TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3121 - بَاب النّظر إِلَى المخطوبة وَبَيَان العورات - نکاح کا بیان - Mishkat in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 24 of 28 in this chapter
بَاب النّظر إِلَى المخطوبة وَبَيَان العورات
جس کو پیغامِ نکاح دیا جائے اسے دیکھنے اور پردہ کی چیزوں کا بیان
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا وَفِي الْبَيْتِ مُخَنَّثٌ فَقَالَ: لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ أَخِي أُمِّ سَلَمَةَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ لَكُمْ غَدًا الطَّائِفَ فَإِنِّي أَدُلُّكَ عَلَى ابْنَةِ غَيْلَانَ فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يدخلن هَؤُلَاءِ عَلَيْكُم»
ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ان کے پاس تشریف فرما تھے جبکہ گھر میں ایک مخنث تھا ، اس نے ام سلمہ ؓ کے بھائی عبداللہ بن ابی امیہ ؓ سے کہا : عبداللہ ! اگر اللہ نے کل تمہیں طائف میں فتح عطا کی تو میں تمہیں غیلان کی ایک لڑکی بتاؤں گا وہ جب سامنے آتی ہے تو اس کے پیٹ پر چار بل پڑتے ہیں اور جب مڑتی ہے تو اس پر آٹھ بل پڑتے ہیں ۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا :’’ یہ (مخنث) لوگ تمہارے پاس نہ آیا کریں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
3121
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
(مُتَّفق عَلَيْهِ)
Conclusion
تخریج
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۴۳۲۴) و مسلم (۲۱۸۰) ۔ 5690

Related Chapters

307
1
Chapter: What Has Been Related About Looking at The Proposed Woman
باب: جس عورت کو شادی کا پیغام دیا جائے، اسے دیکھ لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
(14) CHAPTER. Selling a female slave does not necessarily lead to her divorce.
اگر لونڈی غلام کے نکاح میں ہو پھر وہ لونڈی آزاد ہو جائے تو اسے اختیار ہو گا خواہ وہ نکاح باقی رکھے یا فسخ کر ڈالے ۔
Sahih Bukhari
3
(20) CHAPTER. Refraining from doing things Allah has made illegal.
اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے بچنا ان سے صبر کئے رہنا بلاشبہ صبر کرنے والوں کو ان کا ثواب بے حساب دیا جائے گا
Sahih Bukhari
4
(8) CHAPTER. The relative of the killed person has the right to choose one of two compensations (i.e., to have the killer killed, or to accept blood-money).
جس کا کوئی قتل کر دیا گیا ہو اسے دو چیزوں میں ایک کا اختیار ہے ۔
Sahih Bukhari
5
باب: جب آدمی نکاح کر لے تو اسے کس طرح کی دعا دی جائے۔
Sunnan Nisai
6
تیمم کے لیے وقت کے داخل ہونے کی شرط اور ان چیزوں کا بیان، جن سے تیمم کیا جائے گا
Musnad Ahmad
7
تمام ان چیزوں کا بیان جس سے مساجد کو محفوظ رکھا جائے
Musnad Ahmad
8
احرام کی حالت میں نکاح کرنے یا کروانے یا نکاح کا پیغام بھیجنے کا بیان
Musnad Ahmad
9
چوری میں محفوظ جگہ کا اعتبار کرنے کا بیان اور لوٹنے والے، ڈاکہ ڈالنے والے، خیانت کرنے والے اور عاریہ کا انکار کرنے والے کا بیان اور ان چیزوں کی وضاحت جن میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
Musnad Ahmad
10
دو شیزائوں سے نکاح کرنے کی کوشش کی جائے
Musnad Ahmad
11
حد لگائے ہوئے زانی کا نکاح نہ کیا جائے
Musnad Ahmad
12
پردہ اٹھانے، اجازت سے پہلے دیکھنے اور ایسا کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
13
ان خواتین کا تذکرہ جن سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نکاح کیا،یا جنہوں نے اپنے آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے ہبہ کر دیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے ساتھ خلوت اختیار نہیں کییا وہ خواتین کہ جن سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نکاح کا وعدہ کیا
Musnad Ahmad
14
(12) CHAPTER. What type of women should one seek in marriage?
