TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2704 - بَاب الْحرم يجْتَنب الصَّيْد - افعال حج کا بیان - Mishkat in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 9 of 11 in this chapter
بَاب الْحرم يجْتَنب الصَّيْد
محرم شکار کرنے سے اجتناب کرے
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّبُعِ؟ قَالَ: «هُوَ صَيْدٌ وَيُجْعَلُ فِيهِ كَبْشًا إِذَا أَصَابَهُ الْمُحْرِمُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه والدارمي
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے بجو کھانے کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ شکار ہے ، اور جب مُحرِم اس کا شکار کرے تو اس کے بدلے اس پر ایک مینڈھا ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ و الدارمی ۔
2704
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
(صَحِيح)
Conclusion
تخریج
اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد (۳۸۰۱) و ابن ماجہ (۳۰۸۵) و الدارمی (۲ / ۷۴ ، ۷۵ ح ۱۹۴۸) ۔

Related Chapters

661
1
اس امر کا بیان کہ اگر محرم نہ تو خود شکار کرے اور نہ اس کی خاطر کیا جائے تو اس کے لیے اس کا کھانا جائز ہو گا
Musnad Ahmad
2
(4) CHAPTER. A Muhrim should not help a non-Muhrim in the hunting of a game.
شکار کرنے میں احرام والا غیر محرم کی کچھ بھی مدد نہ کرے
Sahih Bukhari
3
(5) CHAPTER. A Muhrim should not point at a game with the intention that a non-Muhrim may hunt it.
غیر محرم کے شکار کرنے کے لیے احرام والا شکار کی طرف اشارہ بھی نہ کرے
Sahih Bukhari
4
اگر محرم شکار کرے تو اس کے کفارہ کا بیان۔
Sunnan Ibn e Maja
5
باب: محرم جب شکار کی طرف اشارہ کرے اور غیر محرم شکار کرے تو کیا حکم ہے؟
Sunnan Nisai
6
Chapter: What Has Been Related About The Muhrim Eating Hunted Animals
باب: محرم شکار کا گوشت کھائے اس کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About: The Meat Of Game Is Disliked For You
باب: محرم کے لیے شکار کے گوشت کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About The Game Of The Sea For The Muhrim
باب: محرم کے لیے سمندر کے شکار کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About A Badger Killed By A Muhrim
باب: محرم کے لکڑبگھا کو شکار کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About: If The Muhrim's Eyes Bother Him Then He May Use A Bandage With Aloes
باب: آنکھ آنے پر محرم ایلوے کا لیپ کرے
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About One Who Owned A Mahram (A Close Relative)
باب: جو کسی محرم رشتے دار کا مالک ہو جائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About One Who Shoots Some Game, Then He Finds It Dead In The Water
باب: شکاری شکار پر تیر چلائے پھر اسے پانی میں مردہ پائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
13
بَاب مَا يجتنبه الْمحرم
احرام والا کن چیزوں سے اجتناب کرے
Mishkat
14
محرم کے لئے خشکی کا شکار کرنے اور اس کو کھانے کے حرام ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
15
ان امور کا بیان کہ قربانی کا ارادہ رکھنے والے ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں جن سے اجتناب کرے گا، نیز اس چیز کا بیان جو فقیر کے لیے قربانی کے قائم مقام ہوتی ہے
Musnad Ahmad
16
(2) CHAPTER. If a Non-Muhrim hunts (an animal) and gives it as a present to a Muhrim, (it is permissible for) the latter to eat it.
اگر بے احرام والا شکار کرے اور احرام والے کو تحفہ بھیجے تو وہ کھا سکتا ہے
Sahih Bukhari
17
(3) CHAPTER. If the Muhrimun saw game and then laughed and a non-Muhrim understood (Why they laughed) (then their laughing is not to be considered as an intentional sign to draw the non-Muhrim's attention. Therefore they are allowed to eat the game).
احرام والے لوگ شکار دیکھ کر ہنس دیں اور بے احرام والا سمجھ جائے پھر شکار کرے تو وہ احرام والے بھی کھا سکتے ہیں
Sahih Bukhari
18
(6) CHAPTER. If a person gave a living onager as a present to a Muhrim then he should not accept it.
