ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! قیامت قائم نہیں ہو گی حتیٰ کہ درندے انسانوں سے کلام کریں گے ، اور حتیٰ کہ بندے سے اس کے کوڑے کا سر اور اس کے جوتے کا تسمہ کلام کرے گا اور اس کی ران اس کو اس کام کے متعلق بتائے گی جو اس کے بعد اس کے اہل نے کیا ہو گا ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم خراسان کی طرف سے سیاہ جھنڈے آتے دیکھو تو ان کا استقبال کرو ، کیونکہ ان میں اللہ کا خلیفہ مہدی ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و البیھقی فی دلائل النبوۃ ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۵ / ۲۷۷ ح ۲۲۷۴۶) و البیھقی فی دلائل النبوۃ (۶ / ۵۱۶) * فیہ علی بن زید بن جدعان ضعیف ، و علۃ أخری وقال ثوبان رضی اللہ عنہ :’’ اذا رایتم الرایات السود خرجت من قبل خراسان فآتوھا فان فیھا خلیفۃ اللہ المھدی ‘‘ رواہ الحاکم (۴ / ۵۰۲ ح ۸۵۳۱) و صححہ علی شرط الشیخین و سندہ حسن لذاتہ و رواہ البیھقی فی دلائل النبوۃ (۶ / ۵۱۶) ۔
ابو اسحاق بیان کرتے ہیں ، علی ؓ نے فرمایا ، اور انہوں نے اپنے بیٹے حسن ؓ کی طرف دیکھا تو فرمایا : بے شک میرا یہ بیٹا سید ہے جس طرح رسول اللہ ﷺ نے اس کا نام رکھا ، اور عنقریب اس کی صلب سے ایک آدمی نکلے گا اس کا نام تمہارے نبی کے نام پر ہو گا ، وہ اخلاق و سیرت میں ان کے مشابہ ہو گا ، اور وہ نقوش اور قد و قامت میں ان کے مشابہ نہیں ہو گا ، پھر قصہ ذکر کیا کہ وہ زمین کو عدل سے بھر دے گا ۔‘‘ ابوداؤد ، اور انہوں نے قصہ ذکر نہیں کیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۱ / ۴۲۹۰) * ابوداود لم یدرک ھارون بن المغیرۃ فالسند منقطع و ابو اسحاق مدلس و عنعن ولم یسمعہ من علی رضی اللہ عنہ ۔
جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، عمر ؓ کے دورِ خلافت کے اس سال جس سال عمر ؓ نے وفات پائی ، ٹڈی معدوم ہو گئی تو اس سے وہ بہت غمگین ہو گئے ، انہوں نے ایک سوار یمن کی طرف ، ایک عراق کی طرف اور ایک سوار شام کی طرف بھیجا تا کہ وہ ٹڈی کے متعلق دریافت کریں کہ آیا وہ کہیں نظر آئی ہے ، یمن کی طرف سے سوار مٹھی میں ٹڈیاں لے کر آیا اور انہیں آپ (عمر ؓ) کے سامنے پھیلا دیا ، جب انہوں نے انہیں دیکھا تو (خوشی سے) نعرہ تکبیر بلند کیا ، اور فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بے شک اللہ عزوجل نے ہزار قسم کے حیوان پیدا فرمائے ، ان میں سے چھ سو سمندر میں ہیں ، اور چار سو خشکی میں ، اور ان میں سے سب سے پہلے ٹڈیاں ہلاک ہوں گی ، جب ٹڈیاں ہلاک ہو جائیں گی تو اس کے بعد ہار کی ڈوری ٹوٹنے کے بعد موتیوں کے گرنے کی طرح باقی امتیں (اقسام) ہلاک ہوں گی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۱۰۱۳۲ ۔ ۱۰۱۳۳ ، نسخۃ محققۃ : ۹۶۵۹ ۔ ۹۶۶۰) * فیہ عیسی بن شبیب وھو محمد بن عیسی الھلالی العبدی : ضعیف جدًا ضعفہ الجمھور و الراوی عنہ شیخ وھو عبید بن واقد القیسی : ضعیف ۔