کس طرح کی عورت سے نکاح کیا جائے اور کون سی عورت بہتر ہے ؟
Sahih Bukhari
15
(32) CHAPTER. Allah's Messenger prohibited Nikah-al-Muta lately.
آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح متعہ سے منع کر دیا تھا ( اس لئے اب متعہ حرام ہے ) ۔
Sahih Bukhari
16
(43) CHAPTER. lf a man gives his daughter in marriage while she is averse to it (in disagreement), then such marriage is invalid.
اگر کسی نے اپنی بیٹی کا نکاح ( وہ کنواری ہو یا بیوہ ) جبراً کر دیا تو یہ نکاح باطل ہو گا ۔
Sahih Bukhari
17
(45) CHAPTER. If the suitor says (to the guardian of a woman), “Marry me to so-and-so,” and the guardian says, “I have married her to you for such and such Mahr,” then the marriage is valid even if he does not ask the husband, Have you agreed or have you accepted (her)?
اگر کسی مردنے لڑکی کے ولی سے کہا میرا نکاح اس لڑکی سے کر دو ، اس نے کہامیں نے اتنے مہر پر تیرا نکاح اس سے کر دیا تو نکاح ہو گیا گو وہ مرد سے یہ نہ پوچھے کہ تم اس پر رضی ہو یا تم نے قبول کیا یا نہیں ؟
Sahih Bukhari
18
(46) CHAPTER. None should ask for the hand of a lady who is already engaged to his brother (Muslim), but one should wait till the first suitor marries her or leaves her.
کسی مسلمان بھائی نے ایک عورت کو پیغام بھیجا ہو تو دوسرا شخص اس کو پیغام نہ بھیجے جب تک وہ اس سے نکاح نہ کرے یا پیام نہ چھوڑ دے یعنی منگنی توڑ دے ۔
Sahih Bukhari
19
(51) CHAPTER. To many (a lady to) a man for what he knows of the Quran (by heart) and without paying any Mahr.
قرآن کی تعلیم مہر ہو سکتی ہے اس طرح اگر مہر کا ذکر ہی نہ کرے تب بھی نکاح صحیح ہو جائے گا ( اور مہر مثل لازم ہو گا ) ۔
Sahih Bukhari
20
(13) CHAPTER. Ash-Shiqaq (the breach between the man and his wife).
اگر لونڈی کسی کے نکاح میں ہو اس کے بعد بیچی جائے تو بیع سے طلاق نہ پڑے گی ۔
Sahih Bukhari
21
(3) CHAPTER. Marriage established under coercion is invalid.
جس کے ساتھ زبردستی کی جائے اس کا نکاح
Sahih Bukhari
22
(11) CHAPTER. (To play tricks) in marriage.
نکاح پر جھوٹی گواہی گزر جائے تو کیا حکم ہے
Sahih Bukhari
23
Chapter: Mut'ah Marriage: It was permitted then abrograted, then permitted then abrogated, and it will remain Forbidden until the day of resurrection
نکاح متعہ کا حکم اور اس بات کی وضاحت کہ وہ جائز قرار دیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر دوبارہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور (اب) اس کی حرمت قیامت کے دن تک کے لیے برقرار ہے
Sahih Muslim
24
Chapter: The prohibition of marriage for one who is in Ihram, and it is disliked for him to propose marriage
جو حالتِ احرام میں ہو اس کے لیے نکاح کرنا حرام اور نکاح کا پیغام بھیجنا مکروہ ہے
Sahih Muslim
25
Chapter: The prohibition of proposing marriage when one's brother has already proposed, unless he gives permission or gives up the idea
: اپنے مسلمان بھائی کے پیغامِ نکاح پر نکاح کا پیغام بھیجا حرام ہے، یہاں تک کہ وہ اجازت دے یا (ارادہ) ترک کر دے
Sahih Muslim
26
Chapter: It is not permissible for a woman who has been thrice-divorced to return to the one who divorced her until she marries another husband who has intercourse with her, then divorces her, and she completes the 'Iddah
جس عورت کو تین طلاقیں دے دی گئی ہوں وہ طلاق دینے والے کے لیے حلال نہیں حتی کہ وہ اس کے سوا کسی اور خاوند سے نکاح کرے اور وہ اس سے مباشرت کرے ‘پھر وہ اس سے علیحدگی اختیار کرے اور اس کی عادت پور ی ہو جائے
Sahih Muslim
27
CHAPTER: A Person Looks At A Woman Whom He Desires To Marry.
