TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

غلام کو آزاد کرنے کا بیان - غلام کو آزاد کرنے کا بیان - Book 14 of Mishkat with Urdu and English Translation

Book 14 of Mishkat, with 3 chapters and 64 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

64 Hadith · 3 Chapters
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُسْلِمَةً أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنَ النَّارِ حَتَّى فَرْجَهُ بِفَرْجِهِ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص کسی مسلمان کو آزاد کرتا ہے ، اللہ اس کے ایک ایک عضو کے بدلے میں اس (آزاد کرنے والے) کے ایک ایک عضو کو جہنم کی آگ سے آزاد کر دیتا ہے ، حتی کہ اس کی شرم گاہ کو اس کی شرم گاہ کے بدلے میں (آزاد کر دیتا ہے) ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۶۷۱۵) و مسلم (۲۳ / ۱۵۰۹) ۔ 3797
3382
Sahih
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ» قَالَ: قُلْتُ: فَأَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «أَغْلَاهَا ثَمَنًا وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا» . قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ؟ قَالَ: «تُعِينُ صَانِعًا أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ» . قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ؟ قَالَ: «تَدَعُ النَّاسَ مِنَ الشَّرِّ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقُ بهَا على نَفسك»
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی ﷺ سے دریافت کیا ، کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا ۔‘‘ وہ (راوی) بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا : کون سا غلام آزاد کرنا افضل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس کی قیمت زیادہ ہو اور وہ اپنے اہل کے ہاں بہت پسندیدہ ہو ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، اگر میں ایسا نہ کر سکوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کسی بھی کام کرنے والے کی مدد کر ، یا جو شخص کوئی چیز بنانا نہیں جانتا تو اس کے لیے وہ چیز بنا دے ۔‘‘ میں نے عرض کیا : اگر میں یہ بھی نہ کر سکوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھ ، یہ ایسا صدقہ ہے جس کے ذریعے تو اپنی جان پر صدقہ کرتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۵۱۸) و مسلم (۱۳۶ / ۸۴) ۔ 250
3383
Sahih
عَن الْبَراء بن عَازِب قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: عَلِّمْنِي عَمَلًا يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ قَالَ: «لَئِنْ كُنْتَ أَقْصَرْتَ الْخُطْبَةَ لَقَدْ أَعْرَضْتَ الْمَسْأَلَةَ أَعْتِقِ النَّسَمَةَ وَفك الرَّقَبَة» . قَالَ: أَو ليسَا وَاحِدًا؟ قَالَ: لَا عِتْقُ النَّسَمَةِ: أَنْ تَفَرَّدَ بِعِتْقِهَا وَفَكُّ الرَّقَبَةِ: أَنْ تُعِينَ فِي ثَمَنِهَا وَالْمِنْحَةَ: الْوَكُوفَ وَالْفَيْءَ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الظَّالِمِ فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ فَأَطْعِمِ الْجَائِعَ وَاسْقِ الظَّمْآنَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ فَإِنْ لم تطق فَكُفَّ لِسَانَكَ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان
براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک اعرابی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا ، مجھے کوئی ایسا عمل سکھائیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگرچہ تم نے بات مختصر کی ہے لیکن بات بہت اہم دریافت کی ہے ۔ ذی روح کو آزاد کر ، اور گردن کو غلامی سے آزاد کر ۔‘‘ اس نے عرض کیا : کیا ان دونوں کا ایک ہی معنی نہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ، عتق سے مراد ہے کہ تو اکیلا اسے آزاد کرے ، جبکہ ’’ فک رقبہ ‘‘ یہ ہے کہ تو اس کی قیمت ادا کرنے میں معاونت کر ، زیادہ دودھ والا جانور بطورِ عطیہ دے اور ظالم رشتہ دار پر مہربانی و احسان کر ، اگر تم اس کی طاقت نہ رکھو تو پھر بھوکے کو کھانا کھلاؤ ، پیاسے کو پانی پلاؤ ، نیکی کا حکم کرو اور برائی سے منع کرو ۔ اگر تم اس کی طاقت نہ رکھو تو پھر خیر و بھلائی کی بات کے علاوہ اپنی زبان کو روکو ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ الیھقی فی شعب الایمان (۴۳۳۵ ، نسخۃ محققۃ : ۴۰۲۶ و الکبری ۱۰ / ۲۷۲ ۔ ۲۷۳) و ابوداؤد الطیالسی (۷۳۹) و احمد (۴ / ۲۹۹ و سندہ صحیح) و صححہ ابن حبان (۱۲۰۹) و الحاکم (۲ / ۲۱۷) و وافقہ الذھبی] * فیہ عیسی بن عبد الرحمن السلمی ثقۃ ، انظر تھذیب الکمال (۱۴ / ۵۵۸) و ذکر ھذا الحدیث ۔
3384
Sahih
وَعَن عَمْرو بن عبسة أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ بَنَى مَسْجِدًا لِيُذْكَرَ اللَّهُ فِيهِ بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ وَمَنْ أَعْتَقَ نَفْسًا مُسْلِمَةً كَانَتْ فِدْيَتَهُ مِنْ جَهَنَّمَ. وَمَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْم الْقِيَامَة» . رَوَاهُ فِي شرح السّنة
عمرو بن عبسہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص مسجد بناتا ہے تاکہ اس میں اللہ کا ذکر کیا جائے تو اس کے لیے جنت میں گھر بنا دیا جاتا ہے ، جو شخص کسی مسلمان کو آزاد کرتا ہے تو یہ اس کا جہنم سے فدیہ بن جاتا ہے ، اور جو شخص اللہ کی راہ میں (تحصیل علم یا جہاد کرتے ہوئے) بوڑھا ہو گیا تو روز قیامت (جب اندھیرے ہوں گے) اس کے لیے نور ہو گا ۔‘‘ صحیح ، فی شرح السنہ ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ البغوی فی شرح السنۃ (۹ / ۳۵۵ ح ۲۴۲۰) [و احمد (۴ / ۱۱۳) و ابن حبان (الموارد : ۱۲۰۸) و النسائی (۲ / ۳۱ ح ۶۸۹)] * و للحدیث شواھد عند البخاری و مسلم و الترمذی (۱۶۳۵) و ابی داود (۴۲۰۲) و ابن حبان (۱۴۷۷ ، ۱۴۷۹ الموارد) و غیرھم ۔
3385
Sahih
عَن الغريف بن عَيَّاش الديلمي قَالَ: أَتَيْنَا وَاثِلَة بن الْأَسْقَع فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا حَدِيثًا لَيْسَ فِيهِ زِيَادَةٌ وَلَا نُقْصَانٌ فَغَضِبَ وَقَالَ: إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَقْرَأُ وَمُصْحَفُهُ مُعَلَّقٌ فِي بَيْتِهِ فَيَزِيدُ وَيَنْقُصُ فَقُلْنَا: إِنَّمَا أَرَدْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم فَقَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَاحِبٍ لَنَا أَوْجَبَ يَعْنِي النَّارَ بِالْقَتْلِ فَقَالَ: «أعتقوا عَنهُ بِعِتْق الله بِكُل عُضْو مِنْهُ عُضْو أَمنه من النَّار» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
