TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

حدود کا بیان - حدود کا بیان - Book 16 of Mishkat with Urdu and English Translation

Book 16 of Mishkat, with 6 chapters and 106 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

106 Hadith · 6 Chapters
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ: أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا: اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ وَقَالَ الْآخَرُ: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فاقْضِ بَيْننَا بكتابِ الله وائذَنْ لِي أَنْ أَتَكَلَّمَ قَالَ: «تَكَلَّمْ» قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ فَأَخْبرُونِي أنَّ على ابْني الرَّجْم فاقتديت مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَبِجَارِيَةٍ لِي ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَتِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ عَلَيْكَ وَأَمَّا ابْنُكَ فَعَلَيْهِ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَأَمَّا أَنْتَ يَا أُنَيْسُ فَاغْدُ إِلَى امْرَأَةِ هَذَا فَإِن اعْترفت فارجمها» فَاعْترفت فرجمها
ابوہریرہ ؓ اور زید بن خالد ؓ سے روایت ہے کہ دو آدمی مقدمہ لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان میں سے ایک نے عرض کیا ، ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ فرمائیں ، اور دوسرے نے عرض کیا : جی ہاں ، اللہ کے رسول ! ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ فرمائیں اور مجھے بات کرنے کی اجازت فرمائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بات کرو ۔‘‘ اس نے عرض کیا : میرا بیٹا اس شخص کے ہاں مزدور تھا ، اس نے اس کی اہلیہ کے ساتھ زنا کر لیا تو انہوں (یعنی بعض لوگوں) نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر رجم (کی سزا لاگو ہوتی) ہے ، لیکن میں نے اس کے فدیہ میں سو بکریاں اور اپنی ایک لونڈی دے دی ، پھر میں نے اہل علم سے مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے اور سال کی جلا وطنی (کی سزا) ہے ، اور اس کی اہلیہ پر رجم ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا ، رہی تمہاری بکریاں اور تمہاری لونڈی وہ تمہیں واپس مل جائیں گی ، رہا تمہارا بیٹا تو اس پر سو کوڑے اور سال کی جلا وطنی ہے اور اُنیس ! تم اس عورت کے پاس جاؤ ، اگر وہ اعترافِ جرم کر لے تو اسے رجم کر دو ۔‘‘ اس نے اعتراف کر لیا تو انہوں نے اسے رجم کر دیا ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۶۳۳) و مسلم (۲۵ / ۱۶۹۷ ۔ ۱۶۹۸) ۔ 4435
3555
Sahih
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ فِيمَنْ زَنَى وَلَمْ يُحْصَنْ جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
زید بن خالد ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی ﷺ کو کنوارے زانی کے متعلق سو کوڑے اور سال کی جلا وطنی کا حکم فرماتے ہوئے سنا ۔ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۶۸۳۱) ۔
3556
Sahih
وَعَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِن الله بعث مُحَمَّدًا وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ فَكَانَ مِمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى آيَةُ الرَّجْمِ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ وَالرَّجْمُ فِي كِتَابِ اللَّهِ حَقٌّ عَلَى مَنْ زَنَى إِذَا أُحْصِنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ إِذَا قَامَتِ الْبَيِّنَةُ أَوْ كانَ الحَبَلُ أَو الِاعْتِرَاف
عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ اللہ نے محمد (ﷺ) کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ، اور آپ پر کتاب نازل فرمائی ، اللہ تعالیٰ نے جو نازل فرمایا ، اس میں آیت رجم بھی تھی ، رسول اللہ ﷺ نے رجم کیا اور آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا ، اور جب شادی شدہ مرد اور عورت زنا کرے تو اسے رجم کرنا اللہ کی کتاب سے ثابت ہے ۔ بشرطیکہ گواہی ثابت ہو جائے یا حمل واضح ہو جائے یا اعتراف جرم ہو جائے ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۸۲۹) و مسلم (۱۵ / ۱۶۹۱) ۔ 4418