باب: جس عورت سے نکاح کرنے کا ارادہ ہو اسے دیکھ لینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
28
CHAPTER: When The People Are Mistaken In Sighting The Crescent.
باب: جب لوگوں سے چاند دیکھنے میں غلطی ہو جائے تو کیا کیا جائے ؟
Sunnan Abu Dawood
29
CHAPTER: For what the thief’s hand is not to be cut off.
باب: جن چیزوں کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ان کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
30
CHAPTER: No Recompense Is Due For Al-’Ajma’ (Beasts), Mines And Wells.
باب: اگر بے زبان جانور کسی کو زخمی کر دے اور آدمی کان یا کنواں اپنی زمین میں کھدوائے اور اس میں کوئی مر جائے تو ان چیزوں میں تاوان لازم نہ ہو گا ۔
Sunnan Abu Dawood
31
ایک آدمی نے اپنی عورت کو تین طلاق دی، اس نے دوسرے سے شادی کر لی پھر دوسرے شوہر نے جماع سے پہلے اسے طلاق دیدی تو کیا اب وہ پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے؟
Sunnan Ibn e Maja
32
جو کوئی تین چیزوں کی وجہ سے مقروض ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس کا قرض ادا کرا دے گا
Sunnan Ibn e Maja
33
عید کے دن مسجد میں کھیلنے کودنے اور عورتوں کے اسے دیکھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
34
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم اور ازواج مطہرات کے نکاح کا بیان اور اس چیز کا بیان جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لیے جائز قرار دیا اور اپنی مخلوق کو منع کیا تاکہ ساری مخلوق پر آپ کی بزرگی اور فضیلت ظاہر ہو سکے۔
Sunnan Nisai
35
باب: کیا چیز دیکھ کر عورت سے نکاح کیا جائے؟
Sunnan Nisai
36
باب: نکاح سے پہلے عورت کو دیکھنے کے جواز کا بیان۔
Sunnan Nisai
37
باب: پیغام نکاح ملنے پر عورت کا نماز استخارہ پڑھ کر رب سے بھلائی چاہنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
38
باب: اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کو حرام قرار دیا ہے ان سے فائدہ اٹھانے کی ممانعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
39
باب: جن چیزوں کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
Sunnan Nisai
40
(14)Chapter: What Has Been Related Regarding] What Is Disliked For One to use for Istinja
باب: کن کن چیزوں سے استنجاء کرنا مکروہ ہے​
Jam e Tirmazi
41
(82)Chapter: [What Has Been Related] About One Who Awakens To Find Wetness, But He Does Not Recall Having A Wet Dream
باب: جاگنے پر تری دیکھنے اور احتلام کے یاد نہ آنے کا بیان
Jam e Tirmazi
42
(90)Chapter: What Has Been Related About A Woman Who Sees In A Dream, Similar To What A Man Sees
باب: عورت کے خواب میں وہی چیز دیکھنے کا بیان جو مرد دیکھتا ہے
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About What Is Disliked To Face While Performing Salat, Or To Perform Salat In
باب: جن چیزوں کی طرف یا جن جگہوں میں نماز پڑھنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Mentioned About Looking Around During Salat
باب: نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About Fasting Based Upon Testimony
باب: چاند دیکھنے کی گواہی پر روزہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About: For The People OF Every Land There Is A Sighting
باب: ہر شہر والوں کے لیے انہیں کے چاند دیکھنے کا اعتبار ہو گا
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About What Is Not Allowed For The Muhrim To Wear
باب: محرم کے لیے جن چیزوں کا پہننا جائز نہیں ان کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About It's Being Disliked To Raise The Hand When One Sees the House (Ka'bah)
باب: بیت اللہ (کعبہ) کو دیکھنے کے وقت ہاتھ اٹھانے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About: If You Are Pleased With Someone's Religion Then Marry Him
باب: قابل اطمینان دیندار کی طرف سے شادی کا پیغام آنے پر شادی کر دینے کا حکم
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About: One Who Is Married For Three Things
باب: عورت سے عام طور پر تین باتوں کے سبب نکاح کیا جاتا ہے
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

5,082
Sahih Bukhari
5235
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا وَفِي الْبَيْتِ مُخَنَّثٌ ، فَقَالَ الْمُخَنَّثُ لِأَخِي أُمِّ سَلَمَةَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ : إِنْ فَتَحَ اللَّهُ لَكُمْ الطَّائِفَ غَدًا أَدُلُّكَ عَلَى بِنْتِ غَيْلَانَ فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَدْخُلَنَّ هَذَا عَلَيْكُنَّ .
