TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اس امر کا بیان کہ لشکر والوں پر ان کے امیر کی اطاعت فرض ہے، جب تک وہ ان کو نافرمانی کا حکم نہ دے اور پڑاؤ ڈالتے وقت بکھر جانے کی کراہت کا بیان - اس امر کا بیان کہ لشکر والوں پر ان کے امیر کی اطاعت فرض ہے، جب تک وہ ان کو نافرمانی کا حکم نہ دے اور پڑاؤ ڈالتے وقت بکھر جانے کی کراہت کا بیان - جہاد کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 17 of جہاد کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 17 of 53 · 6 Hadith
۔ (۴۹۲۸)۔ عن عُتْبَۃَ بْنِ عَبْدٍ قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْقِتَالِ، فَرُمِیَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِہِ بِسَہْمٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَوْجَبَ ہٰذَا۔)) وَقَالُوْا حِینَ أَمَرَہُمْ بِالْقِتَالِ: إِذَنْ یَا رَسُولَ اللّٰہِ، لَا نَقُولُ کَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِیلَ: {اذْہَبْ أَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَا إِنَّا ہَاہُنَا قَاعِدُونَ} وَلٰکِنْ اذْہَبْ أَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَا إِنَّا مَعَکُمَا مِنْ الْمُقَاتِلِینَ۔ (مسند أحمد: ۱۷۷۹۱)
۔ سیدنا عتبہ بن عبد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قتال کا حکم دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ایک صحابی کو تیر لگا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: اس نے جنت کو واجب کر لیا ہے۔ پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو قتال کا حکم دیا تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر تو ہم وہ بات نہیں کریں گے، جو بنو اسرائیل نے کی تھی، انھوں نے کہا تھا: اے موسی! تو جا اور تیرا ربّ جائے، تم دونوں جا کر لڑو، بیشک ہم تو یہیں بیٹھنے والے ہیں۔ اے اللہ کے رسول! آپ اور آپ کا ربّ چلے، بیشک ہم وہ جنگجو ہیں، جو آپ کے ساتھ چلیں گے۔
Takhreej
(۴۹۲۸) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۷/ ۳۰۶ (انظر: ۱۷۶۴۱)
4928
Sahih
۔ (۴۹۲۹)۔ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی مَسِیرٍ لَہُ: ((إِنَّا مُدْلِجُونَ فَلَا یُدْلِجَنَّ مُصْعِبٌ وَلَا مُضْعِفٌ۔)) فَأَدْلَجَ رَجُلٌ عَلٰی نَاقَۃٍ لَہُ صَعْبَۃٍ، فَسَقَطَ فَانْدَقَّتْ فَخِذُہُ فَمَاتَ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالصَّلَاۃِ عَلَیْہِ ثُمَّ أَمَرَ مُنَادِیًا یُنَادِی فِی النَّاسِ: ((إِنَّ الْجَنَّۃَ لَا تَحِلُّ لِعَاصٍ، إِنَّ الْجَنَّۃَ لَا تَحِلُّ لِعَاصٍ۔)) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ۔ (مسند أحمد: ۲۲۷۲۲)
۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ایک سفر کے دوران فرمایا: بیشک آج ہم ساری رات سفر کرنے والے ہیں، لہذا کوئی سرکش اور کمزور اونٹ والا آدمی رات کا یہ سفر نہ چلے۔ لیکن ایک آدمی اپنے سرکش اونٹ پر اس سفر میں چل دیا، لیکن وہ گر پڑا اور اس کی ران ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پہلے تو اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کا حکم دیا، لیکن پھر ایک مُنادِی کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں یہ اعلان کرے: بیشک جنت نافرمان کے لیے حلال نہیں ہے، بیشک جنت نافرمان کے لیے حلال نہیں ہے۔ یہ بات تین بار ارشاد فرمائی۔
