TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4002 - بَابُ قِسْمَةِ الْغَنَائِمِ وَالْغُلُولِ فِيهَا - جہاد کا بیان - Mishkat in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 18 of 50 in this chapter
بَابُ قِسْمَةِ الْغَنَائِمِ وَالْغُلُولِ فِيهَا
مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم: يَوْمئِذٍ يَوْمَ حُنَيْنٍ: «مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهُ سَلَبُهُ» فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَئِذٍ عِشْرِينَ رَجُلًا وَأَخَذَ أسلابهم. رَوَاهُ الدَّارمِيّ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ حنین کے موقع پر فرمایا :’’ جس نے کسی کافر کو قتل کیا تو اس کا سازو سامان اسی کا ہے ۔ ابوطلحہ ؓ نے اس روز بیس آدمی قتل کیے اور انہوں نے ان کا سازو سامان لے لیا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الدارمی ۔
4002
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
(صَحِيح)
Conclusion
تخریج
اسنادہ صحیح ، رواہ الدارمی (۲ / ۲۲۹ ح ۲۴۸۷) [و ابوداؤد (۲۷۱۸) و مسلم (۱۸۰۹ مطولاً] ۔

Related Chapters

553
1
Chapter: What Has Been Related About The One Who Steals From The Spoils Of War, And What Is To Be Done To Him
باب: مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: About Who Is Given Spoils Of War (Al-Fay')
باب: مال غنیمت کن لوگوں کے درمیان تقسیم ہو گا
Jam e Tirmazi
3
Chapter: About It being Disliked To Sell The Spoils Of War Until It Has Been Distributed
باب: تقسیم سے پہلے مال غنیمت بیچنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About Ghulul
باب: مال غنیمت میں خیانت کرنے کے بارے میں وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
5
جس جس عامل نے میدان جنگ میں اپنی طاقت کے بقدر کام کیا،ان میں برابری کے ساتھ مالِ غنیمت تقسیم کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
6
(186) CHAPTER. The distribution of the war booty after a Ghazwa and during a journey.
سفر میں اور جہاد میں مال غنیمت کو تقسیم کرنا
Sahih Bukhari
7
(189) CHAPTER. Al-Ghulul (stealing from the war booty before its distribution).
مال غنیمت میں سے تقسیم سے پہلے کچھ چرا لینا
Sahih Bukhari
8
(191) CHAPTER. What is hated regarding the slaughtering of the camels and sheep of the booty (before its distribution).
مال غنیمت کے اونٹ بکریوں کو تقسیم سے پہلے ذبح کرنا مکروہ ہے
Sahih Bukhari
9
Chapter: Emphatic prohibition against stealing from the spoils of war; and that no one will enter paradise except the believers
مال غنیمت میں خیانت کی شدید حرمت اور یہ کہ جنت میں مومن ہی داخل ہوں گے
Sahih Muslim
10
Chapter: How booty is to be shared among the fighters
(جنگ میں)میں حاضر ہونے والوں میں غنیمت کا مال تقسیم کرنے کی کیفیت
Sahih Muslim
11
CHAPTER: Regarding Punishing The One Who Commits Ghulul.
باب: مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کی سزا کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
12
CHAPTER: The Prohibition Of Harboring A Person Who Committed Ghulul.
باب: مال غنیمت میں خیانت کرنے والے پر پردہ ڈالنا منع ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
13
CHAPTER: Regarding Whoever Comes After The Spoils Of War Are Distributed, Then There Is No Share For Him.
باب: جو شخص مال غنیمت کی تقسیم کے بعد آئے اس کو حصہ نہ ملے گا ۔
Sunnan Abu Dawood
14
CHAPTER: Regarding Dividing The Fai’.
باب: فے یعنی جنگ کے بغیر حاصل ہونے والے مال غنیمت کی تقسیم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
15
مال غنیمت میں خیانت اور چوری کا بیان۔
Sunnan Ibn e Maja
16
مال غنیمت کی تقسیم کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
17
(مال غنیمت میں سے) خمس کی تقسیم کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
18
باب: (مال غنیمت کی تقسیم میں) گھوڑے کو دو حصے ملنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
19
باب: تقسیم سے پہلے مال غنیمت بیچنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
20
Chapter: What Has Been Related About The Spoils Of War
باب: مال غنیمت کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: The Shares Given For The Horse
باب: (مال غنیمت میں سے) گھوڑے کے حصے کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: Does The Slave Recieve A Share ?
