TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 5509 - بَابُ قُرْبِ السَّاعَةِ وَأَنَّ مَنْ مَاتَ فَقَدْ قَامَت قِيَامَته - فتنوں کا بیان - Mishkat in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 7 in this chapter
بَابُ قُرْبِ السَّاعَةِ وَأَنَّ مَنْ مَاتَ فَقَدْ قَامَت قِيَامَته
قرب قیامت اور فوت شدہ پر قیامت قائم ہونے کا بیان
عَن شعبةَ عَن قَتَادَة عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ» . قَالَ شُعْبَةُ: وَسَمِعْتُ قَتَادَةَ يَقُولُ فِي قَصَصِهِ كفصل إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَلَا أَدْرِي أَذَكَرَهُ عَنْ أنس أَو قَالَه قَتَادَة؟ مُتَّفق عَلَيْهِ
شعبہ ، قتادہ سے ، وہ انس ؓ سے بیان کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں اور قیامت ان دونوں (انگلیوں) کی طرح بھیجے گئے ہیں ۔‘‘ شعبہ نے بیان کیا ، میں نے قتادہ ؒ سے سنا وہ یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کرتے تھے ۔ جس طرح ان دونوں (انگلیوں) میں سے ایک کو دوسری پر فضیلت حاصل ہے ۔ میں نہیں جانتا کہ آیا انہوں نے اسے انس ؓ سے نقل کیا ہے یا قتادہ ؒ کا اپنا بیان ہے ۔ متفق علیہ ۔
5509
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
(مُتَّفق عَلَيْهِ)
Conclusion
تخریج
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۵۰۴) و مسلم (۱۳۳ / ۲۹۵۱) ۔ 7404

Related Chapters

292
1
Chapter: The Hour Will Not Be Established until A Fire Comes From The Direction Of The Hijaz
باب: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ حجاز کی طرف سے آگ نکلے
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About 'The Hour Shall Not Be Established Until The Liars Appear'
باب: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ کذاب (جھوٹے) نکلیں
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About The Constriction Of Time And The Curtailment Of Hope
باب: قرب قیامت زمانہ سمٹ جائے گا اور آرزوئیں کم ہو جائیں گی
Jam e Tirmazi
4
بَابُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى شِرَارِ النَّاس
قیامت بُرے لوگوں پر ہی قائم ہو گی
Mishkat
5
کافروں کے ساتھ لڑائی کی مصروفیت کی وجہ سے نماز کو مؤخر کرنے، نمازِ خوف کی وجہ سے اس رخصت کے منسوخ ہو جانے، فوت شدہ نمازوں کو بالترتیب ادا کرنے، پہلی نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنے اور باقی ہر فوت شدہ نماز کے لیے صرف اقامت کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
6
فوت شدہ کی طرف سے روزوں کی قضاء دینے کا بیان
Musnad Ahmad
7
ان امور کا بیان کہ قربانی کا ارادہ رکھنے والے ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں جن سے اجتناب کرے گا، نیز اس چیز کا بیان جو فقیر کے لیے قربانی کے قائم مقام ہوتی ہے
Musnad Ahmad
8
قیامت کے قائم ہونے تک پے درپے آنے والے ان فتنوں کا بیان، جن کے باقاعدہ نام رکھے گئے ہیں
Musnad Ahmad
9
ان عام فتنوں اور اہم امور کا بیان، جن کے وقوع پذیر ہونے کے بعد قیامت قائم ہوگی
Musnad Ahmad
10
قیامت کے قائم ہونے سے قبل خون ریزیوں اور گھمسان کی جنگوں کا بیان
Musnad Ahmad
11
(8) CHAPTER. The Statement of Prophet “The Hour will not be established till two (huge) groups fight against each other, their claim being one and the same.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک دو ایسی جماعتیں آپس میں جنگ نہ کر لیں جن کا دعویٰ ایک ہی ہوگا
Sahih Bukhari
12
(22) CHAPTER. The Hour will not be established until the living wish to be in the place of the dead (i.e., in the place of the people in graves).
قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ لوگ قبر والوں پر رشک نہ کریں
Sahih Bukhari
13
(24) CHAPTER. The coming of the Fire.
قرب قیامت آگ کا نکلنا
Sahih Bukhari
14
Chapter: Making up a missed prayer. And it is recommended to hasten to make it up
فوت شدہ نماز کی قضا اور اس میں جلدی کرنا مستحب ہے
Sahih Muslim
15
Chapter: The Hour Will Begin When The Byzantines Are The Most Prevalent Of People
قیامت قائم ہوگی تو لوگوں میں رومی (عیسائی) سب سے زیادہ ہوں گے
Sahih Muslim
16
Chapter: The Hour Will Not Begin Until A Fire Emerges From The Land Of The Hijaz
قیامت قائم نہیں ہوگی،یہاں تک کہ ارض حجاز سے ایک آگ نکلے گی
Sahih Muslim
17
Chapter: The Hour Will Not Begin Until A Man Passes By Another Man's Grave And Wishes That He Was In The Place Of The Deceased, Because Of Calamity
قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ آدمی،آدمی کی قبر کے پاس سے گزرے گا تو آزمائش کی (شدت کی) بنا پر تمنا کرے گا کہ اس مرنے والے کی جگہ وہ ہو
Sahih Muslim
18
Chapter: The Beast of the Earth
(قرب قیامت) دابۃ الارض (چوپایہ کے نکلنے) کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
19
فوت شدہ نماز کی قضاء کیسے کی جائے ؟
Sunnan Nisai
20
فوت شدہ نمازوں کے لیے اذان کہنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
21
ساری فوت شدہ نمازوں کے لیے ایک اذان کے کافی ہونے اور ہر ایک کے لیے الگ الگ اقامت کہنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
22
فوت شدہ نماز کی جماعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
23
Chapter: What Has Been Related About 'The First Thing The Slave (Of Allah) Will Be Reckoned For On The Day Of Judgement Is The Salat'
باب: قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کے محاسبہ کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Mentioned Of The Mark Of This Nation From The Traces Of Prostrations And Purification On The Day Of Resurrection
باب: قیامت کے دن امت محمدیہ کی پہچان سجدے اور وضو کے نشانات ہوں گے
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The Talbiyah And the Nahr (Sacrifice)
باب: تلبیہ اور نحر (قربانی) کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About Stoning On The Day Of An-Nahr During Duha (The Morning Light)
باب: قربانی کے دن چاشت کے وقت رمی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About Sharing In Badanah (Sacrificial Camels) and Cows
باب: قربانی میں اونٹ یا گائے میں شرکت کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: (Purchasing the Hadi)
باب: قربانی کے جانور سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About One Who Shaved Before He Slaughtered, Or Offered The Sacrifice Before He Stoned
باب: ذبح کرنے سے پہلے سر مونڈا لینے یا رمی جمرات سے پہلے قربانی کر لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Slaughtering
باب: قربانی کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About Sacrificing Two Male Sheep
باب: دو مینڈھوں کی قربانی کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About Slaughtering On Behalf Of The Deceased
باب: میت کی طرف سے قربانی کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About What Is Recommended To Slaughter
باب: کس قسم کے جانور کی قربانی مستحب ہے؟
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Is Not Allowed For Slaughtering
باب: جن جانوروں کی قربانی ناجائز ہے
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Is Disliked For Slaughtering
باب: جن جانوروں کی قربانی مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About The Jadha' Among Sheep For Slaughtering
باب: بھیڑ کے جذع کی قربانی کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About Sharing In The Udhiyah
باب: قربانی میں اشتراک کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: Regarding A Sacrificial Animal With A Stump Horn Or Ear
باب: ٹوٹی سینگ اور پھٹے کان والے جانوروں کی قربانی کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Reported About: One Sheep Will Suffice For The People In The Household
باب: ایک بکری کی قربانی گھر کے سارے افراد کی طرف سے کافی ہے
Jam e Tirmazi
40
Chapter: The Evidence That The Udhiyah (sacrifice) Is A Sunnah
باب: قربانی کے سنت ہونے کی دلیل
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has been Related About Slaughtering After The Salat
باب: نماز عید کے بعد قربانی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Eat From The Sacrificial Meat Beyond Three Days.
