مشکوۃ

Mishkat

كتاب المناقب

مناقب کا بیان

بَاب جَامع المناقب

وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْأَنْصَارُ لَا يُحِبُّهُمْ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يَبْغَضُهُمْ إِلَّا مُنَافِقٌ فَمَنْ أَحَبَّهُمْ أَحَبَّهُ اللَّهُ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ أَبْغَضَهُ اللَّهُ» . مُتَّفق عَلَيْهِ

براء ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ انصار سے صرف مومن شخص ہی محبت کرتا ہے جبکہ انصار سے صرف منافق شخص ہی عداوت رکھتا ہے ، چنانچہ جس نے ان سے محبت کی تو اللہ اس سے محبت کرے گا اور جس نے ان سے عداوت کی تو اللہ اس سے عداوت کرے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: إِنَّ نَاسًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَالُوا حِينَ أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ مَا أَفَاءَ فَطَفِقَ يُعْطِي رِجَالًا مِنْ قُرَيْشٍ الْمِائَةَ مِنَ الْإِبِلِ فَقَالُوا: يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَدَعُنَا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ فَحَدَّثَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَقَالَتِهِمْ فَأَرْسَلَ إِلَى الْأَنْصَارِ فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مَنْ أَدَمٍ وَلَمْ يَدْعُ مَعَهُمْ أَحَدًا غَيْرَهُمْ فَلَمَّا اجْتَمَعُوا جَاءَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم فَقَالَ: «مَا كَانَ حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ؟» فَقَالَ فُقَهَاؤُهُمْ: أَمَّا ذَوُو رَأْيِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يَقُولُوا شَيْئًا وَأَمَّا أُنَاسٌ مِنَّا حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ قَالُوا: يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَدَعُ الْأَنْصَارَ وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي أُعْطِي رِجَالًا حَدِيثِي عَهْدٍ بِكُفْرٍ أَتَأَلَّفُهُمْ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالْأَمْوَالِ وَتَرْجِعُونَ إِلَى رِحَالِكُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» . قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قد رَضِينَا. مُتَّفق عَلَيْهِ

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو ہوازن قبیلے کے اموال میں سے غنیمت عطا فرمائی اور آپ قریش کے (نو مسلم) افراد کو سو اونٹ دینے لگے تو انصار کے کچھ لوگوں نے کہا : اللہ رسول اللہ ﷺ کی مغفرت فرمائے ، آپ قریشیوں کو تو عطا فرما رہے ہیں جبکہ ہمیں چھوڑ رہے ہیں ، اور صورت حال یہ ہے کہ ہماری تلواروں سے ان کا خون ابھی تک ٹپک رہا ہے ، ان کی یہ گفتگو رسول اللہ ﷺ کو بتائی گئی تو آپ نے انصار کو بلا بھیجا اور انہیں چمڑے کے ایک خیمے میں جمع کیا اور آپ نے ان کے علاوہ کسی اور کو وہاں نہ بلایا ، جب وہ اکٹھے ہو گئے تو رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا :’’ تمہارے متعلق مجھے کیا خبر پہنچی ہے ؟‘‘ ان (انصار) کے سمجھ دار لوگوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہمارے سنجیدہ لوگوں نے تو کوئی بات نہیں کی ، البتہ ہمارے چند نو عمر لڑکوں نے کہا ہے : اللہ ، رسول اللہ ﷺ کو معاف فرمائے کہ وہ قریشیوں کو دے رہے ہیں اور انصار کو چھوڑ رہے ہیں ، جبکہ ہماری تلواروں سے ان (قریشیوں) کا خون ٹپک رہا ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے نو مسلموں کو ان کی تالیف قلبی کے لیے دیا ہے ، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ لوگ تو مال و دولت لے کر واپس جائیں اور تم رسول اللہ ﷺ کو ساتھ لے کر اپنے گھروں کو واپس جاؤ ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، کیوں نہیں ، اللہ کے رسول ! ہم اس پر راضی ہیں ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَءًا مِنَ الْأَنْصَارِ وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ وشعبها وَالْأَنْصَار شِعَارٌ وَالنَّاسُ دِثَارٌ إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار میں سے ایک آدمی ہوتا ، اگر سارے لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں بھی انصار کی وادی اور گھاٹی میں چلوں گا ، انصار استر ہیں جبکہ باقی لوگ اوپر کا کپڑا ہیں ، بے شک تم لوگ میرے بعد ترجیح دیکھو گے (کہ تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی) تم صبر کرنا حتیٰ کہ تم حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کرو ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

وَعَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَقَالَ: «مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ وَمَنْ أَلْقَى السِّلَاحَ فَهُوَ آمِنٌ» . فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ وَرَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ. وَنَزَلَ الْوَحْيُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «قُلْتُمْ أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ وَرَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ كَلَّا إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ هَاجَرْتُ إِلَى الله وإليكم فالمحيا مَحْيَاكُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ» قَالُوا: وَاللَّهِ مَا قُلْنَا إِلَّا ضِنًّا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ. قَالَ: «فَإِنَّ اللَّهَ وَرَسُوله يصدقانكم ويعذرانكم» . رَوَاهُ مُسلم

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، فتح مکہ کے روز ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص ابوسفیان کے گھر داخل ہو جائے تو وہ امن میں ہے ، جو ہتھیار ڈال دے وہ امن میں ہے ۔‘‘ انصار نے کہا : اس آدمی کو اپنے رشتہ داروں سے رحمت اور اپنے شہر کی محبت نے پکڑ لیا ، (ان کی اس بات کے متعلق) رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے کہا ہے کہ اس آدمی کو اپنے کنبے سے شفقت اور اپنے شہر سے محبت نے پکڑ لیا ہے ، سن لو ، ایسے نہیں ، میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ، میں نے اللہ اور تمہاری طرف ہجرت کی ، میرا جینا مرنا تمہارے ساتھ ہے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کی قسم ! ہم نے تو محض اللہ اور اس کے رسول کی رفاقت کے حصول کے لیے ایسے کہا تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ اور اس کا رسول تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہارا عذر قبول کرتے رہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى صِبْيَانًا وَنِسَاءً مُقْبِلِينَ مِنْ عُرْسٍ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ» يَعْنِي الْأَنْصَار. مُتَّفق عَلَيْهِ

