TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

امارت و قضاء کا بیان - امارت و قضاء کا بیان - Book 17 of Mishkat with Urdu and English Translation

Book 17 of Mishkat, with 4 chapters and 126 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

126 Hadith · 4 Chapters
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَمَنْ يُطِعِ الْأَمِيرَ فَقَدْ أَطَاعَنِي وَمَنْ يَعْصِ الْأَمِيرَ فَقَدْ عَصَانِي وَإِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ فَإِنْ أَمَرَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَعَدَلَ فَإِنَّ لَهُ بِذَلِكَ أَجْرًا وَإِنْ قالَ بغَيرِه فَإِن عَلَيْهِ مِنْهُ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی ، جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی ، جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی ، اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی ، اور امام ڈھال ہے اس کے زیر سایہ قتال کیا جاتا ہے اور اس کے ذریعے بچا جاتا ہے ، اگر اس نے اللہ کا تقوی اختیار کرنے کا حکم دیا اور عدل کیا تو اس وجہ سے اس کے لیے اجر ہے ، اور اگر اس نے اس کے علاوہ کچھ کہا تو اس کا گناہ اس پر ہو گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۹۷۵) و مسلم (۳۳ / ۱۸۳۵) ۔ 4747
3661
Sahih
وَعَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ مُجَدَّعٌ يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطيعُوا» . رَوَاهُ مُسلم
ام حصین ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر کسی ناک اور کان کٹے غلام کو تمہارا امیر مقرر کر دیا جائے اور وہ اللہ کی کتاب کے مطابق تمہاری راہنمائی کرے تو پھر اس کی بات سنو اور اطاعت کرو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۳۱۱ / ۱۲۹۸) ۔ 3138
3662
Sahih
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَإِنِ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ كَأَنَّ رَأْسَهُ زَبِيبَةٌ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر کسی حبشی غلام کو ، جس کا سر انگور کی طرح چھوٹا سا ہو ، تم پر عامل (گورنر) مقرر کر دیا جائے تو اس کی بات سنو اور اطاعت کرو ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۷۱۴۲) ۔
3663
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «السَّمعُ والطاعةُ على المرءِ المسلمِ فِيمَا أحب وأكره مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِمَعْصِيَةٍ فَإِذَا أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ»
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مسلمان شخص پر ہر پسند و ناپسند میں سمع و اطاعت لازم ہے بشرطیکہ اسے معصیت کا حکم نہ دیا جائے ، جب اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو پھر نہ سننا ہے اور نہ اطاعت کرنا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۷۱۴۱) و مسلم (۳۸ / ۱۸۳۹) ۔ 4763
3664
Sahih
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةٍ إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوف»
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ معصیت میں کوئی اطاعت نہیں ، اطاعت تو صرف معروف (شرعی امور) میں ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۷۲۵۷) ومسلم (۳۹ / ۱۸۴۰) ۔ 4765
3665
Sahih
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: بَايَعْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ وَعَلَى أَثَرَةٍ عَلَيْنَا وَعَلَى أَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ وَعَلَى أَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ أَيْنَمَا كُنَّا لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ. وَفِي رِوَايَةٍ: وَعَلَى أَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ إِلَّا أَنْ تَرَوْا كُفْرًا بَوَاحًا عِنْدَكُمْ مِنَ اللَّهِ فِيهِ بُرْهَانٌ
عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں، ہم نے تنگی و آسانی ، نشاط و ناگواری ، اپنے نظر انداز کیے جانے اور دوسروں کو ترجیح دیے جانے پر ، امیر کو معزول نہ کرنے پر ، ہر جگہ حق بات کرنے پر اور اللہ (کی رضا مندی کے معاملے) میں ، ملامت گر کی ملامت سے نہ ڈرنے پر ، رسول اللہ ﷺ کی سمع و اطاعت اختیار کرنے پر بیعت کی ۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے : جب تک ہم دلیل کے مطابق امیر میں اللہ کا صریح کفر نہ دیکھیں اس سے دستِ اطاعت نہ کھینچیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۷۰۵۵ ۔ ۷۰۵۶) و مسلم (۴۲ / ۱۷۰۹) ۔ 4771
3666
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنَّا إِذَا بَايَعْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ يَقُولُ لَنَا: «فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ»
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب ہم سمع و اطاعت میں رسول اللہ ﷺ کی بیعت کرتے تو آپ ﷺ ہمیں فرماتے :’’ اس (معاملے) میں جس کی تم استطاعت رکھو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۷۲۰۲) و مسلم (۹۰ / ۱۸۶۷) ۔ 4836
3667
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «من رأى أميره يَكْرَهُهُ فَلْيَصْبِرْ فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ يُفَارِقُ الْجَمَاعَةَ شبْرًا فَيَمُوت إِلَّا مَاتَ ميتَة جَاهِلِيَّة»
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اپنے امیر میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھے تو وہ صبر کرے ، کیونکہ جو شخص بالشت برابر جماعت سے علیحدگی اختیار کر کے فوت ہو جائے تو وہ جاہلیت کی سی موت مرتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری( ۷۱۴۳) و مسلم (۵۵ / ۱۸۴۹) ۔ 4790
3668
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ فَمَاتَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً وَمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ يَغْضَبُ لِعَصَبِيَّةٍ أَوْ يَدْعُو لِعَصَبِيَّةٍ أَوْ يَنْصُرُ عَصَبِيَّةً فَقُتِلَ فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ وَمَنْ خَرَجَ عَلَى أُمَّتِي بِسَيْفِهِ يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا وَلَا يَتَحَاشَى مِنْ مُؤْمِنِهَا وَلَا يَفِي لِذِي عَهْدٍ عَهْدَهُ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص اطاعت چھوڑ کر ، جماعت سے الگ ہو کر ، فوت ہو جائے تو وہ جاہلیت کی سی موت مرتا ہے ۔ جو شخص اندھے پرچم تلے قتال کرتا ہے ، عصبیت کی وجہ سے ناراض ہوتا ہے یا عصبیت کی دعوت دیتا ہے ، یا عصبیت کی مدد کرتا ہے ، اور وہ اس حالت میں قتل کر دیا جائے تو وہ جاہلیت پر قتل ہوتا ہے ۔ جو شخص میری امت کے خلاف تلوار سونت کر نکل آتا ہے اور وہ اس (امت) کے نیک و فاجر کو مارتا ہے اور وہ نہ تو کسی مومن کی پرواہ کرتا ہے اور نہ کسی معاہد کی تو وہ مجھ سے نہیں اور میں اس سے نہیں ہوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۵۳ / ۱۸۴۸) ۔ 4786
3669
Sahih
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «خِيَارُ أئمتكم الَّذين يحبونهم وَيُحِبُّونَكُمْ وَتُصَلُّونَ عَلَيْهِمْ وَيُصَلُّونَ عَلَيْكُمْ وَشِرَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِي تبغضونهم ويبغضونكم وتلعنوهم ويلعنوكم» قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نُنَابِذُهُمْ عِنْدَ ذَلِكَ؟ قَالَ: «لَا مَا أَقَامُوا فِيكُمُ الصَّلَاةَ لَا مَا أَقَامُوا فِيكُمُ الصَّلَاةَ أَلَا مَنْ وُلِّيَ عَلَيْهِ وَالٍ فَرَآهُ يَأْتِي شَيْئًا مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ فَلْيَكْرَهْ مَا يَأْتِي مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ وَلَا يَنْزِعَنَّ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ» . رَوَاهُ مُسلم
