TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

غنیمت کے خُمُس کا اللہ اور اس کے رسول کے لیے فرض ہونے اور اس کی تقسیم کا بیان - غنیمت کے خُمُس کا اللہ اور اس کے رسول کے لیے فرض ہونے اور اس کی تقسیم کا بیان - جہاد کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 33 of جہاد کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 33 of 53 · 9 Hadith
۔ (۵۰۲۸)۔ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِی کَرِبَ الْکِنْدِیِّ، أَنَّہُ جَلَسَ مَعَ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ وَأَبِی الدَّرْدَائِ وَالْحَارِثِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ الْکِنْدِیِّ، فَتَذَاکَرُوْا حَدِیثَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ لِعُبَادَۃَ: یَا عُبَادَۃُ! کَلِمَاتُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی غَزْوَۃِ کَذَا وَکَذَا فِی شَأْنِ الْأَخْمَاسِ، فَقَالَ عُبَادَۃُ: قَالَ إِسْحَاقُ فِی حَدِیثِہِ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَّی بِہِمْ فِی غَزْوِہِمْ إِلَی بَعِیرٍ مِنْ الْمُقَسَّمِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَتَنَاوَلَ وَبَرَۃً بَیْنَ أُنْمُلَتَیْہِ، فَقَالَ: ((إِنَّ ہٰذِہِ مِنْ غَنَائِمِکُمْ، وَإِنَّہُ لَیْسَ لِی فِیہَا إِلَّا نَصِیبِی مَعَکُمْ إِلَّا الْخُمُسُ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَیْکُمْ، فَأَدُّوا الْخَیْطَ وَالْمِخْیَطَ، وَأَکْبَرَ مِنْ ذٰلِکَ وَأَصْغَرَ)) الحدیث۔(مسند أحمد: ۲۳۱۵۷)
۔ سیدنا مقدام بن معدی کرب کندی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ سیدنا عبادہ بن صامت ، سیدنا ابو درداء اور سیدنا حارث بن معاویہ کندی کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان لوگوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک حدیث کا ذکر کیا، سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے عبادہ: فلاں فلاں غزوے میں خمس کے بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی باتیں، سیدنا عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بیشک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک غزوے کے دوران ہمیں نماز پڑھائی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے اس مالِ غنیمت کا ایک اونٹ تھا، جس کو ابھی تک تقسیم نہیںکیا گیا تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام پھیرا تو کھڑے ہوگئے،اپنے دو پوروں میں اونٹ کے بال پکڑے اور فرمایا: یہ بال بھی تمہاری غنیمتوں میں سے ہیں اور اس مال میں تمہارے ساتھ میرا حصہ نہیں ہے، مگر خمس، اور وہ خمس بھی تم پر لوٹا دیا جائے گا، لہذا دھاگہ اور سوئی اور ان سے چھوٹی بڑی چیزیں، سب کچھ ادا کر دو۔
Takhreej
(۵۰۲۸) تخریج: حدیث حسن (انظر: ۲۲۷۷۶)
Explanation
فوائد:… وہ خمس بھی تم پر لوٹا دیا جائے گا۔ کیونکہ یہ خمس دراصل بیت المال میںجمع ہو جاتا ہے اور وہاں سے یہ مال مسلمانوں کی فلاح و بہبود پر خرچ ہوتا ہے۔
5028
Sahih
۔ (۵۰۲۹)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَاَیْتُ الْمَغَانِمَ تُجْزَئُ خَمْسَۃَ اَجْزَائٍ ثُمَّ یُسْھَمُ عَلَیْھَا، فَمَا کَانَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَھُوَ لَہٗ یَتَخَیَّرُ۔ (مسند أحمد: ۵۳۹۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ غنیمتوں کے پانچ حصے بنائے جاتے تھے، پھر ان کے حصے بنائے جاتے تھے، جو حصہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہوتا تھا، اس کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود منتخب کرتے تھے، (یعنی جس کو چاہتے دیتے اور جس کو چاہتے نہ دیتے)۔
