TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بَاب الْخَاتم - انگوٹھی کا بیان - لباس کا بیان - Mishkat with Urdu and English Translation

Chapter 1 of لباس کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 4 · 24 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: اتَّخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ وَفِي رِوَايَةٍ: وَجَعَلَهُ فِي يَدِهِ الْيُمْنَى ثُمَّ أَلْقَاهُ ثُمَّ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ الْوَرق نُقِشَ فِيهِ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَقَالَ: «لَا يَنْقُشَنَّ أَحَدٌ عَلَى نَقْشِ خَاتَمِي هَذَا» . وَكَانَ إِذَا لَبِسَهُ جَعَلَ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي بَطْنَ كَفه
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے سونے کی انگوٹھی حاصل کی ، ایک دوسری روایت میں ہے : آپ ﷺ نے اسے دائیں ہاتھ میں پہنا ، پھر اسے پھینک دیا ، پھر آپ نے چاندی کی انگوٹھی حاصل کی جس پر محمد رسول اللہ نقش کیا گیا تھا ، اور آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کوئی شخص میری اس انگوٹھی کے نقش کی طرح کندہ نہ کرے ۔‘‘ اور جب آپ اسے پہنتے تو اس کے نگینے کو ہتھیلی کی اندرونی طرف کر لیتے ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۸۶۶) و مسلم (۵۵ / ۲۰۹۲) ۔ 5477
4383
Sahih
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ وَعَنْ تَخْتُّمِ الذَّهَبِ وَعَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي الرُّكُوعِ. رَوَاهُ مُسلم
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے قس کے اور زرد رنگ کے کپڑے پہننے ، سونے کی انگوٹھی پہننے اور رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا ہے ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۲۹ / ۲۰۷۸) ۔ 5437
4384
Sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فِي يَدِ رَجُلٍ فَنَزَعَهُ فَطَرَحَهُ فَقَالَ: «يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ إِلَى جَمْرَةٍ مِنْ نَارٍ فَيَجْعَلُهَا فِي يَدِهِ؟» فَقِيلَ لِلرَّجُلِ بَعْدَمَا ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُذْ خَاتَمَكَ انْتَفِعْ بِهِ. قَالَ: لَا وَاللَّهِ لَا آخُذُهُ أَبَدًا وَقَدْ طَرَحَهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسلم
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی آدمی کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو اسے اتار کر پھینک دیا ، اور فرمایا :’’ تم میں سے کوئی شخص آگ کے انگارے کا قصد کرتا ہے تو اسے اپنے ہاتھ پر رکھ لیتا ہے ۔‘‘ رسول اللہ ﷺ کے تشریف لے جانے کے بعد اس آدمی سے کہا گیا ، اپنی انگوٹھی پکڑ لو اور اس سے فائدہ اٹھاؤ ، اس نے کہا : اللہ کی قسم ! جب رسول اللہ ﷺ نے اسے پھینک دیا ہے تو میں اسے کبھی بھی نہیں اٹھاؤں گا ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۵۲ / ۲۰۹۰) ۔ 5472
4385
Sahih
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى كِسْرَى وَقَيْصَرَ وَالنَّجَاشِيِّ فَقِيلَ: إِنَّهُمْ لَا يَقْبَلُونَ كِتَابًا إِلَّا بِخَاتَمٍ فَصَاغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا حَلْقَةَ فِضَّةٍ نُقِشَ فِيهِ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ: كَانَ نَقْشُ الْخَاتَمِ ثَلَاثَةَ أَسْطُرٍ: مُحَمَّدٌ سَطْرٌ ورسولُ الله سطر وَالله سطر
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے کسریٰ ، قیصر اور نجاشی کے نام خط لکھنے کا ارادہ فرمایا تو آپ سے عرض کیا گیا کہ وہ صرف سربمہر خط ہی وصول کرتے ہیں ، تب رسول اللہ ﷺ نے چاندی کے حلقے کی انگوٹھی بنوائی ، اس میں ’’محمد رسول اللہ‘‘ نقش کیا گیا ۔ مسلم اور بخاری کی روایت میں ہے : انگوٹھی کا نقش تین سطروں میں تھا :’’ محمد ‘‘ ایک سطر میں ، ’’رسول‘‘ ایک سطر میں اور ’’اللہ‘‘ ایک سطر میں تھا ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۸۷۵ ، ۵۸۷۸) و مسلم (۵۸ / ۲۰۹۲) ۔ 5482