Narrated Um Salama: that while the Prophet was with her, there was an effeminate man in the house. The effeminate man said to Um Salama's brother, `Abdullah bin Abi Umaiyya, If Allah should make you conquer Ta'if tomorrow, I recommend that you take the daughter of Ghailan (in marriage) for (she is so fat) that she shows four folds of flesh when facing you and eight when she turns her back. Thereupon the Prophet said (to us), This (effeminate man) should not enter upon you (anymore).
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدہ بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اور ان سے ام المؤمنین ام سلمہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف رکھتے تھے، گھر میں ایک مغیث نامی مخنث بھی تھا۔ اس مخنث ( ہیجڑے ) نے ام سلمہ کے بھائی عبداللہ بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اگر کل اللہ نے تمہیں طائف پر فتح عنایت فرمائی تو میں تمہیں غیلان کی بیٹی کو دکھلاؤں گا کیونکہ وہ سامنے آتی ہے تو ( مٹاپے کی وجہ سے ) اس کے چار شکنیں پڑ جاتی ہیں اور جب پیچھے پھرتی ہے تو آٹھ ہو جاتی ہیں۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ام سلمہ سے ) فرمایا کہ یہ ( مخنث ) تمہارے پاس اب نہ آیا کرے۔
Sahih Bukhari
5887
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَنَّ عُرْوَةَ ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ ، أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَتْهَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا وَفِي الْبَيْتِ مُخَنَّثٌ ، فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ أَخِي أُمِّ سَلَمَةَ : يَا عَبْدَ اللَّهِ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ لَكُمْ غَدًا الطَّائِفَ فَإِنِّي أَدُلُّكَ عَلَى بِنْتِ غَيْلَانَ ، فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَدْخُلَنَّ هَؤُلَاءِ عَلَيْكُنَّ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ ، يَعْنِي أَرْبَعَ عُكَنِ بَطْنِهَا فَهِيَ تُقْبِلُ بِهِنَّ ، وَقَوْلُهُ : وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ ، يَعْنِي أَطْرَافَ هَذِهِ الْعُكَنِ الْأَرْبَعِ ، لِأَنَّهَا مُحِيطَةٌ بِالْجَنْبَيْنِ حَتَّى لَحِقَتْ ، وَإِنَّمَا قَالَ : بِثَمَانٍ ، وَلَمْ يَقُلْ بِثَمَانِيَةٍ وَوَاحِدُ الْأَطْرَافِ وَهُوَ ذَكَرٌ ، لِأَنَّهُ لَمْ يَقُلْ ثَمَانِيَةَ أَطْرَافٍ .
Narrated Um Salama: that once the Prophet was in her house, and an effeminate man was there too. The effeminate man said to `Abdullah, (Um Salama's brother) 0 `Abdullah! If Ta'if should be conquered tomorrow, I recommend you the daughter of Ghailan, for she is so fat that she has four curves in the front (of her belly) and eight at the back. So the Prophet said (to his wives) These effeminate (men) should not enter upon you (your houses).