باب: مال غنیمت میں غلام کے حصے کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About Ahl Adh-Dhimmah Fighting With The Muslims, Are They To Recieve A Share Of The Spoils Of War ?
باب: مال غنیمت میں مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں شریک ذمیوں کے حصہ کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About The Khumus
باب: مال غنیمت میں اللہ و رسول کے حصے خمس نکالنے کا بیان
Jam e Tirmazi
25
اس امر کا بیان کہ غنیمت کا حلال ہونانبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کی امت کے خصائص میں سے ہے اور تقسیم سے قبل غنیمت سے متعلقہ احکام کاذکر
Musnad Ahmad
26
غنیمت کے خُمُس کا اللہ اور اس کے رسول کے لیے فرض ہونے اور اس کی تقسیم کا بیان
Musnad Ahmad
27
غنیمت کے پانچ حصوں میں چار حصوں کی تقسیم، گھوڑ سوار اور پیادہ کا حق اور خاتون اور غلام وغیرہ کو معمولی مقدار میںعطیہ دینا
Musnad Ahmad
28
اس چیز کا بیان کہ اگر حربی قابو میں آنے سے پہلے مسلمان ہو گیا تو اپنے مال کو بچا لے گا، نیز غنیمت والی زمین کا حکم
Musnad Ahmad
29
غزوۂ خیبر کی غنیمتوں کی تقسیم اور اس امر کا بیان کہ یہ غنیمتیں اہلِ حدیبیہ کے لیے مختص تھیں
Musnad Ahmad
30
جعرانہ کے مقام پر حنین کی غنیمتوں کی تقسیم، بنو ہوازن کے وفد کی مسلمان ہو کر آمد اور ان کی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اپنے قیدیوں اور اموال کی واپسی کی درخواست کا بیان
Musnad Ahmad
31
(40) CHAPTER. To pay Al-Khumus (one-fifth of the war booty to be given in Allah's Cause) is a part of faith.
مال غنیمت سے پانچواں حصہ ادا کرنا بھی ایمان سے ہے
Sahih Bukhari
32
(42) CHAPTER. The distribution (of goods or wealth) and the hanging of a cluster of dates in the mosque.
مسجد میں مال تقسیم کرنا اور مسجد میں کھجور کا خوشہ لٹکانا
Sahih Bukhari
33
(51) CHAPTER. The share of the horse (from the booty)...
( غنیمت کے مال سے ) گھوڑے کا حصہ کیا ملے گا
Sahih Bukhari
34
(190) CHAPTER. A little Ghulul (i.e., a minor theft).
مال غنیمت میں سے ذرا سی چوری کرلینا
Sahih Bukhari
35
(2) CHAPTER. The payment of Khumus is a part of religion.
مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ادا کرنا دین ایمان میں داخل ہے
Sahih Bukhari
36
(8) CHAPTER. The statement of the Prophet (p.b.u.h): “Booty has been made legal for you Muslims”.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ تمہارے لئے غنیمت کے مال حلال کئے گئے
Sahih Bukhari
37
(9) CHAPTER. The war booty is for those who witness the battles.
مال غنیمت ان لوگوں کو ملے گا جو جنگ میں حاضر ہوں
Sahih Bukhari
38
(4) CHAPTER. What grants the Prophet (p.b.u.h) gave from the land of Bahrain, and what he promised to give (some people) from the Bahrain money resources and from Al-Jizya. And to whom should the Fai (i.e., booty gained without fight) and the Jizya be distributed?
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بحرین سے ( مجاہدین کو کچھ معاش ) دینا اور بحرین کی آمدنی اور جزیہ میں سے کسی کو کچھ دینے کا وعدہ کرنا اس کا بیان اور اس کا کہ جو مال کافروں سے بن لڑے ہاتھ آئے یا جزیہ وہ کن لوگوں کو تقسیم کیا جائے ۔
Sahih Bukhari
39
Chapter: The support of the angels during the Battle of Badr, and the permissibility of the spoils
غزوہ بدر میں فرشتوں کے ذریعے مدد اور مال غنیمت کے استعمال کی اجازت
Sahih Muslim
40
Chapter: Emphatic prohibition against stealing from the spoils of war (Ghulul)
اموال غنیمت میں خیانت کی شدید حرمت
Sahih Muslim
41
CHAPTER: Regarding The Detachment That Returns Without Any Spoils.
باب: مال غنیمت کے بغیر واپس ہونے والے لشکر کی فضیلت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
42
CHAPTER: Regarding A Person Going To Battle, Seeking Reward And Spoils Of War.
