TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بَاب قتل أهل الرِّدَّة والسعاة بِالْفَسَادِ - مرتدوں اور فساد پھیلانے والوں کو قتل کرنے کا بیان - قصاص کا بیان - Mishkat with Urdu and English Translation

Chapter 4 of قصاص کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 4 · 22 Hadith
عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: أُتِيَ عَلِيٌّ بِزَنَادِقَةٍ فَأَحْرَقَهُمْ فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ: لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أُحْرِقْهُمْ لِنَهْيِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ» وَلَقَتَلْتُهُمْ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
عکرمہ بیان کرتے ہیں ، علی ؓ کے پاس کچھ زندیق لائے گئے تو انہوں نے انہیں زندہ جلا دیا ، ابن عباس ؓ کو اس بات کا پتہ چلا تو انہوں نے فرمایا : اگر میں ہوتا تو میں انہیں کبھی زندہ نہ جلاتا کیونکہ رسول اللہ ﷺ سے اس کی ممانعت موجود ہے (کہ آپ ﷺ نے فرمایا) :’’ اللہ کے عذاب کے ساتھ عذاب نہ دو ۔‘‘ کی وجہ سے میں انہیں نہ جلاتا اور رسول اللہ ﷺ کے فرمان :’’ جو شخص اپنا دین (اسلام) بدل لے تو اسے قتل کر دو ۔‘‘ کے مطابق میں انہیں قتل کر دیتا ۔ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۶۹۲۲) ۔
3533
Sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِن النَّارَ لَا يُعَذِّبُ بِهَا إِلَّا اللَّهُ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آگ کا عذاب صرف اللہ ہی دے گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۶۹۵۴) ۔
3534
Sahih
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «سَيَخْرُجُ قَوْمٌ فِي آخِرِ الزَّمَانِ حُدَّاثُ الْأَسْنَانِ سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ لَا يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ فَإِنَّ فِي قَتْلِهِمْ أَجْرًا لمن قَتلهمْ يَوْم الْقِيَامَة»
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ عنقریب آخری زمانے میں ایک قوم کا ظہور ہو گا جو نو عمر ضعیف العقل ہوں گے ، وہ بظاہر نہایت معقول کام کریں گے ، لیکن ان کا ایمان ان کے حلق سے تجاوز نہیں کرے گا ، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے ، تم انہیں جہاں پاؤ وہیں قتل کر دو کیونکہ انہیں قتل کرنے میں روز قیامت ان کے قاتل کے لیے اجر ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۹۳۰) و مسلم (۱۵۴ / ۱۰۶۶) ۔ 2462
3535
Sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَكُونُ أُمَّتِي فِرْقَتَيْنِ فَيَخْرُجُ مِنْ بَيْنِهِمَا مَارِقَةٌ يَلِي قَتْلَهُمْ أولاهم بِالْحَقِّ» . رَوَاهُ مُسلم
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میری امت دو گروہوں میں منقسم ہو جائے گی اور ان دونوں کے بیچ سے ایک خارجی جماعت رونما ہو گی ، ان کا خاتمہ وہ لوگ کریں گے جو حق کے زیادہ قریب ہونگے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۵۱ / ۱۰۶۴) ۔ 2459
3536
Sahih
وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «لَا تَرْجِعُنَّ بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَاب بعض»
جریر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا :’’ میرے بعد ایک دوسرے کی گردنیں کاٹ کر کافر نہ بن جانا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۷۰۸۰) و مسلم (۱۱۸ / ۶۵) ۔ 223
3537
Sahih
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ حَمَلَ أَحَدُهُمَا عَلَى أَخِيهِ السِّلَاحَ فَهُمَا فِي جُرُفِ جَهَنَّمَ فَإِذَا قَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ دَخَلَاهَا جَمِيعًا» . وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ: قَالَ: «إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بسيفهما فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ» قُلْتُ: هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ؟ قَالَ: «إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ»
ابوبکرہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب دو مسلمان ملیں اور ان میں سے ایک اپنے بھائی پر اسلحہ تان لے تو وہ دونوں جہنم کے کنارے پر ہوتے ہیں ، جب ان میں سے کوئی اپنے مقابل کو قتل کر دیتا ہے تو وہ دونوں اکٹھے جہنم میں داخل ہو جاتے ہیں ۔‘‘ اور ان سے ایک دوسری روایت میں ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب دو مسلمان اپنی تلواریں سونت کر سامنے آ جاتے ہیں تو قاتل اور مقتول جہنمی ہیں ۔‘‘ میں نے عرض کیا : قاتل تو ہے لیکن مقتول کس وجہ سے ؟ (کہ وہ مظلوم ہونے کے باوجود جہنمی ہے) آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیونکہ وہ اپنے ساتھی (مد مقابل) کو قتل کرنے پر حریص تھا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۸۷۵ الروایۃ الثانیۃ) و مسلم (۱۶ / ۲۸۸۸ ، الروایۃ الاولی ، ۱۴ / ۲۸۸۸ ، الروایۃ الثانیۃ) ۔
3538
Sahih
وَعَن أَنَسٍ قَالَ: قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَرٌ مِنْ عُكْلٍ فَأَسْلَمُوا فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَأْتُوا إِبِلَ الصَّدَقَةِ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا فَفَعَلُوا فَصَحُّوا فَارْتَدُّوا وَقَتَلُوا رُعَاتَهَا وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ ثُمَّ لَمْ يَحْسِمْهُمْ حَتَّى مَاتُوا . وَفِي رِوَايَةٍ: فَسَمَّرُوا أَعْيُنَهُمْ وَفِي رِوَايَةٍ: أَمَرَ بِمَسَامِيرَ فَأُحْمِيَتْ فَكَحَّلَهُمْ بِهَا وَطَرَحَهُمْ بِالْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَمَا يُسْقَوْنَ حَتَّى مَاتُوا
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، عکل کے کچھ لوگ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا ۔ مدینہ کی آب و ہوا انہیں موافق نہ آئی تو آپ نے انہیں صدقہ کے اونٹوں کے پاس جانے کا حکم فرمایا تاکہ وہاں وہ ان کا دودھ اور پیشاب پیئیں ، انہوں نے ایسے کیا اور وہ صحت یاب ہو گئے ، اس کے بعد وہ مرتد ہو گئے اور ان کے چرواہوں کو قتل کر کے اونٹ ہانک کر لے گئے آپ ﷺ نے ان کے تعاقب میں آدمی بھیجے تو وہ انہیں پکڑ کر لے آئے ، آپ نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دی گئیں ، پھر ان کا خون بہتا رہا حتی کہ وہ فوت ہو گئے ۔ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ انہوں نے ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دیں ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے :’’ آپ ﷺ نے سلائیوں کے متعلق حکم فرمایا تو انہیں گرم کیا گیا اور انہیں ان کی آنکھوں میں پھیر کر انہیں دھوپ میں پھینک دیا گیا وہ پانی طلب کرتے رہے مگر انہیں پانی نہ دیا گیا حتی کہ وہ فوت ہو گئے ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۸۰۳ ، الروایۃ الاولی ، ۱۵۰۱ ، الثانیۃ ، ۳۰۱۸ ، الثانیۃ) و مسلم (۹ / ۱۶۷۱ ، الروایۃ الاولی ، ۱۰ / ۱۶۷۱ ،الثانیۃ) ۔ 4354-4355
3539
Sahih
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحُثُّنَا عَلَى الصَّدَقَةِ وَيَنْهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ ہمیں صدقہ دینے پر آمادہ کیا کرتے تھے اور مثلہ کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۲۶۶۷) * قتادۃ مدلس و عنعن و حدیث احمد (۵ / ۲۰) یغنی عن ھذا الحدیث ۔
3540
Zaeef
وَرَوَاهُ النَّسَائِيّ عَن أنس
امام نسائی نے اسے انس ؓ سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ النسائی ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ النسائی (۷ / ۱۰۱ ح ۴۰۵۲) ۔
3541
Sahih
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَانْطَلَقَ لِحَاجَتِهِ فَرَأَيْنَا حُمْرَةً مَعَهَا فَرْخَانِ فَأَخَذْنَا فَرْخَيْهَا فَجَاءَتِ الْحُمْرَةُ فَجَعَلَتْ تَفْرُشُ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَنْ فَجَعَ هَذِهِ بِوَلَدِهَا؟ رُدُّوا وَلَدَهَا إِلَيْهَا» . وَرَأَى قَرْيَةَ نَمْلٍ قَدْ حَرَّقْنَاهَا قَالَ: «مَنْ حَرَّقَ هَذِهِ؟» فَقُلْنَا: نَحْنُ قَالَ: «إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يُعَذِّبَ بِالنَّارِ إِلاَّ ربُّ النَّار» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عبدالرحمن بن عبداللہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں ، ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ، آپ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے تو ہم نے ایک چڑیا (سرخ رنگ کی چڑیا) دیکھی ، اس کے ساتھ اس کے دو بچے تھے ، ہم نے اس کے بچے پکڑ لیے تو وہ پھڑ پھڑانے لگی ، اتنے میں نبی ﷺ تشریف لائے اور آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کس شخص نے اسے ، اس کے بچوں کی وجہ سے بے قرار کر دیا ؟ اس کے بچے اسے واپس کرو ۔‘‘ اور آپ نے چیونٹیوں کا ایک مسکن دیکھا جسے ہم نے جلا دیا تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے کس نے جلایا ہے ؟‘‘ ہم نے عرض کیا : ہم نے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ آگ کا عذاب دینا صرف آگ کے رب کے لائق ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۲۶۷۵) ۔