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہیں عروہ نے خبر دی، انہیں زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی اور انہیں ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف رکھتے تھے۔ گھر میں ایک مخنث بھی تھا، اس نے ام سلمہ رضی اللہ عنہما کے بھائی عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا عبداللہ! اگر کل تمہیں طائف پر فتح حاصل ہو جائے تو میں تمہیں بنت غیلان ( بادیہ نامی ) کو دکھلاؤں گا وہ جب سامنے آتی ہے تو ( اس کے موٹاپے کی وجہ سے ) چار سلوٹیں دکھائی دیتی ہیں اور جب پیٹھ پھیرتی ہے تو آٹھ سلوٹیں دکھائی دیتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب یہ شخص تم لوگوں کے پاس نہ آیا کرے۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ سامنے سے چار سلوٹوں کا مطلب یہ ہے کہ ( موٹے ہونے کی وجہ سے ) اس کے پیٹ میں چار سلوٹیں پڑی ہوئی ہیں اور جب وہ سامنے آتی ہے تو وہ دکھائی دیتی ہیں اور آٹھ سلوٹوں سے پیچھے پھرتی ہے کا مفہوم ہے ( آگے کی ) ان چاروں سلوٹوں کے کنارے کیونکہ یہ دونوں پہلوؤں کو گھیرے ہوئے ہوتے ہیں اور پھر وہ مل جاتی ہیں اور حدیث میں «بثمان‏» کا لفظ ہے حالانکہ از روئے قائدہ نحو کے «بثمانية‏.‏» ہونا تھا کیونکہ مراد آٹھ اطراف یعنی کنارے ہیں اور «لأطراف»،‏‏‏‏ «طرف» کی جمع ہے اور «طرف» کا لفظ مذکر ہے۔ مگر چونکہ «لأطراف» کا لفظ مذکور نہ تھا اس لیے «بثمان‏» بھی کہنا درست ہوا۔
Sahih Muslim
5690
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ أَيْضًا وَاللَّفْظُ هَذَا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ مُخَنَّثًا كَانَ عِنْدَهَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْتِ فَقَالَ لِأَخِي أُمِّ سَلَمَةَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ الطَّائِفَ غَدًا فَإِنِّي أَدُلُّكَ عَلَى بِنْتِ غَيْلَانَ فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ قَالَ فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا يَدْخُلْ هَؤُلَاءِ عَلَيْكُمْ
Umm Salama reported that she had a eunuch (as a slave) in her house. Allah's Messenger imay peace be upon him) was once in the house that he (the eunuch) said to the brother of Umm Salama: Abdullahb. Aba Umayya. if Allah grants you victory in Ta'if on the next day, I will show you the daughter of Ghailan for she has four folds (upon her body) on the front side of her stomach and eight folds on the back. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) heard this and he said: Such (people) should not visit you.
زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ ایک مخنث ان کے ہاں مو جو دتھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی گھر پر تھے وہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بھا ئی سے کہنے لگا : عبد اللہ بن ابی امیہ! اگر کل ( کلاں کو ) اللہ تعا لیٰ تم لو گوں کو طا ئف پر فتح عطا فر ما ئے تو میں تمھیں غیلا ن کی بیٹی ( بادیہ بنت غیلا ن ) کا پتہ بتا ؤں گا وہ چار سلوٹوں کے ساتھ سامنے آتی ہے ( سامنے سے جسم پر چار سلوٹیں پڑتی ہیں ) اور آٹھ سلوٹوں کے ساتھ پیٹھ پھیر کر جا تی ہے ۔ ۔ ( انتہائی فربہ جسم کی ہے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی یہ بات سن لی تو آپ نے فر ما یا : " یہ ( مخنث ) تمھا رے ہاں داخل نہ ہو ا کریں ۔
Jam e Tirmazi
858
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، وَمَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمُعَاوِيَةُ لَا يَمُرُّ بِرُكْنٍ إِلَّا اسْتَلَمَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَسْتَلِمُ إِلَّا الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَالرُّكْنَ الْيَمَانِيَ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ:‏‏‏‏ لَيْسَ شَيْءٌ مِنْ الْبَيْتِ مَهْجُورًا. قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏أَنْ لَا يَسْتَلِمَ إِلَّا الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَالرُّكْنَ الْيَمَانِيَ.
Abu Tufail narrated: I was with Ibn Abbas, and Mu'awiyah would not pass any corner without touching it. So Ibn Abbas said to him: 'the Prophet would not touch any besides the Black Stone and the Yemeni corner.' So Mu'awiyah said: 'There is no part of the House that is untouchable.'
