TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 271 - علم اور اس کی فضیلت کا بیان - Mishkat in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 74 of 83 in this chapter
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وِعَاءَيْنِ فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَبَثَثْتُهُ فِيكُمْ وَأَمَّا الْآخَرُ فَلَوْ بَثَثْتُهُ قُطِعَ هَذَا الْبُلْعُومُ يَعْنِي مجْرى الطَّعَام» رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے (علم کے) دو ظروف یاد کیے ، ان میں سے ایک میں نے تمہارے درمیان نشر کر دیا ، رہی دوسری قسم تو اگر میں اسے نشر کردوں تو میرا گلا کاٹ دیا جائے ۔ رواہ البخاری (۱۲۰) ۔
271
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
(صَحِيح)
Conclusion
تخریج
رواہ البخاری (۱۲۰) ۔

Related Chapters

0
No related chapter found.
No related chapter matched that.

Related Hadith

384
Sahih Bukhari
120
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَخِي ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وِعَاءَيْنِ ، فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَبَثَثْتُهُ ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَلَوْ بَثَثْتُهُ قُطِعَ هَذَا الْبُلْعُومُ .
Narrated Abu Huraira: I have memorized two kinds of knowledge from Allah's Apostle . I have propagated one of them to you and if I propagated the second, then my pharynx (throat) would be cut (i.e. killed).
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے ان کے بھائی (عبدالحمید) نے ابن ابی ذئب سے نقل کیا۔ وہ سعید المقبری سے روایت کرتے ہیں، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( علم کے ) دو برتن یاد کر لیے ہیں، ایک کو میں نے پھیلا دیا ہے اور دوسرا برتن اگر میں پھیلاؤں تو میرا یہ نرخرا کاٹ دیا جائے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ «بلعوم» سے مراد وہ نرخرا ہے جس سے کھانا اترتا ہے۔
Mishkat
1644
عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ أُتِيَ بِطَعَامٍ وَكَانَ صَائِمًا فَقَالَ: قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي كُفِّنَ فِي بُرْدَةٍ إِنْ غُطِّيَ رَأْسُهُ بَدَتْ رِجْلَاهُ وَإِنْ غُطِّيَ رِجْلَاهُ بَدَا رَأْسُهُ وَأَرَاهُ قَالَ: وَقُتِلَ حَمْزَةُ وَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي ثُمَّ بُسِطَ لَنَا مِنَ الدُّنْيَا مَا بُسِطَ أَوْ قَالَ: أُعْطِينَا مِنَ الدُّنْيَا مَا أُعْطِينَا وَلَقَدْ خَشِينَا أَنْ تَكُونَ حَسَنَاتُنَا عُجِّلَتْ لَنَا ثُمَّ جَعَلَ يَبْكِي حَتَّى تَرَكَ الطَّعَامَ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
سعد بن ابراہیم ؒ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ عبدالرحمن بن عوف ؓ روزے سے تھے کہ (افطار کے لیے) ان کے پاس کھانا لایا گیا تو انہوں نے فرمایا : مصعب بن عمیر ؓ شہید کر دیے گئے جبکہ وہ مجھ سے بہتر تھے ، انہیں ایک چادر میں کفن دیا گیا ، اگر ان کا سر ڈھانپا جاتا تو ان کے پاؤں ننگے ہو جاتے اور اگر ان کے پاؤں ڈھانپے جاتے تو ان کا سر ننگا ہو جاتا ۔ راوی کہتے ہیں ، میرا خیال ہے کہ انہوں نے فرمایا : حمزہ ؓ شہید کر دیے گئے جبکہ وہ مجھ سے بہتر تھے ، پھر ہم پر دنیا کی نعمتیں وافر کر دی گئیں ، یا فرمایا : ہمیں بہت زیادہ دنیا کا مال و متاع عطا کر دیا گیا کہ ہمیں اندیشہ ہوا کہ ہماری نیکیوں کا بدلہ ہمیں دنیا ہی میں دے دیاگیا ہے ، پھر انہوں نے رونا شروع کر دیا حتیٰ کہ کھانا بھی ترک کر دیا ۔ رواہ البخاری ۔
