TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 5613 - بَاب صفةالجنة وَأَهْلهَا - قیامت کے احوال اور دوبارہ اٹھائے جانے کا بیان - Mishkat in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 43 in this chapter
بَاب صفةالجنة وَأَهْلهَا
جنت اور اہل جنت کے حال کا بیان
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جنت میں ایک کوڑے جتنی جگہ ، دنیا اور اس میں جو کچھ ہے ، سب سے بہتر ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
5613
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
Conclusion
تخریج
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۷۹۶ ، ۶۵۶۸) و مسلم (لم اجدہ) ۔

Related Chapters

366
1
حلال وحرام کے بیان، اہل جنت واہلِ جہنم کی صفات، اور بخل وکذب کے بیان پر مشتمل ایک خطبہ
Musnad Ahmad
2
ان احادیث کا تذکرہ، جن میں دجال کے ظہور ، زمین میں اس کے قیام کی مدت، عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور ان کا دجال کو قتل کرنے، یا جوج ماجوج کے ظہور اور ان کی ہلاکت، عیسیٰ علیہ السلام کے دنوـں میں لوگوں کی خوش حالی اور پھر اہلِ خیر و اہلِ ایمان کے فوت ہو جانے اور بد ترین لوگوں کے باقی رہ جانے، پھر صور پھونکے جانے اور قبر والوں کے جی اٹھنے کا بیان ہے
Musnad Ahmad
3
اہل ِ جہنم کی بدبختی اور اہل جنت کی نعمتوں کا بیان
Musnad Ahmad
4
اہل ِ توحید میں سے جہنم سے سب سے آخر میں رہائی پانے والا اور سب سے آخر میں جنت میں جانے والے کا تذکرہ
Musnad Ahmad
5
اہل جنت ،ان کی صفات ،دیگر امتوں کے مقابلے میں امت ِ محمدیہ کی تعداد اوران کے کھانے پینے ، نکاح اور لباس کا تذکرہ
Musnad Ahmad
6
اہل جنت پر اللہ تعالیٰ کی رضا مندی، اور یہی چیز اہل جنت پر سب سے بڑی نعمت ہوگی
Musnad Ahmad
7
اہل ایمان کا جنت میں اپنے ربّ کا دیدار کرنا اور یہ سب سے بڑی نعمت ہو گی، جو اللہ تعالیٰ ان کو عطا کرے گا، اللہ ہمیں اس سے محروم نہ رکھے (آمین)نیز اس باب میں موقف سے موت کے ذبح ہونے تک کے ابواب کی تلخیص بھی ہے
Musnad Ahmad
8
Chapter: The evidence that the one who dies not associating anything with Allah will enter paradise, and the one who dies as idolator will enter the fire
جو شخص اس حالت میں مرا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرایا ، وہ جنت میں داخل ہو گا اور اگر شرک کی حالت میں مر گیا تو آگ میں داخل ہو گا
Sahih Muslim
9
Chapter: The Status of the Lowest people in paradise
اہل جنت میں سے جوشخص سب سے نچلے درجے ہو گا
Sahih Muslim
10
Chapter: Clarifying that this ummah will form half of the People of Paradise
اہل جنت میں سے آدھے اس امت سے ہوں گے
Sahih Muslim
11
Chapter: What Was Shown To The Prophet Of Paradise And Hell During The Eclipse Prayer
نماز کسوف کے دوران میں بنی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کے سامنے جنت اور دوزخ کے جوحالات پیش کیے گئے
Sahih Muslim
12
Chapter: Most Of The People Of Paradise Are Poor, And Most Of The Inhabitants Of The Fire Are Women, And The Fitnah Of Women
باب: اہل جنت میں اکثریت فقراء کی اور اہل دوزخ میں اکثریت عورتوں کی ہو گی اور عورتوں کے ذریعے آزمائش ہوتی ہے۔
Sahih Muslim
13
Chapter: The Welcoming Feast Of The People Of Paradise
اہل جنت کی ضیافت
Sahih Muslim
14
Chapter: Bestowal Of Divine Pleasure On The People Of Paradise, And Allah Will Never Be Angry With Them
اہل جنت پر اللہ کی رضا کانزول،اس کے بعدوہ ان پر کبھی ناراض نہ ہوگا
Sahih Muslim
15
Chapter: The Inhabitants Of Paradise Will See The People In The Highest Place In Paradise As Planets Are Seen In The Sky
اہل جنت کا بالاخانوں والوں کو اس طرح دیکھنا جس طرح آسمان میں ستارہ نظر آتا ہے
Sahih Muslim
16