Takhreej
(۵۰۲۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابن لھیعۃ، أخرجہ ابوداود: ۲۹۹۲، ۲۹۹۳ (انظر: ۵۳۹۷)
5029
Zaeef
۔ (۵۰۳۰)۔ عَنْ اَبِی الزُّیَبْرِ قَالَ: سُئِلَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا کَیْفَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصْنَعُ بِالْخُمُسِ؟ قَالَ: کَانَ یَحْمِلُ الرَّجُلَ مِنْہُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ثُمَّ الرَّجُلَ ثُمَّ الرَّجُلَ۔ (مسند أحمد: ۱۴۹۹۴)
۔ ابو زبیر سے مروی ہے کہ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا گیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خمس کا کیا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: اس میں سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک آدمی کو سواری دیتے، پھر ایک آدمی کو دیتے اور پھر ایک آدمی کو دیتے۔
Takhreej
(۵۰۳۰) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۲/ ۴۳۵ (انظر: ۱۴۹۳۲)
5030
Sahih
۔ (۵۰۳۱)۔ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَہْمَ الْقُرْبٰی مِنْ خَیْبَرَ بَیْنَ بَنِی ہَاشِمٍ وَبَنِی الْمُطَّلِبِ، جِئْتُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ہَؤُلَائِ بَنُو ہَاشِمٍ لَا یُنْکَرُ فَضْلُہُمْ لِمَکَانِکَ الَّذِی وَصَفَکَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ بِہِ مِنْہُمْ، أَرَأَیْتَ إِخْوَانَنَا مِنْ بَنِی الْمُطَّلِبِ أَعْطَیْتَہُمْ وَتَرَکْتَنَا، وَإِنَّمَا نَحْنُ وَہُمْ مِنْکَ بِمَنْزِلَۃٍ وَاحِدَۃٍ، قَالَ: ((إِنَّہُمْ لَمْ یُفَارِقُونِی فِی جَاہِلِیَّۃٍ وَلَا إِسْلَامٍ، وَإِنَّمَا ہُمْ بَنُو ہَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَیْئٌ وَاحِدٌ۔)) قَالَ ثُمَّ شَبَّکَ بَیْنَ اَصَابِعِہِ۔ (مسند أحمد: ۱۶۸۶۲)
۔ سیدنا جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں :جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خیبر کا حصہ بنو ہاشم اور بنو مطلب میں تقسیم کیا تو میں (جبیر) اور سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بنو ہاشم ہیں، ان کی فضیلت کا انکار نہیں کیا جا سکتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس مقام کی وجہ سے، جو ان سے اللہ تعالیٰ نے بیان کیا، لیکن آپ غور کریں کہ یہ جو ہمارے بھائی بنو مطلب ہیں، آپ نے ان کو دے دیا اور ہمیں چھوڑ دیا، جبکہ ہم اور بنو مطلب آپ سے ایک مقام پر ہیں، (یعنی آپ سے ہمارا اور ان کا رشتہ داری کا درجہ ایک ہے)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ لوگ نہ مجھ سے جاہلیت میں جدا ہوئے ہیں اور نہ اسلام میں، بس بنو ہاشم اور بنومطلب ایک ہی چیز ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی انگلیوں میں تشبیک ڈالی۔
Takhreej
(۵۰۳۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۱۴۰، ۳۵۰۲(انظر: ۱۶۷۴۱)
5031
Sahih