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے (انصار کے) کچھ بچوں اور خواتین کو کسی شادی کی تقریب سے واپس آتے ہوئے دیکھا تو نبی ﷺ نے کھڑے ہو کر فرمایا :’’ اے اللہ ! (تو جانتا ہے) تم تمام لوگوں سے زیادہ مجھے محبوب ہو ، اے اللہ ! (تو جانتا ہے) تم یعنی انصار تمام لوگوں سے زیادہ مجھے محبوب ہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْهُ قَالَ: مَرَّ أَبُو بَكْرٍ وَالْعَبَّاسُ بِمَجْلِسٍ من مجَالِس الْأَنْصَار وهم يَبْكُونَ فَقَالَ: مَا يُبْكِيكُمْ؟ قَالُوا: ذَكَرْنَا مَجْلِسَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَّا فَدَخَلَ أَحَدُهُمَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ عَصَّبَ عَلَى رَأْسِهِ حَاشِيَةَ بُرْدٍ فَصَعِدَ الْمِنْبَر وَلم يَصْعَدهُ بعد ذَلِك الْيَوْم. فَحَمدَ الله وَأَثْنَى عَلَيْهِ. ثُمَّ قَالَ: «أُوصِيكُمْ بِالْأَنْصَارِ فَإِنَّهُمْ كَرِشِي وَعَيْبَتِي وَقَدْ قَضَوُا الَّذِي عَلَيْهِمْ وَبَقِيَ الَّذِي لَهُمْ فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مسيئهم» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ابوبکر اور عباس ؓ انصار کی ایک مجلس کے پاس سے گزرے تو وہ اس وقت رو رہے تھے ۔ انہوں نے پوچھا : تم کیوں رو رہے ہو ؟ انہوں نے کہا : ہم نے نبی ﷺ کی مجلس کو یاد کیا جس میں ہم (بیٹھا کرتے) تھے ، ان دونوں میں سے ایک نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے اس کے متعلق آپ کو بتایا ، نبی ﷺ اپنے سر مبارک پر کپڑے کی پٹی باندھے ہوئے باہر تشریف لائے اور منبر پر جلوہ افروز ہوئے ، اور اس روز کے بعد آپ منبر پر تشریف نہ لا سکے ، آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر فرمایا :’’ میں انصار کے بارے میں تمہیں وصیت کرتا ہوں ، وہ میرے جسم و جان (دست و بازو) ہیں ، وہ اپنی ذمہ داریاں نبھا چکے ، اب ان کے حقوق باقی ہیں ، تم ان کے نیکوکاروں کی طرف سے (عذر) قبول کرنا اور ان کے خطاکاروں سے درگزر کرنا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ حَتَّى جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ النَّاسَ يَكْثُرُونَ وَيَقِلُّ الْأَنْصَارُ حَتَّى يَكُونُوا فِي النَّاسِ بِمَنْزِلَةِ الْمِلْحِ فِي الطَّعَامِ فَمَنْ وَلِيَ مِنْكُمْ شَيْئًا يَضُرُّ فِيهِ قَوْمًا وَيَنْفَعُ فِيهِ آخَرين فليقبل عَن محسنهم وليتجاوز عَن مسيئهم» رَوَاهُ البُخَارِيّ

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ اپنے مرض وفات میں باہر تشریف لائے اور منبر پر جلوہ افروز ہوئے ، آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر فرمایا :’’ امابعد ! باقی لوگ تو بہت زیادہ ہو جائیں گے جبکہ انصار کم ہو جائیں گے حتیٰ کہ وہ لوگوں میں نمک کے تناسب سے ہو جائیں گے ، تم میں سے جو شخص کسی ایسی چیز کا ذمہ دار و سرپرست ہو جس میں وہ کسی نقصان اور کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہو تو وہ ان (انصار) کے نیکوکاروں کے نیک کاموں کو قبول کرے اور ان کے خطاکاروں سے درگزر کرے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «الله اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ» . رَوَاهُ مُسلم

زید بن ارقم ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اے اللہ ! انصار ، انصار کی اولاد اور انصار کی اولاد کی اولاد کی مغفرت فرما ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ أَبِي أُسَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ وَفَى كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

ابواُسید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ انصار کا سب سے بہترین قبیلہ بنو نجار کا قبیلہ ہے ، پھر بنو عبدالاشہل ، بنو حارث بن خزرج ، پھر بنو ساعدہ اور انصار کے ہر قبیلے میں خیر ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَالزُّبَيْر والمقداد - وَفِي رِوَايَة: أَبَا مَرْثَدٍ بَدَلَ الْمِقْدَادِ - فَقَالَ: «انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً مَعَهَا كِتَابٌ فَخُذُوا مِنْهَا» فَانْطَلَقْنَا تَتَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا حَتَّى أَتَيْنَا الرَّوْضَة فَإِذا نَحن بِالظَّعِينَةِ قُلْنَا لَهَا: أَخْرِجِي الْكتاب قَالَت: مَا معي كِتَابٍ. فَقُلْنَا لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَتُلْقِيَنَّ الثِّيَابَ فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا فَأَتَيْنَا بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا فِيهِ: مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى نَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا حَاطِبُ مَا هَذَا؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ وَلَمْ أَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَكَانَ مَنْ مَعَك من الْمُهَاجِرين من لَهُم قَرَابَات يحْمُونَ بهَا أَمْوَالهم وأهليهم بِمَكَّةَ فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِكَ مِنَ النَّسَبِ فِيهِمْ يَدًا يَحْمُونَ بِهَا قَرَابَتِي وَمَا فَعَلْتُ كفرا وَلَا ارْتِدَادًا عَن ديني وَلَا رضى بِالْكُفْرِ بَعْدَ الْإِسْلَامِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ قَدْ صَدَقَكُمْ» فَقَالَ عُمَرُ: دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُم فقد وَجَبت لكم الجنةُ « وَفِي رِوَايَة فقد غَفَرْتُ لَكُمْ» فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى [يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ] . مُتَّفق عَلَيْهِ