اگر کسی نے محرم کے لیے زندہ گورخر تحفہ بھیجا ہو تو اسے قبول نہ کرے
Sahih Bukhari
19
(112) CHAPTER. A man should not stay with a woman in seclusion unless he is a Dhu-Mahram (a person who is legally not allowed to marry that woman, e.g. her father or brother, etc.). (And it is unlawful for one) to enter upon a woman whose husband is absent.
محرم کے سوا کوئی غیر مردکسی غیر عورت کے ساتھ تنہائی نہ اختیار کرے ۔
Sahih Bukhari
20
(113) CHAPTER. What is allowed (as regards) a private meeting between a man and a woman when they are not secluded from the people.
اگر لوگوں کی موجودگی میں ایک مرد دوسری ( غیر محرم ) عورت سے تنہائی میں کچھ بات کرے تو جائز ہے ۔
Sahih Bukhari
21
(8) CHAPTER. If the hunter hits a game but does not catch it till two or three days have passed.
جب شکار کیا ہوا جانور شکاری کو دو یا تین دن کے بعد ملے تو دہ کیا کرے ؟
Sahih Bukhari
22
(9) CHAPTER. If somebody finds another hound with the game (besides his hound).
شکاری جب شکار کے ساتھ دوسرا کتا پائے تو وہ کیا کرے ؟
Sahih Bukhari
23
CHAPTER: A Muhrim Bathing.
باب: محرم غسل کرے تو کیسا ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
24
CHAPTER: A Muhrim Marrying.
باب: محرم شادی کرے تو کیسا ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
25
CHAPTER: The Meat Of Game For The Muhrim.
باب: محرم کے لیے شکار کا گوشت کھانا کیسا ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
26
CHAPTER: Regarding Eating Of Locuts By A Muhrim.
باب: محرم کے لیے ٹڈی کا شکار جائز ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
27
CHAPTER: Regarding One Who Acquires A Mahram Relative As A Slave.
باب: جو کسی محرم رشتہ دار کا مالک ہو تو کیا کرے ؟
Sunnan Abu Dawood
28
عورت محرم اور ولی کے بغیر حج نہ کرے
Sunnan Ibn e Maja
29
محرم کو کون سا شکار منع ہے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
30
محرم کے لیے شکار نہ کیا گیا ہو تو اس کے کھانے کی رخصت
Sunnan Ibn e Maja
31
محرم عورت جب حائضہ ہو جائے تو کیا کرے ؟
Sunnan Nisai
32
باب: محرم کے لیے جائز شکار کا بیان۔
Sunnan Nisai
33
باب: کس طرح کا شکار کھانا محرم کے لیے ناجائز ہے؟
Sunnan Nisai
34
باب: جب محرم شکار کو دیکھ کر ہنسے اور غیر محرم تاڑ جائے اور شکار کر ڈالے تو کیا محرم اسے کھائے یا نہ کھائے؟
Sunnan Nisai
35
باب: سوگ منانے والی عورت رنگین کپڑے پہننے سے اجتناب کرے۔
Sunnan Nisai
36
باب: اگر کتا شکار کو مار ڈالے تو کیا کرے؟
Sunnan Nisai
37
باب: جب شکار سے بدبو آنے لگے تو کیا کرے؟
Sunnan Nisai
38
(91)Chapter: [What Has Been Related] About The Man Who Seeks The Warmth Of A Woman After Performing Ghusl
باب: غسل کرنے کے بعد مرد عورت سے چمٹ کر گرمی حاصل کرے اس کا بیان
Jam e Tirmazi
39
(94)Chapter: What Has Been Related About The Mustahadah Performing Wudu For Every Prayer
باب: مستحاضہ عورت ہر نماز کے لیے وضو کرے
Jam e Tirmazi
40
(96)Chapter: What Has Been Related About Al-Mustahadah That She Is To Perform Ghusl For Every Salat
باب: مستحاضہ عورت ہر نماز کے وقت غسل کرے
Jam e Tirmazi
41
Chapter: Been Related About A Man Who Forgets A Salat
باب: آدمی نماز بھول جائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About The Man Who Performs Salat Alone, Then He Comes Upon A Congregation
باب: آدمی تنہا نماز پڑھ لے پھر جماعت پا لے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About: When One Of You Leads The People In Prayer, Then Let Him Be Brief.