4386
Sahih
وَعَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ خَاتَمُهُ مِنْ فِضَّةٍ وَكَانَ فَصُّهُ مِنْهُ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کی انگوٹھی چاندی کی تھی ، اور اس کا نگینہ بھی اسی کا تھا ۔ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۵۸۷۰) ۔
4387
Sahih
وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِسَ خَاتَمَ فِضَّةٍ فِي يَمِينِهِ فِيهِ فَصٌّ حَبَشِيٌّ كَانَ يَجْعَلُ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي كَفه
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی اپنے دائیں ہاتھ میں پہنی ، اس میں حبشی نگینہ تھا ، آپ اس کا نگینہ اپنی ہتھیلی کی طرف رکھتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۸۶۵) و مسلم (۶۲ / ۲۰۹۴) ۔ 5487
4388
Sahih
وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذِهِ وَأَشَارَ إِلَى الْخِنْصِرِ منْ يَده الْيُسْرَى. رَوَاهُ مُسلم
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ کی انگوٹھی اس (انگلی) میں تھی ، اور انہوں نے بائیں ہاتھ کی چھنگلی کی طرف اشارہ کیا ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۶۳ / ۲۰۹۵) ۔ 5489
4389
Sahih
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم إِن أَتَخَتَّمَ فِي إِصْبَعِي هَذِهِ أَوْ هَذِهِ قَالَ: فَأَوْمَأَ إِلَى الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِيهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مجھے منع فرمایا کہ میں اپنی اس یا اس انگلی میں انگوٹھی پہنوں ۔ آپ ﷺ نے درمیانی اور اس کے ساتھ والی (انگشت شہادت) کی طرف اشارہ کیا ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۶۵ / ۲۰۷۸) ۔ 5493
4390
Sahih
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَتَّمُ فِي يَمِينه. رَوَاهُ ابْن مَاجَه
عبداللہ بن جعفر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ اپنے دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنا کرتے تھے ۔ صحیح ، رواہ ابن ماجہ ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ ابن ماجہ (۳۶۴۷) ۔
4391
Sahih
وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ عَن عَليّ
امام ابوداؤد اور امام نسائی نے اسے علی ؓ سے روایت کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۴۲۲۶) و النسائی (۸ / ۱۷۴ ۔ ۱۷۵ ح ۵۲۰۶) ۔
4392
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يتختم فِي يسَاره. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ اپنے بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنا کرتے تھے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ ابوداؤد (۴۲۲۷) و حدیثہ بطولہ شاذ و لھذا المتن شاھد فی صحیح مسلم (۲۰۹۵) و بہ صح ھذا المتن فقط دون المتن الطویل ۔
4393
Sahih
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ حَرِيرًا فَجَعَلَهُ فِي يَمِينِهِ وَأَخَذَ ذَهَبًا فَجَعَلَهُ فِي شِمَالِهِ ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ هَذَيْنِ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمتي» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
علی ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ریشم پکڑا اور اسے اپنے دائیں ہاتھ پر رکھ لیا ، پھر آپ ﷺ نے سونا پکڑا اور اسے اپنے بائیں ہاتھ پر رکھ لیا ، پھر فرمایا :’’ بے شک یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و ابوداؤد و النسائی ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ احمد (۱ / ۹۶ ح ۷۵۱) و ابوداؤد (۴۰۵۷) و النسائی (۸ / ۱۶۰ ح ۵۱۴۷ ۔ ۵۱۵۰) ۔
4394
Sahih
وَعَن مُعَاوِيَةُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ رُكُوبِ النُّمُورِ وَعَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ
معاویہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چیتوں کی کھال پر سواری کرنے اور سونا پہننے سے منع فرمایا ، ہاں البتہ ٹکڑوں کی شکل میں پہننے کی رخصت فرمائی ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ ابوداؤد (۴۲۳۹) و النسائی (۸ / ۱۶۱ ح ۵۱۵۲ ۔ ۵۱۵۴) ۔
4395
Sahih
وَعَنْ بُرَيْدَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ عَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ شَبَهٍ: «مَا لِي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ الْأَصْنَامِ؟» فَطَرَحَهُ ثُمَّ جَاءَ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ فَقَالَ: «مَا لِي أَرَى عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَهْلِ النَّارِ؟» فَطَرَحَهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ أَيِّ شَيْءٍ أَتَّخِذُهُ؟ قَالَ: «مِنْ وَرِقٍ وَلَا تُتِمَّهُ مِثْقَالا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو پیتل کی انگوٹھی پہنے ہوئے دیکھا تو اسے فرمایا :’’ مجھے کیا ہے کہ میں تجھ سے بتوں کی بو محسوس کر رہا ہوں ؟‘‘ اس شخص نے اسے پھینک دیا ۔ پھر وہ آیا تو اس نے لوہے کی انگوٹھی پہن رکھی تھی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے کیا ہے کہ میں تجھ پر جہنمیوں کا زیور دیکھ رہا ہوں ؟‘‘ اس نے اسے پھینک دیا ، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں کس دھات سے انگوٹھی بنواؤں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ چاندی سے اور وہ بھی مثقال سے کم ہو ۔‘‘ اور محی السنہ ؒ نے فرمایا : حق مہر کے بارے میں سہل بن سعد ؓ سے صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک آدمی سے فرمایا :’’ تلاش کرو خواہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہو ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و فی شرح السنہ ۔
Takhreej
حسن ، رواہ الترمذی (۱۷۸۵ وقال : غریب) و ابوداؤد (۴۲۲۳) و النسائی (۸ / ۱۷۲ ح ۵۱۹۸) و البغوی فی شرح السنۃ (۱۲ / ۵۹ بعد ح ۳۱۳۰) و الحدیث المذکور تقدم (۳۲۰۲) ۔
4396
Sahih
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ عَشْرَ خِلَالٍ: الصُّفْرَةَ يَعْنِي الخلوق وتغييرَ الشيب وجر الأزرار وَالتَّخَتُّمَ بِالذَّهَبِ وَالتَّبَرُّجَ بِالزِّينَةِ لِغَيْرِ مَحِلِّهَا وَالضَّرْبَ بِالْكِعَابِ وَالرُّقَى إِلَّا بِالْمُعَوِّذَاتِ وَعَقْدَ التَّمَائِمِ وَعَزْلَ الْمَاءِ لِغَيْرِ مَحِلِّهِ وَفَسَادَ الصَّبِيِّ غَيْرَ مُحَرِّمِهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ دس باتیں ناپسند فرماتے تھے ۔ زعفران لگانا ، بڑھاپے کو (کالا خضاب لگا کر) تبدیلی کرنا ، تہبند گھسیٹنا ، سونے کی انگوٹھی پہننا ، موقع محل کے بغیر بناؤ سنگار ظاہر کرنا ، شطرنج کھیلنا ، معوذات کے علاوہ کسی اور ورد سے دم کرنا ، منکے باندھنا ، پانی (یعنی منی) کا اس کی اصل جگہ (شرم گاہ) کے بغیر خارج کرنا اور بچے کے دودھ کو خراب کرنا (یعنی مدت رضاعت میں عورت سے جماع کرنا) لیکن اسے حرام قرار نہیں دیا گیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۴۲۲۲) و النسائی (۸ / ۱۴۱ ح ۵۰۹۱) * عبد الرحمن بن حرملۃ صدوق و ثقہ الجمھور و لکن فی سماعہ من عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نظر فالخبر معلول ۔
4397
Zaeef
وَعَن ابنِ الزبيرِ: أَنَّ مَوْلَاةً لَهُمْ ذَهَبَتْ بِابْنَةِ الزُّبَيْرِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَفِي رِجْلِهَا أَجْرَاسٌ فَقَطَعَهَا عمر وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَعَ كُلِّ جَرَسٍ شَيْطَانٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابن زبیر ؓ سے روایت ہے کہ ان کی ایک آزاد کردہ لونڈی تھی وہ زبیر ؓ کی بیٹی کو ، جس کے پاؤں میں گھنگھروں تھے ، عمر بن خطاب ؓ کے پاس لے گئی ، عمر ؓ نے انہیں کاٹ ڈالا اور فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ ہر گھنٹی (گھونگرو) کے ساتھ شیطان ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۴۲۳۰) * قال المنذری :’’ و مولاۃ لھم مجھولۃ و عامر (ابن عبداللہ بن الزبیر) لم یدرک عمر بن الخطاب ‘‘ ۔
