ابن عباسؓ سے مروی حدیث میں ہے :’’ اور رہا اس کا مجھے گالی دینا ، تو وہ اس کا یہ کہنا ہے : میری اولاد ہے ، حالانکہ میں اس سے پاک ہوں کہ میری بیوی ہو یا میری اولاد ہو ۔‘‘ رواہ البخاری (۴۴۸۲) ۔
ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ابن آدم زمانے کو گالی دینے کے باعث مجھے تکلیف پہنچاتا ہے ، حالانکہ میں زمانہ ہوں ، تمام معاملات میرے ہاتھ میں ہیں ، میں ہی دن رات کو بدلتا ہوں ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۴۸۲۶ ، ۷۴۹۱) و مسلم
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۴۸۲۶ ، ۷۴۹۱) و مسلم (۲۲۴۶ / ۲) ۔ 5863
ابوموسیٰ اشعریؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تکلیف دہ بات سن کر اس پر صبر کرنے والا اللہ سے بڑھ کر کوئی نہیں ، وہ اس کے لیے اولاد کا دعویٰ کرتے ہیں ، لیکن وہ پھر بھی ان سے درگزر کرتا ہے اور انہیں رزق بہم پہنچاتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۷۳۷۸) و مسلم
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۷۳۷۸) و مسلم (۲۸۰۴ / ۴۹) ۔ 7082
معاذ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نبی ﷺ کے پیچھے گدھے پر سوار تھا ، میرے اور آپ کے درمیان صرف پالان کی ایک لکڑی تھی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ معاذ ! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کا اپنے بندوں پر کیا حق ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کا بندوں پر یہ حق ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں اور بندوں کا اللہ پر یہ حق ہے کہ وہ اس شخص کو عذاب نہ دے جو اس کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کرتا ہو ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا میں لوگوں کو اس کی بشارت نہ دے دوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ انہیں بشارت نہ دو ورنہ وہ (اس بات پر) توکل کر لیں گے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۸۵۶) و مسلم
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۸۵۶) و مسلم (۳۰ / ۴۸ ، ۴۹) ۔ 144
انسؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سواری پر تھے جبکہ معاذ ؓ آپ کے پیچھے بیٹھے تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ معاذ !‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! سعادت مندی کے ساتھ حاضر ہوں ۔ آپ نے پھر فرمایا :’’ معاذ !‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! سعادت مندی کے ساتھ حاضر ہوں ، آپ نے پھر فرمایا :’’ معاذ !‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! سعادت مندی کے ساتھ حاضر ہوں ، تین مرتبہ ایسے ہوا پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص صدق دل سے یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، تو اللہ ا س پر جہنم کی آگ حرام کر دیتا ہے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا میں اس کے متعلق لوگوں کو نہ بتا دوں تاکہ وہ خوش ہو جائیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تب تو وہ توکل کر لیں گے ۔‘‘ پھر معاذ ؓ نے گناہ سے بچنے کے لیے اپنی موت کے قریب اس کے متعلق بتایا ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۲۸) و مسلم (۳۲ / ۵۳) ۔ 148