غریف بن عیاش دیلمی بیان کرتے ہیں ، ہم واثلہ بن اسقع ؓ کے پاس آئے تو ہم نے کہا : ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیں جس میں کوئی کمی بیشی نہ ہو ، وہ (اس بات سے) ناراض ہو گئے اور کہا : تم قرآن کی تلاوت کرتے ہو ، جبکہ اس کا مصحف اس کے گھر میں موجود ہوتا ہے اس کے باوجود وہ کمی بیشی کر لیتا ہے ، ہم نے کہا : ہم نے تو صرف ایسی حدیث کا ارادہ کیا تھا جو آپ نے نبی ﷺ سے سنی ہو ، انہوں نے کہا : ہم اپنے ایک ساتھی کے بارے میں ، جس نے قتل کی وجہ سے جہنم کو واجب کر لیا تھا ، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کی طرف سے غلام آزاد کرو ، اللہ اس کے ہر عضو کے بدلے اس کے ہر عضو کو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۳۹۶۴) و النسائی (فی الکبری : ۴۸۹۱) [و صححہ ابن حبان (۱۲۰۶) و الحاکم علی شرط الشیخین (۲ / ۲۱۲) و وافقہ الذھبی] * (عبداللہ) الغیف بن الدیلمی : حسن الحدیث ، وثقہ الحاکم وغیرہ ۔
3386
Sahih
وَعَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ الشَّفَاعَةُ بِهَا تُفَكُّ الرَّقَبَة» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي «شعب الْإِيمَان»
سمرہ بن جندب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ افضل صدقہ کسی کے لیے ایسی سفارش کرنا ہے جس کی وجہ سے کسی کی گردن آزاد کر دی جائے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۷۶۸۳ ، نسخۃ محققۃ : ۷۲۷۹ نحو المعنی) [و الطبرانی فی الکبیر (۷ / ۲۳۰ ح ۶۹۶۲)] * فیہ ابوبکر الھذلی : متروک ۔
3387
Zaeef
بَابُ إِعْتَاقِ الْعَبْدِ الْمُشْتَرَكِ وَشِرَاءِ الْقَرِيبِ
مشترک غلام کو آزاد کرنے ، قریبی شخص کو خریدنے اور مرض میں آزاد کرنے کا بیان
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ وَكَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ قُوِّمَ الْعَبْدُ قِيمَةَ عَدْلٍ فَأُعْطِيَ شُرَكَاؤُهُ حِصَصَهُمْ وَعَتَقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ»
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس نے غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دیا اور اس کے پاس اتنا مال ہے جو غلام کی قیمت کو پہنچتا ہے ، تو غلام کی منصفانہ قیمت مقرر کی جائے گی اور وہ اس کے شرکاء کو ان کے حصوں کے مطابق دی جائے گی اور غلام آزاد ہو جائے گا ، ورنہ جتنا آزاد ہو گیا سو ہو گیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۵۳۲) و مسلم (۱ / ۱۵۰۱) ۔ 3770
3388
Sahih
بَابُ إِعْتَاقِ الْعَبْدِ الْمُشْتَرَكِ وَشِرَاءِ الْقَرِيبِ
مشترک غلام کو آزاد کرنے ، قریبی شخص کو خریدنے اور مرض میں آزاد کرنے کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا فِي عَبْدٍ أُعْتِقَ كُلُّهُ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتَسْعَى الْبعد غير مشقوق عَلَيْهِ»
ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس نے کسی غلام میں موجود اپنا حصہ آزاد کر دیا اور اگر وہ شخص مال دار ہے تو غلام کو مکمل طور پر آزاد کر دیا جائے گا ، اور اگر اس شخص کے پاس مال نہیں تو غلام سے مال کمانے کے لیے کہا جائے گا لیکن اس پر مشقت نہیں ڈالی جائے گی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۵۰۴) و مسلم (۳ / ۱۵۰۳) ۔ 3773
3389
Sahih
بَابُ إِعْتَاقِ الْعَبْدِ الْمُشْتَرَكِ وَشِرَاءِ الْقَرِيبِ
مشترک غلام کو آزاد کرنے ، قریبی شخص کو خریدنے اور مرض میں آزاد کرنے کا بیان
وَعَن عمرَان بن حُصَيْن: أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ فَدَعَا بهم رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَزَّأَهُمْ أَثْلَاثًا ثُمَّ أَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً وَقَالَ لَهُ قَوْلًا شَدِيدًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ عَنْهُ وَذَكَرَ: «لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُصَلِّيَ عَلَيْهِ» بَدَلَ: وَقَالَ لَهُ قَوْلًا شَدِيدًا وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ: قَالَ: «لَوْ شَهِدْتُهُ قَبْلَ أَنْ يُدْفَنَ لَمْ يُدْفَنْ فِي مَقَابِر الْمُسلمين»
عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی موت کے قریب اپنے چھ غلام آزاد کر دیئے ، اور اس کے پاس ان کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا ، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے غلاموں کو بلایا اور انہیں تین حصوں میں تقسیم کر دیا ، پھر ان کے مابین قرعہ اندازی کی تو دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام رکھا ، اور آپ ﷺ نے اس کے متعلق سخت الفاظ فرمائے ۔ انہی سے مروی نسائی کی ایک روایت میں ’’ اس کے متعلق سخت الفاظ فرمائے ‘‘ کی بجائے یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ اس کی نمازِ جنازہ نہ پڑھوں ۔‘‘ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے فرمایا :’’ اگر میں اس کی تدفین سے پہلے موجود ہوتا تو اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جاتا ۔‘‘ رواہ مسلم ، و النسائی و ابوداؤد ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۵۶ / ۱۶۶۸) و النسائی (۴ / ۶۴ ح ۱۹۶۰) و ابوداؤد (۳۹۶۰) ۔ 4335
3390
Sahih
بَابُ إِعْتَاقِ الْعَبْدِ الْمُشْتَرَكِ وَشِرَاءِ الْقَرِيبِ
مشترک غلام کو آزاد کرنے ، قریبی شخص کو خریدنے اور مرض میں آزاد کرنے کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِده إِلَّا أَن يجده مَمْلُوكا فيشتر بِهِ فيعتقه» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بیٹا اپنے والد کے احسانات کا بدلہ صرف اس صورت میں ادا کر سکتا ہے کہ اگر وہ باپ کو مملوک پائے تو اسے خرید کر آزاد کر دے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۲۵ / ۱۵۱۰) ۔ 3799
3391
Sahih
بَابُ إِعْتَاقِ الْعَبْدِ الْمُشْتَرَكِ وَشِرَاءِ الْقَرِيبِ
مشترک غلام کو آزاد کرنے ، قریبی شخص کو خریدنے اور مرض میں آزاد کرنے کا بیان
وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ دَبَّرَ مَمْلُوكًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ فَبَلَغَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَنْ يَشْتَرِيهِ مني؟» فَاشْتَرَاهُ نعيم بن النَّحَّامِ بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيُّ بثمانمائة دِرْهَم فجَاء بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «ابْدَأْ بِنَفْسِكَ فَتَصَدَّقْ عَلَيْهَا فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ فَلِأَهْلِكَ فَإِنْ فَضَلَ عَنْ أَهْلِكَ شَيْءٌ فَلِذِي قَرَابَتِكَ فَإِنْ فَضَلَ عَنْ ذِي قَرَابَتِكَ شَيْءٌ فَهَكَذَا وَهَكَذَا» يَقُولُ: فَبين يَديك وَعَن يَمِينك وَعَن شمالك
جابر ؓ سے روایت ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی نے ایک غلام مدّبر کیا (یوں کہا کہ میری موت کے بعد یہ غلام آزاد ہو گا) ، اور اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور مال نہیں تھا ، نبی ﷺ کو یہ خبر پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھ سے اسے کون خریدتا ہے ؟‘‘ تو نعیم بن نحام ؓ نے آٹھ سو درہم کے بدلے میں اسے خرید لیا ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے کہ نعیم بن عبداللہ عدوی نے آٹھ سو درہم کے عوض اسے خرید لیا ۔ اور اس آدمی نے یہ رقم نبی ﷺ کی خدمت میں پیش کی تو آپ ﷺ نے وہ اسے دے دی ، پھر فرمایا :’’ پہلے اپنی جان سے شروع کرو اور اس پر صدقہ کرو ۔ اگر کچھ بچ جائے تو پھر تیرے گھر والوں کے لیے ، اگر تیرے گھر والوں سے بچ جائے تو تیرے رشتہ داروں کے لیے ، اگر تیرے رشتہ داروں سے بچ جائے تو پھر اس طرح اور اس طرح ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، اپنے سامنے اور اپنے دائیں بائیں تقسیم کر ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۷۱۶) و مسلم (۵۸ / ۹۹۷ بعد ح ۱۶۶۸ و قبل ح ۱۶۶۹) [و الشافعی فی الام (۸ / ۱۵)] ۔2313