باب: ثواب اور مال غنیمت کی نیت سے جہاد کرنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
43
CHAPTER: Regarding A Man Who Rents His Riding Animal For Half Or A Share (Of The Spoils).
باب: آدمی اپنا جانور مال غنیمت کے آدھے یا پورے حصے کے بدلے کرایہ پر دے ۔
Sunnan Abu Dawood
44
CHAPTER: Regarding Muslims Wealth That The Enemy Acquires, Then Its Owner Finds In Among The Spoils.
باب: دشمن جنگ میں کسی مسلمان کا مال لوٹ کر لے جائے پھر مالک اسے غنیمت میں پائے تو اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
45
CHAPTER: Regarding A Man Benefits From Something In The Spoils.
باب: مال غنیمت میں سے کسی چیز کو اپنے کام میں لانا کیسا ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
46
CHAPTER: Regarding The Permissibility Of Using The Weapons That Have Been Used For Fighting In The Battlefield.
باب: لڑائی میں غنیمت کے ہتھیار کا استعمال جائز ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
47
CHAPTER: Regarding The Gravity Of Ghulul.
باب: مال غنیمت میں چوری بڑا گناہ ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
48
CHAPTER: Regarding The Imam Leaving the Ghulul When It Is Minimal, And Not Burning The Equipment.
باب: مال غنیمت میں سے کوئی معمولی چیز چرا لے تو امام اس کو چھوڑ دے اور اس کا سامان نہ جلائے ۔
Sunnan Abu Dawood
49
CHAPTER: Regarding A Woman And A Slave Being Given Something From The Spoils.
باب: عورت اور غلام کو مال غنیمت سے کچھ دینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
50
CHAPTER: Regarding Whoever Said That The Khumus Is Before The Nafl.
باب: مال غنیمت میں سے نفل ( انعام ) دینے سے پہلے خمس ( پانچویں حصہ ) نکالا جائے اس کے قائلین کی دلیل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
No related chapter matched that.

Related Hadith

190
Mishkat
973
وَعَن زيد بن ثَابت قَالَ: أُمِرْنَا أَنْ نُسَبِّحَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَنَحْمَدَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَنُكَبِّرَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ فَأُتِيَ رَجُلٌ فِي الْمَنَامِ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقِيلَ لَهُ أَمَرَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم أَن تسبحوا فِي دبر كُلِّ صَلَاةٍ كَذَا وَكَذَا قَالَ الْأَنْصَارِيُّ فِي مَنَامِهِ نَعَمْ قَالَ فَاجْعَلُوهَا خَمْسًا وَعِشْرِينَ خَمْسًا وَعِشْرِينَ وَاجْعَلُوا فِيهَا التَّهْلِيلَ فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فافعلوا» . رَوَاهُ أَحْمد وَالنَّسَائِيّ والدارمي
زید بن ثابت ؓ بیان کرتے ہیں ، ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم ہر نماز کے بعد تینتیس دفعہ ((سبحان اللہ)) تینتیس دفعہ ((الحمدللہ)) اور چونتیس مرتبہ ((اللہ اکبر)) کہیں ، انصار کے ایک آدمی نے خواب میں کسی آدمی کو دیکھا تو اس نے اس (انصاری آدمی) سے کہا : رسول اللہ ﷺ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ تم ہر نماز کے بعد اس قدر تسبیح کرو ، انصاری شخص نے اپنے خواب میں کہا : ہاں ! اس شخص نے کہا : اسے پچیس ، پچیس مرتبہ کر لو اور اس میں ((لا الہ الا اللہ)) شامل کر لو ، جب صبح ہوئی تو وہ انصاری نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ کو خواب کا واقعہ بیان کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ایسے ہی کر لیا کرو ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و النسائی و الدارمی ۔
Mishkat
2185
