TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

شہداء کا جامع تذکرہ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے علاوہ شہداء کی اقسام کا بیان - شہداء کا جامع تذکرہ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے علاوہ شہداء کی اقسام کا بیان - جہاد کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 13 of جہاد کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 13 of 53 · 18 Hadith
۔ (۴۸۹۸)۔ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ زَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قُتِلَ دُوْنَ مَالِہِ فَہُوَ شَہِیْدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُوْنَ أَہْلِہِ فَہُوَ شَہِیْدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُوْنَ دِیْنِہِ فَہُوَ شَہِیْدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُوْنَ دَمِہِ فَہُوَ شَہِیْدٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۵۲)
۔ سیدنا سعید بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے مال کے تحفظ میں مارا گیا، وہ شہید ہے، جو آدمی اپنے اہل و عیال کا تحفظ کرتا ہوا قتل ہو گیا، وہ شہید ہے، جو آدمی اپنے دین کو بچاتے ہوئے مارا گیا، وہ شہید ہے اور جو آدمی اپنے خون کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہو گیا، وہ بھی شہید ہے۔
Takhreej
(۴۸۹۸) اسنادہ قوی، أخرجہ أبوداود: ۴۷۷۲، والنسائی: ۷/ ۱۱۶، وابن ماجہ: ۲۵۸۰ (انظر: ۱۶۵۲)
4898
Sahih
۔ (۴۸۹۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ أُرِیْدَ مَالُہٗ بِغَیْرِ حَقٍّ فَقُتِلَ دُوْنَہُ فَہُوَ شَہِیْدٌ۔)) (مسند أحمد: ۶۸۱۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کا مال بغیر حق کے لے لینے کا ارادہ کر لیا اور وہ اس کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہو گیا تو وہ شہید ہو گا۔
Takhreej
(۴۸۹۹) تخریج: اسنادہ صحیح ، أخرجہ أبوداود: ، والنسائی: ، والترمذی: (انظر: ۶۸۱۶)
Explanation
فوائد:… مقصدیہ ہے کہ جو آدمی ظلماً مارا جائے، خواہ وہ اپنی جان کی حفاظت کرتے ہوئے یا مال کی حفاظت کرتے ہوئے یا عزت کی حفاظت کرتے ہوئے یا اہل وعیال کی حفاظت کرتے ہوئے یا دین کی حفاظت کرتے ہوئے، وہ شہید ہے، یعنی اس کی مغفرت ہو جائے گی، وہ جنتی ہو گا۔ اس کا ایمان دار ہونا، بہر صورت شرط ہے۔
4899
Sahih
۔ (۴۹۰۰)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((نِعْمَ الْمِیْتَۃُ أَنْ یَّمُوْتَ الرَّجُلُ دُوْنَ حَقِّہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۹۸)
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھی موت یہ ہے کہ آدمی اپنے حق کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے۔
Takhreej
(۴۹۰۰) اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، ابو بکر بن حفص لم یسمع من جدہ الاعلی سعد (انظر: ۱۵۹۸)
Explanation
فوائد:… جو آدمی ان چیزوںکے دفاع میں قتل ہو جائے، وہ بھی شہید ہے، لیکن یہ لوگ آخرت کے حکم کے مطابق شہید ہوتے ہیں، یعنی ان کو شہداء والا اجر و ثواب دیا جائے گا، دنیا میں ان پر شہید کے احکام لاگو نہیں ہوں گے۔ مثلا اسے عام میت کی طرح غسل دیا جائے گا اور اس کا جنازہ پڑھایا جائے گا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مظلوم شہید ہوئے، مگر ان کو غسل دیا گیا تھا اور ان کا جنازہ بھی پڑھا گیا تھا، سیدنا علی اور سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا معاملہ بھی یہی ہے۔
4900
Zaeef
۔ (۴۹۰۱)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ، أَنَّہُ سَمِعَ رَجُلًا مِنْ بَنِی مَخْزُومٍ، یُحَدِّثُ عَنْ عَمِّہِ، أَنَّ مُعَاوِیَۃَ أَرَادَ أَنْ یَأْخُذَ أَرْضًا لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو یُقَالُ لَہَا: الْوَہْطُ، فَأَمَرَ مَوَالِیَہُ فَلَبِسُوا آلَتَہُمْ، وَأَرَادُوا الْقِتَالَ، قَالَ: فَأَتَیْتُہُ، فَقُلْتُ: مَاذَا؟ فَقَالَ: إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یُظْلَمُ بِمَظْلَمَۃٍ فَیُقَاتِلَ فَیُقْتَلَ إِلَّا قُتِلَ شَہِیدًا۔)) (مسند أحمد: ۶۹۱۳)