3542
Sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي اخْتِلَافٌ وَفُرْقَةٌ قَوْمٌ يُحسِنونَ القيلَ ويُسيئونَ الفِعلَ يقرؤون الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُروقَ السَّهمِ فِي الرَّمِيَّةِ لَا يَرْجِعُونَ حَتَّى يَرْتَدَّ السَّهْمُ عَلَى فُوقِهِ هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ طُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ وَقَتَلُوهُ يَدْعُونَ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ وَلَيْسُوا منَّا فِي شيءٍ مَنْ قاتلَهم كَانَ أَوْلَى بِاللَّهِ مِنْهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا سِيمَاهُمْ؟ قَالَ: «التَّحْلِيقُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابوسعید خدری ؓ اور انس بن مالک ؓ ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میری امت میں عنقریب اختلاف و افتراق ہو گا ۔ ایک گروہ باتیں اچھی اچھی لیکن کام برے کرے گا ۔ وہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل (کر پار ہو) جاتا ہے ۔ وہ دین کی طرف نہیں پلٹیں گے حتی کہ تیر اپنے سوفار (چٹکی جہاں کمان کا تانت ٹکتا ہے) پر واپس آ جائے ۔ وہ تمام مخلوق سے بدتر ہیں ۔ اس شخص کے لیے خوشخبری ہے جو ان کو قتل کرتا ہے اور جسے وہ قتل کر دیں ، وہ (بظاہر) اللہ کی کتاب کی طرف دعوت دیں گے ۔ لیکن وہ کسی چیز میں بھی ہم میں سے نہیں ہوں گے ، جس نے ان سے قتال کیا وہ ان (باقی امتیوں) سے اللہ کے زیادہ قریب ہے ۔‘‘ صحابہ ؓ نے پوچھا : اللہ کے رسول ! ان کی علامت کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ سر منڈانا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۴۷۶۵) * قتادۃ عنعن ۔
3543
Zaeef
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ زِنا بعدَ إِحْصانٍ فإِنَّهُ يُرجَمُ ورجلٌ خرَجَ مُحارِباً للَّهِ وَرَسُولِهِ فَإِنَّهُ يُقْتَلُ أَوْ يُصْلَبُ أَوْ يُنْفَى مِنَ الْأَرْضِ أَوْ يَقْتُلُ نَفْسًا فَيُقْتَلُ بِهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو مسلمان یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں ، اسے صرف تین وجوہات میں سے کسی ایک وجہ سے قتل کرنا جائز ہے : شادی کے بعد زنا والے کو رجم کیا جائے گا ، اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کرے (یعنی ڈاکو) ہو ، اسے قتل کیا جائے گا یا سولی پر چڑھایا جائے گا یا جلا وطن کیا جائے گا ۔ یا کوئی شخص کسی جان کو قتل کر دے تو اس کے بدلے میں اسے قتل کیا جائے گا ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد (۴۳۵۳) ۔
3544
Sahih
وَعَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ كَانُوا يَسِيرُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَانْطَلَقَ بَعْضُهُمْ إِلَى حَبْلٍ مَعَه فَأَخذه فَفَزعَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُرَوِّعَ مُسْلِمًا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابن ابی لیلی بیان کرتے ہیں ، محمد ﷺ کے صحابہ نے ہمیں حدیث بیان کی کہ وہ رات کے وقت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کر رہے تھے ، ان میں سے ایک آدمی سو گیا تو کسی شخص نے اپنی رسی لی اور اس کی طرف گیا اور اسے رسی کے ساتھ باندھ دیا تو وہ (سونے والا شخص) گھبرا گیا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کسی مسلمان کے لیے یہ لائق نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو خوف زدہ کرے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
حسن ، رواہ ابوداؤد (۵۰۰۴) ۔
3545
Sahih
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَخَذَ أَرْضًا بِجِزْيَتِهَا فَقَدِ اسْتَقَالَ هِجْرَتَهُ وَمَنْ نَزَعَ صَغَارَ كَافِرٍ مِنْ عُنُقِهِ فَجَعَلَهُ فِي عُنُقِهِ فَقَدْ وَلّى الإِسلامَ ظهرَه» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابودرداء ؓ ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے خراج والی زمین خرید لی تو اس نے اپنی ہجرت (عزت) ختم کر لی اور جس نے کسی کافر کی گردن سے ذلت اتار کر اپنی گردن میں ڈال لی تو اس نے اسلام کو پس پشت ڈال دیا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۳۰۸۲) * عمارۃ : مجھول و سنان : مستور ۔
