۔ (۴۸۶۹)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مِنْ غَزْوَۃِ تَبُوکَ، فَدَنَا مِنْ الْمَدِینَۃِ قَالَ: ((إِنَّ بِالْمَدِینَۃِ لَقَوْمًا مَا سِرْتُمْ مَسِیرًا وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِیًا إِلَّا کَانُوْا مَعَکُمْ فِیہِ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَہُمْ بِالْمَدِینَۃِ؟ قَالَ: ((وَہُمْ بِالْمَدِینَۃِ حَبَسَہُمْ الْعُذْرُ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۹۰۵)
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ تبوک سے لوٹے اور مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک مدینہ میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں کہ جب بھی تم چلے اور تم نے جو وادی بھی عبور کی، وہ تمہارے ساتھ تھے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جبکہ وہ مدینہ میں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں وہ مدینہ میں ہیں، دراصل ان کو عذر نے روک رکھا ہے۔
Takhreej
(۴۸۶۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۸۳۸، ۲۸۳۹، ۴۴۲۳ (انظر: ۱۲۸۷۴)
Explanation
فوائد:… بعض صحابۂ کرام معذور ہونے کی وجہ سے جہاد نہ کرسکتے، لیکن ان کی شدید تمنا اور خواہش یہ ہوتی کہ کاش وہ معذور نہ ہوتے تاکہ جہاد میں شرکت کرتے، اس خواہش کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو جہاد کا ثواب عطا کر دیا۔
4869
Sahih