۔ سعد بن ابراہیم سے مروی ہے، انھوں نے بنومخزوم کے ایک آدمی سے سنا، وہ اپنے چچا سے بیان کرتا ہے کہ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وہط نامی زمین لینا چاہی، لیکن انھوں نے اپنے غلاموں کو حکم دیا، پس انھوں نے اپنے آلات اٹھا لیے اور لڑنے کے لیے تیار ہو گئے، میں ان کے پاس گیا اور کہا: یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس مسلمان پر ظلم کیا جاتا ہے اور وہ آگے سے قتال کرتا ہے اور مارا جاتا ہے، تو وہ شہید ہو گا۔
Takhreej
(۴۹۰۱) اسنادہ ضعیف لابھام الرجل من نبی مخزوم وعمہ، أخرجہ االطیالسی: ۲۲۹۴ (انظر: ۶۹۱۳)
Explanation
فوائد:… وہط کا لغوی معنی پست زمین ہے، یہ طائف میں سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی زمین تھی اور پست ہونے کی وجہ سے اس کا نام ہی وہط پڑ گیا تھا۔
4901
Zaeef
۔ (۴۹۰۲)۔ عَن حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْیَرِیِّ، أَنَّ رَجُلًا یُقَالُ لَہُ: حَمَمَۃُ، کَانَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، خَرَجَ إِلٰی أَصْبَہَانَ غَازِیًا فِی خِلَافَۃِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَقَالَ: اللّٰہُمَّ إِنَّ حَمَمَۃَ یَزْعُمُ أَنَّہُ یُحِبُّ لِقَائَ کَ، فَإِنْ کَانَ حَمَمَۃُ صَادِقًا فَاعْزِمْ لَہُ صِدْقَہُ، وَإِنْ کَانَ کَاذِبًا فَاعْزِمْ عَلَیْہِ وَإِنْ کَرِہَ، اللّٰہُمَّ لَا تَرُدَّ حَمَمَۃَ مِنْ سَفَرِہِ ہٰذَا، قَالَ: فَأَخَذَہُ الْمَوْتُ، وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّۃً: الْبَطْنُ، فَمَاتَ بأَصْبَہَانَ، قَالَ: فَقَامَ أَبُو مُوسٰی فَقَالَ: یَا أَیُّہَا النَّاسُ! إِنَّا وَاللّٰہِ مَا سَمِعْنَا فِیمَا سَمِعْنَا مِنْ نَبِیِّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَا بَلَغَ عِلْمَنَا إِلَّا أَنَّ حَمَمَۃَ شَہِیدٌ۔ (مسند أحمد: ۱۹۸۹۳)
۔ حمید بن عبد الرحمن حمیری کہتے ہیں کہ حممہ نامی ایک آدمی جہاد کرنے کے لیے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت میں اصفہان کی طرف نکلا، یہ آدمی اصحاب ِ رسول میں سے تھا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ! بیشک حممہ یہ خیال کرتا ہے کہ وہ تیری ملاقات کو پسند کرتا ہے، اگر حممہ سچا ہے تو تو اس کے سچ کو پورا کر دے اور اس کو شہید کر دے اور اگر یہ جھوٹا ہے تو پھر بھی تو اس کو شہید کر دے، اگرچہ یہ ناپسند کرتا ہو، اے اللہ! حممہ کو اس سفر سے واپس نہ لوٹانا۔ ایسے ہی ہوا اور وہ پیٹ کی بیماری کی وجہ سے اصبہان کے علاقے میں فوت ہو گیا۔ سیدنا ابو موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے لوگو! جو کچھ ہم نے تمہارے نبی سے سنا اور جتنا ہم نے علم حاصل کیا، اس کا یہ تقاضا یہ ہے کہ حممہ شہید ہے۔
Takhreej
(۴۹۰۲) اسنادہ صحیح، أخرجہ أبوداود الطیالسی:۵۰۵، والطبرانی فی الکبیر : ۳۶۱۰ (انظر: ۱۹۶۵۹)
Explanation
فوائد:… سیدنا حممہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پیٹ کی بیماری کی وجہ سے فوت ہوئے اور اس مرض سے وفات پانے والا حکماً شہید ہوتا ہے، جیسا کہ حدیث نمبر (۴۹۱۴)میں آ رہا ہے اور دوسری وجہ یہ بھی کہ یہ جہادی سفر میں تھے۔
4902
Sahih
۔ (۴۹۰۳)۔ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ صَالِحٌ، فَأُخْرِجَ بِجِنَازَتِہِ، فَلَمَّا رَجَعْنَا تَلَقَّانَا خَالِدُ بْنُ عُرْفُطَۃَ وَسُلَیْمَانُ بْنُ صُرَدٍ وَکِلَاہُمَا قَدْ کَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌ، فَقَالَا: سَبَقْتُمُونَا بِہٰذَا الرَّجُلِ الصَّالِحِ، فَذَکَرُوْا أَنَّہُ کَانَ بِہِ بَطْنٌ، وَأَنَّہُمْ خَشُوْا عَلَیْہِ الْحَرَّ، قَالَ: فَنَظَرَ أَحَدُہُمَا إِلٰی صَاحِبِہِ، فَقَالَ: أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ قَتَلَہُ بَطْنُہُ لَمْ یُعَذَّبْ فِیْ قَبْرِہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۵۰۲)