Chapter: The Market Of Paradise, And What They Will Get There Of Delight And Beauty
جنت کابازار اور اس میں(اہل جنت کو) جو نعمتیں اور حسن وجمال حاصل ہوگا
Sahih Muslim
17
Chapter: The Attributes Of Paradise And Its People, And Their Glorifying Allah Every Morning And Evening
جنت اور اہل جنت کی صفات اور اس میں صبح و شام ان کی تسبیحات
Sahih Muslim
18
Chapter: The Eternal Delight Of The People Of Paradise, And The Verse In Which Allah Says: And It Will Be Announced To Them: This Is The Paradise Which You Have Inherited For What You Used To Do
اہل جنت کی نعمتیں دائمی ہوں گی، اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد: اور انھیں پکار کربتایاجائے گا کہ یہ تمھاری جنت ہے جس کے تم ان(نیک) کاموں کے بدلے میں جوتم کیا کرتے تھے وارث بنا دیے گئے ہو۔
Sahih Muslim
19
Chapter: Attributes By Which The People Of Paradise And The People Of The Fire May Be Recognized In This World
وہ صفات جن کے ذریعے سے دنیا میں اہل جنت اور اہل جہنم کی پہچان ہو سکتی ہے
Sahih Muslim
20
باب: اہل جنت کی تمنا کا بیان۔
Sunnan Nisai
21
(111)Chapter: What Has Been Related About A Man Reciting The Qur'an Under Any Circumstances As Long As He Is Not Junub
باب: آدمی ہر حال میں قرآن پڑھ سکتا ہے جب تک کہ وہ جنبی نہ ہو
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About Combining Two Prayers While [A Resident]
باب: حضر (اقامت کی حالت) میں دو نمازوں کو ایک ساتھ جمع کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About If Being Disliked to Talk While The Imam Is Delivering The Khutbah
باب: امام کے خطبہ دینے کی حالت میں گفتگو کرنے کی کراہت
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About Al-Habwah Being Disliked While The Imam Is Delivering The Khutbah
باب: امام کے خطبہ دینے کی حالت میں احتباء کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked For The Prophet, His Household, and His Mawali To Accept Charity
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم، اہل بیت اور آپ کے موالی سب کے لیے زکاۃ لینے کی حرمت
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About The One Who Assumed Ihram While Wearing A Shirt Or A Cloak
باب: جو احرام کی حالت میں کرتا یا جبہ پہنے ہو
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked For the Muhrim To Marry
باب: حالت احرام میں محرم کی شادی کرانے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About The Muhrim Who Dies In His Ihram
باب: محرم حالت احرام میں مر جائے تو کیا کیا جائے؟
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About What Is Required From A Muhrim Who Shaves His Head While In Ihram
باب: محرم حالت احرام میں سر منڈوا لے تو اس پر کیا تاوان ہو گا؟
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About 'The Judge Is Not To Pass A Judgement While He Is Angry'
باب: قاضی غصہ کی حالت میں فیصلہ نہ کرے
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About Stoning The People Of The Book
باب: اہل کتاب کو رجم کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About Oaths Of Allegiance
باب: جاہلیت کے حلف (معاہدہ تعاون) کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About The Number Of Companions Who Participated In The Battle Of Badr
باب: اہل بدر کی تعداد کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About Greeting The People Of The Book With Salam
باب: اہل کتاب کو سلام کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Mentioned About 'The Gates Of Paradise Are Under The Shadows Of The Swords;