باب: تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About The Permission To Eat From It Beyond Three Days
باب: تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھ کر کھانے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: The Best Sacrifice Is The Male Sheep
باب: قربانی سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
45
Chapter: To Avoid Removing One's Hair For Those Who Want To Offer Sacrifice
باب: جو قربانی کرنا چاہتا ہو وہ بال نہ کاٹے
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About: For Each Person Who Betrays A Treaty There Is A Banner Erected On The Day Of Judgement
باب: بدعہدی کرنے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What The Prophet(s.a.w) Informed His Companions Would Occur Until The Day Of Resurrection
باب: قیامت تک واقع ہونے والی چیزوں کے بارے میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی پیش گوئی
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What has been Related About The Signs Of The Hour
باب: علامات قیامت کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About The Prophet's(s.a.w) Saying: The Hour And I Have Been Dispatched Like These Two Meaning The Index And Middle Fingers
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: میری بعثت اور قیامت کے درمیان اتنی دوری ہے جتنی دوری شہادت اور بیچ والی انگلی کے درمیان ہے
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About Al-Khilafah Are FromQuraish Until The Hour Is Established'
باب: قیامت تک خلفاء قریش سے ہوں گے
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

125
Sahih Muslim
7404
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ قَالَ شُعْبَةُ وَسَمِعْتُ قَتَادَةَ يَقُولُ فِي قَصَصِهِ كَفَضْلِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَلَا أَدْرِي أَذَكَرَهُ عَنْ أَنَسٍ أَوْ قَالَهُ قَتَادَةُ
Anas b. Malik reported that Allah's Messenger (way peace be upon him) said: I and the Last Hour have been sent like this. Shu'ba said: I heard Qatada as saying in his narration: The excellence of one over the other. And I do not know whether he narrated it from Anas or Qatada himself said so.
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے قتادہ کو سنا ، کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : "" مجھے اور قیامت کو ان ( شہادت اوربڑی انگلیوں ) کی طرح ( ساتھ ساتھ ) مبعوث کیا گیاہے ۔ "" شعبہ نے کہا : اور میں نے قتادہ سے ان کے حدیث بیان کرنے کے دوران میں سنا : جتنی ان میں سے ایک اُنگلی دوسری سے بڑی ہے ( اتنے سے زمانے کا فرق ہے ) مجھے معلوم نہیں یہ ( معنی ) انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل کرتے ہوئے بیان کیا یا خود قتادہ نے بیان کیا
Jam e Tirmazi
2214
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ ، ‏‏‏‏‏‏وَأَشَارَ أَبُو دَاوُدَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى، ‏‏‏‏‏‏فَمَا فَضَّلَ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Anas narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said: The Hour and I were dispatched like these two - and Abu Dawud(a narrator) indicated with his index and middle fingers- so, how much more(in length) is one then the other.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اور قیامت اس طرح بھیجے گئے ہیں“ ( یہ بتانے کے لیے ) ابوداؤد نے شہادت اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ کیا، چنانچہ ان دونوں کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Sunnan Ibn e Maja
1969
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هَمَّامٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ يَمِيلُ مَعَ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى، ‏‏‏‏‏‏جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَحَدُ شِقَّيْهِ سَاقِطٌ .
