں ، اور اس نے مجھے برا بھلا کہا ، حالانکہ یہ اس کے لائق نہیں تھا ۔ رہا اس کا مجھے جھٹلانا ، تو وہ اس کا یہ کہنا ہے کہ وہ مجھے دوبارہ پیدا نہیں کرے گا جیسے اس نے شروع میں مجھے پیدا کیا تھا ، حالانکہ پہلی بار پیدا کرنا میرے لیے دوبارہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان نہیں ؟ اور رہا اس کا مجھے برا بھلا کہنا ، تو وہ اس کا یہ کہنا ہے : اللہ کی اولاد ہے ، حالانکہ میں یکتا ، بے نیاز ہوں جس کی اولاد ہے نہ والدین اور نہ کوئی میرا ہم سر ہے ۔‘‘ رواہ البخاری (۴۹۷۴ ، ۴۹۷۵)