3557
Sahih
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خُذُوا عَنِّي خُذُوا عَنِّي قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا: الْبِكْرُ بالبكر جلد مائَة ووتغريب عَام وَالثَّيِّب بِالثَّيِّبِ جلد مائَة وَالرَّجم
عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ (حد زنا کے متعلق) مجھ سے احکام کی بابت معلومات لے لو ۔ مجھ سے احکام کی بابت معلومات لے لو ، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے (حد) مقرر کر دی ، کنوارا ، کنواری کے ساتھ زنا کرے تو اس کی حد سو کوڑے اور سال کی جلا وطنی ہے ، اور شادی شدہ ، شادی شدہ سے زنا کرے تو اس کی سزا سو کوڑے اور رجم ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۲ / ۱۶۹۰) ۔ 4414
3558
Sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَن الْيَهُود جاؤوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا لَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ وَامْرَأَةً زَنَيَا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ فِي شَأْنِ الرَّجْمِ؟» قَالُوا: نَفْضَحُهُمْ وَيُجْلَدُونَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: كَذَبْتُمْ إِنَّ فِيهَا الرَّجْمَ فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَنَشَرُوهَا فَوَضَعَ أَحَدُهُمْ يَدَهُ عَلَى آيَةِ الرَّجْمِ فَقَرَأَ مَا قَبْلَهَا وَمَا بَعْدَهَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: ارْفَعْ يَدَكَ فَرَفَعَ فإِذا فِيهَا آيةُ الرَّجم. فَقَالُوا: صدقَ يَا محمَّدُ فِيهَا آيَة الرَّجْم. فَأمر بهما النَّبِي صلى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَا. وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: ارْفَعْ يَدَكَ فَرَفَعَ فَإِذَا فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ تَلُوحُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ فِيهَا آيَةَ الرَّجْمِ وَلِكِنَّا نَتَكَاتَمُهُ بَيْنَنَا فَأَمَرَ بِهِمَا فَرُجِمَا
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ یہود ، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے آپ کو بتایا کہ ان کے ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کیا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا :’’ تم رجم کے متعلق تورات میں کیا پاتے ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : ہم انہیں ذلیل و رسوا کرتے ہیں اور انہیں کوڑے مارے جاتے ہیں ، عبداللہ بن سلام ؓ نے فرمایا : تم نے جھوٹ کہا ہے ۔ اس میں تو رجم (کا حکم) ہے ۔ وہ تورات لائے اور اسے کھولا تو ان میں سے ایک نے آیتِ رجم پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور اس سے پہلے اور اس کے بعد والا حصہ پڑھ دیا ، عبداللہ بن سلام ؓ نے فرمایا : اپنا ہاتھ اٹھاؤ ۔ اس نے (ہاتھ) اٹھایا تو اس میں آیت رجم تھی ، انہوں نے کہا : محمد (ﷺ) ! اس (عبداللہ بن سلام ؓ) نے سچ کہا ، اس میں آیت رجم ہے ، نبی ﷺ نے ان دونوں کے متعلق حکم فرمایا تو انہیں رجم کر دیا گیا ۔ دوسری روایت میں ہے : انہوں نے کہا : اپنا ہاتھ اٹھاؤ ، اس نے اٹھا لیا تو اس میں آیت رجم خوب واضح نظر آ رہی تھی ، اس نے کہا : محمد (ﷺ) اس میں آیت رجم ہے لیکن ہم اسے آپس میں چھپاتے ہیں ، آپ ﷺ نے ان کے متعلق حکم فرمایا تو انہیں رجم کیا گیا ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۸۴۱ و الروایۃ الثانیۃ : ۷۵۴۳) و مسلم (۲۲ / ۱۶۹۹) ۔ 4437
3559