ابوذرؓ بیان کرتے ہیں ۔ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ سفید کپڑا اوڑھے سو رہے تھے ۔ میں پھر دوبارہ حاضر ہوا تو آپ بیدار ہو چکے تھے ۔ تب آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے یہ اقرار کیا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔ پھر وہ اسی پر فوت ہو گیا ۔ تو وہ جنت میں داخل ہو گا ۔‘‘ میں نے عرض کیا اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو ۔‘‘ میں نے پھر عرض کیا ، اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو ۔ خواہ ابوذر کو ناگوار ہو ۔‘‘ ابوذرؓ جب یہ حدیث بیان کرتے تو یہ الفاظ بھی بیان کرتے تھے ۔ اگرچہ ابوذر کو ناگوار گزرے ۔ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۸۲۷) و مسلم
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۸۲۷) و مسلم (۹۴ / ۱۵۴) ۔ 273
عبادہ بن صامتؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص یہ گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اور یہ کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ اور یہ کہ عیسیٰ ؑ اللہ کے بندے ، اس کے رسول اور اس کی باندی کے بیٹے ہیں ، اس کا کلمہ ہیں جسے اس نے مریم ؑ کی طرف ڈالا اور اس کی طرف ایک روح ہیں ۔ جنت اور جہنم حق ہیں ۔ اللہ اس شخص کو جنت میں داخل فرمائے گا ، خواہ اس کے اعمال کیسے بھی ہوں ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۴۳۵) و مسلم
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۴۳۵) و مسلم (۲۸ / ۴۶) ۔ 140
عمرو بن عاصؓ بیان کرتے ہیں ۔ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے عرض کیا :اپنا دایاں ہاتھ بڑھائیں تاکہ میں آپ کی بیعت کروں ، آپ نے دایاں ہاتھ بڑھایا تو میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ عمرو ! تمہیں کیا ہوا ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، میں شرط قائم کرنا چاہتا ہوں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بتاؤ ! کیا شرط قائم کرنا چاہتے ہو ؟‘‘ میں نے عرض کیا : یہ کہ مجھے بخش دیا جائے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ عمرو ! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اسلام پہلے (حالت کفر والے) گناہ مٹا دیتا ہے ۔ ہجرت اپنے سے پہلے کیے ہوئے گناہ مٹا دیتی ہے اور بیشک حج بھی ان گناہوں کو مٹا دیتا ہے جو اس سے پہلے کیے ہوتے ہیں ۔‘‘ اور ابوہریرہؓ سے مروی دو حدیثیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :’’ میں شرکاء کے شرک سے بے نیاز ہوں ۔‘‘ اور دوسری حدیث :’’ کبر میری چادر ہے ۔‘‘ میں ان دونوں حدیثوں کو ان شاء اللہ تعالیٰ ’’باب الریاء‘‘ اور ’’باب الکبر‘‘ میں بیان کروں گا ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۲۱ / ۱۹۲) 0 حدیث :’’ قال اللہ تعالیٰ : انا اغنی الشرکاء عن الشرک ‘‘ سیاتی (۵۳۱۵) و حدیث :’’ الکبریاء ردائی ‘‘ سیاتی (۵۱۱۰) ۔ 321
معاذ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور جہنم سے دور کر دے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے ایک بہت بڑی بات کے متعلق پوچھا ہے ، لیکن وہ ایسے شخص کے لیے آسان ہے ، جس پر اللہ تعالیٰ اسے آسان فرما دے ، تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ ، نماز قائم کرو ، زکوۃ ادا کرو ، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ کیا میں تمہیں ابواب خیر کے متعلق نہ بتاؤں ؟ روزہ ڈھال ہے ، صدقہ گناہوں کو ایسے مٹا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے ، اور رات کے اوقات میں آدمی کا نماز پڑھنا (گناہوں کو مٹا دیتا ہے ) ۔