It was narrated from Abu Hurairah: that the Messenger of Allah said: Whoever has two wives and favors one of them over the other, he will come on the Day of Resurrection with one of his sides leaning.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس دو بیویاں ہوں اور ایک کو چھوڑ کر دوسری کی طرف مائل رہے، تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک دھڑ گرا ہوا ہو گا ۔
Sunnan Ibn e Maja
4030
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ،‏‏‏‏ عَنْ قَتَادَةَ،‏‏‏‏ عَنْ مُجَاهِدٍ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ،‏‏‏‏ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَنَّهُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ وَجَدَ رِيحًا طَيِّبَةً،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا جِبْرِيلُ،‏‏‏‏ مَا هَذِهِ الرِّيحُ الطَّيِّبَةُ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ هَذِهِ رِيحُ قَبْرِ الْمَاشِطَةِ وَابْنَيْهَا وَزَوْجِهَا،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ وَكَانَ بَدْءُ ذَلِكَ،‏‏‏‏ أَنَّ الْخَضِرَ كَانَ مِنْ أَشْرَافِ بَنِي إِسْرَائِيلَ،‏‏‏‏ وَكَانَ مَمَرُّهُ بِرَاهِبٍ فِي صَوْمَعَتِهِ فَيَطَّلِعُ عَلَيْهِ الرَّاهِبُ فَيُعَلِّمُهُ الْإِسْلَامَ،‏‏‏‏ فَلَمَّا بَلَغَ الْخَضِرُ زَوَّجَهُ أَبُوهُ امْرَأَةً،‏‏‏‏ فَعَلَّمَهَا الْخَضِرُ وَأَخَذَ عَلَيْهَا أَنْ لَا تُعْلِمَهُ أَحَدًا،‏‏‏‏ وَكَانَ لَا يَقْرَبُ النِّسَاءَ فَطَلَّقَهَا ثُمَّ زَوَّجَهُ أَبُوهُ أُخْرَى،‏‏‏‏ فَعَلَّمَهَا وَأَخَذَ عَلَيْهَا أَنْ لَا تُعْلِمَهُ أَحَدًا،‏‏‏‏ فَكَتَمَتْ إِحْدَاهُمَا،‏‏‏‏ وَأَفْشَتْ عَلَيْهِ الْأُخْرَى،‏‏‏‏ فَانْطَلَقَ هَارِبًا حَتَّى أَتَى جَزِيرَةً فِي الْبَحْرِ،‏‏‏‏ فَأَقْبَلَ رَجُلَانِ يَحْتَطِبَانِ فَرَأَيَاهُ،‏‏‏‏ فَكَتَمَ أَحَدُهُمَا وَأَفْشَى الْآخَرُ،‏‏‏‏ وَقَالَ:‏‏‏‏ قَدْ رَأَيْتُ الْخَضِرَ،‏‏‏‏ فَقِيلَ:‏‏‏‏ وَمَنْ رَآهُ مَعَكَ؟ قَالَ:‏‏‏‏ فُلَانٌ:‏‏‏‏ فَسُئِلَ فَكَتَمَ،‏‏‏‏ وَكَانَ فِي دِينِهِمْ أَنَّ مَنْ كَذَبَ قُتِلَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ فَتَزَوَّجَ الْمَرْأَةَ الْكَاتِمَةَ،‏‏‏‏ فَبَيْنَمَا هِيَ تَمْشُطُ ابْنَةَ فِرْعَوْنَ إِذْ سَقَطَ الْمُشْطُ،‏‏‏‏ فَقَالَتْ:‏‏‏‏ تَعِسَ فِرْعَوْنُ،‏‏‏‏ فَأَخْبَرَتْ أَبَاهَا،‏‏‏‏ وَكَانَ لِلْمَرْأَةِ ابْنَانِ وَزَوْجٌ،‏‏‏‏ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ فَرَاوَدَ الْمَرْأَةَ وَزَوْجَهَا أَنْ يَرْجِعَا عَنْ دِينِهِمَا فَأَبَيَا،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي قَاتِلُكُمَا،‏‏‏‏ فَقَالَا:‏‏‏‏ إِحْسَانًا مِنْكَ إِلَيْنَا إِنْ قَتَلْتَنَا أَنْ تَجْعَلَنَا فِي بَيْتٍ،‏‏‏‏ فَفَعَلَ،‏‏‏‏ فَلَمَّا أُسْرِيَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ رِيحًا طَيِّبَةً فَسَأَلَ جِبْرِيلَ فَأَخْبَرَهُ.