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَنَادَاهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَنَحَّى لِشِقِّ وَجْهِهِ الَّذِي أَعْرَضَ قِبَلَهُ فَقَالَ: إِنِّي زَنَيْتُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا شَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ دَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَبِكَ جُنُونٌ؟» قَالَ: لَا فَقَالَ: «أُحْصِنْتَ؟» قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ» قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: فَرَجَمْنَاهُ بِالْمَدِينَةِ فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ هَرَبَ حَتَّى أَدْرَكْنَاهُ بِالْحَرَّةِ فرجمناه حَتَّى مَاتَ وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ: عَنْ جَابِرٍ بَعْدَ قَوْلِهِ: قَالَ: نَعَمْ فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ بِالْمُصَلَّى فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ فَرَّ فَأُدْرِكَ فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خيرا وَصلى عَلَيْهِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ ﷺ کو آواز دیتے ہوئے کہا : اللہ کے رسول ! میں نے زنا کیا ہے ، نبی ﷺ نے اس سے منہ پھیر لیا ، تو اس نے دوسری طرف سے ہو کر پھر عرض کیا ، میں نے زنا کیا ہے ۔ نبی ﷺ نے پھر اس سے منہ پھیر لیا ، جب اس نے چار بار گواہی دی تو نبی ﷺ نے اسے بلا کر فرمایا :’’ کیا تم دیوانے ہو ؟‘‘ اس نے عرض کیا : نہیں ! آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم شادی شدہ ہو ؟‘‘ اس نے عرض کیا : جی ہاں ، اللہ کے رسول ! آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے لے جاؤ اور رجم کر دو ۔‘‘ ابن شہاب نے کہا : مجھے اس شخص نے بتایا جس نے جابر بن عبداللہ ؓ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ ہم نے اس شخص کو مدینہ میں رجم کیا ، جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگ اٹھا حتی کہ ہم نے مدینہ کے دو پہاڑوں کے درمیان پتھریلے علاقے میں اسے جا لیا تو ہم نے اسے رجم کیا حتی کہ وہ فوت ہو گیا ۔ اور جابر ؓ سے مروی بخاری کی روایت میں ، ’’ اس نے عرض کیا ، جی ہاں ‘‘ کے بعد ہے : آپ ﷺ نے اس کے متعلق حکم فرمایا تو اسے جنازگاہ میں رجم کیا گیا ، جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگ اٹھا ، اسے پکڑ لیا گیا اور اسے رجم کیا گیا حتی کہ وہ فوت ہو گیا ، نبی ﷺ نے اس کے متعلق کلمہ خیر فرمایا اور اس کی نمازِ جنازہ پڑھی ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۸۲۵ و الروایۃ : ۶۸۲۰) و مسلم (۱۶ / ۱۶۹۲) ۔ 4420
3560
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا أَتَى مَاعِزُ بن مَالك النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: «لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ أَوْ غَمَزْتَ أَوْ نَظَرْتَ؟» قَالَ: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «أَنِكْتَهَا؟» لَا يُكَنِّي قَالَ: نَعَمْ فَعِنْدَ ذَلِكَ أَمر رجمه. رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب ماعز بن مالک ؓ ، نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ شاید کہ تم نے بوسہ لیا ہو ، یا ہاتھ لگایا ہو یا دیکھا ہو ۔‘‘ اس نے عرض کیا : نہیں ، اللہ کے رسول ! آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے اس سے جماع کیا ؟‘‘ آپ نے کنایہ سے بات نہیں کی ، اس نے عرض کیا : جی ہاں ! تب آپ ﷺ نے اسے رجم کرنے کا حکم فرمایا ۔ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۶۸۲۴) ۔
3561
Sahih