عوف بن مالک اشجعی ؓ ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہارے بہترین امام وہ ہیں جنہیں تم پسند کرتے ہو اور وہ تمہیں پسند کرتے ہیں ، تم ان کے حق میں دعائیں کرتے ہو اور وہ تمہارے حق میں دعائیں کرتے ہیں ، اور تمہارے بدترین امام وہ ہیں جن کو تم ناپسند کرتے ہو اور وہ تمہیں ناپسند کرتے ہیں ، تم ان پر لعنت بھیجتے ہو اور وہ تم پر لعنت بھیجتے ہیں ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا اس وقت ہم انہیں معزول نہ کر دیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ! جب تک وہ تم میں نماز قائم کریں ، نہیں ! جب تک وہ تم میں نماز کا اہتمام کرائیں ، سن لو ! جس پر کوئی حاکم و سرپرست مقرر کیا جائے اور وہ اللہ کی کسی معصیت کا ارتکاب کرے تو اسے چاہیے کہ وہ اللہ کی معصیت کو ناپسند کرے اور وہ اطاعت سے دست کش نہ ہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۶۶ / ۱۸۵۵) ۔ 4805
3670
Sahih
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ تَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ فَمَنْ أَنْكَرَ فَقْدَ بَرِئَ وَمَنْ كَرِهَ فَقَدْ سَلِمَ وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ» قَالُوا: أَفَلَا نُقَاتِلُهُمْ؟ قَالَ: «لَا مَا صَلَّوْا لَا مَا صَلَّوْا» أَيْ: مَنْ كَرِهَ بِقَلْبِهِ وَأنكر بِقَلْبِه. رَوَاهُ مُسلم
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم پر ایسے حکمران ہوں گے کہ تم ان کے بعض افعال کو اچھا جانو گے اور بعض کو بُرا ، جس نے انکار کیا تو وہ مداہنت و نفاق سے بری ہو گیا اور جس نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا تو وہ (وبال سے) بچ گیا ، لیکن جو راضی ہو گیا اور ان کے پیچھے لگا (تو وہ نفاق وبال میں شریک ہو گیا) ۔‘‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا : کیا ہم ان سے قتال نہ کریں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ، جب تک وہ نماز پڑھیں ، نہیں ، جب تک وہ نماز پڑھیں ۔‘‘ یعنی جس نے اپنے دل سے ناپسند کیا اور اپنے دل سے انکار کیا ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۶۴ ، ۶۳ / ۱۸۵۴) ۔ 4801
3671
Sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً وَأُمُورًا تُنْكِرُونَهَا» قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «أَدُّوا إِلَيْهِم حَقهم وسلوا الله حقكم»
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فرمایا :’’ تم عنقریب میرے بعد ترجیح دینے کو اور ایسے امور کو دیکھو گے جنہیں تم ناپسند کرتے ہوں گے ۔‘‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ان کا حق انہیں دو اور اپنا حق اللہ سے طلب کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۷۰۵۲) و مسلم (۴۵ / ۱۸۴۳) ۔ 4775
3672
Sahih
وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: سَأَلَ سَلَمَةُ بْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ قَامَتْ عَلَيْنَا أُمَرَاءُ يَسْأَلُونَا حَقَّهُمْ وَيَمْنَعُونَا حَقَّنَا فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: «اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا فَإِنَّمَا عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ» . رَوَاهُ مُسلم
وائل بن حجر ؓ بیان کرتے ہیں ، سلمہ بن یزید جعفی ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا تو عرض کیا : اللہ کے نبی ! مجھے بتائیں اگر ہم پر ایسے امراء مقرر ہو جائیں جو اپنا حق ہم سے طلب کریں جبکہ ہمارے حق سے ہمیں محروم رکھیں تب آپ ﷺ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ سنو اور اطاعت کرو ، جو ان کی ذمہ داری ہے وہ اس کے مکلّف ہیں ، اور جو تمہاری ذمہ داری ہے تم اس کے ذمہ دار و مکلّف ہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۴۹ / ۱۸۵۶) ۔ 4782
3673
Sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «مَنْ خَلَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا حُجَّةَ لَهُ. وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً» . رَوَاهُ مُسلم
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس شخص نے (امیر کی) اطاعت سے ہاتھ کھینچ لیا تو وہ روزِ قیامت اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کے پاس کوئی حجت و عذر نہیں ہو گا ، اور جو شخص اس حال میں فوت ہوا کہ اس کی گردن میں امیر کی بیعت نہیں تو وہ جاہلیت کی سی موت مرا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۵۸ / ۱۸۵۱) ۔ 4793