It was narrated from Ubayy bin Ka’b that on the night when he (ﷺ) was taken on the Night Journey (Isra’), the Messenger of Allah (ﷺ) noticed a good fragrance and said: “O Jibril, what is this good fragrance?” He said: “This is the fragrance of the grave of the hairdresser and her two sons and her husband.” He said: “That began when Khadir, who was one of the nobles of the Children of Israel, used to pass by a monk in his cell. The monk used to meet him and he taught him Islam. When Khadir reached adolescence, his father married him to a woman. He taught her and made her promise not to teach it to anyone. He used not to touch women, so he divorced her, then his father married him to another woman, and he taught her and made her promise not to teach it to anyone. One of them kept the secret but the other disclosed it, so he fled until he came to an island in the sea. Two men came, gathering firewood, and saw him. One of them kept the secret but the other disclosed it and said: ‘I have seen Khadir.’ It was said: ‘Who else saw him besides you?’ He said: ‘So-and-so.’ (The other man) was questioned but he kept silent. According to their religion, the liar was to be killed. The woman who had kept the secret got married, and while she was combing the hair of Pharoah’s daughter, she dropped the comb and said: ‘May Pharoah perish!’ (The daughter) told her father about that. The woman had two sons and a husband. (Pharoah) sent for them, and tried to make the woman and her husband give up their religion, but they refused. He said: ‘I am going to kill you.’ They said: ‘It would be an act of kindness on your part, if you kill us, to put us in one grave.’ So he did that.” When the Prophet (ﷺ) was taken on the Night Journey (Isra’), he noticed a good fragrance and asked Jibril about it and he told him.”
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات ایک خوشبو محسوس کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرائیل! یہ کیسی خوشبو ہے ؟، انہوں نے کہا: یہ اس عورت کی قبر کی خوشبو ہے جو فرعون کی بیٹی کو کنگھی کرتی تھی، اور اس کے دونوں بیٹوں اور شوہر کے قبر کی خوشبو ہے، ( جنہیں ایمان لانے کی وجہ سے فرعون نے قتل کر دیا تھا ) اور ان کے قصے کی ابتداء اس طرح ہے کہ خضر بنی اسرائیل کے شریف لوگوں میں تھے، ان کا گزر ایک ( راہب ) درویش کے عبادت خانے سے ہوتا تو وہ عابد راہب اوپر سے ان کو جھانکتا، اور ان کو اسلام کی تعلیم دیتا، آخر کار جب خضر جوان ہوئے تو ان کے والد نے ایک عورت سے ان کا نکاح کر دیا، خضر نے اس عورت کو اسلام کی تعلیم دی، اور اس سے عہد لے لیا کہ اس بات سے کسی کو باخبر مت کرنا، خضر عورتوں کے قریب نہیں جاتے تھے، آخر انہوں نے اس عورت کو طلاق دے دی، اس کے بعد ان کے والد نے ان کا نکاح دوسری عورت سے کر دیا، خضر نے اس سے بھی نہ بتانے کا عہد