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ طَهِّرْنِي فَقَالَ: «وَيْحَكَ ارْجِعْ فَاسْتَغْفر الله وَتب إِلَيْهِ» . فَقَالَ: فَرَجَعَ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ طَهِّرْنِي. فَقَالَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الرَّابِعَة قَالَه لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِيمَ أُطَهِّرُكَ؟» قَالَ: مِنَ الزِّنَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبِهِ جُنُونٌ؟» فَأُخْبِرَ أَنَّهُ لَيْسَ بِمَجْنُونٍ فَقَالَ: «أَشَرِبَ خَمْرًا؟» فَقَامَ رَجُلٌ فَاسْتَنْكَهَهُ فَلَمْ يَجِدْ مِنْهُ رِيحَ خَمْرٍ فَقَالَ: «أَزَنَيْتَ؟» قَالَ: نَعَمْ فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ فَلَبِثُوا يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «اسْتَغْفِرُوا لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ قُسِّمَتْ بَيْنَ أُمَّةٍ لَوَسِعَتْهُمْ» ثُمَّ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ غَامِدٍ مِنَ الْأَزْدِ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ طَهِّرْنِي فَقَالَ: «وَيَحَكِ ارْجِعِي فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ وَتُوبِي إِلَيْهِ» فَقَالَتْ: تُرِيدُ أَنْ تَرْدُدَنِي كَمَا رَدَدْتَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ: إِنَّهَا حُبْلَى مِنَ الزِّنَا فَقَالَ: «أَنْتِ؟» قَالَتْ: نَعَمْ قَالَ لَهَا: «حَتَّى تَضَعِي مَا فِي بَطْنِكِ» قَالَ: فكَفَلَها رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ حَتَّى وَضَعَتْ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: قَدْ وَضَعَتِ الغامديَّةُ فَقَالَ: «إِذاً لَا نرجُمها وندعُ وَلَدَهَا صَغِيرًا لَيْسَ لَهُ مَنْ يُرْضِعُهُ» فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: إِلَيَّ رَضَاعُهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ: فَرَجَمَهَا. وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّهُ قَالَ لَهَا: «اذْهَبِي حَتَّى تَلِدِي» فَلَمَّا وَلَدَتْ قَالَ: «اذْهَبِي فَأَرْضِعِيهِ حَتَّى تَفْطِمِيهِ» فَلَمَّا فَطَمَتْهُ أَتَتْهُ بِالصَّبِيِّ فِي يَدِهِ كِسْرَةُ خُبْزٍ فَقَالَتْ: هَذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَدْ فَطَمْتُهُ وَقَدْ أَكَلَ الطَّعَامَ فَدَفَعَ الصَّبِيَّ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَحُفِرَ لَهَا إِلَى صَدْرِهَا وَأَمَرَ النَّاسَ فَرَجَمُوهَا فَيُقْبِلُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بِحَجْرٍ فَرَمَى رَأْسَهَا فَتَنَضَّحَ الدَّمُ عَلَى وَجْهِ خَالِدٍ فَسَبَّهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «مهلا يَا خَالِد فو الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا صَاحِبُ مَكْسٍ لَغُفِرَ لَهُ» ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فصلى عَلَيْهَا ودفنت. رَوَاهُ مُسلم
بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ماعز بن مالک ؓ ، نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے پاک کر دیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تجھ پر افسوس ہے ، واپس جاؤ اور اللہ سے مغفرت طلب کرو اور اس کے حضور توبہ کرو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، وہ تھوڑی دیر بعد واپس آیا اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے پاک کر دیں ، نبی ﷺ نے پھر اسی طرح فرمایا حتی کہ جب اس نے چوتھی مرتبہ وہی جملہ کہا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا :’’ میں کس چیز سے تمہیں پاک کر دوں ؟‘‘ اس نے عرض کیا : زنا (کے گناہ) سے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا اسے جنون ہے ؟‘‘ آپ کو بتایا گیا کہ اسے جنون نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا اس نے شراب پی ہے ؟‘‘ ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے اس کے منہ سے شراب کی بُو سونگھی تو اس نے اس سے شراب کی بُو نہ پائی پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم نے زنا کیا ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، جی ہاں ، آپ ﷺ نے اس کے متعلق حکم فرمایا تو اسے رجم کیا گیا ، اس کے بعد صحابہ دو یا تین دن (اس معاملہ میں) خاموش رہے پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا :’’ ماعز بن مالک کے بارے میں مغفرت طلب کرو ۔ اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اسے ایک جماعت کے درمیان تقسیم کر دیا جائے تو وہ ان کے لیے کافی ہو جائے ۔‘‘ پھر قبیلہ غامد کی شاخ ازد سے ایک عورت آئی تو اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے پاک کر دیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تجھ پر افسوس ہے چلی جاؤ ، اللہ سے مغفرت طلب کرو اور اللہ کے حضور توبہ کرو ۔‘‘ اس نے عرض کیا : آپ مجھے ویسے ہی واپس کرنا چاہتے ہیں ، جیسے آپ نے ماعز بن مالک کو واپس کر دیا تھا ، میں تو زنا سے حاملہ ہو چکی ہوں ، آپ ﷺ نے پوچھا کہ کیا :’’ تو (حاملہ) ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : جی ہاں ، آپ ﷺ نے اسے فرمایا :’’ وضع حمل تک صبر کر ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، انصار میں سے ایک آدمی نے اس کی کفالت کی ، حتی کہ اس نے بچے کو جنم دیا تو وہ (انصاری) نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا ، غامدیہ نے بچے کو جنم دے دیا ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تب ہم اسے رجم نہیں کریں گے ، اور ہم اس کے چھوٹے سے بچے کو چھوڑ دیں جبکہ اس کی رضاعت کا انتظام کرنے والا بھی کوئی نہیں ؟‘‘ پھر انصار میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا ، اللہ کے نبی ! اس کی رضاعت میرے ذمہ ہے ، راوی بیان کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے اسے رجم کیا ۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے اسے فرمایا :’’ تم جاؤ حتی کہ تم بچے کو جنم دو ۔‘‘ جب اس نے بچے کو جنم دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ چلی جاؤ اور اسے دودھ چھڑانے کی مدت تک اسے دودھ پلاؤ ۔‘‘ جب اس نے اس کا دودھ چھڑایا تو وہ بچے کو لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور بچے کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا ، اس نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! یہ دیکھیں میں نے اس کا دودھ چھڑا دیا ہے اور یہ کھانا کھانے لگا ہے ، آپ ﷺ نے بچہ کسی مسلمان شخص کے حوالے کیا ، پھر اس کے متعلق حکم فرمایا تو اس کے سینے کے برابر گڑھا کھودا گیا ، اور آپ نے لوگوں کو حکم فرمایا تو انہوں نے اسے رجم کیا ۔ خالد بن ولید ؓ ایک پتھر لے کر آئے اور اس کے سر پر مارا جس سے خون کا چھینٹا ان کے چہرے پر پڑا تو انہوں نے اسے بُرا بھلا کہا ، جس پر نبی ﷺ نے فرمایا :’’ خالد ! ٹھہرو ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اس نے ایسی توبہ کی ہے ، کہ اگر محصول لینے والا ایسی توبہ کرے تو اس کی بھی مغفرت ہو جائے ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے اس کے متعلق حکم فرمایا اور اس کی نمازِ جنازہ خود پڑھائی اور اسے دفن کر دیا گیا ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۲۲ / ۱۶۹۵ و الروایۃ الثانیۃ ۳۳ / ۱۶۹۵) ۔ 4431-4432
3562
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا فَلْيَجْلِدْهَا الحدَّ وَلَا يُثَرِّبْ عَلَيْهَا ثمَّ إِنْ زنَتْ فلْيجلدْها الحدَّ وَلَا يُثَرِّبْ ثُمَّ إِنْ زَنَتِ الثَّالِثَةَ فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا فَلْيَبِعْهَا ولوْ بحبْلٍ منْ شعرٍ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے اور اس کا زنا کرنا واضح ہو جائے تو وہ اس پر حد قائم کرے اور اسے عار نہ دلائے ، پھر اگر وہ زنا کرے تو وہ اس پر حد قائم کرے اور اسے عار نہ دلائے ، پھر اگر وہ تیسری مرتبہ زنا کرے تو وہ اسے بیچ دے خواہ بالوں کی رسی کے عوض بیچنا پڑے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۲۳۴) و مسلم (۳۰ / ۱۷۰۳) ۔ 4445
3563
Sahih