3392
Sahih
بَابُ إِعْتَاقِ الْعَبْدِ الْمُشْتَرَكِ وَشِرَاءِ الْقَرِيبِ
مشترک غلام کو آزاد کرنے ، قریبی شخص کو خریدنے اور مرض میں آزاد کرنے کا بیان
عَن الْحسن عَن سَمُرَة عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «من ملك ذَا رحم محرم فَهُوَ حُرٌّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه
حسن ، سمرہ کی سند سے رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص قرابت دار محرم کا مالک ہو جائے تو وہ (غلام) آزاد ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۱۳۶۵) و ابوداؤد (۳۹۴۹) و ابن ماجہ (۲۵۲۴) ۔
3393
Sahih
بَابُ إِعْتَاقِ الْعَبْدِ الْمُشْتَرَكِ وَشِرَاءِ الْقَرِيبِ
مشترک غلام کو آزاد کرنے ، قریبی شخص کو خریدنے اور مرض میں آزاد کرنے کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا وَلَدَتْ أَمَةُ الرَّجُلِ مِنْهُ فَهِيَ مُعْتَقَةٌ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ أَوْ بَعْدَهُ» . رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ
ابن عباس ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب آدمی کی لونڈی اس کے بچے کو جنم دے تو وہ اس کی موت کے بعد آزاد ہو جائے گی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی (۲ / ۲۵۷ ح ۲۵۷۷) [و ابن ماجہ (۲۵۱۵)] * فیہ حسین بن عبداللہ : ضعیف و شریک القاضی مدلس و عنعن ۔
3394
Zaeef
بَابُ إِعْتَاقِ الْعَبْدِ الْمُشْتَرَكِ وَشِرَاءِ الْقَرِيبِ
مشترک غلام کو آزاد کرنے ، قریبی شخص کو خریدنے اور مرض میں آزاد کرنے کا بیان
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: بِعْنَا أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ نَهَانَا عَنْهُ فَانْتَهَيْنَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ کے دور میں ام ولد (وہ لونڈی جس کے ساتھ اس کا مالک ہم بستر ہوا اور اس سے اولاد پیدا ہو گئی) کی بیع کیا کرتے تھے ۔ جب عمر ؓ کا دور آیا تو انہوں نے ہمیں اس سے منع کیا تو ہم رک گئے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد (۳۹۵۴) ۔
3395
Sahih
بَابُ إِعْتَاقِ الْعَبْدِ الْمُشْتَرَكِ وَشِرَاءِ الْقَرِيبِ
مشترک غلام کو آزاد کرنے ، قریبی شخص کو خریدنے اور مرض میں آزاد کرنے کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُ الْعَبْدِ لَهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ السَّيِّدُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص غلام آزاد کرے اور اس (غلام) کا مال ہو تو غلام کا مال غلام ہی کا ہے مگر یہ کہ آقا کوئی شرط طے کر لے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد (۳۹۶۲) و ابن ماجہ (۲۵۲۹) ۔
3396
Sahih
بَابُ إِعْتَاقِ الْعَبْدِ الْمُشْتَرَكِ وَشِرَاءِ الْقَرِيبِ
مشترک غلام کو آزاد کرنے ، قریبی شخص کو خریدنے اور مرض میں آزاد کرنے کا بیان