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ مُرْسَلًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَرَأَ (قل هُوَ الله أحد) عشر مَرَّات بني لَهُ بِهَا قَصْرٌ فِي الْجَنَّةِ وَمَنْ قَرَأَ عِشْرِينَ مَرَّةً بُنِي لَهُ بِهَا قَصْرَانِ فِي الْجَنَّةِ وَمَنْ قَرَأَهَا ثَلَاثِينَ مَرَّةً بُنِيَ لَهُ بِهَا ثَلَاثَةُ قُصُورٍ فِي الْجَنَّةِ» . فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا لَنُكَثِّرَنَّ قُصُورَنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُ أَوْسَعُ من ذَلِك» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ
سعید بن مسیب ؒ نبی ﷺ سے مرسل روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص دس مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھتا ہے تو اس کے بدلہ میں اس کے لیے جنت میں ایک محل بنا دیا جاتا ہے ، جو شخص بیس مرتبہ پڑھتا ہے تو اس کے لیے جنت میں دو محل بنا دیے جاتے ہیں اور جو شخص تیس مرتبہ پڑھتا ہے تو اس کے لیے اس کے بدلہ میں جنت میں تین محل بنا دیے جاتے ہیں ۔‘‘ عمر بن خطاب ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! تب تو ہم اپنے محل زیادہ کر لیں گے ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ اس سے بھی زیادہ کشائش و فراخی والا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔
Mishkat
161
عَن ربيعَة الجرشِي يَقُول أُتِي النَّبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَهُ لِتَنَمْ عَيْنُكَ وَلِتَسْمَعْ أُذُنُكَ وَلِيَعْقِلْ قَلْبُكَ قَالَ فَنَامَتْ عَيْنَايَ وَسَمِعَتْ أُذُنَايَ وَعَقَلَ قَلْبِي قَالَ فَقِيلَ لِي سيد بنى دَارا فَصنعَ مَأْدُبَةً وَأَرْسَلَ دَاعِيًا فَمَنْ أَجَابَ الدَّاعِيَ دَخَلَ الدَّارَ وَأَكَلَ مِنَ الْمَأْدُبَةِ وَرَضِيَ عَنْهُ السَّيِّدُ وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّاعِيَ لَمْ يَدْخُلِ الدَّارَ وَلم يطعم مِنَ الْمَأْدُبَةِ وَسَخِطَ عَلَيْهِ السَّيِّدُ قَالَ فَاللَّهُ السَّيِّدُ وَمُحَمَّدٌ الدَّاعِي وَالدَّارُ الْإِسْلَامُ وَالْمَأْدُبَةُ الْجَنَّةُ. رَوَاهُ الدَّارمِيّ
ربیعہ جرشی ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ کی خدمت میں ایک فرشتہ حاضر ہوا ، اور آپ سے عرض کیا گیا : آپ کی آنکھیں سوئی ہوئی ہوں (کسی اور طرف نہ دیکھیں) آپ کے کان توجہ سے سنتے ہوں اور آپ کا دل سمجھتا ہو ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میری آنکھیں سو گئیں ، میرے کان غور سے سنتے رہے اور میرا دل سمجھتا رہا ۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے کہا گیا : کسی سردار نے کوئی گھر بنایا ، اس میں دسترخوان لگایا اور کسی دعوت دینے والے کو بھیجا ، پس جس شخص نے داعی کی دعوت کو قبول کر لیا ، وہ گھر میں داخل ہوا ، کھانا کھایا اور وہ سردار اس سے خوش ہو گیا ، اور جس شخص نے داعی کی دعوت قبول نہ کی تو وہ گھر میں داخل ہوا نہ کھانا کھایا اور سردار بھی اس پر ناراض ہوا ۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ ، سردار ہے ، محمد ﷺ داعی ہیں ، گھر سے مراد اسلام اور دسترخوان سے مراد جنت ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الدارمی (۱/ ۷ ح ۱۱) ۔
Mishkat
166
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ خَطَّ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطًّا ثُمَّ قَالَ: «هَذَا سَبِيلُ اللَّهِ ثُمَّ خَطَّ خُطُوطًا عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ وَقَالَ هَذِهِ سُبُلٌ عَلَى كُلِّ سَبِيلٍ مِنْهَا شَيْطَانٌ يَدْعُو إِلَيْهِ» ثمَّ قَرَأَ (إِن هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبعُوهُ) الْآيَة. رَوَاهُ أَحْمد وَالنَّسَائِيّ والدارمي
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ہمارے لیے ایک خط کھینچا ، پھر فرمایا :’’ یہ اللہ کی راہ ہے ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے اس کے دائیں بائیں کچھ خط کھینچے ، اور فرمایا :’’ یہ اور راہیں ہیں ، اور ان میں سے ہر راہ پر ایک شیطان ہے جو اس راہ کی طرف بلاتا ہے ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ یہ میری سیدھی راہ ہے ، پس اس کی اتباع کرو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد (۱/ ۴۳۵ ح ۴۱۴۲) و النسائی (فی الکبریٰ : ۱۱۱۷۴ ، التفسیر : ۱۹۴) و الدارمی (۱/ ۶۷ ، ۶۸ ح ۲۰۸) و ابن حبان (۱۷۴۱ ، ۱۷۴۲) و الحاکم (۲/ ۳۱۸) و ابن ماجہ (۱۱) ۔