‘‘ پھر آپ نے (سورۃ السجدہ کی آیت) تلاوت فرمائی :’’ ان کے پہلو بستروں سے دور رہتے ہیں ۔‘‘ حتیٰ کہ آپ نے ’’ وہ عمل کیا کرتے تھے ‘‘ تک تلاوت مکمل فرمائی ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں دین کی بنیاد اس کے ستون اور اس کی چوٹی کے متعلق نہ بتاؤں ؟‘‘ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں ، اللہ کے رسول ! ضرور بتائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دین کی بنیاد اسلام ہے ، اس کا ستون نماز اور اس کی چوٹی جہاد ہے ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ کیا میں تمہیں ان سب سے بڑی چیز کے متعلق نہ بتاؤں ؟‘‘ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں ، اللہ کے نبی ! ضرور بتائیں ، آپ نے اپنی زبان کو پکڑ کر فرمایا :’’ اسے روک لو ۔‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! ہم اس سے جو کلام کرتے ہیں کیا اس پر ہمارا مؤاخذا ہو گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ معاذ ! تیری ماں تجھے گم پائے ۔ لوگوں کو ان کی زبانوں کی کاٹ ہی ان کے چہروں یا نتھنوں کے بل جہنم میں گرائے گی ۔‘‘ اسنادہ حسن ۔ رواہ احمد (۵/ ۲۳۱ ح ۲۲۳۶۶) والترمذی (۲۶۱۶) و ابن ماجہ (۳۹۷۳) و احمد (۵ / ۲۳۶ ، ۲۳۷ ، ۲۴۸) ۔
Takhreej
حسن ، رواہ احمد (۵ / ۲۳۱ ح ۲۲۳۶۶) و الترمذی (۲۶۱۶ وقال : ھذا حدیث حسن صحیح) و ابن ماجہ (۳۹۷۳) [و للحدیث شواھد عند احمد (۵ / ۲۳۶ ۔ ۲۳۷ ، ۲۴۸) وغیرہ وھوبھا حسن] ۔
ابوامامہؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے اللہ کے لیے محبت کی ، اللہ کی خاطر بغض رکھا ، اللہ کی رضا کی خاطر عطا کیا اور اللہ کے لیے روک لیا تو اس نے ایمان مکمل کر لیا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداود (۴۶۸۱) ۔
اور امام ترمذی ؒ نے معاذ بن انس ؓ سے الفاظ کی تقدیم و تاخیر کے ساتھ اسے یوں روایت کیا ہے :’’ اس شخص نے اپنا ایمان مکمل کر لیا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۲۵۲۱) و صحیحہ الحاکم علیٰ شرط الشیخین (۲/ ۱۶۴) ۔
Takhreej
: اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۲۵۲۱ وقال : ھذا حدیث منکر) [و صححہ الحاکم علی شرط الشیخین (۲ / ۱۶۴) و وافقہ الذھبی : الصواب انہ حسن ، خلافًا لمن اعلہ] ۔
ابوذرؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کی رضا کی خاطر محبت کرنا اور اللہ کی رضا کی خاطر بغض رکھنا اعمال میں سب سے افضل عمل ہے ۔‘‘ ضعیف ، رواہ ابوداود (۴۵۹۹) ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۴۵۹۹) * فیہ رجل مجھول ، لم نعرف اسمہ ، و یزید بن ابی زیاد ضعیف مدلس مختلط و لبعض حدیثہ شواھد عند الترمذی (۲۵۲۱) وغیرہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں ۔ اور مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جانوں اور مالوں کے بارے میں بے خوف اور پر امن ہوں ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی (۲۶۲۷) و النسائی (۸/ ۱۰۴ ، ۱۰۵ ح ۴۹۹۸) و صحیحہ ابن حبان (الاحسان : ۱۸۰) و الحاکم (۱ / ۱۰) ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ الترمذی (۲۶۲۷ وقال : ھذا حدیث حسن صحیح) و النسائی (۸ / ۱۰۴ ، ۱۰۵ ح ۴۹۹۸) [و صححہ ابن حبان (الاحسان : ۱۸۰) و الحاکم (۱ / ۱۰) علی شرط مسلم و وافقہ الذھبی] * ابن عجلان مدلس و عنعن و للحدیث شواھد کثیرۃ وھوبھا صحیح ۔