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَقِيمُوا عَلَى أَرِقَّائِكُمُ الْحَدَّ مَنْ أُحْصِنَ مِنْهُمْ وَمَنْ لَمْ يُحْصَنْ فَإِنَّ أَمَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَنَتْ فَأَمَرَنِي أَنْ أَجْلِدَهَا فَإِذَا هِيَ حَدِيثُ عَهْدٍ بِنِفَاسٍ فَخَشِيتُ إِنْ أَنَا جَلَدْتُهَا أَنْ أَقْتُلَهَا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَحْسَنْتَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ: قَالَ: «دَعْهَا حَتَّى يَنْقَطِعَ دَمُهَا ثُمَّ أَقِمْ عَلَيْهَا الْحَدَّ وَأَقِيمُوا الْحُدُودَ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانكُم»
علی ؓ نے فرمایا : لوگو ! اپنے غلاموں پر حد قائم کرو ، خواہ وہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ ، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی ایک لونڈی نے زنا کیا تو آپ ﷺ نے حکم فرمایا کہ میں اسے کوڑے ماروں ، وہ زچگی کے ابتدائی ایام میں تھی ، مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر میں نے اسے کوڑے مارے تو میں اسے قتل کر دوں گا ، میں نے نبی ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے اچھا کیا ۔‘‘ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے چھوڑ دو حتی کہ اس کا خون بند ہو جائے ، پھر اس پر حد قائم کرو اور اپنے غلاموں پر حدود قائم کیا کرو ۔‘‘ رواہ مسلم و ابوداؤد ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۳۴ / ۱۷۰۵) و ابوداؤد (۴۴۷۳) ۔ 4450
3564
Sahih
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ مَاعِزٌ الْأَسْلَمِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّه قدْ زَنى فأعرضَ عَنهُ ثمَّ جَاءَ مِنْ شِقِّهِ الْآخَرِ فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ زنى فَأَعْرض عَنهُ ثمَّ جَاءَ من شقَّه الْآخَرِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ قَدْ زَنى فَأَمَرَ بِهِ فِي الرَّابِعَةِ فَأُخْرِجَ إِلَى الْحَرَّةِ فَرُجِمَ بِالْحِجَارَةِ فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ فَرَّ يَشْتَدُّ حَتَّى مَرَّ بِرَجُلٍ مَعَهُ لَحْيُ جَمَلٍ فَضَرَبَهُ بِهِ وَضَرَبَهُ النَّاسُ حَتَّى مَاتَ. فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنه فرحين وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ وَمَسَّ الْمَوْتِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلَّا تَرَكْتُمُوهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَفِي رِوَايَةٍ: «هَلَّا تَرَكْتُمُوهُ لَعَلَّه أَن يَتُوب الله عَلَيْهِ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ماعز اسلمی ؓ ، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے عرض کیا کہ اس نے زنا کیا ہے ، آپ نے اس سے اعراض فرمایا ، پھر وہ دوسری طرف سے آیا اور عرض کیا ، کہ اس نے زنا کیا ہے ، آپ نے پھر اس سے اعراض فرمایا تو وہ دوسری جانب سے آ گیا اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اس نے زنا کیا ہے ، چوتھی مرتبہ آپ ﷺ نے اس کے متعلق حکم فرمایا : اور اسے حرہ (مدینہ کے دو پہاڑوں کے درمیان پتھریلی جگہ) کی طرف لے جایا گیا وہاں اسے پتھروں سے رجم کر دیا گیا ، جب اس نے پتھر لگنے کی تکلیف محسوس کی تو وہ تیزی سے بھاگ کھڑا ہوا حتی کہ وہ ایک آدمی کے پاس سے گزرا جس کے پاس اونٹ کے جبڑے کی ہڈی تھی تو اس نے وہ اسے دے ماری اور لوگ بھی اسے مارنے لگے حتی کہ وہ فوت ہو گیا ، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا کہ جب اس نے پتھروں کی تکلیف اور موت محسوس کی تو وہ بھاگ اٹھا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا ؟‘‘ اور ایک روایت میں ہے :’’ تم نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا شاید کے وہ توبہ کر لیتا تو اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۱۴۲۸) و ابن ماجہ (۲۵۵۴) [و ابوداؤد (۴۴۱۹ ، الروایۃ الثانیۃ)] ۔
3565
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ: «أَحَقٌّ مَا بَلَغَنِي عَنْكَ؟» قَالَ: وَمَا بَلَغَكَ عَنِّي؟ قَالَ: «بَلَغَنِي أَنَّكَ قَدْ وَقَعْتَ عَلَى جَارِيَةِ آلِ فُلَانٍ» قَالَ: نَعَمْ فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ فَأمر بهِ فرجم. رَوَاهُ مُسلم
