۔ (۴۹۴۰)۔ عَنْ عَلِیٍّ رضی اللہ عنہ قَالَ: إِنَّ اللّٰہَ
عَزَّوَجَلَّ سَمَّی الْحَرْبَ عَلٰی لِسَانِ نَبِیِّہِ خُدْعَۃً، قَالَ رَحْمَوَیْہِ فِی حَدِیثِہِ: عَلٰی لِسَانِ نَبِیِّکُمْ۔ (مسند أحمد: ۶۹۶)
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبان پر لڑائی کا نام دھوکہ رکھا ہے۔
Takhreej
(۴۹۴۰) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابویعلی: ۴۹۴، وابن ابی شیبۃ: ۱۲/ ۵۲۹ (انظر: ۶۹۶)
Explanation
فوائد:… لڑائی کو اس اعتبار سے دھوکہ قرار دیا گیا ہے کہ اظہار کسی اور چیز کا کیا جاتا ہے، جبکہ مخفی بات اور ہوتی ہے۔ لیکن جس دھوکے سے عہد و امان توڑا جا رہا ہو، وہ ناجائز ہو گا۔
4940
Sahih