وَعَن الْمَلِيحِ عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ شِقْصًا مِنْ غُلَامٍ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَيْسَ لِلَّهِ شَرِيكٌ» فَأَجَازَ عتقه. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابوملیح اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، کہ کسی آدمی نے غلام میں موجود اپنے حصے کو آزاد کیا تو نبی ﷺ سے اس کا ذکر کیا گیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کے لیے کوئی شریک نہیں ۔‘‘ آپ ﷺ نے اسے مکمل طور پر آزاد کرنے کی ترغیب دلائی ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ ابوداؤد (۳۹۴۴) ۔
3397
Sahih
بَابُ إِعْتَاقِ الْعَبْدِ الْمُشْتَرَكِ وَشِرَاءِ الْقَرِيبِ
مشترک غلام کو آزاد کرنے ، قریبی شخص کو خریدنے اور مرض میں آزاد کرنے کا بیان
وَعَن سفينة قَالَ: كُنْتُ مَمْلُوكًا لِأُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ: أُعْتِقُكَ وَأَشْتَرِطُ عَلَيْكَ أَنْ تَخْدُمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عِشْتَ فَقُلْتُ: إِنْ لَمْ تَشْتَرِطِي عَلَيَّ مَا فَارَقْتُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عِشْتُ فَأَعْتَقَتْنِي وَاشْتَرَطَتْ عَلَيَّ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
سفینہ بیان کرتے ہیں ، میں ام سلمہ ؓ کا غلام تھا ، انہوں نے فرمایا : میں تمہیں آزاد کرتی ہوں اور تم پر شرط عائد کرتی ہوں کہ تم زندگی بھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت کرو گے ، میں نے کہا : اگر آپ مجھ پر شرط نہ بھی عائد کریں تب بھی میں زندگی بھر رسول اللہ ﷺ سے الگ نہ ہوتا ۔ انہوں نے مجھے آزاد کر دیا اور مجھ پر شرط عائد کر دی ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۳۹۳۲) و مسلم (۲۵۲۶) ۔
3398
Sahih
بَابُ إِعْتَاقِ الْعَبْدِ الْمُشْتَرَكِ وَشِرَاءِ الْقَرِيبِ
مشترک غلام کو آزاد کرنے ، قریبی شخص کو خریدنے اور مرض میں آزاد کرنے کا بیان
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُكَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ مُكَاتبَته دِرْهَم» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مکاتب پر جب تک مکاتبت کا ایک درہم بھی باقی رہتا ہے تو وہ غلام ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۳۹۲۶) ۔
3399
Sahih
بَابُ إِعْتَاقِ الْعَبْدِ الْمُشْتَرَكِ وَشِرَاءِ الْقَرِيبِ
مشترک غلام کو آزاد کرنے ، قریبی شخص کو خریدنے اور مرض میں آزاد کرنے کا بیان
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانَ عِنْدَ مكَاتب إحداكن وَفَاء فلنحتجب مِنْهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تمہارے کسی مکاتب کے پاس اس قدر رقم ہو کہ وہ ادا کر سکے تو وہ (مالکہ) اس سے پردہ کرے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۱۲۶۱ وقال : حسن صحیح) و ابوداؤد (۳۹۲۸) وابن ماجہ (۲۵۲۰) ۔
3400
Sahih
بَابُ إِعْتَاقِ الْعَبْدِ الْمُشْتَرَكِ وَشِرَاءِ الْقَرِيبِ
مشترک غلام کو آزاد کرنے ، قریبی شخص کو خریدنے اور مرض میں آزاد کرنے کا بیان
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ كَاتَبَ عَبْدَهُ عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَ أَوَاقٍ أَوْ قَالَ: عَشْرَةَ دَنَانِيرَ ثُمَّ عَجَزَ فَهُوَ رَقِيقٌ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے اپنے غلام سے سو اوقیہ پر مکاتبت کی ، اس کے ذمے صرف دس اوقیہ یا فرمایا : دس دینار باقی رہ گئے اور وہ انہیں ادا نہ کر سکا تو وہ غلام ہی ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Takhreej
حسن ، رواہ الترمذی (۱۲۶۰ وقال : غریب) و ابوداؤد (۳۹۲۷) وابن ماجہ (۲۵۱۹) ۔
3401
Sahih