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ماعز بن مالک سے فرمایا :’’ تمہارے متعلق جو بات مجھے پہنچی ہے کیا وہ درست ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : آپ کو میرے متعلق کیا بات پہنچی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم نے آل فلاں کی لونڈی سے زنا کیا ہے ۔‘‘ اس نے چار بار اقرار کیا تو آپ ﷺ نے اس کے متعلق حکم فرمایا تو اسے رجم کر دیا گیا ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۹ / ۱۶۹۳) ۔ 4427
3566
Sahih
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ مَاعِزًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَرَّ عِنْدَهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَأَمَرَ بِرَجْمِهِ وَقَالَ لِهَزَّالٍ: «لَوْ سَتَرْتَهُ بِثَوْبِكَ كَانَ خَيْرًا لَكَ» قَالَ ابْنُ الْمُنْكَدِرِ: إِنَّ هَزَّالًا أَمَرَ مَاعِزًا أَنْ يَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فيخبره. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
یزید بن نُعیم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، کہ ماعز ؓ ، نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے آپ ﷺ کی موجودگی میں چار بار اقرار کیا تو آپ ﷺ نے اسے رجم کرنے کا حکم فرمایا ، اور آپ ﷺ نے ہزّال سے فرمایا : اگر تم اس کی پردہ پوشی کرتے تو تمہارے لیے بہتر ہوتا ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔ ابن منکدر نے فرمایاکہ ہزال نے ماعز ؓ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ نبی ﷺ کے پاس جائے اور آپ کو (یہ واقعہ) بتائے ۔
Takhreej
حسن ، رواہ ابوداؤد (۴۳۷۷) حسن ، رواہ ابوداؤد (۴۳۷۷) ۔
3567
Sahih
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تَعَافَوُا الْحُدُودَ فِيمَا بَيْنَكُمْ فَمَا بَلَغَنِي مِنْ حَدٍّ فَقَدْ وَجَبَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ حدود کو باہم معاف کر دیا کرو ، جب معاملہ مجھ تک پہنچ گیا تو پھر حد واجب ہو گئی ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۴۳۷۶) و النسائی (۸ / ۷۰ ح ۴۸۸۹ ۔ ۴۸۹۰) * ابن جریج مدلس ولم یصرح بالسماع فالسند الی عمرو بن شعیب : غیر صحیح ، و لبعض الحدیث شواھد معنویۃ ۔
3568
Zaeef
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أقيلوا ذَوي الهيآت عثراتهم إِلَّا الْحُدُود» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اچھی صفات سے متصف لوگوں سے حدود کے علاوہ ان کی لغزشوں سے درگزر کیا کرو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۴۳۷۵) ۔
3569
Sahih
وَعَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «ادرؤا الْحُدُودَ عَنِ الْمُسْلِمِينَ مَا اسْتَطَعْتُمْ فَإِنْ كَانَ لَهُ مَخْرَجٌ فَخَلُّوا سَبِيلَهُ فَإِنَّ الْإِمَامَ أَنْ يُخْطِئَ فِي الْعَفْوِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يُخْطِئَ فِي الْعُقُوبَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: قَدْ رُوِيَ عَنْهَا وَلم يرفع وَهُوَ أصح
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس قدر ہو سکے مسلمان سے حدود دُور رکھو ، اگر کوئی بچاؤ کی راہ نکلتی ہو تو اس کی راہ چھوڑ دو ، کیونکہ امام کا درگزر کرنے میں غلطی کرنا ، سزا دینے میں غلطی کرنے سے بہتر ہے ۔‘‘ امام ترمذی ؒ کہتے ہیں : یہ روایت عائشہ ؓ سے روایت کی گئی ہے اور اس کا مرفوع نہ ہونا زیادہ صحیح ہے ۔ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
ضعیف ، رواہ الترمذی (۱۴۲۴) * یزید بن زیاد الدمشقی متروک ولہ شواھد کلھا ضعیفۃ ۔
3570
Zaeef
وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: اسْتُكْرِهَتِ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَرَأَ عَنْهَا الْحَدَّ وَأَقَامَهُ عَلَى الَّذِي أَصَابَهَا وَلَمْ يُذْكَرْ أَنَّهُ جَعَلَ لَهَا مَهْرًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