۔ (۵۰۳۲)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) جَائَ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ یُکَلِّمَانِ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیمَا قَسَمَ مِنْ خُمُسِ حُنَیْنٍ بَیْنَ بَنِی ہَاشِمٍ وَبَنِی الْمُطَّلِبِ، فَقَالَا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَسَمْتَ لِإِخْوَانِنَا بَنِی الْمُطَّلِبِ وَبَنِی عَبْدِ مَنَافٍ، وَلَمْ تُعْطِنَا شَیْئًا، وَقَرَابَتُنَا مِثْلُ قَرَابَتِہِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّمَا أَرَی ہَاشِمًا وَالْمُطَّلِبَ شَیْئًا وَاحِدًا۔)) قَالَ جُبَیْرٌ: وَلَمْ یَقْسِمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِبَنِی عَبْدِ شَمْسٍ وَلَا لِبَنِی نَوْفَلٍ مِنْ ذٰلِکَ الْخُمُسِ کَمَا قَسَمَ لِبَنِی ہَاشِمٍ وَبَنِی الْمُطَّلِبِ۔ (مسند أحمد: ۱۶۹۰۴)
۔ (دوسری سند) سیدنا جبیر اور سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بات کرنے کے لیے آئے، اس بات کی وجہ یہ تھی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غزوۂ حنین کا خمس بنو ہاشم اور بنو مطلب میں تقسیم کیا تھا، پس انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ہمارے بھائیوں بنو مطلب اور بنو عبد مناف میں مال تقسیم کیا ہے، لیکن ہمیں کچھ نہیں دیا، جبکہ آپ سے ہماری اور ان کی رشتہ داری ایک جیسی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تو ہاشم اور مطلب کو ایک چیز خیال کرتا ہو۔ سیدنا جبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بنو عبد شمس اور بنو نوفل کو اس خمس میں سے کچھ نہیں دیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ مال بنو ہاشم اور بنو مطلب میںتقسیم کیا تھا۔
Takhreej
(۵۰۳۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… سیدنا جبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بنو نوفل سے اور سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بنو عبدشمس سے تھے، جبکہ عبد شمس، نوفل، ہاشم اور مطلب سب بنو عبد مناف ہونے کی وجہ سے برابر تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود تو بنو ہاشم سے تھے، لیکن بنو مطلب کی جو رشتہ داری آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے تھی، وہی قرابت بنو عبد شمس اور بنو نوفل کو حاصل تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بنو عباس کو اس وجہ سے فضیلت وبرتری دی اور ان کو اور بنو ہاشم کو ایک چیز قرار دیا کہ بنو عباس نے بنو ہاشم کی تائید و نصرت کی ہے، دورِ جاہلیت میں بھی اور اس کے بعد بھی، جبکہ بنو عبد شمس اور بنو نوفل ، بنو ہاشم سے الگ رہے ہیں، بلکہ ان سے لڑائیاں بھی لڑی ہیں۔
5032
Sahih
۔ (۵۰۳۳)۔ (وَعَنْہٗ اَیْضًا): أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یَقْسِمْ لِعَبْدِ شَمْسٍ وَلَا لِبَنِی نَوْفَلٍ مِنْ الْخُمُسِ شَیْئًا، کَمَا کَانَ یَقْسِمُ لِبَنِی ہَاشِمٍ وَبَنِی الْمُطَّلِبِ، وَأَنَّ أَبَا بَکْرٍ کَانَ یَقْسِمُ الْخُمُسَ نَحْوَ قَسْمِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غَیْرَ أَنَّہُ لَمْ یَکُنْ یُعْطِی قُرْبٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، کَمَا کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُعْطِیہِمْ، وَکَانَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یُعْطِیہِمْ وَعُثْمَانُ مِنْ بَعْدِہِ مِنْہُ۔ (مسند أحمد: ۱۶۸۹۰)