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی الله عنہما کے ساتھ تھا، معاویہ رضی الله عنہ جس رکن کے بھی پاس سے گزرتے، اس کا استلام کرتے ۱؎ تو ابن عباس نے ان سے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود اور رکن یمانی کے علاوہ کسی کا استلام نہیں کیا، اس پر معاویہ رضی الله عنہ نے کہا: بیت اللہ کی کوئی چیز چھوڑی جانے کے لائق نہیں ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر سے بھی روایت ہے، ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ حجر اسود اور رکن یمانی کے علاوہ کسی کا استلام نہ کیا جائے۔
Jam e Tirmazi
859
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ ابْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بِالْبَيْتِ مُضْطَبِعًا وَعَلَيْهِ بُرْدٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثُ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدُ الْحَمِيدِ هُوَ ابْنُ جُبَيْرَةَ بْنِ شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ يَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَى بْنُ أُمَيَّةَ.
Ibn Ya'la narrated from his father: The Prophet performed Tawaf of the House Mudtabi'an, and he was wearing a Burd.
یعلیٰ بن امیہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اضطباع کی حالت میں ۱؎ بیت اللہ کا طواف کیا، آپ کے جسم مبارک پر ایک چادر تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہی ثوری کی حدیث ہے جسے انہوں نے ابن جریج سے روایت کی ہے اور اسے ہم صرف کے انہی طریق سے جانتے ہیں، ۳- عبدالحمید جبیرہ بن شیبہ کے بیٹے ہیں، جنہوں نے ابن یعلیٰ سے اور ابن یعلیٰ نے اپنے والد سے روایت کی ہے اور یعلیٰ سے مراد یعلیٰ بن امیہ ہیں رضی الله عنہ۔
Jam e Tirmazi
3403
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَلِّمْنِي شَيْئًا أَقُولُهُ إِذَا أَوَيْتُ إِلَى فِرَاشِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اقْرَأْ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ فَإِنَّهَا بَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ شُعْبَةُ:‏‏‏‏ أَحْيَانًا يَقُولُ مَرَّةً وَأَحْيَانًا لَا يَقُولُهَا،‏‏‏‏
Farwah bin Nawfal (ra) narrated that: He came to the Prophet (ﷺ) and said: “O Messenger of Allah, teach me something that I may say when I go to my bed.” So he said: “Recite: Say: ‘O you disbelievers’ for verily it is a disavowal of Shirk.” Shu`bah said: “Sometimes he would say: ‘One time’ and sometime he would not say it.” (Another chain) from Farwah bin Nawfal, from his father: That he came to the Prophet (ﷺ) then he mentioned similar in meaning. And this is more correct. [Abu `Eisa said:] And Zubair reported this hadith from Ishaq, from Farwah bin Nawfal, from his father from the Prophet (ﷺ), with similar wording. This is more appropriate and more correct than the narration of Shu`bah. The companions of Abu Ishaq were confused in the narration of this hadith. This hadith has been reported through routes other than this. `Abdur-Rahman is the brother of Farwah bin Nawfal.
فروہ بن نوفل رضی الله عنہ ۱؎ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر انہوں نے کہا: اور کہا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جسے میں جب اپنے بستر پر جانے لگوں تو پڑھ لیا کروں، آپ نے فرمایا: «قل يا أيها الكافرون» پڑھ لیا کرو، کیونکہ اس سورۃ میں شرک سے برأۃ ( نجات ) ہے۔ شعبہ کہتے ہیں: ( ہمارے استاذ ) ابواسحاق کبھی کہتے ہیں کہ سورۃ «قل يا أيها الكافرون» ایک بار پڑھ لیا کرو، اور کبھی ایک بار کا ذکر نہیں کرتے۔
Sahih Bukhari
4324
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، سَمِعَ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي مُخَنَّثٌ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ الطَّائِفَ غَدًا ، فَعَلَيْكَ بِابْنَةِ غَيْلَانَ ، فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ ، وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَدْخُلَنَّ هَؤُلَاءِ عَلَيْكُنَّ ، قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ : وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : الْمُخَنَّثُ هِيتٌ .حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا ، وَزَادَ : وَهُوَ مُحَاصِرُ الطَّائِفِ يَوْمَئِذٍ .