باب: جب تم میں سے کوئی امامت کرے تو نماز ہلکی پڑھائے
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About Where A Man Placed His Face When He Prostrates
باب: آدمی جب سجدہ کرے تو اپنی پیشانی کہاں رکھے؟
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About Not Reciting Behind The Imam When The Imam Is Reciting Aloud
باب: امام جہر سے قرأت کرے تو اس کے پیچھے قرأت نہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related [About] 'Whoever Visits A People, He Does Not Lead Them In Salat'
باب: جو کسی قوم کی زیارت کرے تو وہ ان کی امامت نہ کرے
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related [About] Whoever Leads People (In Salat) While They Dislike Him
باب: جو کسی قوم کی امامت کرے، اور لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں
Jam e Tirmazi
48
Chapter: Regarding One Who Has Doubts Over Addition Or A Omission
باب: آدمی کو نماز پڑھتے وقت کمی یا زیادتی میں شک و شبہ ہو جائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Commites Hadath After The Tashah-hud
باب: آدمی کو تشہد میں حدث لاحق ہو جائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Mentioned About A Man Who Catches Up With The Imam (While He Is) In Prostration, What Should He Do?
باب: آدمی امام کو سجدے میں پائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

124
Mishkat
1916
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «من أحيى أَرْضًا مَيِّتَةً فَلَهُ فِيهَا أَجْرٌ وَمَا أَكَلَتِ الْعَافِيَةُ مِنْهُ فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ» . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ والدارمي
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص بنجر زمین کاشت کرتا ہے تو اس کے لیے اس (کاشت کرنے) میں اجر ہے ، اور ہر طالب رزق اس میں سے جو کھا جائے تو وہ اس کے لیے صدقہ ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الدارمی ۔
Mishkat
2967
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْجَارُ أَحَقُّ بِشُفْعَتِهِ يُنْتَظَرُ لَهَا وَإِنْ كَانَ غَائِبًا إِذَا كَانَ طَرِيقُهُمَا وَاحِدًا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ. والدارمي
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ پڑوسی اپنے شفعہ کا زیادہ حق دار ہے ۔ اگر وہ کہیں گیا ہوا ہے تو اس کا انتظار کیا جائے گا جبکہ ان دونوں کا راستہ ایک ہی ہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Mishkat
3050
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اسْتَهَلَّ الصَّبِيُّ صُلِّيَ عَلَيْهِ وَورث» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه والدارمي
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب بچہ پیدائش کے وقت آواز نکالے (چیخے اور پھر فوت ہو جائے) تو اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور اس کی وراثت بھی تقسیم ہو گی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا و الحدیث ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و الدارمی ۔
Mishkat
166
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ خَطَّ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطًّا ثُمَّ قَالَ: «هَذَا سَبِيلُ اللَّهِ ثُمَّ خَطَّ خُطُوطًا عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ وَقَالَ هَذِهِ سُبُلٌ عَلَى كُلِّ سَبِيلٍ مِنْهَا شَيْطَانٌ يَدْعُو إِلَيْهِ» ثمَّ قَرَأَ (إِن هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبعُوهُ) الْآيَة. رَوَاهُ أَحْمد وَالنَّسَائِيّ والدارمي