Mishkat
2123
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَكَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِفْظِ زَكَاةِ رَمَضَانَ فَأَتَانِي آتٍ فَجَعَلَ يَحْثُو من الطَّعَام فَأَخَذته وَقلت وَالله لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي مُحْتَاجٌ وَعَلَيَّ عِيَالٌ وَلِي حَاجَةٌ شَدِيدَةٌ قَالَ فَخَلَّيْتُ عَنْهُ فَأَصْبَحْتُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَة مَا فعل أسيرك البارحة» . قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَكَا حَاجَةً شَدِيدَةً وَعِيَالًا فَرَحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ قَالَ: «أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَذَبَكَ وَسَيَعُودُ» . فَعَرَفْتُ أَنَّهُ سَيَعُودُ لِقَوْلِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّهُ سيعود» . فَرَصَدْتُهُ فَجَاءَ يَحْثُو مِنَ الطَّعَامِ فَأَخَذْتُهُ فَقُلْتُ: لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَعْنِي فَإِنِّي مُحْتَاجٌ وَعَلَيَّ عِيَالٌ لَا أَعُودُ فَرَحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ فَأَصْبَحْتُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ؟» قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَكَا حَاجَةً شَدِيدَةً وَعِيَالًا فَرَحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ قَالَ: «أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَذبك وَسَيَعُودُ» . فرصدته الثَّالِثَة فَجَاءَ يَحْثُو مِنَ الطَّعَامِ فَأَخَذْتُهُ فَقُلْتُ لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُول الله وَهَذَا آخِرُ ثَلَاثِ مَرَّاتٍ إِنَّكَ تَزْعُمُ لَا تَعُودُ ثُمَّ تَعُودُ قَالَ دَعْنِي أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ ينفعك الله بهَا قلت مَا هُوَ قَالَ إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَاقْرَأْ آيَةَ الْكُرْسِيِّ (اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ) حَتَّى تَخْتِمَ الْآيَةَ فَإِنَّكَ لَنْ يَزَالَ عَلَيْكَ من الله حَافظ وَلَا يقربنك شَيْطَانٌ حَتَّى تُصْبِحَ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ فَأَصْبَحْتُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ؟» قُلْتُ: زَعَمَ أَنَّهُ يُعَلِّمُنِي كَلِمَات يَنْفَعنِي الله بهَا فخليت سبيلهقال النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «أما إِنَّه قد صدقك وَهُوَ كذوب تعلم من تخاطب مُنْذُ ثَلَاث لَيَال» . يَا أَبَا هُرَيْرَة قَالَ لَا قَالَ: «ذَاك شَيْطَان» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مجھے صدقہ فطر کی حفاظت کرنے پر مامور فرمایا ، پس ایک شخص میرے پاس آیا اور غلے سے لپیں بھرنے لگا ، میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا : میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر جاؤں گا ، اس نے کہا : میں محتاج ہوں ، میرے بچے ہیں اور میں بہت ضرورت مند ہوں ، راوی بیان کرتے ہیں ، میں نے اسے چھوڑ دیا ، صبح ہوئی تو نبی ﷺ نے فرمایا :’’ ابوہریرہ ! گزشتہ رات تیرے قیدی نے کیا کیا ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اس نے سخت ضرورت اور بچوں کی شکایت کی تو مجھے اس پر رحم آ گیا اور میں نے اسے چھوڑ دیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس نے تمہارے ساتھ غلط بیانی کی اور وہ پھر آئے گا ۔