لے کر اسے دین کی تعلیم دی، لیکن ان میں سے ایک عورت نے اس راز کو چھپا لیا، اور دوسری نے ظاہر کر دیا ( کہ یہ دین کی تعلیم اسے خضر نے سکھائی ہے، فرعون نے ان کی گرفتاری کا حکم دیا یہ سنتے ہی ) وہ فرار ہو کر سمندر کے ایک جزیرہ میں چھپ گئے، وہاں دو شخص لکڑیاں چننے کے لیے آئے، اور ان دونوں نے خضر کو دیکھا، ان میں سے بھی ایک نے تو ان کا حال پوشیدہ رکھا، اور دوسرے نے ظاہر کر دیا اور کہا: میں نے خضر کو فلاں جزیرے میں دیکھا ہے، لوگوں نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہارے ساتھ اور کسی شخص نے دیکھا ہے؟ اس نے کہا: فلاں شخص نے بھی دیکھا ہے، جب اس شخص سے سوال کیا گیا تو اس نے چھپایا، اور ان کا طریقہ یہ تھا کہ جو جھوٹ بولے، اسے قتل کر دیا جائے، الغرض اس شخص نے اس عورت سے نکاح کر لیا، جس نے اپنا دین چھپایا تھا، ( اور خضر کا نام نہیں بتایا تھا ) ، اسی دوران کہ یہ عورت فرعون کی بیٹی کے سر میں کنگھی کر رہی تھی، اتنے میں اس کے ہاتھ سے کنگھی گر پڑی اور اس کی زبان سے بے اختیار نکل گیا کہ فرعون تباہ و برباد ہو ( اپنی بے دینی کی وجہ سے ) بیٹی نے یہ کلمہ اس کی زبان سے سن کر اسے اپنے باپ کو بتا دیا، اور اس عورت کے دو بیٹے تھے، اور ایک شوہر تھا، فرعون نے ان سبھوں کو بلا بھیجا، اور عورت اور اس کے شوہر کو دین اسلام چھوڑ کر اپنے دین میں آنے کے لیے پھسلایا، ان دونوں نے انکار کیا، تو اس نے کہا: میں تم دونوں کو قتل کر دوں گا، ان دونوں نے جواب دیا: اگر تم ہمیں قتل کرنا چاہتے ہو تو ہم پر اتنا احسان کرنا کہ ہمیں ایک ہی قبر میں دفن کر دینا، چنانچہ فرعون نے ایسا ہی کیا، جب نبی اکرم صلی اللہعلیہ وسلم نے اسراء کی رات میں خوشبو محسوس کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل سے پوچھا تو انہوں نے آپ کو بتلایا کہ یہ انہیں لوگوں کی قبر ہے ( جس سے یہ خوشبو آ رہی ہے ) ۔
Sunnan Nisai
3394
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ كَانَ لَهُ امْرَأَتَانِ يَمِيلُ لِإِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى،‏‏‏‏ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَدُ شِقَّيْهِ مَائِلٌ .
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی دو بیویاں ہوں اور وہ ایک کے مقابلے دوسری طرف زیادہ میلان رکھے تو قیامت کے دن وہ اس طرح آئے گا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہو گا“۔
Jam e Tirmazi
1149
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ. ح وحَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سُئِلَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَجُلٍ لَهُ جَارِيتَانِ:‏‏‏‏ أَرْضَعَتْ إِحْدَاهُمَا جَارِيَةً، ‏‏‏‏‏‏وَالْأُخْرَى غُلَامًا، ‏‏‏‏‏‏أَيَحِلُّ لِلْغُلَامِ أَنْ يَتَزَوَّجَ بِالْجَارِيَةِ ؟، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا اللِّقَاحُ وَاحِدٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَهَذَا تَفْسِيرُ لَبَنِ الْفَحْلِ وَهَذَا الْأَصْلُ فِي هَذَا الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ أَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق.
