ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں اس (ابن صیاد) سے ملا اور اس کی آنکھ سوجی ہوئی تھی ، میں نے کہا : میں جو دیکھ رہا ہوں تیری آنکھ کو کب سے ایسے ہے ؟ اس نے کہا : میں نہیں جانتا ، میں نے کہا : تو نہیں جانتا حالانکہ وہ تیرے سر میں ہے ، اس نے کہا : اگر اللہ چاہے تو وہ اسے تیرے عصا میں پیدا کر دے ، ابن عمر ؓ نے فرمایا : وہ گدھے سے بھی زیادہ خوفناک آواز میں چیخنے لگا ، میں نے (اس کی) آواز سنی ۔ رواہ مسلم ۔
محمد بن منکدر بیان کرتے ہیں ، میں نے جابر بن عبداللہ ؓ کو اللہ کی قسم اٹھاتے ہوئے سنا کہ ابن صیاد دجال ہے ، میں نے کہا : آپ اللہ کی قسم اٹھاتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں نے عمر ؓ کو اس بات پر نبی ﷺ کے پاس قسم اٹھاتے ہوئے سنا ، لیکن نبی ﷺ نے اس پر ناگواری نہیں فرمائی ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۷۳۵۵) و مسلم (۹۴ / ۲۹۲۹) ۔ 7353
نافع بیان کرتے ہیں ، ابن عمر ؓ بیان کیا کرتے تھے ، اللہ کی قسم ! مجھے کوئی شک نہیں کہ مسیح دجال ابن صیاد ہی ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و البیھقی فی کتاب البعث و النشور ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد (۴۳۳۰) و البیھقی فی البعث و النشور (لم اجدہ) ۔
ابوبکرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دجال کے والدین تیس سال تک (بے اولاد) رہیں گے اور ان کے ہاں کوئی بچہ پیدا نہیں ہو گا ، پھر ان کے ہاں لڑکا پیدا ہو گا جو کانا ، بڑے دانتوں والا اور بہت ہی کم منافع پہنچانے والا ہو گا ، اس کی آنکھیں سوئیں گی لیکن اس کا دل نہیں سوئے گا ۔‘‘ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کے والدین کے متعلق ہمیں تعارف کرایا ، فرمایا :’’ اس کا والد طویل القامت ، پتلا ہو گا اور اس کی ناک لمبی ہو گی ، اس کی والدہ موٹی لمبے ہاتھوں والی ہو گی ۔‘‘ ابوبکرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نے مدینہ میں یہودیوں کے ہاں ایک بچے کی ولادت کی خبر سنی تو میں اور زبیر بن عوام ؓ گئے حتی کہ ہم اس کے والدین کے پاس پہنچ گئے ، دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے جو صفات بیان کی تھیں وہ ان میں موجود تھیں ، ہم نے ان سے کہا : کیا تمہارا کوئی بچہ ہے ؟ انہوں نے کہا : ہم تیس سال تک (بے اولاد) رہے ، اور ہمارے ہاں کوئی بچہ پیدا نہ ہوا ، پھر ہمارے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا جو کانا ، لمبے دانتوں والا اور انتہائی کم نفع مند ہے ، اس کی آنکھیں سوتی ہیں لیکن اس کا دل نہیں سوتا ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، ہم ان دونوں کے پاس سے نکلے تو وہ ایک چادر میں لپٹا ہوا دھوپ میں زمین پر لیٹا ہوا تھا اور اس کی آواز پست تھی ، اس نے اپنے سر سے کپڑا اٹھایا تو یہ کہا : تم دونوں نے یہ کیا کہا تھا ؟ ہم نے کہا : ہم نے جو کہا تھا کیا تو نے اسے سن لیا تھا ؟ اس نے کہا : ہاں ، میری آنکھیں سوتی ہیں جبکہ میرا دل نہیں سوتا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۲۴۸ وقال : حسن غریب) * فیہ علی بن زید بن جدعان : ضعیف ۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت نے مدینہ میں ایک بچے کو جنم دیا جس کی آنکھ نہیں تھی ، اس کی کچلیاں نظر آ رہی تھیں ، رسول اللہ ﷺ کو اندیشہ ہوا کہ وہ دجال نہ ہو ، آپ ﷺ نے اسے ایک چادر کے نیچے کچھ غیر واضح باتیں کرتے ہوئے پایا ، اس کی والدہ نے اسے اطلاع کر دی ، کہا : عبداللہ ! یہ تو ابو القاسم (ﷺ) ہیں ، وہ چادر سے نکلا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے کیا ہوا ؟ اللہ اسے ہلاک کرے ، اگر وہ اس (ابن صیاد) کو اس کے حال پر چھوڑ دیتی تو وہ (اپنے دل کی بات) بیان کر دیتا ۔