۔ ابو اسحق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک نیک سیرت آدمی فوت ہو گیا، جب اس کا جنازہ نکالا گیا تو ہمیں سیدنا خالد بن عرفطہ اور سیدنا سلیمان بن صرد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ملے، یہ دونوں صحابی تھے، انھوں نے کہا: تم اس نیک آدمی سلسلے کے میں ہم سے سبقت لے گئے ہو، لوگوں نے کہا: اس کو پیٹ کی بیماری تھی اور ہمیں گرمی کی وجہ سے ڈر تھا، یہ سن کر ان دو میں سے ہر ایک نے دوسرے کو دیکھا اور کہا: کیا تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا تھا کہ جو آدمی پیٹ کی وجہ سے فوت ہو گا، اس کو قبر میں عذاب نہیں دیا جائے گا۔ (مسند احمد کی ایک روایت کے مطابق دوسرے صحابی نے جواب دیا: جی کیوں نہیں۔)
Takhreej
(۴۹۰۳) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الترمذی: ۱۰۶۴(انظر: ۱۸۳۱۲)
4903
Sahih
۔ (۴۹۰۴)۔ عَنْ حَفْصَۃَ قَالَتْ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، بِمَا مَاتَ ابْنُ أَبِیْ عَمْرَۃَ؟ فَقَالُوْا: بِالطَّاعُوْنِ، فَقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلطَّاعُوْنُ شَہَادَۃٌ لِکُلِّ مُسْلِمٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۵۴۷)
۔ سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا کہ ابن ابی عمروہ کیسے فوت ہوا ہے، انھوں نے کہا: طاعون کے سبب سے، پھر انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: طاعون ہر مسلمان کی شہادت ہے۔
Takhreej
(۴۹۰۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۸۳۰، ومسلم: ۱۹۱۶(انظر: ۱۲۵۱۹)
Explanation
فوائد:… طاعون کیا ہے؟ اگلی حدیث کی شرح ملاحظہ ہو۔
4904
Sahih
۔ (۴۹۰۵)۔ عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَخْتَصِمُ الشُّہَدَائُ، وَالْمُتَوَفَّوْنَ عَلٰی فُرُشِہِمْ إِلٰی رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ فِی الَّذِینَ یُتَوَفَّوْنَ مِنَ الطَّاعُونِ، فَیَقُولُ: الشُّہَدَائُ إِخْوَانُنَا قُتِلُوا کَمَا قُتِلْنَا، وَیَقُولُ الْمُتَوَفَّوْنَ عَلٰی فُرُشِہِمْ: إِخْوَانُنَا مَاتُوا عَلٰی فُرُشِہِمْ کَمَا مِتْنَا عَلٰی فُرُشِنَا، فَیَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ: انْظُرُوْا إِلٰی جِرَاحِہِمْ، فَإِنْ أَشْبَہَتْ جِرَاحُہُمْ جِرَاحَ الْمَقْتُولِینَ فَإِنَّہُمْ مِنْہُمْ وَمَعَہُمْ، فَإِذَا جِرَاحُہُمْ قَدْ أَشْبَہَتْ جِرَاحَہُمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۲۹۱)
۔ سیدنا عرباض بن ساریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شہداء اور بستروں پر طبعی موت فوت ہونے والے اللہ تعالیٰ کے پاس ان لوگوں کے بارے میں جھگڑیں گے، جو طاعون کی وجہ سے فوت ہو جاتے ہیں، شہداء کہیں گے: یہ ہمارے بھائی ہیں اور ہماری طرح شہید ہوئے ہیں، بستروں پر فوت ہونے والے کہیں گے: یہ ہمارے بھائی ہے اور بستروں پر ایسی ہی طبعی موت فوت ہوئے ہیں، جیسے ہم مرے ہیں، اللہ تعالیٰ فیصلہ کرتے ہوئے کہے گا: تم لوگ ان کے زخموں کو دیکھ لو، اگر ان کے زخم شہداء کے زخموں کے مشابہ ہوئے تو یہ ان ہی میں سے اور ان کے ساتھ ہوں گے، پس ان کے زخم شہدا کے زخموں کے مشابہ ہوں گے۔
Takhreej
(۴۹۰۵) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ النسائی: ۶/۳۷(انظر: ۱۷۱۵۹)
Explanation
فوائد:… اس جھگڑے کی بنیاد حسد وغیرہ نہیں، بلکہ شہداء چاہیں گے کہ طاعون سے فوت ہونے والوں کا درجہ اونچا کیا جائے، وہ ہمارے ساتھ رہیں، اور بستروں پر فوت ہونے والے چاہیں گے کہ اگر انہیں شہداء کا مرتبہ مل رہا ہے تو ہمیں بھی ملنا چاہیے کیونکہ موت کے لحاظ سے ہم ایک جیسے ہیں، گویا یہ رشک ہے اور رشک جائز ہے۔
4905
Sahih
۔ (۴۹۰۶)۔ عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ عَبْدِنِ السُّلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّٔبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَہٗ۔ (مسند أحمد: ۱۷۸۰۱)
۔ سیدنا عتبہ بن عبد سُلَمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۴۹۰۶) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۹/ ۵۶۲ (انظر: ۱۷۶۵۱)
4906
Sahih