Mishkat
188
وَعَنْ حَسَّانَ قَالَ: «مَا ابْتَدَعَ قَوْمٌ بِدْعَةً فِي دِينِهِمْ إِلَّا نَزَعَ اللَّهُ مِنْ سُنَّتِهِمْ مِثْلَهَا ثُمَّ لَا يُعِيدُهَا إِلَيْهِمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَة.» رَوَاهُ الدَّارمِيّ
حسان ؒ بیان کرتے ہیں ، جب کوئی قوم اپنے دین میں کوئی بدعت ایجاد کرتی ہے تو اللہ اس کی مثل ان کی سنت چھین لیتا ہے ، پھر وہ اسے روز قیامت تک ان کی طرف نہیں لوٹاتا ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الدارمی (۱/ ۴۵ ح ۹۹) ۔
Mishkat
194
عَن جَابِرٍ: (أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنُسْخَةٍ مِنَ التَّوْرَاةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ نُسْخَةٌ مِنَ التَّوْرَاةِ فَسَكَتَ فَجَعَلَ يقْرَأ وَوجه رَسُول الله يَتَغَيَّرُ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ ثَكِلَتْكَ الثَّوَاكِلُ مَا تَرَى مَا بِوَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ عُمَرُ إِلَى وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَعُوذُ بِاللَّه من غضب الله وَغَضب رَسُوله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ بَدَا لَكُمْ مُوسَى فَاتَّبَعْتُمُوهُ وَتَرَكْتُمُونِي لَضَلَلْتُمْ عَنْ سَوَاءِ السَّبِيلِ وَلَوْ كَانَ حَيًّا وَأَدْرَكَ نُبُوَّتِي لَاتَّبَعَنِي) رَوَاهُ الدَّارمِيّ
جابر ؓ سے روایت ہے ، عمر بن خطاب ؓ تورات کا ایک نسخہ لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! یہ تورات کا نسخہ ہے ، آپ خاموش رہے ، اور انہوں نے اسے پڑھنا شروع کر دیا ، جبکہ رسول اللہ کے چہرہ مبارک کا رنگ بدلنے لگا ، ابوبکر نے فرمایا : گم کرنے والی تمہیں گم پائیں ، تم رسول اللہ ﷺ کے رخ انور کی طرف نہیں دیکھ رہے ، عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک دیکھا تو فوراً کہا : میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے غضب سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ، میں اللہ کے رب ہونے ، اسلام کے دین ہونے اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی ہوں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے ۔ اگر موسیٰ ؑ بھی تمہارے سامنے آ جائیں اور تم مجھے چھوڑ کر ان کی اتباع کرنے لگو تو تم سیدھی راہ سے گمراہ ہو جاؤ گے ، اور اگر وہ زندہ ہوتے اور وہ میری نبوت (کا زمانہ ) پا لیتے تو وہ بھی میری ہی اتباع کرتے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الدارمی (۱/ ۱۱۵ ، ۱۱۶ ح ۴۴۱) ۔
Mishkat
220
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ خَرَجَ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يرجع» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ والدارمي
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص طلب علم کے لیے سفر کرتا ہے تو وہ واپس آنے تک اللہ کی راہ میں رہتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۶۴۷) و الدارمی (لم اجدہ) ۔
Mishkat
231
وَرَوَاهُ الدَّارمِيّ عَن أبي الدَّرْدَاء
دارمی نے اسے ابودرداء ؓ سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ الدارمی (۱/ ۷۵ ح ۲۳۶) ۔
Mishkat
249
عَنِ الْحَسَنِ مُرْسَلًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ جَاءَهُ الْمَوْتُ وَهُوَ يَطْلُبُ الْعِلْمَ لِيُحْيِيَ بِهِ الْإِسْلَامَ فَبَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّبِيِّينَ دَرَجَةٌ وَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ
حسن بصری ؒ مرسل روایت بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کو احیائے اسلام کے لیے علم حاصل کرتے ہوئے موت آ جائے تو جنت میں اس کے اور انبیا علیہم السلام کے مابین صرف (نبوت کا) ایک درجہ ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی (۱/ ۱۰۰ ح ۳۶۰) ۔