Amr bin Ash-Shariq narrated that Ibn Abbas was asked about the case in which a man had two slave girls, one of them suckled a girl and the other suckled a boy, is it lawful for the boy to marry the girl? She said: “No, the semen is the same.”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس کے پاس دو لونڈیاں ہوں، ان میں سے ایک نے ایک لڑکی کو دودھ پلایا ہے اور دوسری نے ایک لڑکے کو۔ تو کیا اس لڑکے کے لیے جائز ہے کہ وہ اس لڑکی سے شادی کرے۔ انہوں نے ( ابن عباس رضی الله عنہما ) نے کہا: نہیں۔ اس لیے کہ «لقاح» ایک ہی ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہی اس باب میں اصل ہے۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں۔
Jam e Tirmazi
1411
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ،‏‏‏‏ عَنْ مَنْصُورٍ،‏‏‏‏ عَنْ إِبْرَاهِيمَ،‏‏‏‏ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ،‏‏‏‏ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ،‏‏‏‏ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا ضَرَّتَيْنِ،‏‏‏‏ فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ،‏‏‏‏ أَوْ عَمُودِ فُسْطَاطٍ،‏‏‏‏ فَأَلْقَتْ جَنِينَهَا فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ غُرَّةٌ عَبْدٌ،‏‏‏‏ أَوْ أَمَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَجَعَلَهُ عَلَى عَصَبَةِ الْمَرْأَةِ . قَالَ الْحَسَنُ،‏‏‏‏ وَأَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ،‏‏‏‏ عَنْ سُفْيَانَ،‏‏‏‏ عَنْ مَنْصُورٍ،‏‏‏‏ بِهَذَا الْحَدِيثِ نَحْوَهُ،‏‏‏‏ وقَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Al-Mughirah bin Shu'bah: Two women co-wives, (were fighting), and one of them hit the other with a stone or a tent post, causing her to have a miscarriage. The Messenger of Allah (ﷺ) judged that a Ghurrah male or female slave should be given for fetus, and he required it from the Asabah of the woman. (Another Chain) for this Hadith [and it is similar to this].
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ دو عورتیں سوکن تھیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر یا خیمے کی میخ ( گھونٹی ) سے مارا، تو اس کا حمل ساقط ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حمل کی دیت میں «غرة» یعنی غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ فرمایا اور دیت کی ادائیگی اس عورت کے عصبہ کے ذمہ ٹھہرائی ۱؎۔ حسن بصری کہتے ہیں: زید بن حباب نے سفیان ثوری سے روایت کی، اور سفیان ثوری نے منصور سے اس حدیث کو اسی طرح روایت کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Mishkat
1407
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ احْمَرَّتْ عَيْنَاهُ وَعَلَا صَوْتُهُ وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ حَتَّى كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيش يقولك: «صَبَّحَكُمْ وَمَسَّاكُمْ» وَيَقُولُ: «بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ» . وَيَقْرُنُ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَابَةِ وَالْوُسْطَى. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ خطبہ ارشاد فرماتے تو آپ کی آنکھیں سرخ ہو جاتیں ، آواز بلند ہو جاتی اور غصہ شدید ہو جاتا ، حتیٰ کہ یہ کیفیت ہو جاتی گویا آپ کسی حملہ آور لشکر سے آگاہ کرتے ہوئے فرما رہے ہوں :’’ وہ صبح یا شام تم پر حملہ آور ہونے والا ہے ۔‘‘ اور آپ ﷺ فرماتے :’’ مجھے (ایسے وقت میں) مبعوث کیا گیا ہے کہ میں اور قیامت اس طرح ہیں ۔‘‘ آپ درمیانی انگی اور انگشت شہادت کو باہم ملاتے ۔ رواہ مسلم ۔
Mishkat
3488
وَعَنْهُ قَالَ: اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةٌ: عَبْدٌ أَوْ وَلِيدَةٌ وَقَضَى بِدِيَةِ الْمَرْأَةِ عَلَى عَاقِلَتِهَا وورَّثَها ولدَها وَمن مَعَهم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ہذیل قبیلے کی دو عورتیں لڑ پڑیں تو ان میں سے ایک نے دوسری پر پتھر مارا اور اسے اور اس کے جنین (پیٹ کے بچے) کو قتل کر دیا ، رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ دیا کہ اس کے جنین کی دیت ایک غلام یا ایک لونڈی ہے اور عورت کی دیت اس کے خاندان (عورت کے باپ کی طرف سے رشتہ دار عصبہ) پر ہے ۔ اور آپ ﷺ نے اس کی اولاد اور جو ان کے ساتھ ہیں ان کو اس کا وارث بنایا ۔ متفق علیہ ۔