TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3665 - امارت و قضاء کا بیان - Mishkat in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 5 of 61 in this chapter
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةٍ إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوف»
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ معصیت میں کوئی اطاعت نہیں ، اطاعت تو صرف معروف (شرعی امور) میں ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
3665
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
Conclusion
تخریج
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۷۲۵۷) ومسلم (۳۹ / ۱۸۴۰) ۔ 4765

Related Chapters

0
No related chapter found.
No related chapter matched that.

Related Hadith

170
Sahih Bukhari
7257
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ ، جَيْشًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا ، فَأَوْقَدَ نَارًا ، وَقَالَ : ادْخُلُوهَا فَأَرَادُوا أَنْ يَدْخُلُوهَا ، وَقَالَ آخَرُونَ : إِنَّمَا فَرَرْنَا مِنْهَا ، فَذَكَرُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِلَّذِينَ أَرَادُوا أَنْ يَدْخُلُوهَا : لَوْ دَخَلُوهَا لَمْ يَزَالُوا فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَقَالَ لِلْآخَرِينَ : لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةٍ ، إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ .
Narrated `Ali: The Prophet , sent an army and appointed some man their commander The man made a fire and then said (to the soldiers), Enter it. Some of them intended to enter it while some others said, 'We have run away from it (i.e., embraced Islam to save ourselves from the 'fire'). They mentioned that to the Prophet, and he said about people who had intended to enter the fire. ''If they had entered it, they would have remained In it till the Day of Resurrection.'' Then he said to others, No obedience for evil deeds, obedience is required only in what is good .
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے زبید نے، ان سے سعد بن عبیدہ نے، ان سے ابوعبدالرحمٰن نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور اس کا امیر ایک صاحب عبداللہ بن حذافہ سہمی کو بنایا، پھر ( اس نے کیا کیا کہ ) آگ جلوائی اور ( لشکریوں سے ) کہا کہ اس میں داخل ہو جاؤ۔ جس پر بعض لوگوں نے داخل ہونا چاہا لیکن کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم آگ ہی سے بھاگ کر آئے ہیں۔ پھر اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جنہوں نے آگ میں داخل ہونے کا ارادہ کیا تھا کہ اگر تم اس میں داخل ہو جاتے تو اس میں قیامت تک رہتے۔ اور دوسرے لوگوں سے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت حلال نہیں ہے اطاعت صرف نیک کاموں میں ہے۔
Sahih Muslim
4765
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ جَيْشًا، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا، فَأَوْقَدَ نَارًا، وَقَالَ: ادْخُلُوهَا، فَأَرَادَ نَاسٌ أَنْ يَدْخُلُوهَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ: إِنَّا قَدْ فَرَرْنَا مِنْهَا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِلَّذِينَ أَرَادُوا أَنْ يَدْخُلُوهَا: «لَوْ دَخَلْتُمُوهَا لَمْ تَزَالُوا فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»، وَقَالَ لِلْآخَرِينَ قَوْلًا حَسَنًا، وَقَالَ: «لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ، إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ
It has been narrated on the authority of Abu 'Abd al-Rahman from 'Ali that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sent a force (on a mission) and appointed over them a man. He kindled a fire and said: Enter it. Some people made up their minds to enter it (the fire), (carrying out the order of their commander), but the others said: We fled from the fire (that's why we have come into the fold of Islam). The matter was reported to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). He said to those who Contemplated entering (the fire at the order of their commander): If you had entered it, you would have remained there until the Day of Judgment. He commanded the act of the latter group and said: There is no submission in matters involving God's disobedience or displeasure. Submission is obligatory only in what is good (and reasonable).