باب: جنت کے دروازے تلواروں کی چھاؤں میں ہیں
Jam e Tirmazi
36
باب: اللہ تعالیٰ نے جنتیوں اور جہنمیوں کو اپنی کتاب میں لکھ رکھا ہے
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About 'The World Is A Prison For The Believer And A Paradise For The Disbeliever
باب: دنیا مومن کے لیے قید خانہ (جیل) اور کافر کے لیے جنت (باغ و بہار) ہے
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About 'The Poor Among The Muhajirin Will Enter Paradise Before The Rich Among Them'
باب: مہاجر فقراء جنت میں مالدار مہاجر سے پہلے جائیں گے
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About The Parable Of The Son Of Adam, His Family, His Children, His Wealth, And His Deeds
باب: مال و دولت، اہل و عیال، رشتہ دار اور عمل کی مثال کا بیان
Jam e Tirmazi
40
باب: امت محمدیہ کے اہل کبائر کی شفاعت کا بیان
Jam e Tirmazi
41
باب: ستر ہزار مسلمان بلا حساب کتاب اور مزید لوگ شفاعت سے داخل جنت ہوں گے
Jam e Tirmazi
42
باب: جنت کے درختوں کا بیان
Jam e Tirmazi
43
باب: جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
44
باب: جنت کے کمروں کا بیان
Jam e Tirmazi
45
باب: جنت کے درجات و مراتب کا بیان
Jam e Tirmazi
46
باب: جنتیوں کی عورتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
47
باب: جنتیوں کے جماع کا بیان
Jam e Tirmazi
48
باب: جنتیوں کے اوصاف کا بیان
Jam e Tirmazi
49
باب: جنتیوں کے لباس کا بیان
Jam e Tirmazi
50
باب: جنت کے پھلوں کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,796
Jam e Tirmazi
1648
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏وَمَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Sahl bin Sa'd As-Sa'idi: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: Going out in the morning in the cause of Allah is better that the world and what is in it. And the place (the size) of a whip in Paradise is better than the world and what is in it. [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from Abu Hurairah, Ibn 'Abbas, Abu Ayyub, and Anas. This Hadith is Hasan Sahih.
سہل بن سعد ساعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”راہ جہاد کی ایک صبح دنیا اور دنیا کی ساری چیزوں سے بہتر ہے اور جنت کی ایک کوڑے ۱؎ کی جگہ دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، ابن عباس، ابوایوب اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
1651
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ أَوْ مَوْضِعُ يَدِهِ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَوْ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ اطَّلَعَتْ إِلَى الْأَرْضِ، ‏‏‏‏‏‏لَأَضَاءَتْ مَا بَيْنَهُمَا وَلَمَلَأَتْ مَا بَيْنَهُمَا رِيحًا، ‏‏‏‏‏‏وَلَنَصِيفُهَا عَلَى رَأْسِهَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.
Narrated Anas: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: To go out in the cause of Allah in the morning, or the afternoon, is better than the world and what is in it. And the space that a bow of one of you - or the space that his hand - would occupy in Paradise is better than the world and what is in it. And if a woman among the women inhabiting Paradise were to appear to the people of the earth, then she would illuminate what is between the ( the heavens and the earth), and a pleasant scent would fill up what is between them, and the scarf on her head is better than the world and what is in it. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih.