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مجھ کو ، زبیر اور مقداد ؓ کو ، ایک دوسری روایت میں مقداد کے بجائے ابومرثد ؓ کا نام ہے ، کسی کام پر روانہ فرمایا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم چلتے جانا حتیٰ کہ تم روضہ خاخ پر پہنچ جاؤ ، وہاں ایک عورت ہو گی اس کے پاس ایک خط ہو گا تم وہ اس سے لے لینا ۔‘‘ ہم روانہ ہوئے ، ہم اپنے گھوڑے دوڑاتے رہے حتیٰ کہ ہم روضہ خاخ پر پہنچ گئے ، اور وہاں ہمیں وہ عورت مل گئی ۔ ہم نے کہا : خط نکالو ، اس نے کہا : میرے پاس کوئی خط نہیں ، ہم نے کہا : خط نکال دو ورنہ ہم تیرے کپڑے اتار دیں گے ، چنانچہ اس نے وہ خط اپنی چوٹی سے نکال دیا ، ہم وہ خط لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس میں لکھا ہوا تھا ، حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے اہل مکہ کے چند مشرکین کے نام ، انہوں نے اس میں رسول اللہ ﷺ کے بعض امور کے متعلق انہیں خبر دی تھی ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ حاطب یہ کیا (ماجرا) ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے متعلق جلدی نہ فرمانا ، میں ایک ایسا شخص ہوں کہ میں قریش کا حلیف ہوں ، میں ان کے خاندان میں سے نہیں ہوں ، اور آپ کے ساتھ جو مہاجرین ہیں ، ان کی تو (ان سے) قرابت ہے جس کی وجہ سے وہ مکہ میں ان کے اموال اور اہل و عیال کی حفاظت کر رہے ہیں ، میں نے ان سے نسبی رشتہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ پسند کیا کہ میں ان سے کوئی احسان کروں ، جس کی وجہ سے وہ میرے قرابت داروں کی حفاظت کریں گے ۔ میں نے یہ کفر کی وجہ سے کیا ہے نہ اپنے دین سے ارتداد کی وجہ سے کیا ہے اور نہ ہی اسلام کے بعد کفر کو پسند کر کے کیا ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس نے تم سے سچی بات کی ہے ۔‘‘ عمر ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے اجازت فرمائیں میں اس منافق کی گردن اڑا دوں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس شخص نے غزوۂ بدر میں شرکت کی ہے ، اور تم نہیں جانتے کہ اللہ نے اہل بدر کے احوال پہلے سے جان لیے تھے ، اس لیے اس نے فرمایا :’’ جو چاہو سو کرو ، تمہارے لیے جنت واجب ہو چکی ہے ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ میں تمہیں معاف کر چکا ۔‘‘ تب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی :’’ ایمان والو ! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا تَعُدُّونَ أَهْلَ بَدْرٍ فِيكُمْ» . قَالَ: «مِنْ أَفْضَلِ الْمُسْلِمِينَ» أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا قَالَ: «وَكَذَلِكَ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

رفاعہ بن رافع ؓ بیان کرتے ہیں ، جبریل ؑ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے فرمایا :’’ تم اہل بدر کو اپنے ہاں کس درجہ میں شمار کرتے ہو ؟‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مسلمانوں میں سے سب سے افضل ۔‘‘ یا آپ نے اسی طرح کی بات فرمائی ۔‘‘ انہوں (جبریل ؑ) نے فرمایا :’’ اسی طرح جو فرشتے بدر میں شریک ہوئے ان کا بھی بلند درجہ ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

وَعَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَدْخُلَ النَّارَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَحَدٌ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ قَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: [وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا واردها] قَالَ: فَلَمْ تَسْمَعِيهِ يَقُولُ: [ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتقَوا] وَفِي رِوَايَةٍ: «لَا يَدْخُلُ النَّارَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ - أَحَدُ - الَّذِينَ بَايَعُوا تحتهَا» . رَوَاهُ مُسلم

حفصہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں امید کرتا ہوں کہ ان شاء اللہ غزوۂ بدر اور صلح حدیبیہ میں شرکت کرنے والا کوئی شخص جہنم میں داخل نہیں ہو گا ۔‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے :’’ تم میں سے ہر شخص نے اس پر وارد ہونا ہے ۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم نے سنا نہیں ، وہ فرماتا ہے : پھر وہ تقویٰ اختیار کرنے والوں کو بچا لے گا ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ ان شاء اللہ اصحاب شجرہ جنہوں نے اس (درخت) کے نیچے بیعت کی تھی جہنم میں داخل نہیں ہوں گے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَمِائَةٍ. قَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرُ أَهْلِ الأَرْض» . مُتَّفق عَلَيْهِ

جابر ؓ نے فرمایا : صلح حدیبیہ کے موقع پر ہم چودہ سو افراد تھے ، نبی ﷺ نے ہمیں فرمایا :’’ آج زمین والوں میں سے تم سب سے بہتر ہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَصْعَدِ الثَّنِيَّةَ ثَنِيَّةَ الْمُرَارِ فَإِنَّهُ يُحَطُّ عَنْهُ مَا حُطَّ عَنْ بَنِي إِسرائيل» . وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ صَعِدَهَا خَيْلُنَا خَيْلُ بَنِي الْخَزْرَجِ ثُمَّ تَتَامَّ النَّاسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّكُمْ مَغْفُورٌ لَهُ إِلَّا صَاحِبَ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ» . فَأَتَيْنَاهُ فَقُلْنَا: تَعَالَ يَسْتَغْفِرْ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَأَنْ أَجِدَ ضَالَّتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لِي صَاحِبُكُمْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَذَكَرَ حَدِيثَ أَنَسٍ قَالَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: «إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ» فِي «بَابٍ» بعدَ فَضَائِل الْقُرْآن

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص ثنیۃ المرار کی چوٹی پر چڑھے گا تو اس کے گناہ اس طرح ختم کر دیے جائیں گے جس طرح بنی اسرائیل کے گناہ ختم کر دیے گئے تھے ۔‘‘ بنو خزرج کا دستہ سب سے پہلے اس پر چڑھا ، پھر باقی لوگ متواتر پہنچتے رہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس سرخ اونٹ والے کے سوا تم سب کی مغفرت ہو گئی ۔‘‘ ہم اس شخص کے پاس آئے تو ہم نے کہا : آؤ رسول اللہ ﷺ تمہارے لیے مغفرت طلب کریں ، اس نے کہا : اگر میں اپنا گم شدہ اونٹ پا لوں تو یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ تمہارا ساتھی میرے لیے مغفرت طلب کرے ۔ رواہ مسلم ۔ اور انس ؓ سے مروی حدیث کہ آپ ﷺ نے ابی بن کعب ؓ سے فرمایا کہ ’’ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن سناؤں ۔‘‘ باب فضائل القرآن کے بعد ذکر کی گئی ہے ۔

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي مِنْ أَصْحَابِي: أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَاهْتَدُوا بِهَدْيِ عمّارٍ وَتَمَسَّكُوا بِعَهْدِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