۔ (۴۹۰۷)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْمَیِّتُ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ شَہِیْدٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۵۷۰)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اندرونی پھوڑے (کینسر و سرطان وغیرہ) سے مرجانے والا شہید ہے۔
Takhreej
(۴۹۰۷) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۷/۸۸۱ (انظر: ۱۷۴۳۴)
4907
Sahih
۔ (۴۹۰۸)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْأَلْہَانِیِّ، قَالَ: ذُکِرَ عِنْدَ أَبِی عِنَبَۃَ الْخَوْلَانِیِّ الشُّہَدَائُ، فَذَکَرُوْا الْمَبْطُونَ وَالْمَطْعُونَ وَالنُّفَسَائَ، فَغَضِبَ أَبُو عِنَبَۃَ وَقَالَ: حَدَّثَنَا أَصْحَابُ نَبِیِّنَا عَنْ نَبِیِّنَا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، أَنَّہُ قَالَ: ((إِنَّ شُہَدَائَ اللّٰہِ فِی الْأَرْضِ أُمَنَائُ اللّٰہِ فِی الْأَرْضِ فِی خَلْقِہِ قُتِلُوْا أَوْ مَاتُوا۔)) (مسند أحمد: ۱۷۹۳۹)
۔ محمد بن زیاد الہانی کہتے ہیں: سیدنا ابو عنبہ خولانی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس شہداء کا تذکرہ کیا گیا، لوگوں نے پیٹ اور طاعون کی بیماری سے مرنے والوں اور نفاس میں فوت ہونے والی خواتین کا ذکر کیا، سیدنا ابو عنبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو غصہ آ گیا اور انھوں نے کہا: ہمارے نبی کے اصحاب نے ہمارے نبی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زمین میں اللہ تعالیٰ کے شہداء وہ ہیں، جو اس کی زمین میں اس کی مخلوق میں سے امانت والے ہیں، ان کو قتل کیا جائے یا وہ طبعی موت فوت ہوں۔
Takhreej
(۴۹۰۸) تخریج: اسنادہ حسن (انظر: ۱۷۷۸۶)
4908
Sahih
۔ (۴۹۰۹)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَتَانِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا مَرِیْضٌ، فِی نَاسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ یَعُودُونِی، فَقَالَ: ((ہَلْ تَدْرُونَ مَا الشَّہِیدُ؟)) فَسَکَتُوْا، فَقَالَ: ((ہَلْ تَدْرُونَ مَا الشَّہِیدُ؟)) فَسَکَتُوْا، قَالَ: ((ہَلْ تَدْرُونَ مَا الشَّہِیدُ؟)) فَقُلْتُ: لِامْرَأَتِی أَسْنِدِینِی فَأَسْنَدَتْنِی، فَقُلْتُ: مَنْ أَسْلَمَ ثُمَّ ہَاجَرَ ثُمَّ قُتِلَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ فَہُوَ شَہِیدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ شُہَدَائَ أُمَّتِی إِذًا لَقَلِیلٌ، الْقَتْلُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ شَہَادَۃٌ، وَالْبَطْنُ شَہَادَۃٌ، وَالْغَرَقُ شَہَادَۃٌ، وَالنُّفَسَائُ شَہَادَۃٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۰۷۸)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں بیمار تھا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کچھ انصاری لوگوں سمیت میری عیادت کے لیے میرے پاس تشریف لائے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ جانتے ہو کہ شہید کون ہوتا ہے؟ وہ جواباً خاموش رہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں علم ہے کہ شہید کون ہوتا ہے؟ وہ اس بار بھی خاموش رہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: میں کہہ رہا ہوں کہ کیا تم جانتے ہو کہ شہید کون ہوتا ہے؟ میں نے اپنی بیوی سے کہا: مجھے سہارا دے، پس اس نے مجھے سہارا دیا، پھر میں نے کہا: جی جو شخص اسلام لایا، پھر اس نے ہجرت کی اور پھر وہ اللہ کی راہ میں قتل ہو گیا، وہ شہید ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر تو میری امت کے شہداء کی تعداد کم ہو گی، بلکہ اللہ کی راہ میں قتل بھی شہادت ہے، پیٹ کی بیماری کی وجہ سے موت بھی شہادت ہے، ڈوبنا بھی شہادت ہے اور نفاس میں فوت ہو جانا بھی شہادت ہے۔
Takhreej
(۴۹۰۹) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ البزار: ۲۶۹۳، ۲۷۱۰(انظر: ۲۲۷۰۲)
4909
Sahih