4398
Zaeef
وَعَنْ بُنَانَةَ مَوْلَاةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَيَّانَ الْأنْصَارِيّ كانتْ عندَ عائشةَ إِذْ دُخِلَتْ عَلَيْهَا بِجَارِيَةٍ وَعَلَيْهَا جَلَاجِلُ يُصَوِّتْنَ فَقَالَتْ: لَا تُدْخِلُنَّهَا عَلَيَّ إِلَّا أَنْ تُقَطِّعُنَّ جَلَاجِلَهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ أَجْرَاس» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عبدالرحمن بن حیان انصاری ؓ کی آزاد کردہ لونڈی بنانہ ، عائشہ ؓ کے پاس موجود تھی ، اچانک کوئی بچی ان کے پاس لائی گئی اس نے گھنگھرو پہن رکھے تھے جن سے آواز آ رہی تھی ، حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : اسے میرے پاس اس وقت تک مت آنے دینا جب تک تم اس کے گھنگھرو نہیں کاٹ دیتے کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس گھر میں گھنٹی ہو اس میں (رحمت کے) فرشتے داخل نہیں ہوتے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۴۲۳۱) * فی السند بنانۃ لا تعرف و ابن جریج مدلس و عنعن ۔
4399
Zaeef
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ أَنَّ جَدَّهُ عَرفجةَ بن أسعد قُطِعَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكُلَابِ فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ وَرِقٍ فَأَنْتَنَ عَلَيْهِ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَّخِذَ أَنْفًا مِنْ ذَهَبٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
عبد الرحمن بن طرفہ سے روایت ہے کہ کلاب کی لڑائی کے دن ان کے دادا عرفجہ بن اسد ؓ کی ناک کاٹ دی گئی تو انہوں نے چاندی کی ناک لگا لی ، وہ بدبودار ہو گئی تو نبی ﷺ نے اسے سونے کی ناک لگانے کا حکم دیا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۱۷۷۰ وقال : حسن) و ابوداؤد (۴۲۳۲) و النسائی (۸ / ۱۶۳ ۔ ۱۶۴ ح ۵۱۶۴ ۔ ۵۱۶۵) ۔
4400
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُحَلِّقَ حَبِيبَهُ حَلَقَةً مِنْ نَارٍ فَلْيُحَلِّقْهُ حَلَقَةً مِنْ ذَهَبٍ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُطَوِّقَ حَبِيبَهُ طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَلْيُطَوِّقْهُ طَوْقًا مِنْ ذَهَبٍ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُسَوِّرَ حَبِيبَهُ سِوَارًا مِنْ نَار فليسوره مِنْ ذَهَبٍ وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِالْفِضَّةِ فَالْعَبُوا بِهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اپنے دوست کو آگ کا چھلا پہنانا پسند کرتا ہے تو وہ اسے سونے کا چھلا پہنا دے ، جو شخص اپنے دوست کو آگ کا طوق پہنانا پسند کرتا ہے تو وہ اسے سونے کا طوق پہنا دے ، جو شخص اپنے دوست کو آگ کے کنگن پہنانا پسند کرتا ہے تو وہ اسے سونے کے کنگن پہنا دے ، لیکن تم چاندی کو لازم پکڑو اور اس کے زیور بناؤ ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۴۲۳۶) * المراد بالحبیب : الرجل من الاولاد و الاخوۃ و غیرھم و اما النساء فالذھب لھن حلال ، وجاء فی مسند احمد (۴ / ۴۱۴) :’’ و حبیبۃ ‘‘ و سندہ ضعیف معلول ، الراوی : لم یحفظ السند و خبرہ شاذ ۔
4401
Sahih
وَعَن أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَقَلَّدَتْ قِلَادَةً مِنْ ذَهَبٍ قُلِّدَتْ فِي عُنُقِهَا مِثْلُهَا مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ جَعَلَتْ فِي أُذُنِهَا خُرْصًا مِنْ ذَهَبٍ جَعَلَ اللَّهُ فِي أُذُنِهَا مِثْلَهُ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ
اسماء بنت یزید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس عورت نے سونے کا ہار پہنا تو روزِ قیامت اس کی گردن میں آگ کا ہار ڈالا جائے گا ، اور جس عورت نے اپنے کان میں سونے کی بالی پہنی تو اللہ روزِ قیامت اس کے کان میں اسی کی مثل آگ ڈال دے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۴۲۲۸) و النسائی (۸ / ۱۵۷ ح ۵۱۴۲) * محمود بن عمرو : وثقہ ابن حبان وحدہ و جھلہ الذھبی وغیرہ و ضعفہ ابن حزم ۔
4402
Zaeef