Takhreej
(۴۹۲۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، ومتنہ منکر، راشد بن داود، قال البخاری: فیہ نظر، وقال الدارقطنی: ضعیف لایعتبر بہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۴۳۶(انظر: ۲۲۳۶۴)
4929
Zaeef
۔ (۴۹۳۰)۔ عَنْ أَبِی ثَعْلَبَۃَ الْخُشَنِیّ قَالَ: کَانَ النَّاسُ إِذَا نَزَلَ رَسُولُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَنْزِلًا فَعَسْکَرَ تَفَرَّقُوا عَنْہُ فِی الشِّعَابِ وَالْأَوْدِیَۃِ فَقَامَ فِیْھِمْ فَقَالَ: ((إِنَّ تَفَرُّقَکُمْ فِی الشِّعَابِ إِنَّمَا ذٰلِکُمْ مِنَ الشَّیْطَانِ۔)) قَالَ: فَکَانُوْا بَعْدَ ذٰلِکَ إِذَا نَزَلُوا انْضَمَّ بَعْضُہُمْ إِلٰی بَعْضٍ حَتّٰی إِنَّکَ لَتَقُولُ لَوْ بَسَطْتُ عَلَیْہِمْ کِسَائً لَعَمَّہُمْ أَوْ نَحْوَ ذٰلِکَََََ۔ (مسند أحمد: ۱۷۸۸۸)
۔ سیدنا ابو ثعلبہ خشنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی مقام پر پڑاؤ ڈالتے اور رات انتہائی تاریک ہو جاتی تو صحابۂ کرام گھاٹیوں اور وادیوں میں بکھر جاتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اُن میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: ان گھاٹیوں میں تم لوگوں کا اس طرح بکھر جانا شیطان کی طرف سے ہے۔ اس فرمان کے بعد جب صحابہ کسی مقام پر اترتے تو وہ ایک دوسرے کے ساتھ یوں مل جاتے کہ تو کہہ سکتا ہے کہ اگر میں ان پر ایک چادر ڈالوں، تووہ ان کو سما لے گی۔
Takhreej
(۴۹۳۰) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ أبوداود: ۲۶۲۸(انظر: ۱۷۷۳۶)
4930
Sahih
۔ (۴۹۳۱)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَرِیَّۃً وَاسْتَعْمَلَ عَلَیْہِمْ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ، قَالَ: فَلَمَّا خَرَجُوْا، قَالَ: وَجَدَ عَلَیْہِمْ فِی شَیْئٍ، فَقَالَ: قَالَ لَہُمْ: أَلَیْسَ قَدْ أَمَرَکُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ تُطِیعُونِی؟ قَالَ: قَالُوْا: بَلٰی، قَالَ: فَقَالَ: اجْمَعُوْا حَطَبًا ثُمَّ دَعَا بِنَارٍ فَأَضْرَمَہَا فِیہِ ثُمَّ قَالَ: عَزَمْتُ عَلَیْکُمْ لَتَدْخُلُنَّہَا، قَالَ: فَہَمَّ الْقَوْمُ أَنْ یَدْخُلُوہَا،قَالَ: فَقَالَ لَہُمْ شَابٌّ مِنْہُمْ: إِنَّمَا فَرَرْتُمْ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ النَّارِ، فَلَا تَعْجَلُوْا حَتّٰی تَلْقَوُا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَإِنْ أَمَرَکُمْ أَنْ تَدْخُلُوہَا فَادْخُلُوا، قَالَ: فَرَجَعُوا إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرُوہُ، فَقَالَ لَہُمْ: ((لَوْ دَخَلْتُمُوہَا مَا خَرَجْتُمْ مِنْہَا أَبَدًا، إِنَّمَا الطَّاعَۃُ فِی الْمَعْرُوفِ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِلَّذِیْنَ اَرَادُوْا اَنْ یَدْخُلُوْھَا: ((لَوْ دَخَلْتُمُوْھَا لَمْ تَزَالُوْا فِیْھَا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) وَقَالَ لِلْآخَرِیْنَ قَوْلًا حَسَنًا، وَقَالَ: ((لَا طَاعَۃَ فِیْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ، اِنَّمَا الطَّاعَۃُ فِی الْمَعْرُوْفِ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((لَا طَاعَۃَ لِبَشَرٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ۔)) (مسند أحمد: ۶۲۲)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک لشکر روانہ کیا اور ایک انصاری آدمی کو ان کا امیر بنایا، جب وہ لشکر روانہ ہو گیا تو کسی وجہ سے ان کا امیر ان سے ناراض ہو گیا، پس اس نے ان سے کہا: کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تم کو یہ حکم دیا تھا کہ تم نے میری اطاعت کرنی ہے؟ انھوں نے کہا: جی بالکل، اس نے کہا: تو پھر لکڑیاں جمع کرو، پھر اس نے آگ منگوا کر ان کو جلایا اور ان سے کہا: میں تم سے پر زور کہتا ہوں کہ تم ضرور ضرور اس آگ میں داخل ہو جاؤ، لوگوں نے تو اس میں گھس جانے کا ارادہ کر لیا، لیکن ان میں سے ایک نوجوان نے کہا: (ذرا ہوش تو کرو) تم لوگ آگ سے بچنے کے لیے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے، پس اس معاملے میںجلدی نہ کرو، یہاں تک کہ تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مل لو (اور اس بارے میںپوچھ لو)، اگر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تم کو اس آگ میں داخل ہونے کا حکم دیا تو داخل ہو جانا، پس جب وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف لوٹے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو واقعہ کی خبر دی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم لوگ اس میں داخل ہو جاتے تو پھر کبھی بھی اس سے نہ نکل سکتے، صرف اور صرف امیر کی اطاعت تو نیکی والے امور میں ہے۔ ایک روایت میں ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آگ میں گھس جانے کا ارادہ کرنے والوں سے فرمایا: اگر تم اس میں داخل ہو جاتے تو پھر روزِ قیامت تک اسی میں رہتے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسرے لوگوں کے حق میں اچھی بات کی اور فرمایا: اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کوئی اطاعت نہیں ہے، اطاعت تو صرف نیک امور میں ہے۔ ایک روایت میں ہے: اللہ تعالیٰ کی معصیت میں کسی بشر کی کوئی اطاعت نہیں ہے۔
Takhreej
(۴۹۳۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۳۴۰، ۷۱۴۵، ومسلم: ۱۸۴۰(انظر: ۶۲۲)
4931
Sahih
۔ (۴۹۳۲)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلْقَمَۃَ بْنَ مُجَزِّزٍ عَلٰی بَعْثٍ أَنَا فِیہِمْ حَتّٰی انْتَہَیْنَا إِلٰی رَأْسِ غَزَاتِنَا، أَوْ کُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِیقِ، أَذِنَ لِطَائِفَۃٍ مِنَ الْجَیْشِ، وَأَمَّرَ عَلَیْہِمْ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ حُذَافَۃَ بْنِ قَیْسٍ السَّہْمِیَّ، وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ، وَکَانَتْ فِیہِ دُعَابَۃٌ یَعْنِی مِزَاحًا، وَکُنْتُ مِمَّنْ رَجَعَ مَعَہُ، فَنَزَلْنَا بِبَعْضِ الطَّرِیقِ، قَالَ: وَأَوْقَدَ الْقَوْمُ نَارًا لِیَصْنَعُوا عَلَیْہَا صَنِیعًا لَہُمْ أَوْ یَصْطَلُونَ، قَالَ: فَقَالَ لَہُمْ: أَلَیْسَ لِی عَلَیْکُمُ السَّمْعُ وَالطَّاعَۃُ؟ قَالُوْا: بَلٰی، قَالَ: فَمَا أَنَا بِآمِرِکُمْ بِشَیْئٍ إِنْ صَنَعْتُمُوہُ؟ قَالُوْا: بَلٰی، قَالَ: أَعْزِمُ عَلَیْکُمْ بِحَقِّی وَطَاعَتِی لَمَا تَوَاثَبْتُمْ فِی ہٰذِہِ النَّارِ، فَقَامَ نَاسٌ فَتَحَجَّزُوْا حَتّٰی إِذَا ظَنَّ أَنَّہُمْ وَاثِبُونَ، قَالَ: احْبِسُوا أَنْفُسَکُمْ، فَإِنَّمَا کُنْتُ أَضْحَکُ مَعَکُمْ، فَذَکَرُوا ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَ أَنْ قَدِمُوا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ أَمَرَکُمْ مِنْہُمْ بِمَعْصِیَۃٍ فَلَا تُطِیعُوہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۶۶۲)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا علقمہ بن مجزز ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ایک جہادی لشکر کا امیر بنا کر روانہ کیا، میں بھی اس لشکر میں تھا، جب ہم اپنے غزوے کے مقام تک پہنچ گئے، یا راستے میں تھے، اس امیر نے ایک گروہ کو علیحدہ کیا اور سیدنا عبد اللہ بن حذافہ سہمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ان کا امیر بنایا، یہ بدری صحابی تھے اور ان کے مزاج میں مذاق کا عنصر پایا جاتا تھا، جو لوگ ان کے ساتھ لوٹے تھے، میں بھی ان میں تھا، جب ہم نے راستے میں پڑاؤ ڈالا اور لوگوں نے کھانا بنانے کے لیے یا آگ سے حرارت حاصل کرنے کے لیے آگ جلائی تو سیدنا عبد اللہ بن حذافہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا تم لوگوں پر فرض نہیں ہے کہ تم میری بات سنو اور اطاعت کرو؟ انھوں نے کہا: جی بالکل، اس نے کہا: تو پھر میں تم اپنے اور اپنی اطاعت کے حق کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ تم اس آگ میں کود پڑو، لوگ کھڑے ہو گئے اور انھوں نے اپنی کمر پر کپڑا باندھا، جب اس امیر نے دیکھا کہ یہ تو واقعی آگ میں کودنے لگے ہیں تو اس نے کہا: رک جاؤ، میں تمہارے ساتھ مذاق کر رہا تھا، جب ان لوگوں نے واپس آ کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ ماجرا سنایا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان امراء میں سے جو آدمی تم کو نافرمانی کا حکم دے، تو اس کی اطاعت نہ کیا کرو۔
Takhreej
(۴۹۳۲) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابن ماجہ: ۲۸۶۳(انظر: ۱۱۶۳۹)
4932
Sahih
۔ (۴۹۳۳)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ مَالِکٍ وَکَانَ مِنْ رَہْطِہِ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَرِیَّۃً، فَسَلَحْتُ رَجُلًا سَیْفًا، قَالَ: فَلَمَّا رَجَعَ قَالَ: مَا رَأَیْتُ مِثْلَ مَا لَامَنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: ((أَعَجَزْتُمْ إِذْ بَعَثْتُ رَجُلًا فَلَمْ یَمْضِ لِأَمْرِی أَنْ تَجْعَلُوا مَکَانَہُ مَنْ یَمْضِی لِأَمْرِی۔))(مسند أحمد: ۱۷۱۳۲)
۔ بشر بن عاصم لیثی کہتے ہیں: سیدنا عقبہ بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ میں بشر کی قوم میں سے تھے، سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک لشکر روانہ کیا، میں نے ایک آدمی کو تلوار دی، جب وہ لوٹا تو اس نے کہا: اس بار رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو ملامت کی ہے، میں نے پہلے اس کی مثال نہیں دیکھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر میں ایک آدمی کو بھیجتا ہوں اور وہ میرے حکم کو نافذ نہیں کرتا تو کیا تم اس چیز سے عاجز آ گئے کہ اس کی جگہ ایسے آدمی کا تقرر کر دو، جو میرا حکم نافذ کرے۔
Takhreej
(۴۹۳۳) تخریج: حسن، قالہ الالبانی، أخرجہ أبوداود: ۲۶۲۷ (انظر: ۱۷۰۰۷)
Explanation
فوائد:… اس باب سے متعلقہ آیات و احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ جب تک شریعت کی نافرمانی نہ ہوتی ہو، اس وقت تک امیر کی اطاعت کرنا فرض ہے، اسلامی تعلیمات کی رو سے عام مسلمان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ خلیفہ پر اس کی غلطی کو واضح کرے، خلفائے راشدین کے سنہری دور کی مثالیں موجود ہیں، ہاں اگر حکمران ظالم ہو اور غلطی کی نشاندہی پر بڑی سزا دے سکتا ہو تو مصلحت سے کام لینا چاہیے۔