امام بیہقی نے فضالہ اور مجاہد کی روایت سے یہ اضافہ نقل کیا ہے :’’ مجاہد وہ ہے جو اللہ کی اطاعت کے بارے میں اپنے نفس سے جہاد کرے ، جبکہ مہاجر وہ ہے جو خطاؤں اور گناہوں سے کنارہ کش ہو جائے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۱۱۱۲۳) و احمد (۶/ ۲۱ ، ۲۲ ح۲۴۴۵۸ ، ۲۴۴۶۷) و ابن ماجہ (۳۹۳۴) وصحیحہ ابن حبان (الموارد ۲۵) و الحاکم (۱ / ۱۰ ، ۱۱) ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۱۱۱۲۳) [و احمد (۶ / ۲۱ ، ۲۲ ح ۲۴۴۵۸ ، ۲۴۴۶۷) و ابن ماجہ (۳۹۳۴) و صححہ ابن حبان (الموارد : ۲۵) و الحاکم (۱ / ۱۰ ، ۱۱)] ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ جب بھی ہمیں خطاب کرتے تو فرماتے :’’ جس شخص میں امانت نہیں اس کا ایمان ہی نہیں ، اور جس شخص کا عہد نہیں اس کا کوئی دین ہی نہیں ۔‘‘ حسن رواہ البیھقی فی شعیب الایمان (۴۳۵۲ و السنن الکبریٰ ۶ / ۲۸۸) و احمد (۳/ ۱۳۵ ح ۱۲۴۱۰ ، و ۳/ ۱۵۴ ، ۲۱۰ ، ۲۵۱) و اوردہ الضیاء فی المختارۃ (۵/ ۷۴ ح ۱۶۹۹ ، ۷/ ۲۲۴ ح ۲۶۶۰ ، ۲۶۶۳) و ابن حبان (الاحسان : ۱۹۴) و ابن خزیمہ (۳۳۳۵) ۔
Takhreej
حسن ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۴۳۵۲ و السنن الکبری ۶ / ۲۸۸) [و احمد (۳ / ۱۳۵ ح ۱۲۴۱۰ ، و ۳ / ۱۵۴ ، ۲۱۰ ، ۲۵۱) و اوردہ الضیاء فی المختارۃ (۵ / ۷۴ ح ۱۶۹۹ ، ۷ / ۲۲۴ ح ۲۶۶۰ ۔ ۲۶۶۳) و للحدیث شواھد عند ابن حبان (الاحسان : ۱۹۴ ، و سندہ حسن) و ابن خزیمۃ (۳۳۳۵) وغیرھما وھوبھا حسن] ۔
عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، اللہ نے اس کو جہنم پر حرام کر دیا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم و الترمذی (۲۶۳۸) ۔
Takhreej
مسلم ، کتاب الایمان ، باب الدلیل علی ان من مات علی التوحید دخل الجنۃ قطعًا ، رقم : ۱۴۲ ، ترمذی ، رقم : ۲۶۳۸ ۔ 142
عثمان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کو اس حالت میں موت آئے کہ وہ جانتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں تو وہ جنت میں داخل ہو گا ۔‘‘ رواہ مسلم و الترمذی (۱/ ۶۵ ، ۴۶۴ ، ابن حبان (۲۰۱) ۔
Takhreej
مسلم ، کتاب الایمان ، باب الدلیل علی ان من مات علی التوحید دخل الجنۃ قطعًا ، رقم : ۱۳۶ ، احمد ، ۱ / ۶۵ ، رقم : ۴۶۴ ، ابن حبان ، رقم : ۲۰۱ ۔ 136
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دو خصلتیں باعث موجب ہیں ۔‘‘ کسی شخص نے عرض کیا ۔ اللہ کے رسول ! وہ دو موجب کیا ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہوا فوت ہو جائے ، تو وہ جہنم میں داخل ہو گا ۔ اور جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا ۔‘‘ رواہ مسلم و احمد ۳/ ۳۹۱ ، ۱۵۲۷۰) ۔
Takhreej
مسلم ، کتاب الایمان ، باب الدلیل علی من مات لا یشرک باللہ شیئًا دخل الجنۃ ، رقم : ۲۶۹ ، احمد ، ۳ / ۳۹۱ ، رقم : ۱۵۲۷۰ ۔ 269
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ۔ ہم رسول اللہ ﷺ کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے جبکہ ابوبکر و عمر ؓ صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ ہمارے ساتھ تھے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس سے اٹھ کر چلے گئے ، آپ نے ہمارے پاس واپس آنے میں تاخیر کی تو ہمیں اندیشہ ہوا کہ ہماری غیر موجودگی میں آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچائی جائے ، پس ہم (آپ کی تلاش میں) اٹھ کھڑے ہوئے ، تو سب سے پہلا شخص میں تھا جو پریشان ہوا تو میں وہاں سے رسول اللہ ﷺ کو تلاش کرنے کے لیے روانہ ہوا ، حتیٰ کہ میں انصار قبیلے کے ایک خاندان بنونجار کے ایک باغ کے پاس آیا تو میں نے اس کا چکر لگایا تاکہ مجھے اس کا کوئی دروازہ مل جائے لیکن میں نے کوئی دروازہ نہ پایا ، لیکن وہاں ایک بیرونی کنواں تھا جس سے ایک نالی باغ کی دیوار سے اندر جاتی تھی ، پس میں سمٹ کر اس راستے سے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچ گیا ، تو آپ ﷺ نے پوچھا ؛’’ ابوہریرہ !