حذیفہ بن اسید غفاری ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم آپس میں بات چیت کر رہے تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم کیا باتیں کر رہے ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، ہم قیامت کا تذکرہ کر رہے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ قائم نہیں ہو گی حتیٰ کہ تم اس سے پہلے دس نشانیاں دیکھ لو ، آپ ﷺ نے دھوئیں ، دجال ، جانور کے نکلنے ، سورج کے مغرب سے طلوع ہونے ، عیسیٰ بن مریم ؑ کے تشریف لانے ، یاجوج ماجوج کے نکلنے ، تین بار زمین کے دھنسنے : ایک بار مشرق میں ایک بار مغرب میں اور ایک بار جزیرہ عرب میں دھنسنے کا ذکر فرمایا اور ان (دس) میں سے آخری نشانی کا ذکر فرمایا کہ آگ یمن کی طرف سے نکلے گی وہ لوگوں کو ان کے حشر کے میدان کی طرف ہانک کر لے جائے گی ۔‘‘
اور ایک روایت میں ہے :’’ عدن کے آخری کنارے سے آگ ظاہر ہو گی ، وہ لوگوں کو حشر کے میدان کی طرف ہانکے گی ۔‘‘ اور دوسری روایت میں دسویں نشانی کے متعلق ہے :’’ وہ ہوا ہو گی جو لوگوں کو سمندر میں پھینک دے گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ نیک اعمال کرنے میں جلدی کرو ، (علامات قیامت کے ظہور سے پہلے جو کہ) چھ ہیں ، دھواں ، دجال ، دابۃ الارض اور سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ، نیز وہ عام فتنہ (موت) جو عام لوگوں کو ہلاک کر دے گا اور خاص فتنہ جو تمہارے خاص کو فنا کر دے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ علامات قیامت میں سے پہلی (سماوی) علامت سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہے ، اور چاشت کے وقت دابہ (حیوان) کا لوگوں کے سامنے نکلنا ہے ، ان دونوں میں سے جو بھی اپنے ساتھ والے سے پہلے نکل آیا تو دوسرا اس کے پیچھے قریب ہی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تین نشانیاں ، جب ان کا ظہور ہو جائے گا تو ’’ اس وقت کسی شخص کا ایمان لانا اس کے لیے نفع مند نہیں ہو گا بشرطیکہ وہ اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہو یا اس نے حالت ایمان میں نیک کام نہ کیے ہوں ۔‘‘ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ، دجال اور دابۃ الارض کا نکلنا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو کہ سورج غروب ہونے کے بعد کہاں جاتا ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ جاتا ہے حتیٰ کہ عرش کے نیچے سجدہ ریز ہو کر (مشرق سے طلوع ہونے کی) اجازت طلب کرتا ہے ، اسے اجازت دے دی جاتی ہے ، اور قریب ہے کہ وہ سجدہ کرے اور وہ اس سے قبول نہ کیا جائے ، وہ اجازت طلب کرے اور اسے اجازت نہ دی جائے ، اور اسے کہا جائے ، جہاں سے آئے ہو وہیں چلے جاؤ ، وہ مغرب سے طلوع ہو گا ، اور یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :’’ سورج اپنی قرار گاہ کی طرف چل رہا ہے ۔‘‘ فرمایا :’’ اس کی قرار گاہ عرش کے نیچے ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۱۹۹) و مسلم (۲۵۱ ، ۲۵۰ / ۱۵۹) ۔ 399
عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ آدم ؑ کی تخلیق اور قیام قیامت کے درمیان دجال سے بڑھ کر کوئی فتنہ نہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک اللہ تم پر مخفی نہیں ، بلاشبہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ، جبکہ مسیح دجال کی دائیں آنکھ کانی ہو گی ، گویا اس کی آنکھ ایسی ہو گی کہ انگور کا اٹھا ہوا دانہ ہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۷۴۰۷) و مسلم (۱۰۰ / ۱۶۹) 426
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر نبی نے اپنی امت کو کانے کذاب (دجال) سے ڈرایا اور آگاہ فرمایا ، سن لو ! وہ کانا ہے ، جبکہ تمہارا رب کانا نہیں ، اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ک ۔ ف ۔ ر (کافر) لکھا ہوا ہو گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۷۱۳۱) و مسلم (۱۰۱ / ۲۹۳۳) ۔ 7363
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سنو ! میں دجال کے متعلق تمہیں ایک بات بتاتا ہوں ، جو کسی نبی نے اپنی قوم کو بیان نہیں کی کہ وہ (دجال) کانا ہو گا ، وہ آئے گا تو اس کے ساتھ جنت کے مثل ہو گی اور آگ کے مثل ہو گی ، وہ جس کے متعلق یہ کہے گا کہ یہ جنت ہے تو وہ آگ ہو گی اور میں تمہیں اس (کے فتنے) سے اسی طرح ڈراتا ہوں ، جس طرح نوح ؑ نے اس کے متعلق اپنی قوم کو ڈرایا تھا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۳۳۸) و مسلم (۱۰۹ / ۲۹۳۶) 7372
حذیفہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک دجال کا ظہور ہو گا اور اس کے ساتھ پانی اور آگ ہو گی ، جسے لوگ پانی سمجھیں گے وہ آگ ہو گی وہ جلائے گی ، اور جسے لوگ آگ سمجھیں گے وہ ٹھنڈا شیریں پانی ہو گا ، تم میں سے جو ایسی صورت دیکھے تو وہ اس چیز میں واقع ہو جسے وہ آگ سمجھتا ہو ، کیونکہ وہ تو شیریں خوشگوار پانی ہے ۔‘‘ اور امام مسلم نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں :’’ بے شک دجال کی ایک آنکھ نہیں ہو گی ، اس کی (آنکھ) پر موٹا ناخن ہو گا ، اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہو گا ، اور اسے ہر مومن پڑھ لے گا خواہ لکھنا پڑھنا جانتا ہو یا نہ جانتا ہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۷۱۳۱) و مسلم (۱۰۲ ۔ ۱۰۵ / ۲۹۳۴) ۔ 7367
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دجال بائیں آنکھ سے کانا ہو گا ، اس کے (جسم پر) بال گھنے ہوں گے ، اس کے ساتھ اس کی جنت اور اس کی آگ ہو گی ، اس کی آگ جنت ہو گی اور اس کی جنت حقیقت میں آگ ہو گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