۔ سیدنا جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بنو عبد شمس اور بنو نوفل کو خمس میں سے کچھ نہیں دیا اور یہ مال بنو ہاشم اور بنو مطلب میں تقسیم کیا، پھر سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تقسیم کی طرح خمس کو تقسیم کیا کرتے تھے، البتہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قرابتداروں کو اس طرح نہیں دیتے تھے، جیسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دیتے تھے (یعنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم برابر برابر تقسیم کر دیتے تھے، لیکن سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حاجت کے مطابق کسی کو کم دیتے تھے اور کسی کو زیادہ)، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس مال کا بعض حصہ ان کو دیتے تھے۔
Takhreej
(۵۰۳۳) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ البخاری: ۴۲۲۹، وأبوداود!: ۲۹۷۹(انظر: ۱۶۷۶۸)
5033
Sahih
۔ (۵۰۳۴)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلٰی، قَالَ: سَمِعْتُ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُولُ: اجْتَمَعْتُ أَنَا وَفَاطِمَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا وَالْعَبَّاسُ وَزَیْدُ بْنُ حَارِثَۃَ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! کَبِرَ سِنِّی وَرَقَّ عَظْمِی وَکَثُرَتْ مُؤْنَتِی، فَإِنْ رَأَیْتَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ أَنْ تَأْمُرَ لِی بِکَذَا وَکَذَا وَسْقًا مِنْ طَعَامٍ فَافْعَلْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَفْعَلُ۔)) فَقَالَتْ فَاطِمَۃُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنْ رَأَیْتَ أَنْ تَأْمُرَ لِی کَمَا أَمَرْتَ لِعَمِّکَ فَافْعَلْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَفْعَلُ ذٰلِکَ۔)) ثُمَّ قَالَ زَیْدُ بْنُ حَارِثَۃَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! کُنْتَ أَعْطَیْتَنِی أَرْضًا کَانَتْ مَعِیشَتِی مِنْہَا ثُمَّ قَبَضْتَہَا، فَإِنْ رَأَیْتَ أَنْ تَرُدَّہَا عَلَیَّ فَافْعَلْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَفْعَلُ)) قَالَ: فَقُلْتُ: أَنَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنْ رَأَیْتَ أَنْ تُوَلِّیَنِی ہٰذَا الْحَقَّ الَّذِی جَعَلَہُ اللّٰہُ لَنَا فِی کِتَابِہِ مِنْ ہٰذَا الْخُمُسِ، فَأَقْسِمُہُ فِی حَیَاتِکَ کَیْ لَا یُنَازِعَنِیہِ أَحَدٌ بَعْدَکَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَفْعَلُ ذَاکَ۔)) فَوَلَّانِیہِ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَسَمْتُہُ فِی حَیَاتِہِ، ثُمَّ وَلَّانِیہِ أَبُو بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَسَمْتُہُ فِی حَیَاتِہِ، ثُمَّ وَلَّانِیہِ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَسَمْتُ فِی حَیَاتِہِ، حَتّٰی کَانَتْ آخِرُ سَنَۃٍ مِنْ سِنِی عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَإِنَّہُ أَتَاہُ مَالٌ کَثِیرٌ۔ (مسند أحمد: ۶۴۶)