‘‘ میں نے عرض کیا ، جی ہاں ، اللہ کے رسول ! آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہیں کیا ہوا (کہ یہاں چلے آئے) ؟‘‘ میں نے عرض کیا : آپ ہمارے پاس تشریف فرما تھے کہ آپ اٹھ کر آ گئے اور ہمارے پاس واپس آنے میں تاخیر کی تو ہمیں اندیشہ ہوا کہ ہماری غیر موجودگی میں آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچائی جائے ، پس ہم گھبرا گئے ، میں پہلا شخص تھا جو پریشانی کا شکار ہوا ، پس میں اس باغ کے پاس پہنچا تو میں سکڑ کر اس نالے کے ذریعے اندر آ گیا جس طرح لومڑ سکڑ اور سمٹ جاتا ہے ، اور وہ لوگ میرے پیچھے ہیں ، اور آپ ﷺ نے اپنے نعلین مبارک مجھے دیکر فرمایا :’’ اے ابوہریرہ ! میرے یہ جوتے لے جاؤ اور اس دیوار کے باہر ایسا جو شخص تمہیں ملے جو دل کے یقین کے ساتھ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، تو اسے جنت کی بشارت دے دو ۔‘‘ تو سب سے پہلے عمر ؓ سے ملاقات ہوئی ، انہوں نے پوچھا : ابوہریرہ ! یہ دونوں جوتے کیسے ہیں ؟ میں نے کہا : یہ دونوں جوتے رسول اللہ ﷺ کے ہیں ۔ آپ نے یہ دے کر مجھے بھیجا ہے کہ میں ایسے جس شخص سے ملوں جو دل کے یقین کے ساتھ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، میں اسے جنت کی بشارت دوں ، (یہ سن کر) عمر ؓ نے میرے سینے پر مارا تو میں سرین کے بل گر پڑا ، انہوں نے کہا : ابوہریرہ واپس چلے جاؤ ۔ میں روتا ہوا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں واپس آیا ، جبکہ عمر ؓ بھی میرے پیچھے پیچھے چلے آئے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ابوہریرہ ! تمہیں کیا ہوا ؟‘‘ میں نے عرض کیا : میں عمر ؓ سے ملا تو انہوں نے میرے سینے پر اس زور سے مارا کہ میں سرین کے بل گر پڑا ۔ اور کہا کہ واپس چلے جاؤ ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عمر ! تمہیں ایسا کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے والدین آپ پر قربان ہوں ، کیا آپ نے اپنے جوتے دے کر ابوہریرہ کو بھیجا تھا کہ تم جس ایسے شخص کو ملو ، جو دل کے یقین کے ساتھ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اس کو جنت کی خوشخبری سنا دو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں‘‘ انہوں نے عرض کیا : آپ ایسے نہ کریں ، مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ اس بات پر توکل کر لیں گے آپ انہیں چھوڑ دیں تاکہ وہ عمل کرتے رہیں ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ انہیں (اپنے حال پر) چھوڑ دو (تاکہ عمل کرتے رہیں) ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
مسلم ، کتاب الایمان ، باب الدلیل علی ان من مات علی التوحید دخل الجنۃ قطعًا ، رقم : ۱۴۷ ۔ 147
معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں جنت کی چابی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۵/ ۲۴۲ ح ۲۲۴۵۳) ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۵ / ۲۴۲ ح ۲۲۴۵۳) * شھر بن حوشب : عن معاذ ، منقطع ۔