‘‘ پھر ابن عمر ؓ سے مروی حدیث کے معنی کی مثل حدیث بیان کی ، عمر بن خطاب ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے اجازت مرحمت فرمائیں کہ میں اسے قتل کر دوں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر تو یہ وہی (دجال) ہے تو پھر تم اسے قتل کرنے والے نہیں ہو ، اسے قتل کرنے والے تو عیسیٰ بن مریم ؑ ہیں ، اور اگر وہ (دجال) نہ ہوا تو پھر کسی ذمی شخص کو قتل کرنے کا تمہیں کوئی حق حاصل نہیں ۔‘‘ رسول اللہ ﷺ مسلسل خوف زدہ رہے کہ وہ دجال ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ البغوی فی شرح السنۃ (۵ / ۷۸ ح ۴۲۷۴) [و احمد (۳ / ۳۶۸ ح ۱۵۰۱۸)] * فیہ ابو الزبیر مدلس و عنعن ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! البتہ قریب ہے کہ ابن مریم (عیسیٰ ؑ) تمہارے درمیان ایک عادل حاکم کے طور پر نازل ہوں گے ، وہ صلیب توڑ دیں گے ، خنزیر کو مار ڈالیں گے ، جزیہ موقوف کر دیں گے اور مال کی اتنی ریل پیل ہو گی کہ اسے لینے والا کوئی نہیں ملے گا ، حتی کہ ایک سجدہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہو گا ۔‘‘ پھر ابوہریرہ ؓ فرماتے : اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو :’’ اہل کتاب کا ہر فرد ان (عیسیٰ ؑ) کی موت سے پہلے ان پر ضرور ایمان لے آئے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۲۲۲) و مسلم (۲۴۲ / ۱۵۵) ۔ 3448
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کی قسم ! ابن مریم (عیسیٰ ؑ) حکمِ عادل کی حیثیت سے نازل ہوں گے ، وہ صلیب توڑ دیں گے ، خنزیر کو قتل کر ڈالیں گے ، جزیہ موقوف کر دیں گے ، جوان اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی ان سے کوئی کام نہیں لیا جائے گا ، عداوت و رنجش اور باہمی بغض و حسد جاتا رہے گا ، وہ مال کی طرف بلائیں گے لیکن اسے کوئی لینے والا نہیں ہو گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
اور صحیحین کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ تمہاری اس وقت کیا حالت ہو گی جب ابن مریم ؑ تمہارے درمیان نزول فرمائیں گے ، اور تمہارا امام تم ہی میں سے ہو گا ۔‘‘
Takhreej
رواہ مسلم (۲۴۳ / ۱۵۵) و الروایۃ الثانیۃ ، رواھا البخاری (۳۴۴۹) و مسلم (۲۴۴ / ۱۵۵) ۔ 391-392
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قتال کرتا رہے گا وہ (قرب) قیام قیامت تک غالب آتے رہیں گے ۔‘‘ فرمایا :’’ ابن مریم ؑ نازل ہوں گے تو ان کا امیر کہے گا : تشریف لائیں اور ہمیں نماز پڑھائیں ، وہ فرمائیں گے ، نہیں ، اللہ نے اس امت کو جو عزت بخشی ہے اس وجہ سے تم خود ہی ایک دوسرے کے امام ہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عَن عبد الله بن عَمْرو قا ل: قا ل رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَنْزِلُ عِيسَى بن مَرْيَمَ إِلَى الْأَرْضِ فَيَتَزَوَّجُ وَيُولَدُ لَهُ وَيَمْكُثُ خَمْسًا وَأَرْبَعِينَ سَنَةً ثُمَّ يَمُوتُ فَيُدْفَنُ مَعِي فِي قَبْرِي فأقوم أَنا وَعِيسَى بن مَرْيَمَ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ بَيْنَ أَبَى بَكْرٍ وَعُمَرَ» . رَوَاهُ ابْنُ الْجَوْزِيِّ فِي كِتَابِ الْوَفَاءِ
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عیسیٰ بن مریم ؑ زمین پر نازل ہوں گے ، شادی کریں گے اور ان کی اولاد ہو گی ، وہ پینتالیس سال رہیں گے پھر فوت ہو جائیں گے ۔ انہیں میری قبر کے ساتھ ہی میرے قریب دفن کر دیا جائے گا ۔ میں اور عیسیٰ بن مریم ، ابوبکر و عمر کے درمیان سے ایک ہی قبر سے کھڑے ہوں گے ۔‘‘ ابن جوزی نے اسے کتاب الوفا میں ذکر کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن جوزی فی کتاب الوفاء ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن الجوزی فی کتاب الوفاء (۲ / ۷۱۴) [و العلل المتناھیۃ (۲ / ۴۳۳ ح ۱۵۲۹)] * فیہ عبد الرحمن بن زیاد بن انعم الافریقی ضعیف و فی السند الیہ نظر ۔