۔ عبد الرحمن بن ابو لیلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے امیر المؤمنین سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا، انھوں نے کہا: میں، سیدہ فاطمہ، سیدنا عباس اور سیدنا زید بن حارثہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جمع ہوئے، سیدنا عباس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری عمر بڑی ہو گئی ہے، میری ہڈیاں کمزور پڑ گئی ہیں، جبکہ مجھ پر کلفت اور بوجھ زیادہ ہے، اس لیے اگر آپ میرے لیے اتنے اتنے وسق اناج کا حکم دینا مناسب سمجھتے ہیں تو دے دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم ایسے ہی کریں گے۔ پھر سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! جیسے آپ نے اپنے چچا جان کے لیے حکم دیا ہے، اسی طرح اگر میرے لیے مناسب سمجھتے ہیں تو حکم دے دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم ایسا بھی کر دیں گے۔ پھر سیدنا زید بن حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے مجھے ایک زمین دی تھی، میری معیشت کا انحصار اسی پر تھا، لیکن پھر آپ نے مجھ سے لے لی ہے، اگر آپ مناسب سمجھتے ہیں تو وہ زمین مجھے واپس کر دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہم کریں گے۔ پھر میں (علی) نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ مناسب سمجھیں تو مجھے اس حق کا والی بنا دیں، جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں خمس کی صورت میں ہمیں عطا کیا ہے، میں ہی آپ کی زندگی میں اس کی تقسیم کروں، تاکہ کوئی شخص آپ کے بعد یہ حق ہم سے چھین نہ سکے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم ایسے ہی کریں گے۔ پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اس کا ذمہ دار بنا دیا اور میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حیات ِ مبارکہ میں اس کو تقسیم کرتا رہا، پھر سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے وہ حق میرے ہی سپرد کیے رکھا اور میں ان کی خلافت میں اس کو تقسیم کرتا رہا، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی مجھے اس کا والی بنایا اور میں ان کی خلافت میں تقسیم کرتا رہا، یہاں تک کہ ان کے دورِ خلافت کا آخری سال شروع ہو گیا، اس وقت ان کے پاس بہت زیادہ مال آیا تھا۔
Takhreej
(۵۰۳۴) اسنادہ ضعیف، الحسین بن میمون الخندفی الکوفی لیس بمعروف قلّ من روی عنہ، وقال ابوزرعۃ: شیخ، وقال ابو حاتم: لیس بقوی فی الحدیث، یکتب حدیثہ، أخرجہ ابوداود: ۲۹۸۳، ۲۹۸۴(انظر: ۶۴۶)
5034
Zaeef
۔ (۵۰۳۵)۔ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہُرْمُزَ، أَنَّ نَجْدَۃَ الْحَرُورِیَّ حِینَ خَرَجَ مِنْ فِتْنَۃِ ابْنِ الزُّبَیْرِ، أَرْسَلَ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ یَسْأَلُہُ عَنْ سَہْمِ ذِی الْقُرْبٰی لِمَنْ تَرَاہُ، قَالَ: ہُوَ لَنَا لِقُرْبٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَسَمَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَہُمْ، وَقَدْ کَانَ عُمَرُ عَرَضَ عَلَیْنَا مِنْہُ شَیْئًا، رَأَیْنَاہُ دُونَ حَقِّنَا فَرَدَدْنَاہُ عَلَیْہِ وَأَبَیْنَا أَنْ نَقْبَلَہُ، وَکَانَ الَّذِی عَرَضَ عَلَیْہِمْ أَنْ یُعِینَ نَاکِحَہُمْ، وَأَنْ یَقْضِیَ عَنْ غَارِمِہِمْ، وَأَنْ یُعْطِیَ فَقِیرَہُمْ، وَأَبَی أَنْ یَزِیدَہُمْ عَلٰی ذٰلِکَ۔ (مسند أحمد: ۲۹۴۱)