۔ (۴۹۱۰)۔ عَنْ رَاشِدِ بْنِ حُبَیْشٍ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ عَلٰی عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ یَعُودُہُ فِی مَرَضِہِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَتَعْلَمُونَ مَنِ الشَّہِیدُ مِنْ أُمَّتِی؟)) فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، فَقَالَ عُبَادَۃُ: سَانِدُونِی فَأَسْنَدُوہُ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! الصَّابِرُ الْمُحْتَسِبُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ شُہَدَائَ أُمَّتِی إِذًا لَقَلِیلٌ، الْقَتْلُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ شَہَادَۃٌ، وَالطَّاعُونُ شَہَادَۃٌ، وَالْغَرَقُ شَہَادَۃٌ، وَالْبَطْنُ شَہَادَۃٌ، وَالنُّفَسَائُ یَجُرُّہَا وَلَدُہَا بِسَرَرِہِ إِلَی الْجَنَّۃِ۔)) قَالَ: وَزَادَ فِیہَا أَبُو الْعَوَّامِ: سَادِنُ بَیْتِ الْمَقْدِسِ وَالْحَرْقُ وَالسَّیْلُ۔ (مسند أحمد: ۱۶۰۹۴)
۔ سیدنا راشد بن حبیش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدنا عبادہ بن صامت کی تیمار داری کرنے کے لیے ان کے پاس تشریف لائے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ جانتے ہو کہ میری امت کے شہید کون ہیں؟ لوگ خاموش رہے، البتہ سیدنا عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مجھے سہارا دو، پس لوگوں نے ان کو سہارا دیا، پھر انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو ثواب کی نیت سے صبر کرتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر تو میری امت کے شہداء کم ہوں گے، سنو، اللہ کی راہ میں قتل بھی شہادت ہے، طاعون بھی شہادت ہے، ڈوبنا بھی شہادت ہے، پیٹ کی بیماری بھی شہادت ہے، اور نفاس والی خواتین کی صورتحال تو یہ ہو گی کہ ان کا بچہ اپنے ناف کے اس حصے کے ذریعے ان کو جنت کی طرف کھینچ کر لے جائے گا، جو ولادت کے وقت کاٹا جاتا ہے۔ ابو عوام کی روایت میں ان افراد کی زیادتی ہے: بیت المقدس کا خادم شہید ہے، آگ میں جل جانا شہادت ہے اور سیلاب میں مرجانا بھی شہادت ہے۔
Takhreej
(۴۹۱۰) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ(انظر: ۱۵۹۹۸)
4910
Sahih
۔ (۴۹۱۱)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَادَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ رَوَاحَۃَ، قَالَ: فَمَا تَحَوَّزَ لَہُ عَنْ فِرَاشِہِ، فَقَالَ: ((أَتَدْرُونَ مَنْ شُہَدَائُ أُمَّتِی؟)) قَالُوْا: قَتْلُ الْمُسْلِمِ شَہَادَۃٌ، قَالَ: ((إِنَّ شُہَدَائَ أُمَّتِی إِذًا لَقَلِیلٌ، قَتْلُ الْمُسْلِمِ شَہَادَۃٌ، وَالطَّاعُونُ شَہَادَۃٌ، وَالْمَرْأَۃُ یَقْتُلُہَا وَلَدُہَا جَمْعَائَ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۰۶۰)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدنا عبد اللہ بن رواحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تیمارداری کرنے کیلئے تشریف لائے، وہ (شدت ِ مرض کی وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خاطر) اپنے بستر سے ہٹ نہ سکے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کے شہداء کون کون ہیں؟ لوگوں نے کہا: مسلمان کا قتل ہو جانا ہی شہادت ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر تو میری امت کے شہداء کم ہوں گے، سنو، مسلمان کا قتل بھی شہادت ہے، طاعون بھی شہادت ہے اور وہ حاملہ خاتون بھی شہید ہے، جو اپنے پیٹ والے بچے کی وجہ سے فوت ہو جاتی ہے۔
Takhreej
(۴۹۱۱) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الطیالسی: ۲۴۱۴، والدارمی: ۲۴۱۴(انظر: ۲۲۶۸۴)
4911
Sahih
۔ (۴۹۱۲)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَا تَعُدُّونَ الشَّہِیدَ؟)) قَالُوْا: الَّذِی یُقَاتِلُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ حَتّٰی یُقْتَلَ، قَالَ: ((إِنَّ الشَّہِیدَ فِی أُمَّتِی إِذًا لَقَلِیلٌ، الْقَتِیلُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ شَہِیدٌ، وَالطَّعِینُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ شَہِیدٌ، وَالْغَرِیقُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ شَہِیدٌ، وَالْخَارُّ عَنْ دَابَّتِہِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ شَہِیدٌ، وَالْمَجْنُوبُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ شَہِیدٌ۔)) قَالَ مُحَمَّدٌ: الْمَجْنُوبُ صَاحِبُ الْجَنْبِ، زاد فی روایۃ: وَالْبَطْنُ شَھَادَۃٌ وَالنُّفَسَائُ شَھَادَۃٌ۔ (مسند أحمد: ۹۶۹۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم لوگ کس کو شہید شمار کرتے ہو؟ لوگوں نے کہا: جو اللہ کی راہ میں قتال کرتے ہوئے قتل ہو جائے، وہ شہید ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر تو میری امت کے شہداء کم ہوں گے، اللہ کی راہ میں قتل ہونے والا بھی شہید ہے، اللہ تعالیٰ کے راستے میں طاعون کی وجہ سے مرنے والا بھی شہید ہے، اللہ تعالیٰ کے راستے میں غرق ہونے والا بھی شہید ہے، اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے جانور سے گر کر وفات پانے والا بھی شہید ہے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں نمونیا کی بیماری سے فوت ہو جانے والا بھی شہید ہے۔ محمد راوی نے کہا: مَجْنُوب سے مراد صَاحِبُ الْجَنْب ہے، ایک روایت میں ان الفاظ کی بھی زیادتی ہے: پیٹ کی بیماری بھی شہادت ہے اور نفاس میں فوت ہونے والی خواتین بھی شہید ہیں۔
Takhreej
(۴۹۱۲) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابو مالک بن ثعلبۃ فی عداد المجھولین، ومحمد بن اسحاق مدلس وقد عنعن، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۵/ ۳۳۲ (انظر: ۹۶۹۵)
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں فی سبیل اللہ سے مراد جہاد نہیں ہے، بلکہ اس میں تو حکمی شہداء کا ذکر کیا گیا ہے، لہذا سبیل اللہ کو عام سمجھا جائے، یعنی وہ مسلمان ہو، کیونکہ ہر مسلمان اللہ تعالیٰ کے راستے کا راہی ہے، البتہ حقیقی شہید وہی ہے، جو جہاد کرتا ہوا مارا جائے۔
4912
Zaeef
۔ (۴۹۱۳)۔ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَیَّۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الطَّاعُونُ شَہَادَۃٌ، وَالْغَرَقُ شَہَادَۃٌ، وَالْبَطْنُ شَہَادَۃٌ، وَالنُّفَسَائُ شَہَادَۃٌ)) (مسند أحمد: ۱۵۳۸۱)
۔ سیدنا صفوان بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: طاعون شہادت ہے، ڈوبنا شہادت ہے، پیٹ کی بیماری شہادت ہے اور نفاس والی خواتین شہید ہیں۔
Takhreej
(۴۹۱۳) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، أخرجہ النسائی: ۴/۹۹(انظر: ۱۵۳۰۷)
4913
Sahih
۔ (۴۹۱۴)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الشُّہَدَائُ خَمْسَۃٌ، الْمَطْعُونُ، وَالْمَبْطُونُ، وَالْغَرِقُ، وَصَاحِبُ الْہَدْمِ، وَالشَّہِیدُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلََّ۔)) (مسند أحمد: ۸۲۸۸)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شہداء پانچ قسم کے ہوتے ہیں: طاعون کی بیماری والا، پیٹ کی بیماری والا، ڈوبنے والا، دیوار کے نیچے آ کر فوت ہو جانے والا اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں شہید ہونے والا۔
Takhreej
(۴۹۱۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۵۳، ۷۲۰، ۲۸۲۹، ومسلم: ۱۹۱۴(انظر: ۸۳۰۵)
4914
Sahih
۔ (۴۹۱۵)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَتِیکٍ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ ثَابِتٍ لَمَّا مَاتَ قَالَتِ ابْنَتُہُ: وَاللّٰہِ إِنْ کُنْتُ لَأَرْجُو أَنْ تَکُونَ شَہِیدًا، أَمَا إِنَّکَ کُنْتَ قَدْ قَضَیْتَ جِہَازَکَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ اللّٰہَ قَدْ أَوْقَعَ أَجْرَہُ عَلٰی قَدْرِ نِیَّتِہِ، وَمَا تَعُدُّونَ الشَّہَادَۃَ؟)) قَالُوْا: قَتْلٌ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الشَّہَادَۃُ سَبْعٌ سِوَی الْقَتْلِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، الْمَطْعُونُ شَہِیدٌ، وَالْغَرِقُ شَہِیدٌ، وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَہِیدٌ، وَالْمَبْطُونُ شَہِیدٌ، وَصَاحِبُ الْحَرْقِ شَہِیدٌ، وَالَّذِی یَمُوتُ تَحْتَ الْہَدْمِ شَہِیدٌ، وَالْمَرْأَۃُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَہِیدَۃٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۱۵۴)