4933
Sahih

Chapters

53
01
جہاد، رباط اور مجاہدین کی فضیلت جہاد کی فضیلت اور اس کی ترغیب
11 Hadith
02
جہاد کا واجب ہونا اور اس کی رغبت دلانا
8 Hadith
03
اللہ تعالیٰ کی راہ میں رباط اور پہرے کی فضیلت کا بیان
12 Hadith
04
اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت
24 Hadith
05
بحری جہاد کرنے والوں کی فضیلت
4 Hadith
06
جہاد میں نیت کو خالص کرنا اور اس میں اجرت لینے کا بیان
12 Hadith
07
مجاہد کی اعانت، اس کو تیار کرنے، اس کے اہل و عیال کا جانشیں بننے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
12 Hadith
08
مجاہدوں کی بیویوں کی حرمت اور مجاہد کے اہل کے معاملے میں خیانت کرنے والے کی وعید کا بیان
4 Hadith
09
شہادت اور شہداء کی فضیلت کے ابواب اللہ تعالیٰ کی راہ میں ملنے والی شہادت کی فضیلت
6 Hadith
10
شہداء کی فضیلت
13 Hadith
11
ایسے شخص کا بیان، جو اللہ کی راہ میں شہید ہو جائے اور اس پر قرضہ بھی ہو
4 Hadith
12
اللہ کے راستہ کے شہداء کی اقسام اور ان کی نیتوں کے اعتبار سے ان کے درجات کا بیان
6 Hadith
13
شہداء کا جامع تذکرہ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے علاوہ شہداء کی اقسام کا بیان
18 Hadith
14
اس بات کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شہید کی وفات پائی
2 Hadith
15
اس آدمی کا بیان جو جہاد کا ارادہ کرے اور اس کے والدین زندہ ہوں
7 Hadith
16
اس چیز کا بیان کہ امام لشکر کے سپہ سالاروں سے مشورہ کرے، ان کی خیرخواہی کرے، ان کے ساتھ نرمی برتے اور ان سے ان کی ذمہ داریاں نبھانے کا عہد لے
3 Hadith
17
اس امر کا بیان کہ لشکر والوں پر ان کے امیر کی اطاعت فرض ہے، جب تک وہ ان کو نافرمانی کا حکم نہ دے اور پڑاؤ ڈالتے وقت بکھر جانے کی کراہت کا بیان
6 Hadith
18
قتال سے پہلے اسلام کی دعوت دینے اور امام کا لشکر کے امیر کو وصیت کرنے کا بیان
6 Hadith
19
لڑائی میں دھوکہ دینے، توریہ کرنے، بات کو چھپانے اور جاسوسوں کو بھیجنے کے جواز کا بیان
7 Hadith
20
سرایا اور جیوش کو ترتیب دینے اور جھنڈوں اور ان کے رنگوں کا اہتمام کرنے کا بیان
4 Hadith
21
مجاہد کو الوداع کہنے، اس کا استقبال کرنے اور امام کا اس کو وصیت کرنے کا بیان
12 Hadith
22
مخصوص اوقات میں غزوہ کے لیے روانہ ہونے کے مستحب ہونے، دشمن سے لڑائی شروع کرنے، صفوں کو ترتیب دینے اور مسلمانوں کے شعار کا بیان
10 Hadith
23
جنگ میں فخر کرنے کے مستحب ہونے اور دشمنوں سے مقابلہ کرنے کی تمنا کرنے اور لشکر کی اکثریت سے دھوکہ کھانے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
24
جس کے ہاں اسلام کی علامت موجود ہو، اس پر شب خون مارنے کے وقت رک جانے کا بیان
2 Hadith
25
اسلام کی معرفت ہو جانے کے بعد لڑائی کرنے والے سے رک جانے، اس کو قتل کر دینے کی وعید اور اس کا کلام نہ سمجھنے کی وجہ سے غلطی سے اس کو قتل کر دینے والے کے عذر کا بیان
8 Hadith
26
کافروں پر اچانک حملہ کرنے کا بیان، اگرچہ اس میں ان کے بچے قتل ہو جائیں
5 Hadith
27
عورتوں، بچوں، پادریوں اور انتہائی بوڑھے لوگوں کو بالارادہ قتل کرنے سے روکنے کا بیان
8 Hadith
28