۔ یزید بن ہرمز سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب نجدہ حروری نے سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی امارت سے خروج کیا تو اس نے سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے قرابتداروں کے حصے کے بارے میں سوال کیا کہ ان کے علم کے مطابق وہ کس کو دیا جائے گا، انھوں نے کہا: وہ ہمارے لیے ہے، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے رشتہ دار ہیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس حصے کو ہم لوگوں میں تقسیم کیا تھا، جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس مال میں کچھ حصہ ہمیں دیا اور ہم نے اس کو اپنے حق سے کم خیال کیا تو ہم نے ان کو واپس کر دیا اور قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جو حصہ ان پر پیش کیا تھا، اس کی تفصیل یہ تھی کہ وہ نکاح کرنے والے کا تعاون کریں گے، ان کے قرض داروں کا قرضہ ادا کریں گے اور ان کے فقیر لوگوں کو دیں گے، انھوں نے اس سے زیادہ دینے سے انکار کر دیا۔
Takhreej
(۵۰۳۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۸۱۲ (انظر: ۲۹۴۱)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کے شروع والے حصے کی وضاحت یہ ہے: خوارج کی ایک جماعت سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حامی بن کر ان کا دفاع کرتی رہی، جب ان کی خلافت مضبوط ہوئی تو اس وجہ سے انھوں نے اپنے آپ کو ملامت کیا کہ ان کو سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بارے سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رائے کا علم نہیں تھا، جب انھوں نے ان
5035
Sahih
۔ (۵۰۳۶)۔ عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الشِّخِّیرِ، قَالَ: کُنَّا بِہٰذَا الْمِرْبَدِ بِالْبَصْرَۃِ، قَالَ: فَجَائَ أَعْرَابِیٌّ مَعَہُ قِطْعَۃُ أَدِیمٍ أَوْ قِطْعَۃُ جِرَابٍ، فَقَالَ: ہٰذَا کِتَابٌ کَتَبَہُ لِی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ أَبُو الْعَلَائِ: فَأَخَذْتُہُ فَقَرَأْتُہُ عَلَی الْقَوْمِ فَإِذَا فِیہِ ((بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ، ہٰذَا کِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِبَنِی زُہَیْرِ بْنِ أُقَیْشٍ، إِنَّکُمْ إِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلَاۃَ، وَأَدَّیْتُمُ الزَّکَاۃَ، وَأَعْطَیْتُمْ مِنْ الْمَغَانِمِ الْخُمُسَ، وَسَہْمَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالصَّفِیَّ، فَأَنْتُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللّٰہِ وَأَمَانِ رَسُولِہِ۔)) قَالَ: قُلْنَا: مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: سَمِعْتُہُ یَقُولُ: ((صَوْمُ شَہْرِ الصَّبْرِ وَثَلَاثَۃِ أَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ یُذْہِبْنَ وَحَرَ الصَّدْرِ)) (مسند أحمد: ۲۳۴۶۶)
۔ یزید بن عبد اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم بصرہ کے اس باڑے میں تھے، ایک بدّو آیا، اس کے پاس چمڑے یا مشکیزے کا ایک ٹکڑا تھا، اس نے کہا: یہ خط ہے، یہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے لیے لکھا تھا، ابو العلاء کہتے ہیں: میں نے وہ خط پکڑا اور لوگوں کو پڑھ کر سنایا، اس کی عبارت یہ تھی: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ، یہ خط محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے بنو زہیر بن اقیش کو لکھا گیا ہے، اگر تم لوگ نماز ادا کرتے رہے، زکوۃ دیتے رہے، غنیمتوں میں سے خمس، اپنے نبی کا حصہ اور منتخب حصہ دیتے رہے تو تم اللہ کی امان اور اس کے رسول کی امان کے ساتھ باامن رہو گے۔ پھر ہم نے اس سے کہا: تو نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کیا سنا، اس نے کہا: میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: صبر والے مہینے کے روزے اور ہر ماہ میں سے تین روزے سینے کے کینے کو ختم کر دیتے ہیں۔