نواس بن سمعان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے دجال کا ذکر کیا تو فرمایا :’’ اگر وہ میری موجودگی میں نکل آیا تو پھر میں تمہاری طرف سے اس سے جھگڑا کروں گا ، اور اگر وہ اس وقت نکلے جب کہ میں تم میں نہ ہوں تو پھر ہر شخص اپنی خاطر اس سے جھگڑا کرے گا ، اور اللہ ہر ایک مسلمان پر محافظ و معاون ہے ، بے شک وہ (دجال) جوان ہو گا ، اس کے بال گھونگریالے ہوں گے ، اس کی آنکھ اٹھی ہوئی ہو گی گویا میں اسے عبدالعزی بن قطن سے تشبیہ دیتا ہوں ، تم میں سے جو شخص اسے پا لے تو وہ اس پر سورۂ کہف کی ابتدائی آیات پڑھے ، کیونکہ وہ تمہارے لیے اس کے فتنے سے امان ہیں ، وہ شام اور عراق کے درمیان ایک راہ پر نکلنے والا ہے ، وہ دائیں بائیں فساد مچائے گا ، اللہ کے بندو ! ثابت رہنا ۔‘‘ ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہ زمین میں کتنی مدت ٹھہرے گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ چالیس دن ، ایک دن سال کی طرح ، ایک (دوسرا) دن مہینے کی طرح ، اور ایک (تیسرا) دن جمعہ (سات دن) کی طرح ہو گا ، جبکہ اس کے باقی ایام تمہارے ایام کی طرح ہوں گے ۔‘‘ ہم نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا وہ دن جو سال کی طرح ہو گا تو کیا اس میں ایک دن کی نماز پڑھنا ہمارے لیے کافی ہو گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ، بلکہ تم اس کے لیے اس کا اندازہ کر لینا ۔‘‘ ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس کی زمین پر رفتار کیا ہو گی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بارش کی طرح جس کے پیچھے ہوا آتی ہے ، وہ لوگوں کے پاس آئے گا ، انہیں دعوت دے گا تو وہ اس پر ایمان لے آئیں گے ، وہ آسمان کو حکم دے گا تو وہ بارش برسائے گا اور زمین کو حکم دے گا تو وہ اناج اگائے گی ، ان کے چرنے والے جانور شام کو واپس آئیں گے تو ان کی کوہانیں پہلے سے زیادہ لمبی ، ان کے تھن دودھ سے بھرے ہوں گے اور ان کی کوکھیں باہر نکلی ہوں گی ، پھر وہ کچھ لوگوں کے پاس آئے گا ، وہ انہیں دعوت دے گا ، وہ اس کی بات قبول نہیں کریں گے ، وہ ان کے پاس سے چلا جائے گا تو وہ قحط سالی کا شکار ہو جائیں گے : ان کے ہاتھ اموال سے خالی ہو جائیں گے ، اور وہ ایک ویرانے سے گزرے گا تو اسے کہے گا ، اپنے خزانے نکالو ، تو اس (ویرانے) کے خزانے اس (دجال) کے پیچھے اس طرح چلیں گے جس طرح شہد کی مکھیاں اپنے سرداروں کے پیچھے چلتی ہیں ، پھر وہ بھرپور جوان آدمی کو بلائے گا ، اور تلوار مار کر اس کے دو ٹکڑے کر دے گا ، جس طرح ہدف پر نشانہ بازی کی جاتی ہے ، پھر وہ اس کو بلائے گا تو وہ اس کی طرف متوجہ ہو گا اور چمکتے چہرے کے ساتھ مسکراتا ہوا اپنی اسی پہلی حالت پر ہو جائے گا ۔ اچانک اللہ مسیح بن مریم کو مبعوث فرمائے گا تو وہ زعفران رنگ کے جوڑے میں دمشق کے مشرق میں منارہ بیضاء پر نزول فرمائیں گے ، وہ دو فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھے ہوں گے ، جب وہ اپنا سر جھکائیں گے تو اس سے قطرے گریں گے ، اور جب وہ اسے اٹھائیں گے تو اس سے موتی کے دانے ٹپکیں گے ، اور جو کافر ان کے سانس کی ہوا پائے گا تو وہ ہلاک ہو جائے گا ، اور ان کا سانس حد نگاہ تک پہنچے گا ، وہ (عیسیٰ ؑ) اسے تلاش کریں گے حتیٰ کہ وہ اسے باب لد پر پائیں گے اور اسے قتل کر دیں گے ، پھر عیسیٰ ؑ کے پاس وہ لوگ آئیں گے جنہیں اللہ نے اس سے بچا لیا ہو گا ، چنانچہ وہ ان کے چہرے صاف کریں گے اور وہ ان کے جنت میں درجات کے متعلق انہیں بتائیں گے ، وہ اسی اثنا میں ہوں گے جب اللہ تعالیٰ عیسیٰ ؑ کی طرف وحی بھیجے گا کہ میں نے اپنے ایسے بندے ظاہر کیے ہیں ، ان سے قتال کی کسی میں طاقت نہیں ، آپ میرے بندوں کو طور کی طرف لے جائیں ۔ چنانچہ اللہ یاجوج ماجوج کو بھیجے گا ، وہ ہر بلند جگہ سے دوڑے آئیں گے ان کے پہلے لوگ بحیرۂ طبریہ پر گزریں گے تو تو اس کا سارا پانی پی جائیں گے ، جب ان کا آخری آدمی وہاں سے گزرے گا تو وہ کہے گا : یہاں کسی وقت پانی ہوتا تھا ! پھر وہ چلتے جائیں گے حتیٰ کہ وہ جبل خمر یعنی جبل بیت المقدس تک پہنچیں گے تو وہ کہیں گے : ہم زمین والوں کو تو قتل کر چکے آؤ ! اب ہم آسمان والوں کو قتل کریں ، وہ آسمان کی طرف تیر چلائیں گے ، تو اللہ ان کے تیروں کو خون آلودہ حالت میں ان پر لوٹا دے گا ، اللہ کے نبی اور اس کے ساتھی روک لیے جائیں گے حتی کہ اس روز بیل کا سر ان کے ہاں سو دینار سے بہتر ہو گا ، اللہ کے نبی عیسیٰ ؑ اور ان کے ساتھی (اللہ کی طرف) رغبت کریں گے ۔ تو اللہ ان کی گردنوں میں کیڑا پیدا کر دے گا تو وہ ایک جان کی موت کی طرح سب ہلاک ہو جائیں گے ، پھر اللہ کے نبی عیسیٰ ؑ اور ان کے ساتھی (پہاڑ سے) نیچے اتریں گے ، وہ زمین پر بالشت برابر جگہ نہیں پائیں گے مگر وہ ان کی چربی اور بدبو سے بھرپور ہو گی ، پھر اللہ کے نبی ؑ اور ان کے ساتھی اللہ کے حضور دعا کریں گے تو وہ بختی اونٹ کی کوہانوں کی طرح پرندے ان پر بھیجے گا تو وہ انہیں اٹھا کر جہاں اللہ چاہے گا ، پھینک آئیں گے ۔‘‘
ایک دوسری روایت میں ہے :’’ وہ انہیں نہبل کے مقام پر پھینک آئیں گے ، مسلمان ان کی کمانوں ، ان کے تیروں اور ان کے ترکشوں کو سات سال جلاتے رہیں گے ، پھر اللہ تعالیٰ بارش برسائیں گے کہ وہ ہر گھر پر برسے گی (خواہ وہ پتھر سے بنایا گیا ہو یا کوئی خیمہ ہو)، وہ (بارش) زمین کو دھو ڈالے گی ، حتیٰ کہ اسے شیشے کی طرح کر دے گی ، پھر زمین سے کہا جائے گا ، اپنے ثمرات اگاؤ ! اور اپنی برکات لوٹا دو ! ، اس دن پوری جماعت فقط ایک انار سے سیر ہو جائے گی اور اس کے چھلکے سے سایہ حاصل کریں گے ، اور دودھ میں برکت ڈال دی جائے گی ، حتی کہ اونٹنی کا دودھ لوگوں کی ایک جماعت کے لیے کافی ہو گا ، گائے کا دودھ لوگوں کے قبیلے کے لیے کافی ہو گا ، بکری کا دودھ چھوٹے قبیلے کے لیے کافی ہو گا ، وہ اسی حالت میں ہوں گے کہ اللہ پاکیزہ ہوا بھیجے گا وہ ان کی بغلوں کے نیچے لگے گی اور وہ ہر مومن اور ہر مسلمان کی روح قبض کر لے گی ، اور شریر لوگ باقی رہ جائیں گے ، وہ اس وقت گدھوں کی طرح علانیہ زنا کریں گے ، اور ایسے لوگوں پر قیامت قائم ہو گی ۔‘‘ مسلم ۔
البتہ دوسری روایت : وہ ان کا یہ کہنا :’’ وہ ان کو نہبل میں پھینک دے گی ۔‘‘ سے لے کر ’’ سات سال تک ۔‘‘ اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے ۔ رواہ مسلم و الترمذی ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۱۱ ، ۱۱۰ / ۲۹۳۷) و الترمذی (۲۲۴۰ وقال : غریب حسن صحیح) ۔ 7373