۔ جابر بن عتیک سے مروی ہے کہ جب سیدنا عبد اللہ بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہونے لگے تو ان کی ایک بیٹی نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو یہ امید کرتی تھی کہ آپ شہید ہوں گے، بہرحال آپ نے اپنی تیاری تو کر رکھی تھی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے ان کی نیت کے مطابق اجر تو ثابت کر دیا ہے، اور تم یہ بتاؤ کہ تم لوگ کس چیز کو شہادت شمار کرتے ہو؟ لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتل کو، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں قتل کے علاوہ بھی شہادت کی سات قسمیں ہیں: طاعون کی بیماری میں فوت ہونے والا شہید ہے، ڈوبنے والا شہید ہے، اندرونی پھوڑے (کینسر و سرطان وغیرہ کی) وجہ سے وفات پانے والا شہید ہے، پیٹ کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے، جل کر فوت ہونے والا شہید ہے، گرنے والی دیوار کے نیچے آ کر فوت ہو جانے والا شہید ہے اور حمل کی وجہ سے فوت ہو جانے والی خاتون شہید ہے۔
Takhreej
(۴۹۱۵) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابوداود: ۳۱۱۱، والنسائی: ۴/۱۳(انظر: ۲۳۷۵۳)
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں مختلف حکمی شہداء کا ذکر ہے، اللہ تعالیٰ نے ان پر خاص رحمت کرتے ہوئے ان کو شہادت کا مرتبہ عطا فرمایا ہے، اس مرتبے کی دو وجوہات ہیں، سخت تکلیف ہونا اور اکثر صورتوں میں اچانک موت میں مبتلا ہو جانا۔
4915
Sahih

Chapters

53
01
جہاد، رباط اور مجاہدین کی فضیلت جہاد کی فضیلت اور اس کی ترغیب
11 Hadith
02
جہاد کا واجب ہونا اور اس کی رغبت دلانا
8 Hadith
03
اللہ تعالیٰ کی راہ میں رباط اور پہرے کی فضیلت کا بیان
12 Hadith
04
اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت
24 Hadith
05
بحری جہاد کرنے والوں کی فضیلت
4 Hadith
06
جہاد میں نیت کو خالص کرنا اور اس میں اجرت لینے کا بیان
12 Hadith
07
مجاہد کی اعانت، اس کو تیار کرنے، اس کے اہل و عیال کا جانشیں بننے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
12 Hadith
08
مجاہدوں کی بیویوں کی حرمت اور مجاہد کے اہل کے معاملے میں خیانت کرنے والے کی وعید کا بیان
4 Hadith
09
شہادت اور شہداء کی فضیلت کے ابواب اللہ تعالیٰ کی راہ میں ملنے والی شہادت کی فضیلت
6 Hadith
10
شہداء کی فضیلت
13 Hadith
11
ایسے شخص کا بیان، جو اللہ کی راہ میں شہید ہو جائے اور اس پر قرضہ بھی ہو
4 Hadith
12
اللہ کے راستہ کے شہداء کی اقسام اور ان کی نیتوں کے اعتبار سے ان کے درجات کا بیان
6 Hadith
13
شہداء کا جامع تذکرہ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے علاوہ شہداء کی اقسام کا بیان
18 Hadith
14
اس بات کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شہید کی وفات پائی
2 Hadith
15
اس آدمی کا بیان جو جہاد کا ارادہ کرے اور اس کے والدین زندہ ہوں
7 Hadith
16
اس چیز کا بیان کہ امام لشکر کے سپہ سالاروں سے مشورہ کرے، ان کی خیرخواہی کرے، ان کے ساتھ نرمی برتے اور ان سے ان کی ذمہ داریاں نبھانے کا عہد لے
3 Hadith
17
اس امر کا بیان کہ لشکر والوں پر ان کے امیر کی اطاعت فرض ہے، جب تک وہ ان کو نافرمانی کا حکم نہ دے اور پڑاؤ ڈالتے وقت بکھر جانے کی کراہت کا بیان
6 Hadith
18
قتال سے پہلے اسلام کی دعوت دینے اور امام کا لشکر کے امیر کو وصیت کرنے کا بیان
6 Hadith
19
لڑائی میں دھوکہ دینے، توریہ کرنے، بات کو چھپانے اور جاسوسوں کو بھیجنے کے جواز کا بیان
7 Hadith
20
سرایا اور جیوش کو ترتیب دینے اور جھنڈوں اور ان کے رنگوں کا اہتمام کرنے کا بیان
4 Hadith
21
مجاہد کو الوداع کہنے، اس کا استقبال کرنے اور امام کا اس کو وصیت کرنے کا بیان
12 Hadith
22
مخصوص اوقات میں غزوہ کے لیے روانہ ہونے کے مستحب ہونے، دشمن سے لڑائی شروع کرنے، صفوں کو ترتیب دینے اور مسلمانوں کے شعار کا بیان
10 Hadith
23