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ہمارے لیے ایک خط کھینچا ، پھر فرمایا :’’ یہ اللہ کی راہ ہے ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے اس کے دائیں بائیں کچھ خط کھینچے ، اور فرمایا :’’ یہ اور راہیں ہیں ، اور ان میں سے ہر راہ پر ایک شیطان ہے جو اس راہ کی طرف بلاتا ہے ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ یہ میری سیدھی راہ ہے ، پس اس کی اتباع کرو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد (۱/ ۴۳۵ ح ۴۱۴۲) و النسائی (فی الکبریٰ : ۱۱۱۷۴ ، التفسیر : ۱۹۴) و الدارمی (۱/ ۶۷ ، ۶۸ ح ۲۰۸) و ابن حبان (۱۷۴۱ ، ۱۷۴۲) و الحاکم (۲/ ۳۱۸) و ابن ماجہ (۱۱) ۔
Mishkat
220
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ خَرَجَ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يرجع» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ والدارمي
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص طلب علم کے لیے سفر کرتا ہے تو وہ واپس آنے تک اللہ کی راہ میں رہتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۶۴۷) و الدارمی (لم اجدہ) ۔
Mishkat
312
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ والدارمي
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ طہارت نماز کی چابی ، تکبیر (اللہ اکبر) اس کی تحریم (اس تکبیر سے نماز شروع کرنے سے پہلے جو کام مباح تھے وہ حرام ہو جاتے ہیں ) اور تسلیم (السلام علیکم ورحمۃ اللہ) اس کی تحلیل ہے :‘‘ (یعنی سلام پھیرنے سے نماز کی صورت میں حرام ہونے والے کام حلال ہو جاتے ہیں ) حسن ، رواہ ابوداؤد۶۱) و الترمذی (۳) و الدارمی (۱ /۱۷۵ ح ۶۹۳) و ابن ماجہ (۲۷۵) و البیھقی (۲ /۱۶) ۔
Mishkat
319
وَعَن بسرة قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا مَسَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه والدارمي
بسرہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی اپنی شرم گاہ کو ہاتھ لگائے تو وہ وضو کرے ۔‘‘ صحیح ، رواہ مالک (۱ /۴۲ ح ۸۸) و احمد (۶ / ۴۰۶ ، ۴۰۷ ح ۲۷۸۳۶ ، ۲۷۸۳۸) و ابوداؤد (۱۸۱) و الترمذی (۸۲) و النسائی (۱ / ۱۰۰ ح ۱۶۳) و ابن ماجہ (۴۷۹) و الدارمی (۱ / ۱۸۴ ح ۷۳۰) ۔
Mishkat
346
وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ الْحَاجَةَ لَمْ يَرْفَعْ ثَوْبَهُ حَتَّى يَدْنُوَ مِنَ الأَرْض. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد والدارمي
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی ﷺ قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے تو آپ (بیٹھتے وقت) زمین کے قریب ہو کر اپنا کپڑا اٹھایا کرتے تھے ۔ ضعیف ۔
Mishkat
352
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ اكْتَحَلَ فَلْيُوتِرْ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حرج وَمن أكل فَمَا تخَلّل فليلفظ وَمَا لَاكَ بِلِسَانِهِ فَلْيَبْتَلِعْ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ وَمَنْ أَتَى الْغَائِط فليستتر وَمن لَمْ يَجِدْ إِلَّا أَنْ يَجْمَعَ كَثِيبًا مِنْ رَمْلٍ فَلْيَسْتَدْبِرْهُ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَلْعَبُ بِمَقَاعِدِ بَنِي آدَمَ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص سرمہ لگائے تو وہ طاق عدد میں لگائے ، جس نے ایسے کیا اس نے اچھا کیا ، اور جس نے ایسے نہ کیا تو کوئی حرج نہیں ، جو شخص ڈھیلے سے استنجا کرے تو وہ بھی طاق عدد میں ڈھیلے استعمال کرے ، جس نے ایسے کیا تو اس نے اچھا کیا اور جس نے نہ کیا تو کوئی حرج نہیں ، جو شخص کوئی چیز کھائے تو جو اجزا خلال کرنے سے نکلیں انہیں پھینک دے اور جو اپنی زبان کے ذریعے نکالے تو انہیں نگل جائے ، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا ، اور جس نے نہ کیا تو کوئی حرج نہیں ، اور جو شخص بول و براز کے لیے جائے تو وہ پردہ کرے ، اگر وہ کوئی چیز نہ پائے تو وہ ریت کا ایک ٹیلہ سا بنائے اور اس کی طرف پشت کر لے کیونکہ شیطان ، اولاد آدم کی مقعد کے ساتھ کھیلتا ہے ، جس نے ایسے کیا اس نے اچھا کیا اور جس نے نہ کیا تو کوئی حرج نہیں ۔‘‘ ضعیف ۔