‘‘ میں نے جان لیا کہ رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق وہ پھر آئے گا لہذا میں اس کی تاک میں بیٹھ گیا ، وہ آیا اور غلہ بھرنے لگا تو میں نے اسے پکڑ لیا ، اور میں نے کہا : میں تمہیں ضرور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کروں گا ۔ اس نے کہا : میں ضرورت مند اور عیال دار ہوں ، میں پھر نہیں آؤں گا ۔ میں نے اس پر ترس کھاتے ہوئے اسے چھوڑ دیا ، صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے پوچھا :’’ ابوہریرہ ! تمہارے قیدی کا کیا ہوا ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اس نے سخت ضرورت اور بچوں کی شکایت کی تو میں نے اس پر رحم کھاتے ہوئے اسے چھوڑ دیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس نے تو تم سے غلط بیانی کی اور وہ پھر آئے گا ۔‘‘ میں نے جان لیا کہ رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق وہ ضرور آئے گا ۔ میں اس کی تاک میں بیٹھ گیا ، وہ آیا اور غلہ بھرنے لگا تو میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا : میں تمہیں ضرور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کروں گا اور یہ تیسری اور آخری مرتبہ ہے ، تم کہتے ہو میں پھر نہیں آؤں گا لیکن پھر آ جاتے ہو ، اس نے کہا مجھے چھوڑ دو ، میں تمہیں چند کلمات سکھاؤں گا جن کے ذریعے اللہ تمہیں فائدہ پہنچائے گا ۔ جب تم سونے کے لیے اپنے بستر پر آؤ تو مکمل آیت الکرسی پڑھو ، اس طرح اللہ کی طرف سے تم پر ایک محافظ مقرر ہو جائے گا اور شیطان تمہارے قریب نہیں آئے گا حتیٰ کہ صبح ہو جائے گی ، میں نے اسے چھوڑ دیا ، صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ تمہارے قیدی نے کیا کیا ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، اس نے کہا کہ وہ مجھے چند کلمات سکھائے گا جن کے ذریعے اللہ مجھے فائدہ پہنچائے گا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس نے تم سے سچ کہا حالانکہ وہ جھوٹا ہے ، کیا تم جانتے ہو کہ تم تین روز سے کس کے ساتھ باتیں کرتے رہے ہو ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ شیطان تھا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Mishkat
2930
عَن زهرَة بن معبد: أَنَّهُ كَانَ يَخْرُجُ بِهِ جَدُّهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هِشَامٍ إِلَى السُّوقِ فَيَشْتَرِيَ الطَّعَامَ فَيَلْقَاهُ ابْنُ عُمَرَ وَابْنُ الزُّبَيْرِ فَيَقُولَانِ لَهُ: أَشْرِكْنَا فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ دَعَا لَكَ بِالْبَرَكَةِ فَيُشْرِكُهُمْ فَرُبَّمَا أَصَابَ الرَّاحِلَةَ كَمَا هِيَ فَيَبْعَثُ بِهَا إِلَى الْمَنْزِلِ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هِشَامٍ ذَهَبَتْ بِهِ أُمُّهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَ رَأسه ودعا لَهُ بِالْبركَةِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
زہرہ بن معبد سے روایت ہے کہ ان کے دادا عبداللہ بن ہشام ؓ انہیں بازار لے جاتے اور غلہ خریدتے ، پھر ابن عمر ؓ اور ابن زبیر ؓ انہیں ملتے تو وہ انہیں (عبداللہ بن ہشام ؓ سے) کہتے : ہمیں بھی شریک کر لو ، کیونکہ نبی ﷺ نے آپ کے لیے برکت کی دعا فرمائی ہے ، وہ انہیں شریک کر لیتے ، بسا اوقات انہیں پورے اونٹ کے سامان کا نفع ہو جاتا تو وہ اسے اپنے گھر کی طرف بھیج دیتے ، اور عبداللہ بن ہشام ؓ کو ان کی والدہ نبی ﷺ کے پاس لے کر گئی تھیں تو آپ نے اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا ، اور اس کے لیے برکت کی دعا کی تھی ۔
Mishkat
2940
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ فَأَرْسَلَتْ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ بِصَحْفَةٍ فِيهَا طَعَامٌ فَضَرَبَتِ الَّتِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهَا يَدَ الْخَادِمِ فَسَقَطَتِ الصَّحْفَةُ فَانْفَلَقَتْ فَجَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِلَقَ الصَّحْفَةِ ثُمَّ جَعَلَ يَجْمَعُ فِيهَا الطَّعَامَ الَّذِي كَانَ فِي الصَّحْفَةِ وَيَقُولُ: «غَارَتْ أُمُّكُمْ» ثُمَّ حَبَسَ الْخَادِمَ حَتَّى أُتِيَ بِصَحْفَةٍ مِنْ عِنْدِ الَّتِي هُوَ فِي بَيْتُهَا فَدَفَعَ الصَّحْفَةَ الصَّحِيحَةَ إِلَى الَّتِي كُسِرَتْ صَحْفَتُهَا وَأَمْسَكَ الْمَكْسُورَةَ فِي بَيْتِ الَّتِي كَسَرَتْ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ اپنی کسی زوجہ محترمہ کے پاس تھے تو آپ کی کسی زوجہ محترمہ نے پلیٹ میں کھانا بھیجا تو جن کے گھر نبی ﷺ تشریف فرما تھے انہوں نے خادم کے ہاتھ پر مارا تو وہ پلیٹ گر کر ٹوٹ گئی ، نبی ﷺ نے پلیٹ کے ٹکڑے اکٹھے کیے ، اور بکھرے ہوئے کھانے کو اٹھایا ، ساتھ میں کہنے لگے :’’ تمہاری ماں نے غیرت کھائی ۔‘‘ پھر آپ نے خادم کو روکا حتی کہ اسے زوجہ محترمہ کے گھر سے ، جن کے گھر آپ تشریف فرما تھے ، صحیح پلیٹ دی اور وہ ٹوٹی ہوئی پلیٹ اس زوجہ محترمہ کے گھر رکھ دی جنہوں نے توڑی تھی ۔ رواہ البخاری ۔
Mishkat
5910
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا نَعُدُّ الْآيَاتِ بَرَكَةً وَأَنْتُمْ تَعُدُّونَهَا تَخْوِيفًا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَقَلَّ الْمَاءُ فَقَالَ: «اطْلُبُوا فَضْلَةً مِنْ مَاءٍ» فَجَاءُوا بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ قَلِيلٌ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ ثُمَّ قَالَ: «حَيَّ على الطَّهورِ الْمُبَارك وَالْبركَة من الله» فَلَقَد رَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَقَد كُنَّا نَسْمَعُ تَسْبِيحَ الطَّعَامِ وَهُوَ يُؤْكَلُ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم تو آیات و معجزات کو باعث برکت شمار کیا کرتے تھے جبکہ تم انہیں باعث تخویف سمجھتے ہو ، ہم ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک سفر تھے کہ پانی کم پڑ گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو پانی بچ گیا ہے اسے لے کر آؤ ۔‘‘ وہ ایک برتن لائے جس میں تھوڑا سا پانی تھا ، آپ ﷺ نے اپنا دست مبارک برتن میں داخل فرمایا ، پھر فرمایا :’’ مبارک پانی حاصل کرو اور برکت اللہ کی طرف سے ہوئی ہے ۔‘‘ اور میں نے رسول اللہ ﷺ کی انگلیوں سے پانی پھوٹتے ہوئے دیکھا ، اور کھانا کھانے کے دوران ہم کھانے کی تسبیح سنا کرتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔
Mishkat
5965
وَعَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: «يَا عَائِشَةُ مَا أَزَالُ أَجِدُ أَلَمَ الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْتُ بِخَيْبَرَ وَهَذَا أَوَانُ وَجَدْتُ انْقِطَاعَ أَبهري من ذَلِك السم» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ اپنے مرض وفات میں فرما رہے تھے :’’ عائشہ ! میں نے جو کھانا خیبر کے موقع پر کھایا تھا اس کی تکلیف مسلسل اٹھاتا رہا ہوں ، اور یہ وہ وقت آ گیا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس زہر کی وجہ سے میری شہ رگ کٹ جائے گی ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Mishkat
6221
وَعَنْهُ قَالَ: مَرَّ أَبُو بَكْرٍ وَالْعَبَّاسُ بِمَجْلِسٍ من مجَالِس الْأَنْصَار وهم يَبْكُونَ فَقَالَ: مَا يُبْكِيكُمْ؟ قَالُوا: ذَكَرْنَا مَجْلِسَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَّا فَدَخَلَ أَحَدُهُمَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ عَصَّبَ عَلَى رَأْسِهِ حَاشِيَةَ بُرْدٍ فَصَعِدَ الْمِنْبَر وَلم يَصْعَدهُ بعد ذَلِك الْيَوْم. فَحَمدَ الله وَأَثْنَى عَلَيْهِ. ثُمَّ قَالَ: «أُوصِيكُمْ بِالْأَنْصَارِ فَإِنَّهُمْ كَرِشِي وَعَيْبَتِي وَقَدْ قَضَوُا الَّذِي عَلَيْهِمْ وَبَقِيَ الَّذِي لَهُمْ فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مسيئهم» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ابوبکر اور عباس ؓ انصار کی ایک مجلس کے پاس سے گزرے تو وہ اس وقت رو رہے تھے ۔ انہوں نے پوچھا : تم کیوں رو رہے ہو ؟ انہوں نے کہا : ہم نے نبی ﷺ کی مجلس کو یاد کیا جس میں ہم (بیٹھا کرتے) تھے ، ان دونوں میں سے ایک نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے اس کے متعلق آپ کو بتایا ، نبی ﷺ اپنے سر مبارک پر کپڑے کی پٹی باندھے ہوئے باہر تشریف لائے اور منبر پر جلوہ افروز ہوئے ، اور اس روز کے بعد آپ منبر پر تشریف نہ لا سکے ، آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر فرمایا :’’ میں انصار کے بارے میں تمہیں وصیت کرتا ہوں ، وہ میرے جسم و جان (دست و بازو) ہیں ، وہ اپنی ذمہ داریاں نبھا چکے ، اب ان کے حقوق باقی ہیں ، تم ان کے نیکوکاروں کی طرف سے (عذر) قبول کرنا اور ان کے خطاکاروں سے درگزر کرنا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Mishkat
6222
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ حَتَّى جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ النَّاسَ يَكْثُرُونَ وَيَقِلُّ الْأَنْصَارُ حَتَّى يَكُونُوا فِي النَّاسِ بِمَنْزِلَةِ الْمِلْحِ فِي الطَّعَامِ فَمَنْ وَلِيَ مِنْكُمْ شَيْئًا يَضُرُّ فِيهِ قَوْمًا وَيَنْفَعُ فِيهِ آخَرين فليقبل عَن محسنهم وليتجاوز عَن مسيئهم» رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ اپنے مرض وفات میں باہر تشریف لائے اور منبر پر جلوہ افروز ہوئے ، آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر فرمایا :’’ امابعد ! باقی لوگ تو بہت زیادہ ہو جائیں گے جبکہ انصار کم ہو جائیں گے حتیٰ کہ وہ لوگوں میں نمک کے تناسب سے ہو جائیں گے ، تم میں سے جو شخص کسی ایسی چیز کا ذمہ دار و سرپرست ہو جس میں وہ کسی نقصان اور کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہو تو وہ ان (انصار) کے نیکوکاروں کے نیک کاموں کو قبول کرے اور ان کے خطاکاروں سے درگزر کرے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