جنگ میں فخر کرنے کے مستحب ہونے اور دشمنوں سے مقابلہ کرنے کی تمنا کرنے اور لشکر کی اکثریت سے دھوکہ کھانے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
24
جس کے ہاں اسلام کی علامت موجود ہو، اس پر شب خون مارنے کے وقت رک جانے کا بیان
2 Hadith
25
اسلام کی معرفت ہو جانے کے بعد لڑائی کرنے والے سے رک جانے، اس کو قتل کر دینے کی وعید اور اس کا کلام نہ سمجھنے کی وجہ سے غلطی سے اس کو قتل کر دینے والے کے عذر کا بیان
8 Hadith
26
کافروں پر اچانک حملہ کرنے کا بیان، اگرچہ اس میں ان کے بچے قتل ہو جائیں
5 Hadith
27
عورتوں، بچوں، پادریوں اور انتہائی بوڑھے لوگوں کو بالارادہ قتل کرنے سے روکنے کا بیان
8 Hadith
28
مثلہ، جلانے، درخت کاٹنے اور عمارتیں گرانے سے ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی ضرورت اور مصلحت ہو
9 Hadith
29
لڑائی کے وقت بھاگ جانے کی حرمت کا بیان، الا یہ کہ آدمی نے اپنی جماعت کو ملنا ہو، اگرچہ وہ جماعت دور ہو
3 Hadith
30
فتح والے مقام میں تین دن ٹھہرنے کے مستحب ہونے کا بیان
2 Hadith
31
اس امر کا بیان کہ غنیمت کا حلال ہونانبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کی امت کے خصائص میں سے ہے اور تقسیم سے قبل غنیمت سے متعلقہ احکام کاذکر
9 Hadith
32
جس جس عامل نے میدان جنگ میں اپنی طاقت کے بقدر کام کیا،ان میں برابری کے ساتھ مالِ غنیمت تقسیم کرنے کا بیان
4 Hadith
33
غنیمت کے خُمُس کا اللہ اور اس کے رسول کے لیے فرض ہونے اور اس کی تقسیم کا بیان
9 Hadith
34
غنیمت کے پانچ حصوں میں چار حصوں کی تقسیم، گھوڑ سوار اور پیادہ کا حق اور خاتون اور غلام وغیرہ کو معمولی مقدار میںعطیہ دینا
9 Hadith
35
اس چیز کا بیان کہ سلب قاتل کا ہو گا اور اس میں سے خُمُس نہیں لیا جائے گا
9 Hadith
36
لشکر کے بعض افراد کو اس بنا پر زائد حصہ دینے کا بیان کہ انھوں نے لڑائی لڑی یا مشکلات کو برداشت کیا
2 Hadith
37
لشکر کے سریہ کو زائد حصہ دینے اور پھر ان دونوں کو غنیمت میں شریک کرنے کا بیان
6 Hadith
38
مالِ فے کے مصرف کا بیان
6 Hadith
39
تالیف ِ قلبی کے لیے دینے کا بیان
2 Hadith
40
امیر اور عامل کے تحائف
2 Hadith
41
خیانت کے حرام ہونے اور اس میں سختی کا بیان، نیز خائن کا سامانِ سفر جلانے اور لوٹ مار کا بیان
12 Hadith
42
قیدیوں کے حق میں احسان کرنے، ان سے فدیہ لینے اور ان سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب ہوازن کے وفود پر ان کے قیدیوں کے معاملے میں احسان کرنے کا باب
2 Hadith
43
سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قید اور فدیے اور اس معاملے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ایک معجزے کا بیان
2 Hadith
44
اس آدمی کا بیان جس نے اپنے باپ کے فدیے میں چار ہزار درہم دیئے
3 Hadith
45
سیدہ زینب بنت رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے خاوند سیدنا ابو العاص کا فدیہ
1 Hadith
46
ایک مشرک کے فدیے میں دو مسلمان لینے کا بیان ان قیدیوں کا بیان جنھوں نے اپنے فدیے میں انصاریوں کے بچوں کو کتابت کی تعلیم دی
4 Hadith
47
بدر کے قیدیوں کے فدیے اور اس کی وجہ سے نازل ہونے والے قرآن کا بیان
3 Hadith
48
ان امور سے ممانعت کابیان: احتلام ہونے یا زیر ناف بالوں کے اگنے سے پہلے قیدی کو قتل کرنا، دوسرے کے قیدی کو قتل کرنا، قیدیوں میں والدہ اور اس کی اولاد میں تفریق ڈالنا، حاملہ قیدی خواتین سے جماع کرنا اور قیدی کو باندھ کر مارنا
10 Hadith
49
اس قیدی کا بیان جو قید سے پہلے قبولیت ِ اسلام کا دعوی کر دے، نیز اسلام قبول کرنے والے قیدی کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
50
مسلمان ہونے والے قیدی کا مسلمانوں کی ملکیت میں ہی رہنے کا اور عربوں کو غلام بنانے کے جواز کا بیان
3 Hadith
51
اس چیز کا بیان کہ جاسوس کے ساتھ کیا کیا جائے، وہ مسلمان ہو یا حربی یا ذمی
3 Hadith
52
اس چیز کا بیان کہ جب کافر کا غلام مسلمان ہو کر ہمارے پاس آ جائے تو وہ آزاد ہو گا
4 Hadith
53
اس چیز کا بیان کہ اگر حربی قابو میں آنے سے پہلے مسلمان ہو گیا تو اپنے مال کو بچا لے گا، نیز غنیمت والی زمین کا حکم
6 Hadith
No chapter matched that.