حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ يَهُودِيًّا وَيَهُودِيَّةً . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
Narrated Ibn 'Umar:
That the Messenger of Allah (ﷺ) stoned a Jew and Jewess.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو رجم کیا۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اور یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- حدیث میں ایک قصہ کا بھی ذکر ہے ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز ۶۰ (۱۳۲۹)، والمناقب ۲۶ (۳۶۳۵)، والحدود ۲۴ (۶۸۱۹)، صحیح مسلم/الحدود ۶ (۱۶۹۹)، سنن ابی داود/ الحدود۲۶ (۴۴۴۶)، سنن ابن ماجہ/الحدود ۱۰ (۲۵۵۶)، (تحفة الأشراف : ۸۳۲۴)، وط/الحدود ۱ (۱)، سنن الدارمی/الحدود ۱۵ (۲۳۴۸)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : امام ترمذی نے جس قصہ کی طرف اشارہ کیا ہے وہ یہ ہے : یہود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسے مرد اور عورت کو لائے جن سے زنا کا صدور ہوا تھا، اللہ کے رسول نے ان لوگوں سے پوچھا : اس کے متعلق توراۃ میں کیا حکم ہے ؟ کیونکہ ہمارے یہاں اس کی سزا رجم ہے، ان لوگوں نے کہا : کوڑے کی سزا ہے، یا چہرے پر کالا پوت کر عوام میں رسوا کیا جانا ہے، عبداللہ بن سلام نے کہا : تم کذب بیانی سے کام لے رہے ہو، اس میں بھی رجم کا حکم ہے، چنانچہ توراۃ طلب کی گئی، اسے پڑھا جانے لگا تو پڑھنے والے نے آیت رجم کو چھپا کر اس سے ما قبل اور بعد کی آیات پڑھیں، پھر عبداللہ بن سلام کے کہنے پر اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا تو آیت رجم موجود تھی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کا حکم دیا۔
1436
Sahih