ابن مسعود ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میرے بعد میرے دو صحابہ ابوبکر و عمر کی اقتدا کرنا ، عمار کی راہ پر چلنا ، ام عبد (عبداللہ بن مسعود ؓ) کی وصیت کو لازم پکڑنا ۔‘‘ حذیفہ ؓ کی روایت میں ہے :’’ ابن مسعود جو بات تم سے کہیں اس کی تصدیق کرنا ۔‘‘ اس میں ابن ام عبد (عبداللہ بن مسعود ؓ) کی وصیت کو لازم پکڑنا ۔‘‘ کے الفاظ کے بجائے مذکورہ بالا الفاظ ہیں ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كُنْتُ مُؤَمِّرًا مِنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ لَأَمَّرْتُ عَلَيْهِمُ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر میں کسی مشورہ کے بغیر کسی شخص کو امیر مقرر کرتا تو میں ابن ام عبد (عبداللہ بن مسعود ؓ) کو ان کا امیر مقرر کرتا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔

وَعَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَسَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ يُيَسِّرَ لِي جَلِيسًا صَالِحًا فَيَسَّرَ لِي أَبَا هُرَيْرَةَ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ: إِنِّي سَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ يُيَسِّرَ لِي جَلِيسًا صَالِحًا فَوُفِّقْتَ لِي فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَنْتَ؟ قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ جِئْتُ أَلْتَمِسُ الْخَيْرَ وَأَطْلُبُهُ. فَقَالَ: أَلَيْسَ فِيكُمْ سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ مُجَابُ الدَّعْوَةِ؟ وَابْنُ مَسْعُودٍ صَاحِبُ طَهُورِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَعْلَيْهِ؟ وَحُذَيْفَةُ صَاحِبُ سِرِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَعَمَّارٌ الَّذِي أَجَارَهُ اللَّهُ مِنَ الشَّيْطَانِ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَسَلْمَانُ صَاحِبُ الْكِتَابَيْنِ؟ يَعْنِي الْإِنْجِيلَ وَالْقُرْآنَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

خیثمہ بن ابی سبرہ بیان کرتے ہیں ، میں مدینہ آیا تو میں نے اللہ سے درخواست کی وہ کسی صالح شخص کی ہم نشینی اختیار کرنے کی توفیق بخشے ، چنانچہ اس نے میرے لیے ابوہریرہ ؓ کی ہم نشینی میسر فرما دی ، میں ان کے پاس بیٹھ گیا ، میں نے کہا : میں نے اللہ سے دعا کی تھی کہ وہ مجھے کسی صالح شخص کی ہم نشینی میسر فرمائے ، مجھے تمہاری ہم نشینی نصیب ہوئی ہے ۔ انہوں نے فرمایا : تم کہاں سے (آئے) ہو ؟ میں نے کہا کوفہ سے اور میں خیر کی طلب و تلاش میں آیا ہوں ۔ انہوں نے فرمایا : کیا تم میں مستجاب الدعوات سعد بن مالک ؓ نہیں ہیں ؟ اور رسول اللہ ﷺ کی طہارت کے لیے وضو کا انتظام کرنے والے اور آپ کے جوتے اٹھانے والے ابن مسعود ؓ نہیں ہیں ؟ رسول اللہ ﷺ کے راز دان حذیفہ ؓ اور عمار ؓ جنہیں اللہ نے اپنے نبی ﷺ کی زبان پر شیطان سے پناہ دی ہے ، اور صاحب کتابین یعنی انجیل و قرآن پر ایمان رکھنے والے سلمان نہیں ہیں ؟ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم: «إِنَّ الْجَنَّةَ تَشْتَاقُ إِلَى ثَلَاثَةٍ عَلِيٍّ وَعَمَّارٍ وسلمان» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جنت تین اشخاص ، علی ، عمار اور سلمان ؓ کی مشتاق ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: اسْتَأْذَنَ عَمَّارٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «ائْذَنُوا لَهُ مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، عمر ؓ نے نبی ﷺ سے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ انہیں اجازت دے دو ۔ بہت ہی اچھے شخص کے لیے خوش آمدید ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