3674
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيُّ خَلَفَهُ نبيٌّ وإِنَّه لَا نبيَّ بعدِي وسيكون حلفاء فَيَكْثُرُونَ» قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: «فُوا بَيْعَةَ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ أَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا استرعاهم»
ابوہریرہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بنی اسرائیل کے امور کی سرپرستی و اصلاح انبیا ؑ کیا کرتے تھے ، جب کوئی نبی فوت ہو جاتا تو اس کے بعد ایک اور نبی آ جاتا جب کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ، اور البتہ عنقریب بہت سے خلفاء ہوں گے ۔‘‘ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا : آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم (ترتیب وار) پہلے اور پھر اس کے بعد والے کی بیعت پوری کرو ، تم ان کا حق ادا کرو ، کیونکہ اللہ ان سے اس چیز کے بارے میں سوال کرنے والا ہے جو اس نے انہیں نگہبانی و حکمرانی عطا کی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۴۵۵) و مسلم (۴۴ / ۱۸۴۲) ۔ 4773
3675
Sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا بُويِعَ لِخَلِيفَتَيْنِ فاقتُلوا الآخِرَ منهُما» . رَوَاهُ مُسلم
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب دو خلیفوں کے لیے بیعت کی جائے تو ان میں سے دوسرے کو قتل کر دو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۶۱ / ۱۸۵۳) ۔ 4799
3676
Sahih
وَعَنْ عَرْفَجَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّهُ سَيَكُونُ هَنَاتٌ وَهَنَاتٌ فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُفَرِّقَ أَمْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَهِيَ جَمِيعٌ فَاضْرِبُوهُ بِالسَّيْفِ كَائِنًا مَنْ كانَ» . رَوَاهُ مُسلم
عرفجہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ عنقریب مختلف قسم کے فسادات ہوں گے ، جو شخص امت کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کرے تو اسے تلوار کے ساتھ قتل کر دو خواہ وہ کوئی ہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۵۹ / ۱۸۵۲) ۔ 4796
3677
Sahih
وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَتَاكُمْ وَأَمْرُكُمْ جَمِيعٌ عَلَى رَجُلٍ وَاحِدٍ يُرِيدُ أَنْ يَشُقَّ عَصَاكُمْ أوْ يُفرِّقَ جماعتكم فَاقْتُلُوهُ» . رَوَاهُ مُسلم
عرفجہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : جو شخص تمہارے پاس آئے ، جبکہ تمہارا معاملہ شخصِ واحد پر مجتمع ہو ، اور وہ شخص تمہاری قوت کو بکھیرنا یا تمہاری جمعیت کو منتشر کرنا چاہتا ہو تو اسے قتل کر دو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (4798
3678
Sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «من بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ إِنِ اسْتَطَاعَ فَإِنْ جَاءَ آخَرُ يُنَازِعُهُ فاضربوا عنق الآخر» . رَوَاهُ مُسلم
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص کسی امام کی بیعت کر لے ، اس کی اطاعت اختیار کر لے اور وہ اخلاص کے ساتھ اس کے ساتھ لگ جائے تو پھر وہ مقدور بھر اس کی اطاعت کرے ، اور پھر اگر کوئی اور آ کر اس (امام اول یا بیعت کرنے والے) کو ہٹانے کی کوشش کرے تو پھر دوسرے کی گردن اڑا دو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۴۶ / ۱۸۴۴) ۔ 4776
3679
Sahih
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عنْ غيرِ مَسْأَلَة أعنت عَلَيْهَا»
عبدالرحمن بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ امارت طلب نہ کرنا ، کیونکہ اگر تمہاری خواہش پر وہ تمہیں دے دی گئی تو تم اس کے سپرد کر دیے جاؤ گے ، اور اگر وہ تمہاری طلب و خواہش کے بغیر تمہیں عطا کی گئی تو پھر اس پر تمہاری مدد کی جائے گی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۷۱۴۶) و مسلم (۱۳ / ۱۶۵۲) ۔ 4281
3680
Sahih