Takhreej
(۵۰۳۶) تخریج: اسنادہ صحیح (انظر: ۲۳۰۷۷)
Explanation
فوائد:… اَلصَّفِیِّ (منتخب حصہ): وہ خصوصی حصہ جو امام و رئیس مال غنیمت کی تقسیم سے پہلے اپنی ذات کے لیے چن لیتا ہے، مثلا: لونڈی، غلام، اونٹ اور گھوڑا وغیرہ
5036
Sahih

Chapters

53
01
جہاد، رباط اور مجاہدین کی فضیلت جہاد کی فضیلت اور اس کی ترغیب
11 Hadith
02
جہاد کا واجب ہونا اور اس کی رغبت دلانا
8 Hadith
03
اللہ تعالیٰ کی راہ میں رباط اور پہرے کی فضیلت کا بیان
12 Hadith
04
اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت
24 Hadith
05
بحری جہاد کرنے والوں کی فضیلت
4 Hadith
06
جہاد میں نیت کو خالص کرنا اور اس میں اجرت لینے کا بیان
12 Hadith
07
مجاہد کی اعانت، اس کو تیار کرنے، اس کے اہل و عیال کا جانشیں بننے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
12 Hadith
08
مجاہدوں کی بیویوں کی حرمت اور مجاہد کے اہل کے معاملے میں خیانت کرنے والے کی وعید کا بیان
4 Hadith
09
شہادت اور شہداء کی فضیلت کے ابواب اللہ تعالیٰ کی راہ میں ملنے والی شہادت کی فضیلت
6 Hadith
10
شہداء کی فضیلت
13 Hadith
11
ایسے شخص کا بیان، جو اللہ کی راہ میں شہید ہو جائے اور اس پر قرضہ بھی ہو
4 Hadith
12
اللہ کے راستہ کے شہداء کی اقسام اور ان کی نیتوں کے اعتبار سے ان کے درجات کا بیان
6 Hadith
13
شہداء کا جامع تذکرہ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے علاوہ شہداء کی اقسام کا بیان
18 Hadith
14
اس بات کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شہید کی وفات پائی
2 Hadith
15
اس آدمی کا بیان جو جہاد کا ارادہ کرے اور اس کے والدین زندہ ہوں
7 Hadith
16
اس چیز کا بیان کہ امام لشکر کے سپہ سالاروں سے مشورہ کرے، ان کی خیرخواہی کرے، ان کے ساتھ نرمی برتے اور ان سے ان کی ذمہ داریاں نبھانے کا عہد لے
3 Hadith
17
اس امر کا بیان کہ لشکر والوں پر ان کے امیر کی اطاعت فرض ہے، جب تک وہ ان کو نافرمانی کا حکم نہ دے اور پڑاؤ ڈالتے وقت بکھر جانے کی کراہت کا بیان
6 Hadith
18
قتال سے پہلے اسلام کی دعوت دینے اور امام کا لشکر کے امیر کو وصیت کرنے کا بیان
6 Hadith
19
لڑائی میں دھوکہ دینے، توریہ کرنے، بات کو چھپانے اور جاسوسوں کو بھیجنے کے جواز کا بیان
7 Hadith
20
سرایا اور جیوش کو ترتیب دینے اور جھنڈوں اور ان کے رنگوں کا اہتمام کرنے کا بیان
4 Hadith
21
مجاہد کو الوداع کہنے، اس کا استقبال کرنے اور امام کا اس کو وصیت کرنے کا بیان
12 Hadith
22
مخصوص اوقات میں غزوہ کے لیے روانہ ہونے کے مستحب ہونے، دشمن سے لڑائی شروع کرنے، صفوں کو ترتیب دینے اور مسلمانوں کے شعار کا بیان
10 Hadith
23
جنگ میں فخر کرنے کے مستحب ہونے اور دشمنوں سے مقابلہ کرنے کی تمنا کرنے اور لشکر کی اکثریت سے دھوکہ کھانے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
24
جس کے ہاں اسلام کی علامت موجود ہو، اس پر شب خون مارنے کے وقت رک جانے کا بیان
2 Hadith
25
اسلام کی معرفت ہو جانے کے بعد لڑائی کرنے والے سے رک جانے، اس کو قتل کر دینے کی وعید اور اس کا کلام نہ سمجھنے کی وجہ سے غلطی سے اس کو قتل کر دینے والے کے عذر کا بیان
8 Hadith
26
کافروں پر اچانک حملہ کرنے کا بیان، اگرچہ اس میں ان کے بچے قتل ہو جائیں
5 Hadith
27
عورتوں، بچوں، پادریوں اور انتہائی بوڑھے لوگوں کو بالارادہ قتل کرنے سے روکنے کا بیان
8 Hadith
28