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”راہ جہاد کی ایک صبح یا ایک شام ساری دنیا سے بہتر ہے، اور تم میں سے کسی کی کمان یا ہاتھ کے برابر جنت کی جگہ دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے ۱؎، اگر جنت کی عورتوں میں سے کوئی عورت زمین کی طرف نکل آئے تو زمین و آسمان کے درمیان کی ساری چیزیں روشن ہو جائیں اور خوشبو سے بھر جائیں اور اس کے سر کا دوپٹہ دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
1664
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي النَّضْرِ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏وَمَوْضِعُ سَوْطِ أَحَدِكُمْ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَرَوْحَةٌ يَرُوحُهَا الْعَبْدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ لَغَدْوَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، ‏‏‏‏‏‏هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Sahl bin Sa'd: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: (Ribat) Guarding the frontier for a day in the cause of Allah is better than the world and what is in it. And an afternoon the worshipper spends in the cause of Allah - or a morning - is better than the world and what is on it. And the space occupied by the whip of one of you in Paradise is better than the world and what is on it. This Hadith is Hasan Sahih.
سہل بن سعد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں سرحد کی ایک دن کی پاسبانی کرنا دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے، تم میں سے کسی کے کوڑے کے برابر جنت کی جگہ دنیا اور دنیا کی ساری چیزوں سے بہتر ہے اور بندے کا اللہ کی راہ میں صبح یا شام کے وقت چلنا دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے“۔
Jam e Tirmazi
3292
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَقُولُ اللَّهُ:‏‏‏‏ أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ:‏‏‏‏ فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ سورة السجدة آية 17، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْجَنَّةِ شَجَرَةٌ يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا، ‏‏‏‏‏‏وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ:‏‏‏‏ وَظِلٍّ مَمْدُودٍ سورة الواقعة آية 30، ‏‏‏‏‏‏وَمَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ:‏‏‏‏ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلا مَتَاعُ الْغُرُورِ سورة آل عمران آية 185 . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah said: “Allah said: ‘I have prepared for My righteous worshippers, what no eye has seen, nor ear has hear, and no human heart has conceived.’ So recite if you wish: No person knows what is kept hidden for them of delights of the eyes as a reward for what they used to do. And in Paradise there is a tree under whose shade a rider can travel for one hundred years without stopping. Recite if you wish: And in shade extended. And the space occupied by a whip in Paradise is better than the world and whatever is in it. Recite if you wish: And whoever is removed away from the Fire and admitted to Paradise, he indeed is successful. The life of this world is only the enjoyment of deception.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ فرماتا ہے: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی چیزیں تیار کی ہیں جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ ہی کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال آیا ہے، تم چاہو تو اس آیت کو پڑھ لو «فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين جزاء بما كانوا يعملون» ”ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کی آنکھ کی ٹھنڈک کے طور پر جو چیز تیار کی گئی ہے اسے کوئی بھی نہیں جانتا“ ( السجدۃ: ۱۷ ) ، جنت میں ایک ایسا درخت ہے جس کی ( گھنی ) چھاؤں میں سوار سو برس تک بھی چلتا چلا جائے تو بھی اس کا سایہ ختم نہ ہو، تم چاہو تو آیت کا یہ ٹکڑا «وظل ممدود» ”پھیلا ہوا لمبا لمبا سایہ“ ( الواقعہ: ۳۰ ) ، پڑھ لو، جنت میں ایک کوڑا رکھنے کی جگہ برابر دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہے، چاہو تو دلیل کے طور پر یہ آیت پڑھ لو «فمن زحزح عن النار وأدخل الجنة فقد فاز وما الحياة الدنيا إلا متاع الغرور» ”جو شخص جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا تو وہ کامیاب ہو گیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کا سامان ہے“ ( آل عمران: ۱۸۵ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Sahih Bukhari
2796
وَسَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَرَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَوْ غَدْوَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ ، أَوْ مَوْضِعُ قِيدٍ يَعْنِي سَوْطَهُ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، وَلَوْ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اطَّلَعَتْ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ لَأَضَاءَتْ مَا بَيْنَهُمَا ، وَلَمَلَأَتْهُ رِيحًا وَلَنَصِيفُهَا عَلَى رَأْسِهَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا .
Narrated Anas: The Prophet said, A single endeavor (of fighting) in Allah's Cause in the afternoon or in the forenoon is better than all the world and whatever is in it. A place in Paradise as small as the bow or lash of one of you is better than all the world and whatever is in it. And if a houri from Paradise appeared to the people of the earth, she would fill the space between Heaven and the Earth with light and pleasant scent and her head cover is better than the world and whatever is in it.
اور میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کرتے تھے کہ اللہ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام بھی گزار دینا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے، سب سے بہتر ہے اور کسی کے لیے جنت میں ایک ہاتھ کے برابر جگہ بھی یا ( راوی کو شبہ ہے ) ایک «قيد» جگہ، «قيد» سے مراد کوڑا ہے، «دنيا وما فيها» سے بہتر ہے اور اگر جنت کی کوئی عورت زمین کی طرف جھانک بھی لے تو زمین و آسمان اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ منور ہو جائیں اور خوشبو سے معطر ہو جائیں۔ اس کے سر کا دوپٹہ بھی دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بڑھ کر ہے۔
Sahih Bukhari
3250
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا .
Narrated Sahl bin Sa`d Al-Saidi: Allah's Apostle said, A place in Paradise equal to the size of a lash is better than the whole world and whatever is in it.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جنت میں ایک کوڑے کی جگہ دنیا سے اور جو کچھ دنیا میں ہے، سب سے بہتر ہے۔“
Sahih Bukhari
6415
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، وَلَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا .
Narrated Sahl: I heard the Prophet saying, A (small) place equal to an area occupied by a whip in Paradise is better than the (whole) world and whatever is in it; and an undertaking (journey) in the forenoon or in the afternoon for Allah's Cause, is better than the whole world and whatever is in it.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جنت میں ایک کوڑے جتنی جگہ دنیا اور اس میں جو کچھ ہے سب سے بہتر ہے اور اللہ کے راستے میں صبح کو یا شام کو تھوڑا سا چلنا بھی «الدنيا وما فيها» سے بہتر ہے۔
Sahih Bukhari
6568
وَقَالَ : غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ ، أَوْ مَوْضِعُ قَدَمٍ مِنَ الْجَنَّةِ ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، وَلَوْ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ اطَّلَعَتْ إِلَى الْأَرْضِ ، لَأَضَاءَتْ مَا بَيْنَهُمَا ، وَلَمَلَأَتْ مَا بَيْنَهُمَا رِيحًا ، وَلَنَصِيفُهَا ، يَعْنِي : الْخِمَارَ ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا .
The Prophet added, A forenoon journey or an after noon journey in Allah's Cause is better than the whole world and whatever is in it; and a place equal to an arrow bow of anyone of you, or a place equal to a foot in Paradise is better than the whole world and whatever is in it; and if one of the women of Paradise looked at the earth, she would fill the whole space between them (the earth and the heaven) with light, and would fill whatever is in between them, with perfume, and the veil of her face is better than the whole world and whatever is in it.
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے ایک صبح یا ایک شام سفر کرنا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے، سے بڑھ کر ہے اور جنت میں تمہاری ایک کمان کے برابر جگہ یا ایک قدم کے فاصلے کے برابر جگہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے، سے بہتر ہے اور اگر جنت کی عورتوں میں سے کوئی عورت روئے زمین کی طرف جھانک کر دیکھ لے تو آسمان سے لے کر زمین تک منور کر دے اور ان تمام کو خوشبو سے بھر دے اور اس کا دوپٹہ «دنيا وما فيها‏ ) ‏‏.‏» سے بڑھ کر ہے۔
Sunnan Ibn e Maja
4330
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ،‏‏‏‏ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ،‏‏‏‏ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا .
It was narrated from Sahl bin Sa’d that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “A place the size of a whip in Paradise is better than this world and everything in it.”
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک کوڑے کی جگہ «دنيا وما فيها» سے بہتر ہے ۔