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دجال نکلے گا تو مومنوں میں سے ایک آدمی اس کی طرف رخ کرے گا تو دجال کے محافظ و چوکیدار اسے ملیں گے تو وہ اسے کہیں گے ، کہاں کا ارادہ ہے ؟ وہ کہے گا : میں اس کی طرف جا رہا ہوں جس کا ظہور ہوا ہے ، وہ اسے کہیں گے : کیا تم ہمارے رب پر ایمان نہیں رکھتے ؟ وہ کہے گا : ہمارے رب کے براہین و دلائل مخفی نہیں ، وہ کہیں گے : اسے قتل کر دو ، پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے : کیا تمہارے رب نے تمہیں منع نہیں کیا کہ تم نے اس کی غیر موجودگی میں کسی کو قتل نہیں کرنا ؟ لہذا وہ اسے دجال کے پاس لے چلیں گے ، چنانچہ جب وہ مومن شخص اسے دیکھے گا تو وہ کہے گا : لوگو ! یہ وہی دجال ہے جس کا رسول اللہ ﷺ نے ذکر کیا تھا ۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دجال اس کے متعلق حکم دے گا تو اس کا سر پھوڑ دیا جائے گا ، وہ کہے گا : اسے پکڑو اور اس کا سر پھوڑ دو (ایک دوسری روایت میں ہے : اسے چت لٹا دو)، اور اس کی پشت اور پیٹ پر بہت زیادہ مارا جائے گا ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ کہے گا : کیا تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے ؟‘‘ فرمایا :’’ وہ شخص کہے گا : تو مسیح کذاب ہے ۔‘‘ فرمایا :’’ اس شخص کے متعلق حکم دیا جائے گا تو اس کے سر پر آری چلا دی جائے گی حتی کہ اس کے دو ٹکڑے کر دیے جائیں گے ۔‘‘ فرمایا :’’ پھر دجال ان دو ٹکڑوں کے مابین چلے گا ، پھر اسے کہے گا : کھڑے ہو جاؤ تو وہ صحیح سلامت کھڑا ہو جائے گا ، وہ پھر اس سے پوچھے گا : کیا تم مجھ پر ایمان لاتے ہو ؟ وہ جواب دے گا : تمہارے متعلق میری بصیرت میں اضافہ ہی ہوا ہے ۔‘‘ فرمایا :’’ پھر وہ (آدمی) کہے گا : لوگو ! وہ میرے بعد کسی شخص کے ساتھ ایسے نہیں کرے گا ۔‘‘ فرمایا :’’ دجال اسے ذبح کرنے کے لیے پکڑے گا ، تو اس کی گردن اور ہنسلی کے درمیان تانبا بنا دیا جائے گا ، لہذا وہ اسے قتل نہیں کر سکے گا ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ اسے دونوں ہاتھوں اور اس کی دونوں ٹانگوں سے پکڑ کر اسے پھینک دے گا ، لوگ سمجھیں گے کہ اس نے اسے آگ کی طرف پھینکا ہے ، حالانکہ اسے تو جنت میں ڈال دیا گیا ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ رب العالمین کے نزدیک یہ شخص شہادت کے سب سے عظیم مرتبے پر فائز ہو گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ام شریک ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ لوگ دجال سے بھاگ کر پہاڑوں پر جا پہنچیں گے ۔‘‘ ام شریک ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس وقت عرب کہاں ہوں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ (اس وقت) قلیل ہوں گے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