وائل بن حجر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ کے دور میں ایک عورت سے زنا بالجبر کیا گیا تو آپ نے اس پر حد قائم نہ کی بلکہ اس سے زیادتی کرنے والے پر حد قائم کی ۔ راوی نے ذکر نہیں کیا کہ آپ ﷺ نے اس کے لیے مہر مقرر کیا یا کہ نہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۱۴۵۳) * السند منقطع و حجاج بن ارطاۃ ضعیف مدلس ۔
3571
Sahih
وَعَنْهُ: أَنَّ امْرَأَةً خَرَجَتْ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُرِيدُ الصَّلَاةَ فَتَلَقَّاهَا رَجُلٌ فَتَجَلَّلَهَا فَقَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا فَصَاحَتْ وَانْطَلَقَ وَمَرَّتْ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ فَقَالَتْ: إِنَّ ذَلِكَ الرَّجُلَ فَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا فَأَخَذُوا الرَّجُلَ فَأَتَوْا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا: «اذْهَبِي فَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكِ» وَقَالَ لِلرَّجُلِ الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا: «ارْجُمُوهُ» وَقَالَ: «لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَقُبِلَ مِنْهُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ
وائل بن حجر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے دور میں ایک عورت نماز پڑھنے کے لیے نکلی تو ایک آدمی اسے ملا اور اس نے اسے ڈھانپ لیا اور زبردستی اس سے زنا کر لیا ، اس نے شور مچایا تو وہ چلا گیا ، اتنے میں مہاجرین کی ایک جماعت گزری تو اس (عورت) نے کہا : فلاں شخص نے اس اس طرح میرے ساتھ کیا ہے ، انہوں نے اس آدمی کو پکڑا اور اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آئے تو آپ ﷺ نے اس عورت سے فرمایا :’’ تم جاؤ اللہ نے تمہیں بخش دیا ۔‘‘ اور اس کے ساتھ زنا کرنے والے شخص کے متعلق فرمایا :’’ اسے رجم کر دو ۔‘‘ اور فرمایا :’’ اس شخص نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ایسی توبہ اہل مدینہ کرتے تو وہ ان کی طرف سے قبول ہو جاتی ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۱۴۵۴) و ابوداؤد (۴۳۷۹) ۔
3572
Sahih
وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَجُلًا زَنَى بِامْرَأَةٍ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجُلِدَ الْحَدَّ ثُمَّ أُخْبِرَ أَنَّهُ مُحْصَنٌ فَأَمَرَ بِهِ فرجم. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
جابر ؓ سے روایت ہے کہ کسی آدمی نے کسی عورت کے ساتھ زنا کیا تو نبی ﷺ نے اس کے متعلق حکم فرمایا تو اسے کوڑے مارے گئے ، پھر آپ کو بتایا گیا کہ وہ تو شادی شدہ ہے تو پھر آپ ﷺ نے اس کے متعلق حکم فرمایا تو اسے رجم کیا گیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۴۴۳۸) * ابن جریج و ابو الزبیر مدلسان و عنعنا ۔
3573
Zaeef
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ كَانَ فِي الْحَيِّ مُخْدَجٍ سقيم فَوجدَ على أمة من إمَائِهِمْ بخبث بِهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذُوا لَهُ عِثْكَالًا فِيهِ مِائَةُ شِمْرَاخٍ فَاضْرِبُوهُ ضَرْبَة» . رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ مَاجَه نَحوه
سعید بن سعد بن عبادہ ؓ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ ؓ نبی ﷺ کے پاس ایک ایسے شخص کو لائے جو قبیلے میں ناقص الخلقت اور مریض تھا لیکن وہ ان کی لونڈیوں میں سے کسی لونڈی کے ساتھ زنا کرتا ہوا پایا گیا تھا ۔ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اس کے لیے کھجور کی ایک ٹہنی لو جس میں سو شاخیں ہوں اور پھر اسے ایک ہی مرتبہ مارو ۔‘‘ شرح السنہ ، اور ابن ماجہ کی روایت میں اسی طرح ہے ۔ صحیح ، رواہ البغوی فی شرح السنہ و ابن ماجہ ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ البغوی فی شرح السنۃ (۱۰ / ۳۰۳ ح ۲۵۹۱) و ابن ماجہ (۲۵۷۴) ۔
3574
Sahih