شعبہ ، قتادہ سے ، وہ انس ؓ سے بیان کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں اور قیامت ان دونوں (انگلیوں) کی طرح بھیجے گئے ہیں ۔‘‘ شعبہ نے بیان کیا ، میں نے قتادہ ؒ سے سنا وہ یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کرتے تھے ۔ جس طرح ان دونوں (انگلیوں) میں سے ایک کو دوسری پر فضیلت حاصل ہے ۔ میں نہیں جانتا کہ آیا انہوں نے اسے انس ؓ سے نقل کیا ہے یا قتادہ ؒ کا اپنا بیان ہے ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۵۰۴) و مسلم (۱۳۳ / ۲۹۵۱) ۔ 7404
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی ﷺ کو ، ان کی وفات سے ایک ماہ پہلے فرماتے ہوئے سنا :’’ تم مجھ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہو ، حالانکہ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے ، میں اللہ کی قسم اٹھاتا ہوں کہ روئے زمین پر جو ذی روح آج موجود ہے وہ سو سال گزرنے کے بعد زندہ نہیں ہو گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، کچھ اعرابی لوگ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ سے قیامت کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے ان میں سے سب سے چھوٹے کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا :’’ اگر یہ زندہ رہا تو اس کے بوڑھے ہونے سے پہلے تمہاری قیامت تم پر قائم ہو جائے گی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۵۱۱) و مسلم (۱۳۶ / ۲۹۵۲) ۔ 7409
مستور بن شداد ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے قیامت کے ظہور کے ساتھ بھیجا گیا ہے ، میں اس پر اسی طرح سبقت لے گیا ہوں جس طرح یہ اس پر سبقت لے گئی ہے ۔‘‘ اور آپ ﷺ نے اپنی دو انگلیوں ، انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کے ساتھ اشارہ کیا ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۲۱۳ وقال : غریب) * مجالد ضعیف و عبیدۃ بن الاسود مدلس و عنعن و روی احمد (۵ / ۳۴۸) بلفظ :’’ بعث انا و الساعۃ جمیعًا ، ان کادت لتسبقنی ‘‘ و سندہ حسن ۔
سعد بن ابی وقاص ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں امید کرتا ہوں کہ میری امت اپنے رب کے ہاں عاجز نہیں آئے گی کہ وہ انہیں آدھا دن مؤخر کر دے ۔‘‘ سعد ؓ سے دریافت کیا گیا ، آدھے دن کی کیا مقدار ہے ؟ انہوں نے فرمایا : پانچ سو سال ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۴۳۶۰) * السند منقطع ، شریح بن عبید لم یدرک سعدًا رضی اللہ عنہ ۔ (انظر التھذیب الکمال ۳ / ۳۸۰ تحقیق بشار عواد) ولہ شاھد ضعیف منقطع عند احمد (۱ / ۱۷۰ ح ۱۴۶۴) و حدیث ابی داود (۴۳۴۹ و سندہ صحیح) یغنی عنہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس دنیا کی مثال اس کپڑے کی طرح ہے جسے اس کے اول سے آخر تک پھاڑ دیا گیا ہو اور وہ اپنے آخر میں ایک دھاگے کے ساتھ متعلق ہو ، قریب ہے کہ وہ دھاگہ بھی ٹوٹ جائے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۱۰۲۴۰ ، نسخۃ محققۃ : ۹۷۵۹) * فیہ یحیی بن سعید العطار وھو ضعیف و شیخہ ابو سعید خلف بن حبیب : لم اعرفہ و للحدیث شاھد ضعیف جدًا عند ابی نعیم فی الحلیۃ (۸ / ۱۳۱) تنبیہ : طبع فی شعب الایمان (نسخۃ دار الکتب العلمیۃ) :’’ یحیی بن سعید القطان ‘‘ وھو خطاء و الصواب ’’ یحیی بن سعید العطار ‘‘ کما فی النسخۃ المحققۃ و انظر قصر الامل لابن ابی الدنیا (۲ / ۱۳ / ۱) و السلسلۃ الضعیفۃ (۱۹۷۰) ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تک زمین پر اللہ اللہ کہا جائے گا قیامت قائم نہیں ہو گی ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ کسی ایک پر قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک وہ اللہ اللہ کہتا ہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قیامت قائم نہیں ہو گی حتی کہ قبیلہ دوس کی عورتوں کے سرین ذوالخلصہ کے گرد (طواف کرتے ہوئے) چھلکیں (یعنی حرکت کریں) گے ۔ اور ذوالخلصہ دوس قبیلے کا صنم ہے جس کی وہ دورِ جاہلیت میں پوجا کیا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۷۱۱۶) و مسلم (۵۱ / ۲۹۰۶) ۔ 7298