مثلہ، جلانے، درخت کاٹنے اور عمارتیں گرانے سے ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی ضرورت اور مصلحت ہو
9 Hadith
29
لڑائی کے وقت بھاگ جانے کی حرمت کا بیان، الا یہ کہ آدمی نے اپنی جماعت کو ملنا ہو، اگرچہ وہ جماعت دور ہو
3 Hadith
30
فتح والے مقام میں تین دن ٹھہرنے کے مستحب ہونے کا بیان
2 Hadith
31
اس امر کا بیان کہ غنیمت کا حلال ہونانبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کی امت کے خصائص میں سے ہے اور تقسیم سے قبل غنیمت سے متعلقہ احکام کاذکر
9 Hadith
32
جس جس عامل نے میدان جنگ میں اپنی طاقت کے بقدر کام کیا،ان میں برابری کے ساتھ مالِ غنیمت تقسیم کرنے کا بیان
4 Hadith
33
غنیمت کے خُمُس کا اللہ اور اس کے رسول کے لیے فرض ہونے اور اس کی تقسیم کا بیان
9 Hadith
34
غنیمت کے پانچ حصوں میں چار حصوں کی تقسیم، گھوڑ سوار اور پیادہ کا حق اور خاتون اور غلام وغیرہ کو معمولی مقدار میںعطیہ دینا
9 Hadith
35
اس چیز کا بیان کہ سلب قاتل کا ہو گا اور اس میں سے خُمُس نہیں لیا جائے گا
9 Hadith
36
لشکر کے بعض افراد کو اس بنا پر زائد حصہ دینے کا بیان کہ انھوں نے لڑائی لڑی یا مشکلات کو برداشت کیا
2 Hadith
37
لشکر کے سریہ کو زائد حصہ دینے اور پھر ان دونوں کو غنیمت میں شریک کرنے کا بیان
6 Hadith
38
مالِ فے کے مصرف کا بیان
6 Hadith
39
تالیف ِ قلبی کے لیے دینے کا بیان
2 Hadith
40
امیر اور عامل کے تحائف
2 Hadith
41
خیانت کے حرام ہونے اور اس میں سختی کا بیان، نیز خائن کا سامانِ سفر جلانے اور لوٹ مار کا بیان
12 Hadith
42
قیدیوں کے حق میں احسان کرنے، ان سے فدیہ لینے اور ان سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب ہوازن کے وفود پر ان کے قیدیوں کے معاملے میں احسان کرنے کا باب
2 Hadith
43
سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قید اور فدیے اور اس معاملے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ایک معجزے کا بیان
2 Hadith
44
اس آدمی کا بیان جس نے اپنے باپ کے فدیے میں چار ہزار درہم دیئے
3 Hadith
45
سیدہ زینب بنت رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے خاوند سیدنا ابو العاص کا فدیہ
1 Hadith
46
ایک مشرک کے فدیے میں دو مسلمان لینے کا بیان ان قیدیوں کا بیان جنھوں نے اپنے فدیے میں انصاریوں کے بچوں کو کتابت کی تعلیم دی
4 Hadith
47
بدر کے قیدیوں کے فدیے اور اس کی وجہ سے نازل ہونے والے قرآن کا بیان
3 Hadith
48
ان امور سے ممانعت کابیان: احتلام ہونے یا زیر ناف بالوں کے اگنے سے پہلے قیدی کو قتل کرنا، دوسرے کے قیدی کو قتل کرنا، قیدیوں میں والدہ اور اس کی اولاد میں تفریق ڈالنا، حاملہ قیدی خواتین سے جماع کرنا اور قیدی کو باندھ کر مارنا
10 Hadith
49
اس قیدی کا بیان جو قید سے پہلے قبولیت ِ اسلام کا دعوی کر دے، نیز اسلام قبول کرنے والے قیدی کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
50
مسلمان ہونے والے قیدی کا مسلمانوں کی ملکیت میں ہی رہنے کا اور عربوں کو غلام بنانے کے جواز کا بیان
3 Hadith
51
اس چیز کا بیان کہ جاسوس کے ساتھ کیا کیا جائے، وہ مسلمان ہو یا حربی یا ذمی
3 Hadith
52
اس چیز کا بیان کہ جب کافر کا غلام مسلمان ہو کر ہمارے پاس آ جائے تو وہ آزاد ہو گا
4 Hadith
53
اس چیز کا بیان کہ اگر حربی قابو میں آنے سے پہلے مسلمان ہو گیا تو اپنے مال کو بچا لے گا، نیز غنیمت والی زمین کا حکم
6 Hadith
No chapter matched that.