3546
Zaeef
وَعَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً إِلَى خَثْعَمَ فَاعْتَصَمَ نَاسٌ مِنْهُمْ بِالسُّجُودِ فَأَسْرَعَ فِيهِمُ الْقَتْلَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ لَهُمْ بِنِصْفِ الْعَقْلِ وَقَالَ: «أَنَا بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ مُقِيمٍ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُشْرِكِينَ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ؟ قَالَ: «لَا تَتَرَاءَى نَارَاهُمَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
جریر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے (یمن کے قبیلے) خثعم کی طرف ایک لشکر روانہ کیا تو ان میں سے کچھ لوگ بچنے کے لیے نماز پڑھنے لگے ، لیکن انہیں تیزی سے قتل کیا گیا ، نبی ﷺ کو اس کی خبر پہنچی تو آپ ﷺ نے ان کے لیے نصف دیت کا حکم فرمایا ، اور فرمایا :’’ میں مشرکوں کے درمیان رہنے والے تمام مسلمانوں (کے خون) سے برئ الذمہ ہوں ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کس لیے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ (وہ کافروں سے اس قدر دور رہیں کہ) ان کی آگ نظر نہ آئے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۲۶۴۵) * فیہ ابو معاویۃ الضریر : مدلس و عنعن و للحدیث طرق ، ضعیفۃ کلھا ولم یصب من صححہ ۔
3547
Zaeef
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْإِيمَانُ قَيَّدَ الْفَتْكَ لَا يفتِكُ مُؤمنٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابوہریرہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ایمان اچانک قتل کرنے سے منع کرتا ہے ۔ مومن اچانک (مطلع کیے بغیر) قتل نہیں کرتا ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
حسن ، رواہ ابوداؤد (۲۷۶۹) [ولہ شواھد] ۔
3548
Sahih
وَعَنْ جَرِيرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ إِلَى الشِّرْكِ فقد حلَّ دَمه» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
جریر ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب غلام مشرکین کے علاقے کی طرف فرار ہو جائے تو اس کا خون حلال ہو جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۴۳۶۰) * ابو اسحاق عنعن و حدیث مسلم (۷۰) یغنی عنہ ۔
3549
Zaeef
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ يَهُودِيَّةً كَانَتْ تَشْتِمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقَعُ فِيهِ فَخَنَقَهَا رَجُلٌ حَتَّى مَاتَتْ فَأَبْطَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَمَهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
علی ؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک یہودی عورت نبی ﷺ کو بُرا بھلا کہا کرتی تھی اور آپ کی مذمت کیا کرتی تھی ، ایک آدمی نے اس کا گلا دبا دیا چنانچہ وہ مر گئی تو نبی ﷺ نے اس کا خون رائیگاں قرار دے دیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۴۳۶۲) * مغیرۃ بن مقسم مدلس و عنعن ، و اما جریر فھو ابن عبد الحمید الضبی : ثقہ امام ۔
3550
Zaeef
وَعَنْ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حَدُّ السَّاحِرِ ضَرْبُهُ بِالسَّيْفِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
جندب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جادوگر کی حد (یعنی سزا) تلوار کے ساتھ قتل کرنا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۱۴۶۰) * قال البیھقی (۸ / ۱۳۶) :’’ اسماعیل بن مسلم المکی : ضعیف ۔‘‘
3551
Zaeef
عَن أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ خَرَجَ يُفَرِّقُ بَيْنَ أُمَّتِي فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ» . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ
اسامہ بن شریک ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص (امام کے خلاف) خروج کرے اور میری امت کے درمیان تفریق ڈالے تو اس کی گردن اڑا دو ۔‘‘ صحیح ، رواہ النسائی ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ النسائی (۷ / ۹۳ ح ۴۰۲۸) ۔
3552
Sahih