مثلہ، جلانے، درخت کاٹنے اور عمارتیں گرانے سے ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی ضرورت اور مصلحت ہو
9 Hadith
29
لڑائی کے وقت بھاگ جانے کی حرمت کا بیان، الا یہ کہ آدمی نے اپنی جماعت کو ملنا ہو، اگرچہ وہ جماعت دور ہو
3 Hadith
30
فتح والے مقام میں تین دن ٹھہرنے کے مستحب ہونے کا بیان
2 Hadith
31
اس امر کا بیان کہ غنیمت کا حلال ہونانبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کی امت کے خصائص میں سے ہے اور تقسیم سے قبل غنیمت سے متعلقہ احکام کاذکر
9 Hadith
32
جس جس عامل نے میدان جنگ میں اپنی طاقت کے بقدر کام کیا،ان میں برابری کے ساتھ مالِ غنیمت تقسیم کرنے کا بیان
4 Hadith
33
غنیمت کے خُمُس کا اللہ اور اس کے رسول کے لیے فرض ہونے اور اس کی تقسیم کا بیان
9 Hadith
34
غنیمت کے پانچ حصوں میں چار حصوں کی تقسیم، گھوڑ سوار اور پیادہ کا حق اور خاتون اور غلام وغیرہ کو معمولی مقدار میںعطیہ دینا
9 Hadith
35
اس چیز کا بیان کہ سلب قاتل کا ہو گا اور اس میں سے خُمُس نہیں لیا جائے گا
9 Hadith
36
لشکر کے بعض افراد کو اس بنا پر زائد حصہ دینے کا بیان کہ انھوں نے لڑائی لڑی یا مشکلات کو برداشت کیا
2 Hadith
37
لشکر کے سریہ کو زائد حصہ دینے اور پھر ان دونوں کو غنیمت میں شریک کرنے کا بیان
6 Hadith
38
مالِ فے کے مصرف کا بیان
6 Hadith
39
تالیف ِ قلبی کے لیے دینے کا بیان
2 Hadith
40
امیر اور عامل کے تحائف
2 Hadith
41
خیانت کے حرام ہونے اور اس میں سختی کا بیان، نیز خائن کا سامانِ سفر جلانے اور لوٹ مار کا بیان
12 Hadith
42
قیدیوں کے حق میں احسان کرنے، ان سے فدیہ لینے اور ان سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب ہوازن کے وفود پر ان کے قیدیوں کے معاملے میں احسان کرنے کا باب
2 Hadith
43
سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قید اور فدیے اور اس معاملے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ایک معجزے کا بیان
2 Hadith
44
اس آدمی کا بیان جس نے اپنے باپ کے فدیے میں چار ہزار درہم دیئے
3 Hadith
45
سیدہ زینب بنت رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے خاوند سیدنا ابو العاص کا فدیہ
1 Hadith
46
ایک مشرک کے فدیے میں دو مسلمان لینے کا بیان ان قیدیوں کا بیان جنھوں نے اپنے فدیے میں انصاریوں کے بچوں کو کتابت کی تعلیم دی
4 Hadith
47
بدر کے قیدیوں کے فدیے اور اس کی وجہ سے نازل ہونے والے قرآن کا بیان
3 Hadith
48
ان امور سے ممانعت کابیان: احتلام ہونے یا زیر ناف بالوں کے اگنے سے پہلے قیدی کو قتل کرنا، دوسرے کے قیدی کو قتل کرنا، قیدیوں میں والدہ اور اس کی اولاد میں تفریق ڈالنا، حاملہ قیدی خواتین سے جماع کرنا اور قیدی کو باندھ کر مارنا
10 Hadith
49
اس قیدی کا بیان جو قید سے پہلے قبولیت ِ اسلام کا دعوی کر دے، نیز اسلام قبول کرنے والے قیدی کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
50
مسلمان ہونے والے قیدی کا مسلمانوں کی ملکیت میں ہی رہنے کا اور عربوں کو غلام بنانے کے جواز کا بیان
3 Hadith
51
اس چیز کا بیان کہ جاسوس کے ساتھ کیا کیا جائے، وہ مسلمان ہو یا حربی یا ذمی
3 Hadith
52
اس چیز کا بیان کہ جب کافر کا غلام مسلمان ہو کر ہمارے پاس آ جائے تو وہ آزاد ہو گا
4 Hadith
53
اس چیز کا بیان کہ اگر حربی قابو میں آنے سے پہلے مسلمان ہو گیا تو اپنے مال کو بچا لے گا، نیز غنیمت والی زمین کا حکم
6 Hadith
No chapter matched that.