زبید نے سعد بن عبیدہ سے ، انہوں نے ابوعبدالرحمٰن سے ، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور ایک شخص کو ان کا امیر بنایا ، اس ( امیر ) شخص نے آگ جلائی اور لوگوں سے کہا : اس میں داخل ہو جاؤ ۔ کچھ لوگوں نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کر لیا اور کچھ لوگوں نے کہا : ہم آگ ہی سے تو بھاگے ہیں ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعے کا ذکر کیا گیا تو آپ نے ان لوگوں سے جو آگ میں داخل ہونا چاہتے تھے ، فرمایا : " اگر تم آگ میں داخل ہو جاتے تو قیامت تک اسی میں رہتے ۔ " اور دوسروں کے حق میں اچھی بات فرمائی اور فرمایا : " اللہ تعالیٰ کی معصیت میں کسی کی اطاعت نہیں ، اطاعت صرف نیکی میں ہے
Silsila Sahih
1792
عَنْ عَلِيٍّ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بَعَثَ جَيْشًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا فَأَوْقَدَ نَارًا وَقَالَ: ادْخُلُوهَا. فَأَرَادَ نَاسٌ أَنْ يَّدْخُلُوهَا وَقَالَ الْآخَرُونَ: إِنَّا قَدْ فَرَرْنَا مِنْهَا فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ لِلَّذِينَ أَرَادُوا أَنْ يَدْخُلُوهَا: لَوْ دَخَلْتُمُوهَا لَمْ تَزَالُوا فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَقَالَ لِلْآخَرِينَ قَوْلًا حَسَنًا وَقَالَ: لَا طَاعَةَ (لِبَشَرٍ) فِي مَعْصِيَةِ اللهِ إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ
علی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایك لشكر بھیجا اور اس پر ایك شخص كو نگران بنایا اس نے آگ جلائی اور كہا:اس میں كود جاؤ۔ كچھ لوگوں نے اس میں چھلانگ لگانے كا ارادہ كرلیا اور، دوسرے لوگوں نے كہا:ہم تو اسی سے بھاگ كر مسلمان ہوئے ہیں۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے اس بات كا تذكرہ كیا گیا تو آپ نے ان لوگوں سے كہا جو اس میں چھلانگ لگانا چاہتے تھے:اگر تم اس میں چھلانگ لگا دیتے تو قیامت تك اسی میں رہتے،اوردوسرےلوگوں كےلئےاچھی بات كہی اورفرمایا:اللہ كی نافرمانی میں(كسی بشر)كی كوئی اطاعت نہیں۔اطاعت صرف نیكی كےكام میں ہے۔
Sunnan Abu Dawood
2625
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زُبَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيٍّرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ جَيْشًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسْمَعُوا لَهُ وَيُطِيعُوا فَأَجَّجَ نَارًا، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَقْتَحِمُوا فِيهَا فَأَبَى قَوْمٌ أَنْ يَدْخُلُوهَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَالُوا:‏‏‏‏ إِنَّمَا فَرَرْنَا مِنَ النَّارِ وَأَرَادَ قَوْمٌ أَنْ يَدْخُلُوهَا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:‏‏‏‏ لَوْ دَخَلُوهَا أَوْ دَخَلُوا فِيهَا لَمْ يَزَالُوا فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ .
Ali (Allaah be pleased with him) said “The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم sent an army and appointed a man as a commander for them and he commanded them to listen to him and obey. He kindled fire and ordered them to jump into it. A group refused to enter into it and said “We escaped from the fire; a group intended to enter into it. When the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم was informed about it, he said “Had they entered into it, they would have remained into it. There is no obedience in matters involving disobedience to Allaah. Obedience is in matters which are good and universally recognized.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا، اور ایک آدمی ۱؎ کو اس کا امیر بنایا اور لشکر کو حکم دیا کہ اس کی بات سنیں، اور اس کی اطاعت کریں، اس آدمی نے آگ جلائی، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس میں کود پڑیں، لوگوں نے اس میں کودنے سے انکار کیا اور کہا: ہم تو آگ ہی سے بھاگے ہیں اور کچھ لوگوں نے اس میں کود جانا چاہا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ اس میں داخل ہو گئے ہوتے تو ہمیشہ اسی میں رہتے ، اور فرمایا: اللہ کی معصیت میں کسی کی اطاعت نہیں، اطاعت تو بس نیکی کے کام میں ہے ۲؎ ۔
Sunnan Nisai
4210
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زُبَيْدٍ الْإِيَامِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ بَعَثَ جَيْشًا، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا، ‏‏‏‏‏‏فَأَوْقَدَ نَارًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ ادْخُلُوهَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَرَادَ نَاسٌ أَنْ يَدْخُلُوهَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ الْآخَرُونَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا فَرَرْنَا مِنْهَا، ‏‏‏‏‏‏فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لِلَّذِينَ أَرَادُوا أَنْ يَدْخُلُوهَا:‏‏‏‏ لَوْ دَخَلْتُمُوهَا لَمْ تَزَالُوا فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ لِلْآخَرِينَ:‏‏‏‏ خَيْرًا ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ أَبُو مُوسَى فِي حَدِيثِهِ:‏‏‏‏ قَوْلًا حَسَنًا ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ .
It was narrated from Abu 'Adur-Rahman from Ali that: the Messenger of Allah sent an army and appointed a man in charge of them. He lit a fire and said: Enter it. Some people wanted to enter it, and other said: We are trying to keep away from it. They mentioned that to the Messenger of Allah, and he said to those who had wanted to enter if: If you had entered it you would have stayed there until the Day of Resurrection. And he spoke good words to the others. And he said: There is no obedience if it involves disobedience toward Allah. Rather obedience is only (required) in that which is good.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فوج بھیجی اور ایک شخص ۱؎ کو اس کا امیر مقرر کیا، اس نے آگ جلائی اور کہا: تم لوگ اس میں داخل ہو جاؤ، تو کچھ لوگوں نے اس میں داخل ہونا چاہا اور دوسروں نے کہا: ہم تو ( ایمان لا کر ) آگ ہی سے بھاگے ہیں، پھر لوگوں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ آپ نے ان لوگوں سے جنہوں نے اس میں داخل ہونا چاہا تھا فرمایا: ”اگر تم اس میں داخل ہو جاتے تو قیامت تک اسی میں رہتے، اور دوسروں سے اچھی بات کہی“۔ ( ابوموسیٰ ( محمد بن المثنیٰ ) نے اپنی حدیث میں ( «خیراً» کے بجائے ) «قولاً حسناً» ( بہتر بات ) کہا ہے ) ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی نافرمانی میں اطاعت نہیں ہوتی، اطاعت صرف نیک کاموں میں ہے“ ۲؎۔
Jam e Tirmazi
1707
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ، ‏‏‏‏‏‏مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِمَعْصِيَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا سَمْعَ عَلَيْهِ وَلَا طَاعَةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Ibn 'Umar: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: Hearing and obeying is required from every Muslim man - in what he like and what he dislikes - as long as he is not ordered with disobedience. If he is ordered with disobedience, then no hearing or obeying is required of him. [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from 'Ali, 'Imran bin Husain, and Al-Hakam bin 'Amr Al-Ghifari. This Hadith is Hasan Sahih.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک معصیت کا حکم نہ دیا جائے مسلمان پر سمع و طاعت لازم ہے خواہ وہ پسند کرے یا ناپسند کرے، اور اگر اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو نہ اس کے لیے سننا ضروری ہے اور نہ اطاعت کرنا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، عمران بن حصین اور حکم بن عمر و غفاری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Mishkat
3664
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «السَّمعُ والطاعةُ على المرءِ المسلمِ فِيمَا أحب وأكره مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِمَعْصِيَةٍ فَإِذَا أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ»
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مسلمان شخص پر ہر پسند و ناپسند میں سمع و اطاعت لازم ہے بشرطیکہ اسے معصیت کا حکم نہ دیا جائے ، جب اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو پھر نہ سننا ہے اور نہ اطاعت کرنا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Sahih Bukhari
2955
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَبَّاحٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ حَقٌّ مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِالْمَعْصِيَةِ ، فَإِذَا أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ ، فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ .
Narrated Ibn `Umar: The 'Prophet said, It is obligatory for one to listen to and obey (the ruler's orders) unless these orders involve one disobedience (to Allah); but if an act of disobedience (to Allah) is imposed, he should not listen to or obey it.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے۔ (دوسری سند) اور مجھ سے محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن زکریا نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( خلیفہ وقت کے احکام ) سننا اور انہیں بجا لانا ( ہر مسلمان کے لیے ) واجب ہے، جب تک کہ گناہ کا حکم نہ دیا جائے۔ اگر گناہ کا حکم دیا جائے تو پھر نہ اسے سننا چاہئے اور نہ اس پر عمل کرنا چاہئے۔“
Sahih Bukhari
7144
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِمَعْصِيَةٍ ، فَإِذَا أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ .
Narrated `Abdullah: The Prophet said, A Muslim has to listen to and obey (the order of his ruler) whether he likes it or not, as long as his orders involve not one in disobedience (to Allah), but if an act of disobedience (to Allah) is imposed one should not listen to it or obey it. (See Hadith No. 203, Vol. 4)
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ”مسلمان کے لیے امیر کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا ضروری ہے، ان چیزوں میں بھی جنہیں وہ پسند کرے اور ان میں بھی جنہیں وہ ناپسند کرے، جب تک اسے معصیت کا حکم نہ دیا جائے۔ پھر جب اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو نہ سننا باقی رہتا ہے نہ اطاعت کرنا۔“