Narrated Um Salama: The Prophet came to me while there was an effeminate man sitting with me, and I heard him (i.e. the effeminate man) saying to `Abdullah bin Abi Umaiya, O `Abdullah! See if Allah should make you conquer Ta'if tomorrow, then take the daughter of Ghailan (in marriage) as (she is so beautiful and fat that) she shows four folds of flesh when facing you, and eight when she turns her back. The Prophet then said, These (effeminate men) should never enter upon you (O women!). Ibn Juraij said, That effeminate man was called Hit. Narrated Hisham: The above narration and added extra, that at that time, the Prophet, was besieging Taif.
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم نے سفیان بن عیینہ سے سنا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے زینب بنت ابی سلمہ نے اور ان سے ان کی والدہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو میرے پاس ایک مخنث بیٹھا ہوا تھا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ وہ عبداللہ بن امیہ سے کہہ رہا تھا کہ اے عبداللہ! دیکھو اگر کل اللہ تعالیٰ نے طائف کی فتح تمہیں عطا فرمائی تو غیلان بن سلمہ کی بیٹی ( بادیہ نامی ) کو لے لینا وہ جب سامنے آتی ہے تو پیٹ پر چار بل اور پیٹھ موڑ کر جاتی ہے تو آٹھ بل دکھائی دیتے ہیں ( یعنی بہت موٹی تازہ عورت ہے ) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ لوگ اب تمہار ے گھر میں نہ آیا کریں۔ ابن عیینہ نے بیان کیا کہ ابن جریج نے کہا، اس مخنث کا نام ہیت تھا۔ ہم سے محمود نے بیان کیا، ان سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے اسی طرح بیان کیا اور یہ اضافہ کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت طائف کا محاصرہ کئے ہوئے تھے
Sunnan Abu Dawood
4929
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا مُخَنَّثٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ يَقُولُ لِعَبْدِ اللَّهِ أَخِيهَا:‏‏‏‏ إِنْ يَفْتَحْ اللَّهُ الطَّائِفَ غَدًا دَلَلْتُكَ عَلَى امْرَأَةٍ تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَخْرِجُوهُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ الْمَرْأَةُ كَانَ لَهَا أَرْبَعُ عُكَنٍ فِي بَطْنِهَا.
Umm Salamah said that the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم came upon her when there was with her a hermaohrodite (mukhannath) who said to her brother Abdullah (b. Abi Umayyah): if Allah conquers al-Ta’if for you tomorrow, I shall lead you to a woman who has four folds of fats in front and eight behind. Thereupon the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: Put them out of your houses. Abu Dawud said: The woman had four folds of fat on her belly.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے ان کے پاس ایک ہجڑا بیٹھا ہوا تھا اور وہ ان کے بھائی عبداللہ سے کہہ رہا تھا: اگر کل اللہ طائف کو فتح کرا دے تو میں تمہیں ایک عورت بتاؤں گا، کہ جب وہ سامنے سے آتی ہے تو چار سلوٹیں لے کر آتی ہے، اور جب پیٹھ پھیر کر جاتی ہے تو آٹھ سلوٹیں لے کر جاتی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں اپنے گھروں سے نکال دو ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «تقبل بأربع» کا مطلب ہے عورت کے پیٹ میں چار سلوٹیں ہوتی ہیں یعنی پیٹ میں چربی چھا جانے کی وجہ سے خوب موٹی اور تیار ہے۔
Jam e Tirmazi
64
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ،‏‏‏‏ وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا حَاجِبٍ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ ،‏‏‏‏ أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ بِسُؤْرِهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو حَاجِبٍ اسْمُهُ:‏‏‏‏ سَوَادَةُ بْنُ عَاصِمٍ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِهِ:‏‏‏‏ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ ،‏‏‏‏ وَلَمْ يَشُكَّ فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ
A1-Hakim bin Amr AI-Ghifari narrated that: The Prophet forbade that a man should perform Wudu with the leftover (water) from a woman's purifcation. Or, he said: from her drinking.
حکم بن عمرو غفاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کو منع فرمایا ہے، یا فرمایا: عورت کے جھوٹے سے وضو کرے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اور محمد بن بشار اپنی حدیث میں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ مرد عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرے ۱؎، اور محمد بن بشار نے اس روایت میں - «أو بسؤرها» والا شک بیان نہیں کیا ۲؎۔